عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابوبکر ؓ کے پاس سے گزرے تو وہ اپنے کسی غلام پر لعنت کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا :’’ (کیا) لعنت کرنے والے اور صدیقین (اکٹھے ہو سکتے ہیں ؟) رب کعبہ کی قسم ! ہرگز نہیں ۔‘‘ چنانچہ ابوبکر ؓ نے اس دن اپنے بعض غلام (بطور کفارہ) آزاد کیے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کیا : میں آئندہ ایسے نہیں کروں گا ۔ امام بیہقی نے پانچوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
(عمر بن خطاب ؓ کے آزاد کردہ غلام) اسلم ؓ بیان کرتے ہیں ، کہ ایک روز عمر ؓ ، ابوبکر صدیق ؓ کے پاس گئے تو وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے ۔ (یہ منظر دیکھ کر) عمر ؓ نے فرمایا : اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ! اسے چھوڑ دیں ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : اس نے مجھے ہلاکت کے گڑھوں تک پہنچایا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم مجھے اپنی طرف سے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں : جب تم بات کرو تو سچ بولو ، جب وعدہ کرو تو پورا کرو ، جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرو ، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو ، اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھوں کو (ظلم سے) روکو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
عبد الرحمن بن غنم اور اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آ جائے ، جبکہ اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ چغل خور ، پیاروں کے درمیان جدائی ڈالنے والے اور (گناہوں سے) لاتعلق لوگوں پر برائی کا الزام لگانے والے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
عبد الرحمن بن غنم اور اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آ جائے ، جبکہ اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ چغل خور ، پیاروں کے درمیان جدائی ڈالنے والے اور (گناہوں سے) لاتعلق لوگوں پر برائی کا الزام لگانے والے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھی جبکہ وہ روزے سے تھے ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم دونوں اپنا وضو دوبارہ کرو ، نماز دہراؤ اور روزہ پورا کرو ، اور کسی دوسرے روز اس کی قضا دو ۔‘‘ ان دونوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے فلاں شخص کی غیبت کی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوسعید اور جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غیبت زنا سے بھی زیادہ سنگین ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! غیبت زنا سے کیسے زیادہ سنگین ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک آدمی زنا کرتا ہے تو وہ توبہ کرتا ہے اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے ۔ جبکہ غیبت کرنے والے کو معاف نہیں کیا جاتا حتی کہ وہ شخص جس کی غیبت کی گئی ہے ، وہ اسے معاف کر دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ، ایضاً ۔
ابوسعید اور جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غیبت زنا سے بھی زیادہ سنگین ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! غیبت زنا سے کیسے زیادہ سنگین ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک آدمی زنا کرتا ہے تو وہ توبہ کرتا ہے اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے ۔ جبکہ غیبت کرنے والے کو معاف نہیں کیا جاتا حتی کہ وہ شخص جس کی غیبت کی گئی ہے ، وہ اسے معاف کر دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ، ایضاً ۔
اور انس ؓ کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ زنا کرنے والا توبہ کر لیتا ہے جبکہ غیبت کرنے والے کے لیے توبہ نہیں ۔‘‘ (کیونکہ وہ اسے اہمیت نہیں دیتا کہ یہ بھی گناہ ہے اور وہ توبہ نہیں کر پاتا) ۔ امام بیہقی نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم نے جس کی غیبت کی ہے اس کے لیے دعائے مغفرت کرو ، کہو : اے اللہ ! ہماری اور اس کی مغفرت فرما ۔‘‘ بیہقی فی الدعوات الکبیر ۔ اور فرمایا : اس کی سند میں ضعف ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی اور علاء بن حضرمی ؓ کی طرف سے ابوبکر ؓ کے پاس مال آیا تو ابوبکر ؓ نے فرمایا : جس شخص کا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی قرض تھا یا آپ نے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ فرمایا تھا تو وہ ہمارے پاس آئے (ہم وہ قرض ادا کریں گے اور آپ کا وعدہ وفا کریں گے) جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ آپ مجھے اس قدر اس قدر اور اس قدر عطا فرمائیں گے ، اور جابر ؓ نے تین مرتبہ ہاتھ پھیلائے ، جابر ؓ نے فرمایا کہ انہوں نے لپ بھر کر مجھے عطا فرمایا ، میں نے انہیں گنا تو وہ پانچ سو تھے ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : اتنے دو بار اور لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ کو (سرخی مائل) سفید رنگت میں دیکھا اور آپ کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے ، اور حسن بن علی ؓ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے ، آپ نے ہمارے لیے تیرہ اونٹنیوں کا حکم فرمایا ، جب ہم انہیں لینے گئے تو آپ کی وفات کی خبر ہمیں پہنچی چنانچہ ہمیں کچھ نہ مل سکا ۔ البتہ جب ابوبکر نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو انہوں نے فرمایا : اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کسی کے پاس کوئی عہد ہو تو وہ تشریف لائے ، میں ان کے پاس گیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے ہمیں اونٹ عطا کرنے کا حکم دیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
عبداللہ بن ابی حسماء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ، آپ کے اعلان نبوت سے پہلے کوئی چیز خریدی اور آپ کا کچھ بقایا میرے ذمے باقی رہ گیا تو میں نے آپ سے ، وہ بقایا اسی جگہ لانے کا وعدہ کیا اور پھر میں بھول گیا ، تین دن بعد مجھے یاد آیا (اور میں گیا) تو آپ اسی جگہ پر تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے مجھے مشقت میں مبتلا کر دیا ، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
زید بن ارقم ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی وعدہ وفائی کی نیت سے اپنے بھائی سے کوئی وعدہ کر لیتا ہے لیکن اس سے وعدہ وفا نہیں ہوا اور نہ وہ وقت مقرر پر پہنچا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز میری والدہ نے مجھے بلایا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے ، میری والدہ نے فرمایا : سنو ، آؤ میں تمہیں کچھ دوں گی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں نے اسے ایک کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! اگر تم اسے کوئی چیز نہ دیتیں تو تمہارے ذمے ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی آدمی سے وعدہ کیا ، لیکن ان دونوں میں سے ایک وقت نماز تک نہ آیا جبکہ وہ شخص جو آ چکا تھا وہ نماز پڑھنے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ ضعیف ، رواہ رزین ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ساتھ تکلف نہیں برتتے تھے (گھل مل کر رہتے تھے) حتی کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے : ابوعمیر ! ’’ چڑیا نے کیا کیا ؟‘‘ ابوعمیر کی ایک چڑیا تھی وہ اس کے ساتھ کھیلا کرتا تھا وہ مر گئی ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ تو ہم سے خوش طبعی کر لیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں حق بات ہی کہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سواری طلب کی تو آپ نے فرمایا :’’ میں تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اونٹنیاں ہی اونٹ کو جنم دیتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ اے دو کانوں والے !‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔