Back to Mishkat Al-Masabih

Etiquette

كتاب الْآدَاب

Chapter 24

Hadith 4868
sahih
وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يَلْعَنُ بَعْضَ رَقِيقِهِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ: «لَعَّانِينَ وَصِدِّيقِينَ؟ كَلَّا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ» فَأَعْتَقَ أَبُو بَكْرٍ يَوْمَئِذٍ بَعْضَ رَقِيقِهِ ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: لَا أَعُودُ. رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْخَمْسَةَ فِي «شعب الْإِيمَان»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ابوبکر ؓ کے پاس سے گزرے تو وہ اپنے کسی غلام پر لعنت کر رہے تھے آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا :’’ (کیا) لعنت کرنے والے اور صدیقین (اکٹھے ہو سکتے ہیں ؟) رب کعبہ کی قسم ! ہرگز نہیں ۔‘‘ چنانچہ ابوبکر ؓ نے اس دن اپنے بعض غلام (بطور کفارہ) آزاد کیے ، پھر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آ کر عرض کیا : میں آئندہ ایسے نہیں کروں گا ۔ امام بیہقی نے پانچوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4869
sahih
وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ دَخَلَ يَوْمًا على أبي بكر الصِّدّيق رَضِي الله عَنْهُم وَهُوَ يَجْبِذُ لِسَانَهُ. فَقَالَ عُمَرُ: مَهْ غَفَرَ الله لَك. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ هَذَا أَوْرَدَنِي الْمَوَارِدَ. رَوَاهُ مَالك
Urdu

(عمر بن خطاب ؓ کے آزاد کردہ غلام) اسلم ؓ بیان کرتے ہیں ، کہ ایک روز عمر ؓ ، ابوبکر صدیق ؓ کے پاس گئے تو وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے ۔ (یہ منظر دیکھ کر) عمر ؓ نے فرمایا : اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ! اسے چھوڑ دیں ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : اس نے مجھے ہلاکت کے گڑھوں تک پہنچایا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔

Hadith 4870
sahih
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اضْمَنُوا لِي سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنُ لَكُمُ الْجَنَّةَ: اصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوا إِذَا وَعَدْتُمْ وأدوا إِذا ائتمتنم واحفظوا فروجكم وغضوا أبصاركم وَكفوا أَيْدِيكُم
Urdu

عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم مجھے اپنی طرف سے چھ چیزوں کی ضمانت دے دو تو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں : جب تم بات کرو تو سچ بولو ، جب وعدہ کرو تو پورا کرو ، جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرو ، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو ، اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھوں کو (ظلم سے) روکو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4871
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللَّهُ. وَشِرَارُ عِبَادِ اللَّهِ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيمَةِ وَالْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ» . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»
Urdu

عبد الرحمن بن غنم اور اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آ جائے ، جبکہ اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ چغل خور ، پیاروں کے درمیان جدائی ڈالنے والے اور (گناہوں سے) لاتعلق لوگوں پر برائی کا الزام لگانے والے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4872
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللَّهُ. وَشِرَارُ عِبَادِ اللَّهِ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيمَةِ وَالْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ» . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»
Urdu

عبد الرحمن بن غنم اور اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب انہیں دیکھا جائے تو اللہ یاد آ جائے ، جبکہ اللہ کے بندوں میں سے بدترین لوگ چغل خور ، پیاروں کے درمیان جدائی ڈالنے والے اور (گناہوں سے) لاتعلق لوگوں پر برائی کا الزام لگانے والے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4873
sahih
وَعَن ابنِ عبَّاسٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ صَلَّيَا صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَكَانَا صَائِمَيْنِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: «أَعِيدَا وُضُوءَكُمَا وَصَلَاتَكُمَا وامْضِيا فِي صومكما واقضيا يَوْمًا آخَرَ» . قَالَا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «اغتبتم فلَانا»
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھی جبکہ وہ روزے سے تھے ، جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم دونوں اپنا وضو دوبارہ کرو ، نماز دہراؤ اور روزہ پورا کرو ، اور کسی دوسرے روز اس کی قضا دو ۔‘‘ ان دونوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے فلاں شخص کی غیبت کی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4874
sahih
وَعَن أبي سعيدٍ وجابرٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا؟ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَزْنِي فَيَتُوبُ فَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ» - وَفِي رِوَايَةٍ: «فَيَتُوبُ فَيَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ وَإِنَّ صَاحِبَ الْغِيبَةِ لَا يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يغفِرَها لَهُ صَاحبه»
Urdu

ابوسعید اور جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ غیبت زنا سے بھی زیادہ سنگین ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! غیبت زنا سے کیسے زیادہ سنگین ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک آدمی زنا کرتا ہے تو وہ توبہ کرتا ہے اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے ۔ جبکہ غیبت کرنے والے کو معاف نہیں کیا جاتا حتی کہ وہ شخص جس کی غیبت کی گئی ہے ، وہ اسے معاف کر دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ، ایضاً ۔

Hadith 4875
sahih
وَعَن أبي سعيدٍ وجابرٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ الْغِيبَةُ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا؟ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَزْنِي فَيَتُوبُ فَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِ» - وَفِي رِوَايَةٍ: «فَيَتُوبُ فَيَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ وَإِنَّ صَاحِبَ الْغِيبَةِ لَا يُغْفَرُ لَهُ حَتَّى يغفِرَها لَهُ صَاحبه»
Urdu

ابوسعید اور جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ غیبت زنا سے بھی زیادہ سنگین ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! غیبت زنا سے کیسے زیادہ سنگین ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک آدمی زنا کرتا ہے تو وہ توبہ کرتا ہے اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے ۔ جبکہ غیبت کرنے والے کو معاف نہیں کیا جاتا حتی کہ وہ شخص جس کی غیبت کی گئی ہے ، وہ اسے معاف کر دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ، ایضاً ۔

Hadith 4876
sahih
وَفِي رِوَايَةِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «صَاحِبُ الزِّنَا يَتُوبُ وَصَاحِبُ الْغِيبَةِ لَيْسَ لَهُ تَوْبَةٌ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
Urdu

اور انس ؓ کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ زنا کرنے والا توبہ کر لیتا ہے جبکہ غیبت کرنے والے کے لیے توبہ نہیں ۔‘‘ (کیونکہ وہ اسے اہمیت نہیں دیتا کہ یہ بھی گناہ ہے اور وہ توبہ نہیں کر پاتا) ۔ امام بیہقی نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4877
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ كَفَّارَةِ الْغِيبَةِ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِمَنِ اغْتَبْتَهُ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلَهُ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي» الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ وَقَالَ: فِي هَذَا الْإِسْنَاد ضعف
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم نے جس کی غیبت کی ہے اس کے لیے دعائے مغفرت کرو ، کہو : اے اللہ ! ہماری اور اس کی مغفرت فرما ۔‘‘ بیہقی فی الدعوات الکبیر ۔ اور فرمایا : اس کی سند میں ضعف ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی الدعوات الکبیر ۔

Hadith 4878
sahih
عَن جابرٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاء أَبُو بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ. فَقَالَ أَبُو بكر: من كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنَا. قَالَ جَابِرٌ: فَقُلْتُ: وَعَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْطِيَنِي هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا. فَبَسَطَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ جَابِرٌ: فَحَثَا لِي حَثْيَةً فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ وَقَالَ: خُذْ مثلَيها. مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وفات پائی اور علاء بن حضرمی ؓ کی طرف سے ابوبکر ؓ کے پاس مال آیا تو ابوبکر ؓ نے فرمایا : جس شخص کا نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر کوئی قرض تھا یا آپ نے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ فرمایا تھا تو وہ ہمارے پاس آئے (ہم وہ قرض ادا کریں گے اور آپ کا وعدہ وفا کریں گے) جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا : رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ آپ مجھے اس قدر اس قدر اور اس قدر عطا فرمائیں گے ، اور جابر ؓ نے تین مرتبہ ہاتھ پھیلائے ، جابر ؓ نے فرمایا کہ انہوں نے لپ بھر کر مجھے عطا فرمایا ، میں نے انہیں گنا تو وہ پانچ سو تھے ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : اتنے دو بار اور لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 4879
sahih
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ قَدْ شَابَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ وَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ قَلُوصًا فَذَهَبْنَا نَقْبِضُهَا فَأَتَانَا مَوْتُهُ فَلَمْ يُعْطُونَا شَيْئًا. فَلَمَّا قَامَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ فَلْيَجِئْ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَمَرَ لَنَا بِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
Urdu

ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ کو (سرخی مائل) سفید رنگت میں دیکھا اور آپ کے کچھ بال سفید ہو چکے تھے ، اور حسن بن علی ؓ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے ، آپ نے ہمارے لیے تیرہ اونٹنیوں کا حکم فرمایا ، جب ہم انہیں لینے گئے تو آپ کی وفات کی خبر ہمیں پہنچی چنانچہ ہمیں کچھ نہ مل سکا ۔ البتہ جب ابوبکر نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو انہوں نے فرمایا : اگر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے کسی کے پاس کوئی عہد ہو تو وہ تشریف لائے ، میں ان کے پاس گیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے ہمیں اونٹ عطا کرنے کا حکم دیا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4880
sahih
وَعَن عبدِ الله بن أبي الحَسْماءِ قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ وَبَقِيَتْ لَهُ بَقِيَّةٌ فَوَعَدْتُهُ أَنْ آتِيَهُ بِهَا فِي مَكَانِهِ فَنَسِيتُ فَذَكَرْتُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَإِذَا هُوَ فِي مَكَانِهِ فَقَالَ: «لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَيَّ أَنَا هَهُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أنتظرك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عبداللہ بن ابی حسماء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ، آپ کے اعلان نبوت سے پہلے کوئی چیز خریدی اور آپ کا کچھ بقایا میرے ذمے باقی رہ گیا تو میں نے آپ سے ، وہ بقایا اسی جگہ لانے کا وعدہ کیا اور پھر میں بھول گیا ، تین دن بعد مجھے یاد آیا (اور میں گیا) تو آپ اسی جگہ پر تھے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم نے مجھے مشقت میں مبتلا کر دیا ، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4881
sahih
وَعَن زيد بن أَرقم عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ أَخَاهُ وَمِنْ نِيَّتِهِ أَنْ يَفِيَ لَهُ فَلَمْ يَفِ وَلِمَ يَجِئْ لِلْمِيعَادِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ
Urdu

زید بن ارقم ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی وعدہ وفائی کی نیت سے اپنے بھائی سے کوئی وعدہ کر لیتا ہے لیکن اس سے وعدہ وفا نہیں ہوا اور نہ وہ وقت مقرر پر پہنچا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4882
sahih
وَعَن عبدِ الله بن عامرٍ قَالَ: دَعَتْنِي أُمِّي يَوْمًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي بَيْتِنَا فَقَالَتْ: هَا تَعَالَ أُعْطِيكَ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيهِ؟» قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أُعْطِيَهُ تَمْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِيهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كَذِبَةٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
Urdu

عبداللہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز میری والدہ نے مجھے بلایا جبکہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے ، میری والدہ نے فرمایا : سنو ، آؤ میں تمہیں کچھ دوں گی ۔ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں فرمایا :’’ تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : میں نے اسے ایک کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! اگر تم اسے کوئی چیز نہ دیتیں تو تمہارے ذمے ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4883
sahih
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ وَعَدَ رَجُلًا فَلَمْ يَأْتِ أَحَدُهُمَا إِلَى وَقْتِ الصَّلَاةِ وَذَهَبَ الَّذِي جَاءَ لِيُصَلِّيَ فَلَا إِثمَ عليهِ» . رَوَاهُ رزين
Urdu

زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی آدمی سے وعدہ کیا ، لیکن ان دونوں میں سے ایک وقت نماز تک نہ آیا جبکہ وہ شخص جو آ چکا تھا وہ نماز پڑھنے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ ضعیف ، رواہ رزین ۔

Hadith 4884
sahih
عَن أنس قَالَ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: «يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟» كَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ساتھ تکلف نہیں برتتے تھے (گھل مل کر رہتے تھے) حتی کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے : ابوعمیر ! ’’ چڑیا نے کیا کیا ؟‘‘ ابوعمیر کی ایک چڑیا تھی وہ اس کے ساتھ کھیلا کرتا تھا وہ مر گئی ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 4885
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا. قَالَ: «إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ تو ہم سے خوش طبعی کر لیتے ہیں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میں حق بات ہی کہتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4886
sahih
وَعَن أنسٍ أَنَّ رَجُلًا اسْتَحْمَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنِّي حَامِلُكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ؟» فَقَالَ: مَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلُ إِلَّا النُّوقُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سواری طلب کی تو آپ نے فرمایا :’’ میں تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کروں گا ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں اونٹنی کے بچے کو کیا کروں گا ؟ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اونٹنیاں ہی اونٹ کو جنم دیتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 4887
sahih
وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ
Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا :’’ اے دو کانوں والے !‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔