ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے ؟‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تیرا اپنے بھائی کو ان الفاظ سے یاد کرنا جسے ، وہ ناپسند کرتا ہو ۔‘‘ عرض کیا گیا ، آپ مجھے بتائیں کہ جو بات میں کر رہا ہوں وہ میرے بھائی میں موجود ہو تو پھر ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تو وہ چیز اس میں ہے جو تم کہہ رہے ہو تو پھر تم نے اس کی غیبت کی ، اور جب تم نے ایسی بات کی جو اس میں نہیں تو پھر تم نے اس پر بہتان لگایا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جب تم نے اپنے بھائی کے متعلق ایسی بات کی جو اس میں ہے تو تم نے اس کی غیبت کی ، اور جب تم نے ایسی بات کی جو اس میں نہیں ہے تو پھر تم نے اس پر بہتان بازی کی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے اجازت دے دو اور وہ اپنی قوم کا برا شخص ہے ۔‘‘ جب وہ بیٹھ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس کے لیے تبسم فرمایا : جب وہ آدمی چلا گیا تو عائشہ ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے اس کے متعلق اس طرح اس طرح کہا ، پھر (اس کے آنے پر) آپ نے اپنے چہرے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور اس کے لیے تبسم فرمایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے مجھے کب فحش گو پایا ؟ کیونکہ روزِ قیامت اللہ کے ہاں مقام و مرتبہ میں سے بدتر وہ شخص ہو گا جس کے شر سے بچنے کے لیے لوگ اسے چھوڑ دیں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اس کی فحش گوئی سے بچنے کے لیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری ساری امت کے گناہ قابل معافی ہیں ، مگر وہ لوگ جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں ، اور اعلانیہ گناہ کرنا یہ ہے کہ آدمی رات کے وقت کوئی (گناہ کا) عمل کرے ، پھر صبح ہونے پر کہتا پھرے : اے فلاں ! میں نے رات کو اس طرح اس طرح کیا تھا ، حالانکہ اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی ہوئی تھی ، اور اس نے رات اس طرح بسر کی کہ اس کے رب نے اسے چھپا رکھا تھا اور جب صبح کرتا ہے تو اپنے اوپر سے اللہ کے پردے کو اٹھا دیتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو ۔‘‘ باب الضیافۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جھوٹ بولنا چھوڑ دیتا ہے درآنحالیکہ وہ باطل پر تھا ۔ اس کے لیے جنت کے کنارے پر ایک گھر بنا دیا جاتا ہے ، اور جس نے حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا ترک کر دیا تو اس کے لیے جنت کے وسط میں گھر بنا دیا جاتا ہے ، اور جس نے اپنا اخلاق سنوار لیا ، اس کے لیے اس میں بلند جگہ پر گھر بنا دیا جاتا ہے ۔‘‘ امام ترمذی نے اس حدیث کو بیان کیا ہے اور اسے حسن کہا ہے ، اور اسی طرح شرح السنہ اور مصابیح میں ہے ، فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و فی شرح السنہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ تر لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی ؟ (پھر فرمایا) اللہ کا تقوی اور حسن خلق ، کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ تر لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی ؟ (پھر فرمایا) دو چیزیں ، منہ اور شرم گاہ ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
بلال بن حارث ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک آدمی بھلائی کی بات کرتا ہے اور وہ اس کی قدر و منزلت سے آگاہ نہیں ہوتا جس کے بدلہ میں اللہ اس شخص کے لیے روزِ قیامت تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے ، اور بے شک آدمی کوئی بُری بات کر دیتا ہے اور وہ اس کی بھی اہمیت نہیں جانتا تو اس کی وجہ سے اللہ روزِ قیامت تک کے لیے اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے ۔‘‘ شرح السنہ ۔ اور امام مالک ، ترمذی اور ابن ماجہ نے اسی کی مثل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ فی شرح السنہ و مالک و الترمذی و ابن ماجہ ۔
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جو بات کرتے وقت جھوٹ بولتا ہے تا کہ وہ اس کے ذریعے لوگوں کو ہنسائے ، تو اس کے لیے ہلاکت ہے ، اس کے لیے ہلاکت ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک بندہ محض لوگوں کو ہنسانے کے لیے بات کرتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے زمین و آسمان کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ دور جہنم میں گر جاتا ہے ، اور وہ اپنے پاؤں کی طرف سے پھسلنے سے اتنا نہیں پھسلتا جتنا کہ وہ زبان کے پھسلنے سے پھسلتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پائی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و الدارمی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کی اور میں نے عرض کیا ، نجات کا باعث کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی زبان پر قابو رکھ ، تیرا گھر تیرے لیے کافی ہونا چاہیے ، اور اپنی خطاؤں پر رویا کر ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
ابوسعید ؓ نے اس حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے ، فرمایا :’’ جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء زبان سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے (حقوق کے تحفظ کے) بارے میں اللہ سے ڈرنا ، کیونکہ ہم تیرے رحم و کرم پر ہیں ، اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
علی بن حسین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ غیر متعلقہ (فضول باتوں) کو چھوڑ دے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ مالک و احمد ۔
امام ابن ماجہ نے اسے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
امام ترمذی اور بیہقی نے شعب الایمان میں اسے ان دونوں (علی بن حسین ؓ اور ابوہریرہ ؓ) سے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ ؓ میں سے ایک آدمی فوت ہو گیا تو ایک آدمی نے کہا : جنت کی بشارت ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نہیں جانتے کہ شاید اس نے کسی غیر متعلقہ چیز کے بارے میں بات کی ہو یا کسی ایسی چیز میں بخل کیا ہو جو اس میں کمی نہیں کر سکتی تھی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کو میرے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز کا اندیشہ ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا :’’ اس کا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس (بندے) سے ایک میل دور چلا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
سفیان بن اسد حضرمی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بڑی خیانت یہ ہے کہ تو اپنے (مسلمان) بھائی سے کوئی بات کرے ، وہ اس میں تمہیں سچا جانتا ہو جبکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عمار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص دنیا میں دوغلہ ہو گا تو روزِ قیامت اس کی زبان آگ کی ہو گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الدارمی ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن نہ تو طعن کرنے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا ، نہ وہ فحش گو ہوتا ہے اور نہ زبان دراز ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور بیہقی کی دوسری روایت میں ہے ’’ نہ وہ فحش گوئی کرنے والا ہوتا ہے اور نہ زبان درازی کرنے والا ۔‘‘ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔