جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی غزوہ میں شریک تھے کہ آپ کی انگلی سے خون نکلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک انگلی ہی تو ہو جو خون آلودہ ہوئی ہے اور تجھے جو تکلیف پہنچی ہے وہ اللہ کی راہ میں ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو قریظہ (کے محاصرے) کے دن حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا :’’ مشرکوں کی ہجو بیان کرو ، اللہ (کی نصرت) تمہارے ساتھ ہے ۔‘‘ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسان ؓ سے فرما رہے تھے :’’ میری طرف سے جواب دو ، اے اللہ ! جبریل ؑ کے ذریعے اس کی مدد فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قریش کی ہجو بیان کرو کیونکہ یہ ان پر تیر اندازی سے بھی زیادہ شدید ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حسان ؓ سے فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تک تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دفاع میں مشرکین کی ہجو کرتے رہتے ہو اس وقت تک جبریل ؑ تمہاری مدد کرتے رہتے ہیں ۔‘‘ عائشہ ؓ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ حسان نے ان کی ہجو بیان کی اور مسلمانوں کو سکون پہنچایا اور خود بھی سکون پایا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خندق کے روز مٹی اٹھا رہے تھے حتی کہ ان کا پیٹ غبار آلود ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اشعار) کہہ رہے تھے :’’ اللہ کی قسم ! اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے ، صدقہ دیتے اور نہ ہی نماز پڑھتے ، ہم پر سکینت نازل فرمانا جب ہم ان (دشمنان دین) سے ملیں تو ہمیں ثابت قوم رکھ کیونکہ انہوں نے ہم پر زیادتی کی ہے ، جب بھی انہوں نے فتنے کا ارادہ کیا تو ہم نے انکار کیا ۔‘‘ آپ لفظ ’’ ہم نے انکار کیا ، ہم نے انکار کیا ‘‘ پر آواز بلند فرماتے تھے ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، مہاجر و انصار (صحابہ کرام ؓ) خندق کھود رہے تھے ، مٹی اٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے : ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے تاحیات جہاد کرنے پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے جواب میں فرما رہے تھے :’’ اے اللہ ! زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ، انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھر کر خراب ہو جانا ، اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ (مذموم) اشعار سے بھر جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے شعر کی مذمت کے بارے میں حکم اتارا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان سے جہاد کرتا ہے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! (یہ ہجو اس طرح ہے) گویا تم ان پر تیر اندازی کر رہے ہو ۔‘‘ استیعاب لابن عبدالبر میں ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ شعر کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک مومن اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ساتھ جہاد کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابوامامہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حیا اور کم گوئی ایمان کی شاخیں ہیں ، جبکہ فحش گوئی اور بیان (مبالغہ آرائی) نفاق کی دو شاخیں ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک (دنیا میں) تم میں سے مجھے زیادہ پسند و محبوب اور روزِ قیامت میرے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا جو تم میں سے زیادہ بااخلاق ہو گا ، اور تم میں سے (دنیا میں) مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور روزِ قیامت مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہو گا جو تم میں سے بد اخلاق ، بہت باتیں کرنے والے ، زبان دراز اور گلا پھاڑ کر باتیں کرنے والے ہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
امام ترمذی نے جابر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے ، ان کی روایت میں ہے ، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم باتونی اور منہ پھٹ شخص کے متعلق تو جانتے ہیں ، لیکن ’’المتفیھقون‘‘ سے مراد کون ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تکبر کرنے والے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ ایک قوم کا ظہور ہو گا وہ اپنی زبانوں کے ذریعے (مدحہ سرائی کر کے مال کما کر) ایسے کھائیں گے جیسے گائے اپنی زبان کے ساتھ کھاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ چرب زبان اور مبالغے سے کام لینے والے اس شخص سے دشمنی رکھتا ہے جو زبان کی کمائی کھاتا ہے جیسا کہ گائے زبان سے چارہ کھاتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ معراج کی رات میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے ، میں نے کہا : جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا : یہ آپ کی امت کے خطیب حضرات ہیں ، جن کے قول و فعل میں تضاد تھا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کلام صرف اس لئے سیکھتا ہے تا کہ وہ اس کے ذریعے مردوں یا لوگوں کے دلوں پر قابو پا سکے تو روزِ قیامت اللہ اس کی طرف سے کوئی نفل اور فرض عبادت قبول نہیں کرے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک روز فرمایا ایک آدمی کھڑا ہوا تو اس نے (اظہارِ فصاحت کے لیے) بات کو طول دیا تو عمرو ؓ نے فرمایا : اگر یہ بات کرتے وقت میانہ روی اختیار کرتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں نے جانا یا مجھے حکم دیا گیا کہ میں بات میں اختصار کروں ، کیونکہ اختصار بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
صخر بن عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک بعض بیان جادو جیسا اثر رکھتے ہیں ، بعض علم جہالت ہوتے ہیں ، بعض شعر حکمت ہوتے ہیں اور بعض قول بوجھ ہوتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حسان ؓ کے لیے مسجد میں منبر رکھواتے ، وہ اس پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے فخر کرتے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرتے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے :’’ بے شک اللہ جبریل ؑ کے ذریعے حسان کی مدد فرماتا ہے جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتا ہے یا فخر کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البخاری تعلیقا ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک شخص آپ کا حدی خوان تھا اسے انجشہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ، اس کی آواز بہت اچھی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ انجشہ ! ٹھہرو ٹھہرو ، شیشوں کو مت چور کرو ۔‘‘ قتادہ ؒ نے فرمایا : آپ نے یہ خواتین کی نزاکت کے پیش نظر فرمایا تھا ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شعر ذکر کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ ایک کلام ہے ، اس میں سے جو اچھا ہے وہ اچھا ہے اور جو بُرا ہے وہ بُرا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارقطنی ۔