Back to Mishkat Al-Masabih

Etiquette

كتاب الْآدَاب

Chapter 24

Hadith 4748
sahih
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ تَبَسُّمًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
Urdu

عبداللہ بن حارث بن جزء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ کسی کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4749
sahih
عَن قتادةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ: هَلْ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُونَ؟ قَالَ: نَعَمْ وَالْإِيمَانُ فِي قُلُوبِهِمْ أَعْظَمُ مِنَ الْجَبَلِ. وَقَالَ بِلَالُ بْنُ سَعْدٍ: أَدْرَكْتُهُمْ يَشْتَدُّونَ بَيْنَ الْأَغْرَاضِ وَيَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ كَانُوا رُهْبَانًا. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السّنة»
Urdu

قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ سے دریافت کیا گیا : کیا رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ ہنسا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ! اور ان کے دلوں میں ایمان پہاڑ سے بھی زیادہ عظیم تھا ۔ اور بلال بن سعد ؒ بیان کرتے ہیں ، وہ تیر اندازی کرتے تھے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنستے تھے ، اور جب رات ہو جاتی تو وہ راہب (یعنی تارک دنیا) بن جاتے تھے (اللہ کی عبادت میں مصروف ہو جاتے تھے) ۔ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔

Hadith 4750
sahih
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّمَا دَعَوْتُ هَذَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: «سموا باسمي وَلَا تكنوا بكنيتي» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بازار میں تھے کہ کسی آدمی نے کہا : ابوالقاسم ! جب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے کہا : میں نے تو اسے بلایا تھا ، تب نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت مت رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 4751
sahih
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سموا باسمي وَلَا تكنوا بِكُنْيَتِي فَإِنِّي إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ» مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت مت رکھو ، کیونکہ مجھے تو قاسم بنایا گیا ہے ، میں تمہارے مابین تقسیم کرتا ہوں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 4752
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِكُمْ إِلَى اللَّهِ: عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے ناموں میں سے عبداللہ اور عبد الرحمن اللہ کو زیادہ پسند ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 4753
sahih
وَعَن سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: لَا تسمين غُلَاما يسارا وَلَا رباحا ولانجيحا وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ: أَثَمَّ هُوَ؟ فَلَا يَكُونُ فَيَقُولُ لَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ قَالَ: «لَا تسم غُلَاما رَبَاحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا أَفْلَحَ وَلَا نَافِعًا»
Urdu

سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنے غلام (بچے یا غلام) کا نام یسار (آسانی) ، رباح (منافع) ، نجیح (کامیاب) اور افلح (فوز و فلاح) مت رکھو ، کیونکہ تم کہو گے : کیا وہ یہاں ہے ؟ وہ نہیں ہو گا تو کہنے والا کہے گا : وہ نہیں ہے ۔‘‘ اور انہیں کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ اپنے غلام کا رباح ، یسار ، افلح اور نافع نام نہ رکھو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 4754
sahih
وَعَن جَابر قَالَ أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَى عَنْ أَنْ يُسَمَّى بِيَعْلَى وَبِبَرَكَةَ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَبِنَحْوِ ذَلِكَ. ثُمَّ سَكَتَ بَعْدُ عَنْهَا ثُمَّ قُبِضَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِك. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ارادہ فرمایا کہ وہ یعلی ، برکہ (برکت) ، افلح ، یسار ، نافع اور اس طرح کے نام رکھنے سے منع فرما دیں ، پھر میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے بعد میں اس سے خاموشی اختیار فرمائی ، پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وفات پا گئے اور اس سے منع نہ فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 4755
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَخْنَى الْأَسْمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهُ رَجُلٌ كَانَ يُسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ لَا مَلِكَ إِلَّا لله»
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت اللہ کے ہاں اس شخص کا نام سب سے زیادہ قبیح ہو گا جس کا نام شہنشاہ رکھا گیا ہو ۔‘‘ بخاری ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا :’’ روز قیامت اللہ کے ہاں وہ شخص سب سے زیادہ ناراض کن اور خبیث نام والا ہو گا جس کا نام شہنشاہ رکھا گیا ہو گا حالانکہ شہنشاہ تو صرف اللہ ہی ہے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 4756
sahih
وَعَن زينبَ بنتِ أبي سلَمةَ قَالَتْ: سُمِّيتُ بَرَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ سَمُّوهَا زَيْنَبَ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

زینب بنت ابی سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میرا نام برہ رکھا گیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم اپنی تعریف خود نہ کیا کرو ، تم میں سے جو نیک ہیں ، اللہ انہیں خوب جانتا ہے اس کا نام زینب رکھو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 4757
sahih
وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِ برة. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جویریہ ؓ کا نام برہ تھا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا ، اور آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ناپسند کرتے تھے کے یوں کہا جائے : وہ برہ کے پاس سے چلے گئے ہیں ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 4758
sahih
وَعَن ابْن عمر أَنَّ بِنْتًا كَانَتْ لِعُمَرَ يُقَالُ لَهَا: عَاصِيَةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جميلَة. رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ کی ایک بیٹی کو عاصیہ کہا جاتا تھا ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا نام جمیلہ رکھ دیا ۔ رواہ مسلم ۔

Hadith 4759
sahih
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَوَضعه على فَخذه فَقَالَ: «وَمَا اسْمه؟» قَالَ: فلَان: «لاولكن اسْمه الْمُنْذر» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، منذر بن ابی اسید جب پیدا ہوئے تو اسے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لایا گیا ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنی ران پر رکھا اور فرمایا :’’ اس کا نام کیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : فلاں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ اس کا نام منذر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 4760
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبدِي وَأمتِي كلكُمْ عباد اللَّهِ وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ. وَلَكِنْ لِيَقُلْ: غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي. وَلَا يَقُلِ الْعَبْدُ: رَبِّي ولكنْ ليقلْ: سَيِّدِي وَفِي رِوَايَةٍ: لِيَقُلْ: سَيِّدِي وَمَوْلَايَ . وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يَقُلِ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ: مَوْلَايَ فَإِنَّ مولاكم اللَّهُ . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی یوں نہ کہے : میرے بندے (غلام) میری بندی (لونڈی) ، تم سب اللہ کے بندے اور غلام ہو جبکہ تمہاری سب خواتین اللہ کی لونڈیاں ہیں ، بلکہ تم یوں کہا کرو : میرے لڑکے ، میری لڑکی ، اور غلام بھی یوں نہ کہے : میرے رب ! بلکہ یوں کہے : میرے آقا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے : وہ یوں کہے : میرے سیّد ، میرے مولا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ غلام اپنے آقا سے میرے مولا نہ کہے ، کیونکہ تمہارا مولا اللہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 4761
sahih
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ فَإِنَّ الْكَرْمَ قَلْبُ الْمُؤمن . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم (انگور کو) کرم نہ کہو ، کیونکہ کرم تو قلب مؤمن ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 4762
sahih
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: لَا تَقُولُوا: الْكَرْمُ وَلَكِنْ قُولُوا: الْعِنَبُ والحبلة
Urdu

اور مسلم ہی کی وائل بن حجر ؓ سے مروی حدیث میں ہے ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم کرم نہ کہو ، بلکہ تم عنب اور حبلہ (انگور) کہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 4763
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ وَلَا تَقُولُوا: يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدهرُ . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم انگور کا نام کرم رکھو نہ زمانے کو برا کہو ، کیونکہ اللہ ہی تو زمانہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 4764
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسُبَّ أَحَدُكُمُ الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ هوَ الدَّهْر» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی زمانے کو بُرا بھلا نہ کہے ، کیونکہ اللہ ہی تو زمانہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 4765
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ نَفْسِي . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَذُكِرَ حديثُ أبي هريرةَ: «يُؤذيني ابنُ آدمَ» فِي «بَاب الْإِيمَان»
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے : میرا نفس (جی) خبیث ہو گیا بلکہ یوں کہے : میرا نفس بوجھل ہو گیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ ابن آدم مجھے ایذا پہنچاتا ہے ۔‘‘ باب الایمان میں ذکر ہو چکی ہے ،

Hadith 4766
sahih
عَن شُرَيْح بن هَانِئ عَن أبيهِ أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ سَمِعَهُمْ يُكَنُّونَهُ بِأَبِي الْحَكَمِ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ؟» قَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ بِحُكْمِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَحْسَنَ هَذَا فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ؟» قَالَ: لِي شُرَيْحٌ وَمُسْلِمٌ وَعَبْدُ اللَّهِ قَالَ: «فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟» قَالَ قُلْتُ: شُرَيْحٌ. قَالَ فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
Urdu

شریح بن ہانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی قوم کے ساتھ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے تو آپ نے انہیں سنا کہ وہ میرے والد کو ابوالحکم کی کنیت سے پکارتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں بلا کر فرمایا :’’ بے شک اللہ ہی حکم ہے اور حکم کا اختیار اسے ہی حاصل ہے ، تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں رکھی گئی ؟‘‘ اس نے کہا : جب میری قوم میں کسی چیز میں اختلاف ہو جاتا تو وہ میرے پاس آتے اور میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتا ہوں تو وہ دونوں فریق میرے فیصلے پر راضی ہو جاتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ کتنا اچھا ہے ، تیرے کتنے بچے ہیں ؟‘‘ اس نے کہا : شریح ، مسلم اور عبداللہ ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ان میں سے بڑا کون ہے ؟‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے کہا : شریح ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم ابو شریح ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

Hadith 4767
sahih
وَعَن مسروقٍ قَالَ: لَقِيتُ عُمَرَ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ. قَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَجْدَعُ شيطانٌ» رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وابنُ مَاجَه
Urdu

مسروق بیان کرتے ہیں ، میں عمر ؓ سے ملا تو انہوں نے فرمایا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : مسروق بن اجدع ، عمر ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اجدع ، شیطان (کا نام) ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔