عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ تمہارا مجھ سے اجازت لینا یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ اور تم میری پوشیدہ باتیں سن لو (تو آ جاؤ) جب تک میں تجھے ایسے کرنے سے منع نہ کر دوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنے والد کے ذمہ قرض کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کون ہے ؟‘‘ میں نے کہا : میں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں ، میں ۔‘‘ گویا آپ نے اسے ناپسند فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں داخل ہوا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالہ میں دودھ پایا تو فرمایا :’’ ابوہر ! اہل صفہ کے پاس جاؤ ، اور انہیں میرے پاس بلا لاؤ ۔‘‘ میں ان کے پاس گیا اور انہیں بلا لایا ، وہ آئے اور (اندر آنے کی) اجازت طلب کی ، آپ نے انہیں اجازت دے دی تو وہ اندر آ گئے ۔ رواہ البخاری ۔
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ ؓ نے (میرے ہاتھ) دودھ یا ہرن کا بچہ اور ککڑی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجی ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالائی علاقے میں تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، میں آپ کے پاس گیا تو میں نے نہ سلام کیا اور نہ اجازت طلب کی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ واپس جاؤ اور کہو : السلام علیکم ! کیا میں آ سکتا ہوں ؟‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو بلایا جائے اور وہ پیغام لانے والے کے ساتھ ہی آ جائے تو یہ اس کے لیے اجازت ہی ہے ۔‘‘ اور انہی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ آدمی کا آدمی کی طرف قاصد بھیجنا اس کی اجازت ہی ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن بسر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی کے دروازے پر تشریف لاتے تو آپ اپنا چہرہ دروازے کے سامنے نہ کرتے ، بلکہ اس کے دائیں کونے یا بائیں کونے پر آتے تو فرماتے :’’ السلام علیکم ! السلام علیکم !‘‘ ان دنوں دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔ اور انس ؓ سے مروی حدیث : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ السلام علیکم رحمۃ اللہ ‘‘ باب الضیافۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔
عطا بن یسار ؒ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کیا : کیا میں اپنی ماں (کے پاس جاتے وقت اس) سے اجازت طلب کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا ، میں گھر میں اس کے ساتھ ہی رہتا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پھر بھی اس سے اجازت طلب کرو ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا : میں اس کا خادم ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پھر بھی اجازت طلب کرو ، کیا تم اسے عریاں حالت میں دیکھنا پسند کرتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس سے اجازت طلب کرو ۔‘‘ امام مالک ؒ نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف لا رسالہ ، رواہ مالک ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رات کے وقت اور دن کے وقت جانے کی اجازت تھی ، جب میں رات کے وقت جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے (بطورِ علامت اجازت) کھانس دیتے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص (اجازت لینے کی خاطر) سلام سے ابتداء نہ کرے تو اسے اجازت نہ دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس ؓ سے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ (پر عمل) تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حسن بن علی ؓ کا بوسہ لیا ، اس وقت اقرع بن حابس ؓ بھی آپ کے پاس تھے ، اقرع ؓ نے عرض کیا : میرے دس بچے ہیں ، میں نے ان میں سے کسی کا بوسہ نہیں لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تعجب سے) اس کی طرف دیکھا ، پھر فرمایا :’’ جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور ہم ابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث : ((أَثَمَّ لُکَعُ)) باب مناقب اھل بیت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وعلیھم اجمعین میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔ جبکہ ام ہانی ؓ سے مروی حدیث باب الامان میں ذکر کی گئی ہے ۔
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب دو مسلمان ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرتے ہیں ، تو ان کے الگ ہونے سے پہلے انہیں بخش دیا جاتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب دو مسلمان ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرتے ہیں ، اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں ، اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں ، تو انہیں بخش دیا جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ و ابودداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم میں سے آدمی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملاقات کرتا ہے ، تو کیا وہ اس کے سامنے سر جھکائے ؟ فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ اس نے کہا : کیا وہ اسے گلے لگائے اور اس کا بوسہ لے ؟ فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ اس نے عرض ، کیا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مصافحہ کرے ؟ فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مریض کی عیادت اس طرح پوری ہوتی ہے کہ تم میں سے کوئی ایک اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر یا اس کے ہاتھ پر رکھ کر اس سے دریافت کرے :’’ کیا حال ہے ؟‘‘ اور تمہارا آپس میں پورا سلام دعا ، مصافحہ کرنا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور امام ترمذی ؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، زید بن حارثہ ؓ مدینہ تشریف لائے تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے ۔ وہ آپ کے پاس آئے تو انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (فرطِ محبت سے) اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے ، قمیص پہنے بغیر ، اس کی طرف چلے ، اللہ کی قسم ! میں نے اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد آپ کو قمیص کے بغیر دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے گلے لگایا اور اس کا بوسہ لیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ایوب بن بشیر ، عنزہ قبیلے کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا : میں نے ابوذر ؓ سے کہا : کیا جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے تھے تو وہ تم سے مصافحہ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : میں جب بھی آپ سے ملا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے مصافحہ کیا ہے ، آپ نے ایک روز مجھے طلب فرمایا لیکن میں گھر پر نہیں تھا ، جب میں آیا تو مجھے بتایا گیا ، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ اس وقت چار پائی پر تشریف فرما تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے گلے لگایا ، یہ (گلے لگانا) بہت ہی بہتر تھا ، بہت ہی بہتر ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عکرمہ بن ابی جہل ؓ بیان کرتے ہیں ، جس روز میں (بیعت اسلام کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مہاجر سوار کے لیے خوش آمدید ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
اسید بن حضیر ؓ لا تعلق انصار کے ایک قبیلے سے تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دن وہ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مزاح طبیعت تھے اور وہ انہیں (اپنی باتوں کے ذریعے) ہنسا رہے تھے ، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لکڑی سے اس کے پہلو پر چوب لگائی ، انہوں نے کہا : مجھے بدلہ دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں بدلہ دیتا ہوں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : آپ پر تو قمیص ہے جبکہ مجھ پر قمیص نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قمیص اٹھائی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چمٹ گیا اور آپ کے پہلو کو بوسہ دینے لگا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں بس یہی چاہتا تھا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
شعبی ؒ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جعفر بن ابی طالب ؓ کا استقبال کیا تو انہیں گلے لگایا اور ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) بوسہ دیا ۔ ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان مرسلا ۔ جبکہ مصابیح کے بعض نسخوں میں اور شرح السنہ میں البیاضی کی سند سے متصل ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
جعفر بن ابی طالب ؓ سے سرزمین حبشہ سے واپسی کے واقعہ کے بارے میں مروی ہے ، انہوں نے فرمایا : جب ہم مدینہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا استقبال کیا اور مجھے گلے لگا لیا ، پھر فرمایا :’’ میں نہیں جانتا کہ مجھے فتح خیبر کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر کی آمد کی ۔‘‘ اتفاق سے ان کی آمد فتح خیبر کے روز تھی ۔ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔