ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم روز قیامت حق داروں کو ان کے حقوق ضرور ادا کرو گے ، حتیٰ کہ سینگوں والی بکری سے سینگوں کے بغیر بکری کو بدلہ دلایا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور جابر ؓ سے مروی حدیث :’’ ظلم سے بچو ۔‘‘ باب الانفاق میں ذکر کی گئی ہے ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ امّعہ نہ بنو ، (وہ اس طرح کہ) تم کہو : اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے ، اور اگر انہوں نے ظلم کیا تو ہم بھی ظلم کریں گے ، بلکہ تم اپنے آپ سے عزم کرو کہ اگر لوگوں نے اچھا سلوک کیا تو تم بھی اچھا سلوک کرو گے اور اگر انہوں نے برا سلوک کیا تو تم ظلم نہیں کرو گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ ؓ کے نام خط لکھا کہ آپ اختصار کے ساتھ مجھے وصیت لکھیں ، چنانچہ انہوں نے لکھا : سلام علیک ! امابعد ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص لوگوں کی ناراضی کے بدلے میں اللہ کی رضا تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں کے شر سے کافی ہو جاتا ہے ، اور جو شخص اللہ کی ناراضی کے بدلے میں لوگوں کی خوشی تلاش کرتا ہے تو اللہ اسے لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے ۔‘‘ والسلام علیک ! سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، جب یہ آیت نازل ہوئی :’’ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی ۔‘‘ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ؓ پر گراں گزری اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہیں کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس سے یہ مراد نہیں ، بلکہ اس سے مراد شرک ہے ، کیا تم نے لقمان ؑ کا قول نہیں سنا جو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا :’’ بیٹے ! اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا ، کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ ایسے نہیں جو تم گمان کرتے ہو ، یہ تو وہ ہے جیسے لقمان ؑ نے اپنے بیٹے سے فرمایا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت مقام و مرتبے کے لحاظ سے وہ شخص بدترین ہو گا جس نے کسی کی دنیا (بنانے) کی خاطر اپنی آخرت ضائع کر لی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اعمال نامے تین قسم کے ہیں ، ایک وہ اعمال نامہ جسے اللہ معاف نہیں فرمائے گا ، وہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا ہے ، اللہ عزوجل فرماتا ہے :’’ بے شک اللہ معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے ۔‘‘ ایک وہ اعمال نامہ ہے جسے اللہ نہیں چھوڑے گا ، وہ ہے بندوں کا آپس میں ظلم کرنا حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے سے بدلہ لے لیں ، اور ایک وہ نامہ اعمال ہے جس کی اللہ پرواہ نہیں کرے گا ، وہ ہے بندوں کا اپنے اور اللہ کے درمیان ظلم کرنا ، یہ اللہ کے سپرد ہے ، اگر وہ چاہے تو اسے عذاب دے دے اور اگر چاہے تو اس سے درگزر فرمائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
علی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مظلوم کی بددعا سے بچو ، وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے اور بے شک اللہ حق دار سے اس کا حق نہیں روکتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
اوس بن شرحبیل ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص ظالم کے ساتھ چلتا ہے تا کہ وہ اس کو تقویت پہنچائے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ظالم ہے ، ایسا شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ظالم شخص اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچاتا ہے ، ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : ہاں ، اللہ کی قسم ! حتیٰ کہ سرخاب ظالم کے ظلم کی وجہ سے دبلی پتلی ہو کر اپنے آشیانے ہی میں مر جاتی ہے ۔ امام بیہقی نے چاروں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوسعید خدری ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص برائی دیکھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے ، اگر وہ طاقت نہ رکھے تو پھر اپنی زبان سے ، اگر وہ (اس کی بھی) استطاعت نہ رکھے تو پھر اپنے دل سے (بدلنے کے لیے منصوبہ بندی کرے اور اس سے نفرت رکھے) ، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی حدود (قائم کرنے) میں سستی کرنے والے اور ان میں مبتلا ہونے والے شخص کی مثال اس قوم کی مثل ہے جنہوں نے ایک کشتی (میں سوار ہونے) کے متعلق قرعہ اندازی کی تو ان میں سے بعض اس کی نچلی منزل پر اور بعض بالائی منزل پر بیٹھ گئے ، جو نچلی منزل میں تھے وہ پانی لینے کے لیے بالائی منزل والوں کے اوپر سے گزرتے ، جس سے اوپر والے تکلیف محسوس کرتے ، لہذا نچلی منزل والوں نے کلہاڑا پکڑا اور کشتی کے نچلے حصے میں سوراخ کرنے لگے ، چنانچہ اوپر والے ان کے پاس آئے اور پوچھا : تمہیں کیا ہوا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ (ہمارے اوپر جانے سے) تمہیں تکلیف ہوتی ہے اور پانی بھی ہماری مجبوری ہے ، اگر اوپر والوں نے اس کے ہاتھ روک لیے تو وہ اسے بھی بچا لیں گے اور اپنے آپ کو بھی بچا لیں گے ، اور اگر اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیں گے تو وہ اسے بھی ہلاک کر دیں گے اور اپنے آپ کو بھی ہلاک کر لیں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت ایک آدمی لایا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا ، اس کی انتڑیاں آگ میں نکل آئیں گی ، وہ ان کے گرد اس طرح چکر لگائے گا جس طرح گدھا چکی کے گرد چکر لگاتا ہے ، جہنمی اس پر جمع ہو جائیں گے ، اور اس سے دریافت کریں گے : اے فلاں ! تمہیں کیا ہوا ؟ کیا تو ہمیں نیکی کرنے کا حکم نہیں دیتا تھا اور ہمیں برائی کرنے سے نہیں روکتا تھا ؟ وہ کہے گا : میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود نیکی نہیں کرتا تھا ، اور میں تمہیں برائی سے روکتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم ضرور نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو ، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب نازل کر دے ، پھر تم اس سے دعائیں کرو گے لیکن وہ قبول نہ ہوں گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عرس بن عمیرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب زمین پر گناہ کیا جائے اور وہاں موجود شخص اسے ناپسند کرے تو وہ اس شخص کی مانند ہے جو وہاں موجود نہیں ، اور جو شخص اس وقت وہاں موجود نہ ہو لیکن وہ اس پر راضی ہو تو وہ اس شخص کی مانند ہے جو وہاں موجود ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا :’’ لوگو ! تم یہ آیت تلاوت کرتے ہو :’’ ایمان والو ! تم (گناہوں کے متعلق) اپنا خیال رکھو ، جب تم ہدایت پر ہو تو پھر گمراہ شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔‘‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک جب لوگ کسی برائی کو دیکھیں گے اور اسے روکیں گے نہیں تو پھر قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے ۔‘‘ ابن ماجہ ، ترمذی ، اور امام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اور ابوداؤد کی روایت میں ہے :’’ جب وہ ظالم کو (ظلم کرتے ہوئے) دیکھیں اور وہ اس کے ہاتھوں کو نہ روکیں تو پھر قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لے ۔‘‘ اور ابوداؤد کی دوسری روایت میں ہے :’’ جس قوم میں گناہ ہوتے ہوں پھر وہ انہیں روکنے کی طاقت کے باوجود نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ انہیں عذاب کی لپیٹ میں لے لے ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے :’’ جس قوم کی اقلیت گناہ میں مبتلا ہو جائے اور وہ اکثریت جو گناہ تو نہیں کرتی مگر کرنے والوں کو روکتی بھی نہیں (وہ بھی عذاب سے دوچار ہو جائے گی) ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابن ماجہ و الترمذی و ابوداؤد ۔
جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اگر کوئی شخص کسی قوم میں گناہ کرتا ہو اور وہ لوگ اسے روکنے کی طاقت کے باوجود نہ روکیں تو پھر اللہ ان کے مرنے سے پہلے انہیں اپنے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان :’’ تم اپنی جانوں کو لازم پکڑو ، جب تم خود ہدایت پر ہو گے تو گمراہ لوگ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ۔‘‘ کے بارے میں ابوثعلبہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : سن لو ! اللہ کی قسم ! میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بلکہ تم نیکی کرنے کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو ، حتیٰ کہ جب تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جاتی ہے ، خواہش کی اتباع کی جاتی ہے ، دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے اور ہر شخص اپنی رائے و عقل پر خوش ہے ، اور تم دیکھو کہ ایک ایسا امر جس سے بچنا مشکل ہے تو پھر تم اپنی جانوں کو لازم پکڑو اور عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دو ، کیونکہ آگے ایام صبر آنے والے ہیں ، جس شخص نے ان ایام میں صبر کیا گویا اس نے انگارہ پکڑا ، ان ایام میں عمل کرنے والے کے لیے پچاس آدمیوں کے عمل کرنے کے برابر اجر و ثواب ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان کے پچاس آدمیوں کے اجر کی مانند ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان پچاس آدمیوں کے اجر کی مانند جو تم میں سے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عصر کے بعد ہمیں خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے قیام قیامت تک پیش آنے والے تمام واقعات بیان فرمائے ، کچھ لوگوں نے اسے یاد رکھا اور کچھ لوگوں نے اسے بھلا دیا ، آپ کے خطاب میں یہ بھی تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دنیا شیریں و شاداب ہے ، بے شک اللہ تمہیں اس میں خلیفہ و جانشین بنانے والا ہے ، وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ، سن لو ! دنیا سے بچو ، اور عورتوں (کے فتنے) سے بچو ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذکر فرمایا :’’ روز قیامت ہر عہد شکن کے لیے ، دنیا میں اس کی عہد شکنی کے مطابق ایک جھنڈا ہو گا ، اور امیر عامہ (صدر) کی عہد شکنی سے بڑھ کر کوئی عہد شکنی نہیں ہو گی ، اس کا جھنڈا اس کی سرین پر نصب کیا جائے گا ، اور لوگوں کا خوف تم میں سے کسی کو حق بات کہنے سے نہ روکے جبکہ وہ اسے جانتا ہو ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ اگر وہ کوئی برائی دیکھے ، تو اسے روک دے لوگوں کا خوف اسے ایسا کرنے سے نہ روکے ۔‘‘ چنانچہ (یہ بیان کر کے) ابوسعید ؓ رونے لگے ، اور فرمایا : یقیناً ہم نے اس کو دیکھا لیکن لوگوں کے خوف نے ہمیں اس کے متعلق بات کرنے سے روک دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! آدم ؑ کی اولاد مختلف طبقات پر پیدا کی گئی ، ان میں سے کوئی تو مومن پیدا کیا گیا ، وہ اسی حالت میں زندہ رہا اور اسی حالت پر فوت ہوا ، اور ان میں سے کچھ کو کافر پیدا کیا گیا ، وہ حالت کفر پر زندہ رہے اور کافر ہی فوت ہوئے ، اور ان میں سے کچھ مومن پیدا ہوتے ہیں ، حالت ایمان پر زندہ رہتے ہیں اور حالت کفر پر فوت ہو جاتے ہیں ، اور ان میں سے کچھ حالت کفر پر پیدا ہوتے ہیں ، اسی حالت پر زندہ رہتے ہیں اور حالت ایمان پر فوت ہوتے ہیں ۔‘‘ اور راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غصے کا ذکر فرمایا :’’ ان میں سے کچھ کو جلد غصہ آ جاتا ہے اور جلد ہی اتر جاتا ہے ، ان میں سے ایک (خصلت) دوسری (خصلت) کا بدل ہے ، اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہیں غصہ دیر سے آتا ہے اور دیر سے جاتا ہے یہ بھی ایک (خصلت) دوسری کا بدل ہے ، اور تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جسے غصہ دیر سے آتا ہو اور جلد زائل ہوتا ہو ، اور تم میں سے بدترین شخص وہ ہے جسے غصہ تو جلد آتا ہو جبکہ وہ زائل دیر سے ہوتا ہو ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غصے سے بچو ، کیونکہ وہ ابن آدم کے دل پر ایک انگارہ ہے ، کیا تم اس کی رگوں کے پھولنے اور اس کی آنکھوں کی سرخی کی طرف نہیں دیکھتے ، جو شخص ایسی کیفیت محسوس کرے تو اسے چاہیے کہ وہ لیٹ جائے اور زمین کے ساتھ لگ جائے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرض کا ذکر کیا تو فرمایا :’’ تم میں سے کوئی ادائیگی میں اچھا ہوتا ہے لیکن جب اس نے کسی سے قرض لینا ہو تو وہ وصولی میں سختی کرتا ہے ، یہ (خصلت) دوسری کا بدل ہے ، (تاہم یہ وصف قابل ستائش نہیں) کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ادائیگی میں برے ہوتے ہیں جبکہ وصولی میں اچھے ہوتے ہیں تو یہ بھی دوسری (خصلت) کا بدل ہے ، (تاہم یہ وصف قابل ستائش نہیں) اور تم میں سے بہتر شخص وہ ہے کہ جب اس پر قرض ہو تو وہ اچھی طرح ادا کرتا ہے ، اور جب اس نے قرض لینا ہو تو وہ وصولی میں اچھا ہوتا ہے ، اور تم میں سے بدترین شخص وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں برا ہو اور اگر اس نے قرض لینا ہو تو وہ وصولی میں سخت ہو ۔‘‘ حتیٰ کہ جب دھوپ کھجور کے درختوں کی چوٹیوں اور دیواروں کی اطراف پر آ گئی تو فرمایا :’’ سن لو ! دنیا بس اتنی ہی باقی رہ گئی ہے جتنا آج کے دن کا یہ حصہ باقی رہ گیا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوبختری ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگ اس وقت تک گناہوں کی وجہ سے تباہ و برباد نہیں کئے جائیں گے جب تک وہ گناہوں کے جواز کے لیے جھوٹے عذر پیش نہیں کریں گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عدی بن عدی کندی بیان کرتے ہیں ، ہمارے آزاد کردہ غلام نے ہمیں حدیث بیان کی کہ اس نے میرے دادا کو بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کی نافرمانی کی وجہ سے سب لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا حتیٰ کہ وہ اپنے سامنے برائی ہوتی دیکھیں اور وہ اسے روکنے کی طاقت رکھنے کے باوجود اسے نہ روکیں ، جب وہ اس طرح کے ہو جائیں تو پھر اللہ عام و خاص (زیادہ اور تھوڑوں سب کو) عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔