عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے ، نرمی کو پسند فرماتا ہے ، اور وہ جس قدر نرمی پر عطا کرتا ہے ، وہ سختی پر عطا نہیں کرتا نہ اس کے علاوہ کسی اور چیز پر عطا کرتا ہے ۔‘‘ اور مسلم ہی کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عائشہ ؓ سے فرمایا :’’ نرمی اختیار کرو ، سختی اور بدزبانی سے اجتناب کرو ، بے شک جس چیز میں نرمی ہوتی ہے تو وہ اس (چیز) کو مزین کر دیتی ہے اور جس چیز سے اسے نکال لیا جاتا ہے تو وہ اسے عیب دار بنا دیتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جریر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نرمی سے محروم شخص (ہر قسم کی) خیر و بھلائی سے محروم ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار کے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا کے متعلق نصیحت کر رہا تھا (کہ اتنے شرمیلے نہ بنو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو ، کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حیا خیر ہی لاتا ہے ۔‘‘ ایک روایت میں ہے :’’ حیا تو سرآپا خیر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں نے سابقہ انبیا ؑ کے کلام سے جو پایا ہے اس میں یہ (مقولہ) بھی ہے کہ جب تو حیا نہیں کرتا تو پھر جو چاہے سو کر ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
نواس بن سمعان ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نیکی ، اچھا اخلاق ہے ، جبکہ گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ لوگ اس سے مطلع ہو جائیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب شخص وہ ہے جو تم میں اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو تم میں اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو نرمی سے اس کا حصہ دیا گیا تو اسے دنیا و آخرت کی بھلائی سے اس کا حصہ دیا گیا اور جو شخص نرمی سے اپنے حصے سے محروم کر دیا گیا تو وہ دنیا و آخرت میں اپنے حصے کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حیا ایمان کا حصہ ہے ، اور ایمان (والے) جنت میں ہوں گے ، جبکہ فحش گوئی برائی ہے اور برائی (والے) جہنم میں جائیں گے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
مزینہ قبیلے کے آدمی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! انسان کو جو عطا کیا گیا ہے اس میں سب سے بہتر چیز کونسی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حسن خلق ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
اور شرح السنہ میں اسامہ بن شریک سے مروی ہے ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
حارثہ بن وہب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بداخلاق اور سخت دل انسان جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور جامع الاصول والے نے بھی اسے روایت کیا ہے ، اور اس میں حارثہ سے مروی ہے ، اور اسی طرح انہی سے شرح السنہ میں بھی مروی ہے ، اور اس کے الفاظ یہ ہیں ، فرمایا :’’ جواظ و جعظری ‘‘ جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ جعظری کا یہ معنی کہا جاتا ہے :’’ سخت خو اور سخت گو ۔‘‘ اور مسابیح کے نسخوں میں عکرمہ بن وہب سے مروی ہے ، اور اس کے الفاظ ہیں :’’ جواظ ‘‘ کا معنی ہے : مال جمع کرنے والا بخیل ، اور ’’ جعظری ‘‘ کا معنی ہے :’’ سخت خو اور سخت گو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان و فی شرح السنہ و ذکر فی المصابیح السنہ ۔
ابودرداء ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روز قیامت مومن کی میزان میں حسن خلق سے زیادہ بھاری چیز کوئی نہیں رکھی جائے گی ، اور اللہ یقیناً بدزبان اور بے ہودہ باتیں کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور ابوداؤد نے پہلا حصہ روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک مومن اپنے حسن خلق کی وجہ سے روزے دار اور تہجد گزار شخص کا درجہ پا لیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ تم جہاں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو ، اور برائی کے بعد نیکی کرو وہ اس (برائی) کو مٹا دے گی ، اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق کے ساتھ پیش آؤ ۔‘‘ حسن ، رواہ احمدو الترمذی و الدارمی ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں جو جہنم کی آگ پر یا جہنم کی آگ ان پر حرام ہے ؟ وہ ہر آسانی کرنے والے ، نرمی کرنے والے ، قریب رہنے والے ، نرم خو پر حرام ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن بھولا بھالا سخی ہوتا ہے جبکہ فاجر دھوکہ باز ، بخیل ہوتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
مکحول بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن نرم مزاج اور باوقار ہوتے ہیں جیسے مہار دار اونٹ ، جب اسے چلایا جاتا ہے تو چل پڑتا ہے اور اگر اسے چٹان پر بٹھایا جاتا ہے تو وہ بیٹھ جاتا ہے ۔‘‘ امام ترمذی نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابن عمر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایسا مسلمان جو لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی ایذاؤں پر صبر کرتا ہے وہ اس سے افضل ہے جو ان کے ساتھ مل جل کر نہیں رہتا اور نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔