سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص غصے پر قابو پاتا ہے جبکہ وہ اس (غصے) کو نکال سکتا ہے تو اللہ روز قیامت اسے ساری مخلوق کے سامنے لائے گا اور اسے اپنی پسند کی حور اختیار کرنے کا اختیار دے گا ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ، سوید بن وہب نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی اولاد میں سے کسی آدمی سے روایت کیا ، اس نے اپنے والد سے ، فرمایا :’’ اللہ اس کے دل کو امن و ایمان کے ساتھ بھر دے گا ۔‘‘ اور سوید سے مروی حدیث :’’ جس نے خوبصورت لباس پہننا ترک کر دیا ۔‘‘ کتاب اللباس میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
زید بن طلحہ ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک ہر دین کی کچھ امتیازی خصوصیات ہیں اور اسلام کی امتیازی خصوصیت حیا ہے ۔‘‘ امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
ابن ماجہ نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں انس اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن ماجہ نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں انس اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک حیا اور ایمان ساتھ ساتھ ہیں ، جب ان دونوں میں سے ایک اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
اور ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب ان میں سے ایک کو سلب کر لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اس کے پیچھے چلا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب میں نے رکاب میں پاؤں رکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری وصیت کرتے ہوئے مجھے فرمایا :’’ معاذ ! لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
امام مالک ؒ بیان کرتے ہیں ، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
امام احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آئینہ دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میری صورت و سیرت کو بہتر بنایا اور میرے علاوہ کسی میں جو عیب تھا مجھے اس سے محفوظ کر کے مزین بنایا ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ، مرسل روایت ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! تو نے مجھے اچھی طرح تخلیق فرمایا ، پس میرے اخلاق بھی سنوار دے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تم میں سب سے بہتر لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ضرور بتائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کی تم میں سے عمریں دراز ہوں اور وہ تم میں سے بہترین اخلاق کے حامل ہوں ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سب سے کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے ابوبکر ؓ کو گالی دی ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے ، آپ تعجب کر رہے تھے اور مسکرا رہے تھے ، جب اس نے زیادہ بدتمیزی کی تو ابوبکر ؓ نے اس کی کسی بات کا جواب دیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ ابوبکر ؓ آپ کے پاس گئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ مجھے گالیاں دیے جا رہا تھا جبکہ آپ تشریف فرما تھے ، جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے ساتھ فرشتہ تھا جو اسے جواب دے رہا تھا ، اور جب تم نے اسے جواب دیا تو شیطان واقع ہو گیا ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ ابوبکر ! تین چیزیں مکمل طور پر حق ہیں ، جس شخص کی حق تلفی کی جائے اور وہ اللہ عزوجل کی خاطر اس سے چشم پوشی کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ اسے قوت و نصرت عطا فرماتا ہے ، جو شخص صلہ رحمی کی خاطر عطیہ دیتا ہے تو اللہ اس کے بدلے میں اسے زیادہ عطا فرماتا ہے اور جو شخص کثرت (مال) کی خاطر دست سوال دراز کرتا ہے تو اللہ مزید قلت فرما دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ جس گھر والوں کے ساتھ نرمی کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ انہیں نفع پہنچاتا ہے ، اور جس گھر والوں کو اس سے محروم کر دیتا ہے تو وہ انہیں اس کی وجہ سے نقصان پہنچا دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی ، مجھے وصیت فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غصہ نہ کیا کر ۔‘‘ اس نے کئی بار یہی درخواست کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ہر بار یہی) فرمایا :’’ غصہ نہ کیا کر ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی کو پچھاڑنے والا شخص زیادہ طاقت ور نہیں ، طاقت ور شخص تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حارثہ بن وہب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں جنتیوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر ضعیف شخص کہ لوگ اسے ضعیف و ناتواں سمجھیں اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لے تو وہ اسے پورا فرما دے ۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر سرکش ، بخیل اور متکبر ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ ہر بخیل ، کمینہ اور متکبر شخص ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ جہنم میں نہیں جائے گا اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔