Back to Mishkat Al-Masabih

Etiquette

كتاب الْآدَاب

Chapter 24

Hadith 5088
sahih
وَعَن سهلِ بن معاذٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُنفِّذَه دعاهُ اللَّهُ على رؤوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي أَيِّ الْحُورِ شَاءَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
Urdu

سہل بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص غصے پر قابو پاتا ہے جبکہ وہ اس (غصے) کو نکال سکتا ہے تو اللہ روز قیامت اسے ساری مخلوق کے سامنے لائے گا اور اسے اپنی پسند کی حور اختیار کرنے کا اختیار دے گا ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 5089
sahih
وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «مَلأ اللَّهُ قلبَه أمْناً وإِيماناً» وَذُكِرَ حَدِيثُ سُوْيَدٍ: «مَنْ تَرَكَ لِبْسَ ثَوْبِ جما ل» فِي «كتاب اللبَاس»
Urdu

اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ، سوید بن وہب نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اصحاب کی اولاد میں سے کسی آدمی سے روایت کیا ، اس نے اپنے والد سے ، فرمایا :’’ اللہ اس کے دل کو امن و ایمان کے ساتھ بھر دے گا ۔‘‘ اور سوید سے مروی حدیث :’’ جس نے خوبصورت لباس پہننا ترک کر دیا ۔‘‘ کتاب اللباس میں ذکر کی گئی ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 5090
sahih
عَنْ زَيْدِ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ» . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسلا
Urdu

زید بن طلحہ ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک ہر دین کی کچھ امتیازی خصوصیات ہیں اور اسلام کی امتیازی خصوصیت حیا ہے ۔‘‘ امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔

Hadith 5091
sahih
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» عَن أنس وَابْن عَبَّاس
Urdu

ابن ماجہ نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں انس اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5092
sahih
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ» عَن أنس وَابْن عَبَّاس
Urdu

ابن ماجہ نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں انس اور ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5093
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْإِيمَانَ قُرَنَاءُ جَمِيعًا فإِذا رفع أَحدهمَا رفع الآخر»
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک حیا اور ایمان ساتھ ساتھ ہیں ، جب ان دونوں میں سے ایک اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5094
sahih
وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «فَإِذَا سُلِبَ أَحَدُهُمَا تَبِعَهُ الْآخَرُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَانِ»
Urdu

اور ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب ان میں سے ایک کو سلب کر لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اس کے پیچھے چلا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5095
sahih
وَعَن مُعاذٍ قَالَ: كانَ آخرُ مَا وصَّاني بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعْتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ أَنْ قَالَ: «يَا مُعَاذُ أحسُنْ خُلُقكَ للنَّاس» . رَوَاهُ مَالك
Urdu

معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب میں نے رکاب میں پاؤں رکھا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آخری وصیت کرتے ہوئے مجھے فرمایا :’’ معاذ ! لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔

Hadith 5096
sahih
وَعَن مَالك بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الْأَخْلَاقِ» رَوَاهُ الْمُوَطَّأ
Urdu

امام مالک ؒ بیان کرتے ہیں ، مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ مالک ۔

Hadith 5097
sahih
وَرَوَاهُ أَحْمد عَن أبي هُرَيْرَة
Urdu

امام احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔

Hadith 5098
sahih
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَظَرَ فِي الْمِرْآةِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي حَسَّنَ خُلُقِي وَخَلْقِي وَزَانَ مِنِّي مَا شَانَ مِنْ غَيْرِي» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان» مُرْسلا
Urdu

جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب آئینہ دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے :’’ ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میری صورت و سیرت کو بہتر بنایا اور میرے علاوہ کسی میں جو عیب تھا مجھے اس سے محفوظ کر کے مزین بنایا ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ، مرسل روایت ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5099
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ حسَّنَت خَلقي فأحسِنْ خُلقي» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دعا کیا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! تو نے مجھے اچھی طرح تخلیق فرمایا ، پس میرے اخلاق بھی سنوار دے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد ۔

Hadith 5100
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى. قَالَ: «خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا» رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تم میں سب سے بہتر لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ضرور بتائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کی تم میں سے عمریں دراز ہوں اور وہ تم میں سے بہترین اخلاق کے حامل ہوں ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 5101
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ سب سے کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔

Hadith 5102
sahih
وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يَتَعَجَّبُ وَيَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ. قَالَ: «كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ» . ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حقٌّ: مَا منْ عبدٍ ظلم بمظلمة فِي غضي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے ابوبکر ؓ کو گالی دی ، جبکہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف فرما تھے ، آپ تعجب کر رہے تھے اور مسکرا رہے تھے ، جب اس نے زیادہ بدتمیزی کی تو ابوبکر ؓ نے اس کی کسی بات کا جواب دیا اس پر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ ابوبکر ؓ آپ کے پاس گئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ مجھے گالیاں دیے جا رہا تھا جبکہ آپ تشریف فرما تھے ، جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ ناراض ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے ساتھ فرشتہ تھا جو اسے جواب دے رہا تھا ، اور جب تم نے اسے جواب دیا تو شیطان واقع ہو گیا ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ ابوبکر ! تین چیزیں مکمل طور پر حق ہیں ، جس شخص کی حق تلفی کی جائے اور وہ اللہ عزوجل کی خاطر اس سے چشم پوشی کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ اسے قوت و نصرت عطا فرماتا ہے ، جو شخص صلہ رحمی کی خاطر عطیہ دیتا ہے تو اللہ اس کے بدلے میں اسے زیادہ عطا فرماتا ہے اور جو شخص کثرت (مال) کی خاطر دست سوال دراز کرتا ہے تو اللہ مزید قلت فرما دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔

Hadith 5103
sahih
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُرِيدُ اللَّهُ بِأَهْلِ بَيْتٍ رِفْقًا إِلَّا نَفَعَهُمْ وَلَا يَحْرِمُهُمْ إِيَّاهُ إِلَّا ضَرَّهُمْ «. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي» شُعَبِ الْإِيمَانِ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ جس گھر والوں کے ساتھ نرمی کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ انہیں نفع پہنچاتا ہے ، اور جس گھر والوں کو اس سے محروم کر دیتا ہے تو وہ انہیں اس کی وجہ سے نقصان پہنچا دیتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 5104
sahih
عَن أبي هريرةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: أوصني. قَالَ: «لَا تغضبْ» . فردَّ ذَلِكَ مِرَارًا قَالَ: «لَا تَغْضَبْ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے درخواست کی ، مجھے وصیت فرمائیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ غصہ نہ کیا کر ۔‘‘ اس نے کئی بار یہی درخواست کی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (ہر بار یہی) فرمایا :’’ غصہ نہ کیا کر ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 5105
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کسی کو پچھاڑنے والا شخص زیادہ طاقت ور نہیں ، طاقت ور شخص تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5106
sahih
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ» . مُتَّفق عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَة مُسلم: «كل جواظ زنيم متكبر»
Urdu

حارثہ بن وہب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں جنتیوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر ضعیف شخص کہ لوگ اسے ضعیف و ناتواں سمجھیں اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لے تو وہ اسے پورا فرما دے ۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر سرکش ، بخیل اور متکبر ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ ہر بخیل ، کمینہ اور متکبر شخص ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 5107
sahih
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ أحد فِي قلبه مِثْقَال حَبَّة خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ. وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كبر» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ جہنم میں نہیں جائے گا اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔