ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حسن ظن ، حسن عبادت میں سے ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، صفیہ ؓ کا اونٹ بیمار ہو گیا جبکہ زینب ؓ کے پاس زائد سواری تھی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زینب ؓ سے فرمایا :’’ اس (صفیہ ؓ) کو اونٹ دے دو ۔‘‘ انہوں نے کہا : میں اس یہودن کو دوں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذوالحجہ ، محرم اور صفر کے چند ایام تک ان سے صحبت ترک کر دی ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔ اور معاذ بن انس ؓ سے مروی حدیث :’’ جو شخص کسی مومن کی عزت بچاتا ہے ۔‘‘ باب الشفقۃ و الرحمۃ میں گزر چکی ہے ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عیسیٰ بن مریم ؑ نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو عیسیٰ ؑ نے اسے فرمایا : تم نے چوری کی ہے ، اس نے کہا ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ! ہرگز نہیں ، (اس پر) عیسیٰ ؑ نے فرمایا : میں اللہ پر ایمان لایا ، اور میں نے اپنے نفس کی تکذیب کی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قریب ہے کہ فقر (اللہ پر اعتراض کرنے کی وجہ سے) کفر بن جائے اور قریب ہے کہ حسد تقدیر پر غالب آ جائے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
جابر ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کے سامنے عذر پیش کرے اور وہ اسے معذور نہ سمجھے یا وہ اس کا عذر قبول نہ کرے تو اس پر ٹیکس وصول کرنے والے کی مثل گناہ ہوتا ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔ یہ دونوں روایتیں امام بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہیں ، اور فرمایا : ((المکاس)) سے عشر لینے والا مراد ہے ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد القیس کے سردار اشج سے فرمایا :’’ تم میں دوخصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے : حلم اور وقار ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بردباری اللہ کی جانب سے ہے اور جلد بازی شیطان کی جانب سے ہے ۔‘‘ امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے ، اور اسے غریب کہا ہے اور بعض محدثین نے اس حدیث کے راوی عبد المہیمن بن عباس کے حافظے کے متعلق کلام کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لغزش کرنے والا ہی بردبار ہوتا ہے اور تجربہ کار ہی دانا ہوتا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، اور امام ترمذی ؒ کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا : آپ مجھے وصیت فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ معاملے پر غور و فکر کر ، اگر تو اس کے انجام میں خیر و بھلائی دیکھے تو اسے کر گزر اور اگر تجھے گمراہی کا اندیشہ لگے تو اسے مت کر ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا منکر ، رواہ فی شرح السنہ ۔
مصعب بن سعد ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، جبکہ اعمش نے فرمایا : میں تو اس (حدیث) کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی سے جانتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عمل آخرت کے علاوہ ہر چیز میں عجلت سے کام نہ لینا بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن سرجس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اچھی سیرت ، تحمل و وقار اور میانہ روی نبوت کا چوبیسواں حصہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اچھا طریق اور اچھی سیرت نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر بن عبداللہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی بات کرتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھے (کہ کہیں کوئی اور تو نہیں سن رہا) تو وہ امانت ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو الہیشم بن التیہان سے فرمایا :’’ کیا تمہارے پاس کوئی خادم ہے ۔‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو پھر تم ہمارے پاس آنا ۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو غلام لائے گئے تو ابو الہیشم بھی آپ کے پاس گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان میں سے کوئی ایک پسند کر لو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے نبی ! آپ ہی پسند فرما دیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ امین ہوتا ہے ، اسے لے لو کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ، میں تمہیں اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین مجالس ، (جہاں) ناحق قتل کرنے یا زنا کرنے یا ناحق مال حاصل کرنے کے متعلق باتیں ہو رہی ہوں ، کے علاوہ مجالس (کی باتیں) امانت ہوتی ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔ اور ابوسعید ؓ سے مروی حدیث کہ :’’ بے شک بڑی امانت ‘‘ باب المباشرۃ کی فصل اول میں ذکر ہو چکی ہے ۔
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ نے عقل کو پیدا فرمایا تو اسے فرمایا : کھڑی ہو جا ، وہ کھڑی ہو گئی ، پھر اسے کہا : پیچھے مڑ ، تو وہ پیچھے مڑ گئی ، پھر اسے کہا : سامنے توجہ کر ، تو وہ سامنے آ گئی ، پھر اسے کہا : بیٹھ جا ، تو وہ بیٹھ گئی ، پھر اسے فرمایا : میں نے اپنی پوری مخلوق میں تجھے سب سے زیادہ بہتر و افضل اور سب سے اچھا بنایا ہے ، میں تیری وجہ سے مؤاخذہ کروں گا ، تیری وجہ سے عنایت کروں گا اور تیری وجہ سے میں پہچانا جاتا ہوں ، میں تیری وجہ سے سزا دوں گا جزا اور ثواب کا انحصار بھی تجھ پر ہے ۔‘‘ اس کے متعلق بعض علما نے کلام کیا ہے ۔ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بلا شبہ ایک شخص نماز پڑھنے والوں ، روزہ رکھنے والوں ، زکوۃ دینے والوں ، حج اور عمرہ کرنے والوں میں ہو گا ۔‘‘ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام اچھے کاموں کا ذکر کیا ۔’’ لیکن اس شخص کو ثواب اس کی عقل کے تناسب سے دیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ ابوذر ! تدبیر جیسی کوئی عقل نہیں اور مشتبہات سے رک جانے جیسا کوئی تقویٰ نہیں اور نہ ہی حسن خلق جیسا کوئی حسب و شرف ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ خرچ کرنے میں میانہ روی نصف معیشت ہے ، (اچھے) لوگوں سے دوستی اور محبت نصف عقل ہے ، اور حسن سوال نصف علم ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے یہ چاروں احادیث شعب الایمان میں نقل کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف منکر ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔