ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن وہ (صحبت یا علم و عمل کے لحاظ سے) ان سے ملا نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی ان کے ساتھ ہو گا جس سے اس کی محبت ہو گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! قیامت کب آئے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تجھ پر افسوس ہے ، تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : میری تیاری صرف یہی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تو اس کے ساتھ ہو گا جس سے تو محبت رکھتا ہے ۔‘‘ انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس بات سے زیادہ کسی اور چیز سے خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ متفق علیہ ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نیک ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے کستوری والا اور آگ کی بھٹی دھونکنے والا ، کستوری والا یا تو وہ تمہیں عطیہ دے دے گا یا تم خود اس سے خرید لو گے یا پھر تم اس سے اچھی خوشبو پا لو گے ۔ جبکہ بھٹی دھونکنے والا یا تو وہ تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم اس سے گندی بو پاؤ گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ان لوگوں کے لیے جو میری خاطر باہم محبت کرتے ہیں ، میری خاطر باہم ملاقاتیں کرتے ہیں ، اور میری خاطر ہی ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں ، میری محبت واجب ہو گئی ۔‘‘ مالک ۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میری جلالت و عظمت کی خاطر باہم محبت کرنے والوں کے لیے نور کے منبر ہیں ، ان پر انبیا ؑ اور شہداء بھی رشک کریں گے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو نہ تو انبیا ہیں اور نہ شہدا ، لیکن روز قیامت اللہ کے ہاں ان کے مقام و مرتبہ پر انبیا ؑ اور شہدا بھی رشک کریں گے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں بتائیں کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ لوگ ہیں جو آپس میں نہ تو کسی رشتے ناتے کی وجہ سے محبت کرتے ہیں نہ کسی مالی شراکت کی بنا پر بلکہ وہ محض اللہ کے حکم اور قرآنی اتباع میں باہم محبت کرتے اور لین دین کرتے ہیں ، اللہ کی قسم ! ان کے چہرے چمکتے ہوں گے اور وہ نور (کے منبروں) پر ہوں گے ، اور جب دیگر لوگ خوف میں مبتلا ہوں گے تو وہ خوف زدہ نہیں ہوں گے اور جب دیگر لوگ غم کا شکار ہوں گے تو وہ غم زدہ نہیں ہوں گے ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ سن لو ! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
اور انہوں (امام بغوی) نے اسے ابومالک کی سند سے کچھ زوائد کے ساتھ مصابیح کے الفاظ سے شرح السنہ میں روایت کیا ہے ، اور اسی طرح شعب الایمان میں بھی ہے ۔ حسن ، رواہ فی شرح السنہ و مصابیح السنہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوذر ؓ سے فرمایا :’’ ابوذر ! ایمان کا کون سا حصہ (حلقہ) زیادہ مضبوط و محکم ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت و تعاون کرنا ، اللہ کی خاطر محبت کرنا اور اللہ کی خاطر بغض رکھنا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب مسلمان اپنے (مسلمان) بھائی کی عیادت کرتا ہے یا اس سے ملاقات کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تیری حیات اخروی اچھی ہو گئی ہے ، تیرا چلنا اچھا ہو گیا اور تم نے جنت میں جگہ بنا لی ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
مقدام بن معدیکرب ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی اپنے (مسلمان) بھائی سے محبت کرے تو وہ اسے بتائے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا جبکہ کچھ لوگ آپ کے پاس تھے ، ان لوگوں میں سے کسی نے کہا : میں اس شخص سے اللہ کی خاطر محبت کرتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے اسے بتایا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کی طرف جاؤ اور اسے بتاؤ ۔‘‘ چنانچہ وہ اس شخص کے پاس گیا اور اسے بتایا (کہ میں تجھ سے اللہ کی خاطر محبت کرتا ہوں) تو اس نے کہا : جس ذات کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو وہ ذات تجھ سے محبت کرے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر وہ آدمی واپس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا تو اس نے آپ کو اس کے جواب سے آگاہ کیا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اس کے ساتھ ہی ہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو ، اور تم نے جو ثواب چاہا وہ تمہیں ملے گا ۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے :’’ آدمی جس سے محبت کرتا ہے اسی کے ساتھ ہو گا ، اور جو اس نے کیا اس کا وہ صلہ پائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان و الترمذی ۔
ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ تم صرف کسی مومن شخص کی ہم نشینی اختیار کرو اور تمہارا کھانا صرف متقی شخص ہی کھائے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و الدارمی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے ، لہذا تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور امام ترمذی ؒ نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور امام نووی ؒ نے فرمایا : اس کی اسناد صحیح ہیں ۔ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
یزید بن نعامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی کسی آدمی سے بھائی چارہ قائم کرے تو وہ اس سے اس کے نام ، اس کے والد کے نام اور اس کے قبیلے کے متعلق دریافت کر لے ، کیونکہ یہ محبت (دوستی) کو زیادہ ملانے (بڑھانے) والا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کو کون سے اعمال زیادہ پسند ہیں ؟‘‘ صحابہ میں سے کسی نے عرض کیا : نماز ، زکوۃ ، اور کسی نے عرض کیا : جہاد ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ، اللہ کی خاطر محبت کرنا اور اللہ کی خاطر بغض رکھنا ہے ۔‘‘ احمد ۔ اور ابوداؤد نے آخری حصہ روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی رضا کی خاطر کسی شخص سے محبت کرتا ہے تو وہ اپنے رب و عزوجل کی تکریم کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں کہ جب ان پر نظر پڑے تو اللہ یاد آ جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر دو بندے اللہ عزوجل کی خاطر آپس میں محبت کرتے ہیں ، ایک مشرق میں ہے اور ایک مغرب میں ، تو روز قیامت اللہ ان دونوں کو اکٹھا کر دے گا اور فرمائے گا : یہ ہے وہ جس سے تم میری رضا کی خاطر محبت کیا کرتے تھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابورزین (لقیط بن عامر بن صبرہ ؓ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس دین کی بنیاد کے متعلق نہ بتاؤں جس کے ذریعے تم دین و دنیا کی بھلائی حاصل کر لو ؟ تم اہل ذکر کی مجالس اختیار کرو ، جب خلوت میں ہو تو پھر جس قدر ہو سکے اپنی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رکھو اور اللہ کی خاطر محبت کرو اور اللہ کی خاطر بغض رکھو ۔ ابورزین ! کیا تمہیں معلوم ہے ؟ کہ آدمی جب اپنے (مسلمان) بھائی کی زیارت کے لیے (گھر سے) نکلتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے ساتھ چلتے ہیں اور وہ سب اس کے لیے دعائیں کرتے جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں : ہمارے پروردگار ! اس نے تیری رضا کی خاطر تعلق جوڑا ہے تو اسے (اپنی رحمت و مغفرت کے ساتھ) جوڑ دے ، اگر تم اپنے جسم کو ان کاموں پر لگا سکو تو لگاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنت میں یاقوت کے ستون ہیں ، ان پر زمرد کے بالا خانے ہیں ، ان کے دروازے کھلے ہیں ، وہ چمک دار ستارے کی طرح چمکتے ہیں ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان میں کون لوگ رہیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی خاطر آپس میں محبت کرنے والے ، اللہ کی خاطر آپس میں ہم نشینی اختیار کرنے والے اور اللہ کی خاطر آپس میں ملاقات کرنے والے ۔‘‘ امام بیہقی نے تینوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زائد ترک تعلقات کرے ، دونوں ملتے ہیں تو وہ اس سے اعراض کرتا ہے اور وہ اس سے اعراض کرتا ہے ، اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔