ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اور اس کے جوتے اچھے ہوں ۔ (کیا یہ بھی تکبر ہے ؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ صاحب جمال ہے اور وہ جمال کو پسند فرماتا ہے ، تکبر سے مراد ، حق بات کو ٹھکرانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین آدمی ایسے ہیں ، جن سے اللہ روز قیامت کلام نہیں فرمائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا ۔‘‘ ایک روایت میں ہے ۔ اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا : بوڑھا زانی ، جھوٹا بادشاہ اور متکبر فقیر ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے ، جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک کو کھینچے گا میں اسے آگ میں داخل کروں گا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ میں اسے آگ میں پھینکوں گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ سرکشوں ظالموں کے زمرے میں لکھا جاتا ہے ، چنانچہ جس (عذاب) میں وہ مبتلا ہوئے یہ بھی اسی میں مبتلا ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تکبر کرنے والوں کو روز قیامت آدمیوں کی صورت میں چیونٹیوں کی مثل جمع کیا جائے گا ، ہر جگہ سے ذلت انہیں ڈھانپ لے گی ، انہیں جہنم میں بولس نامی جیل کی طرف ہانکا جائے گا آگوں کی آگ (سب سے بڑی آگ) انہیں گھیر لے گی اور انہیں جہنمیوں کی طینتہ الخبال نامی پیپ پلائی جائے گی ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عطیہ بن عروہ سعدی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غصہ شیطان کی طرف سے ہے ، جبکہ شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے ، اور آگ پانی ہی سے بجھائی جاتی ہے ، جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے ، اگر غصہ ختم ہو جائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
اسماء بنت عمیس ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ برا ہے وہ بندہ جس نے تکبر کیا اور اس بڑی بلند ذات (اللہ تعالیٰ) کو بھول گیا ، برا ہے وہ بندہ جس نے ظلم و زیادتی کی اور وہ غالب و اعلیٰ ذات کو بھول گیا ، برا ہے وہ بندہ جو بھول گیا ، کھیل کود میں مشغول رہا اور وہ قبروں اور اپنے بوسیدہ ہونے کو بھول گیا ، برا ہے وہ بندہ جس نے تکبر کیا اور سرکشی کی اور وہ (اپنے) آغاز و انجام کو بھول گیا ، برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا طلب کرتا ہے ، برا ہے وہ بندہ جو شبہات کے ذریعے دین کو خراب کرتا ہے ، بدترین وہ بندہ ہے جسے طمع و حرص کھینچ لے جاتی ہے ، برا ہے وہ بندہ کہ خواہش اسے گمراہ کر دیتی ہے ، برا ہے وہ بندہ جسے دنیا کی رغبت ذلیل کر دیتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، بیہقی فی شعب الایمان ، دونوں نے فرمایا : اس کی سند قوی نہیں ، اور امام ترمذی نے یہ بھی فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ بندہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر غصے کا گھونٹ پی جاتا ہے وہ گھونٹ اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا : غصے کے وقت صبر کرنا ، غلطی سرزد ہو جانے پر درگزر کرنا ، جب وہ ایسے کریں گے تو اللہ انہیں بچائے گا اور ان کے دشمن سرنگوں ہو جائیں گے گویا وہ قریبی جگری دوست ہے ۔‘‘ امام بخاری نے اسے معلق روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البخاری فی تفسیر (باب ۴ قبل ح ۴۸۱۶ تعلیقا بدون سند) ۔
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ غصہ ایمان کو اس طرح خراب کر دیتا ہے جس طرح ایلوا شہد کو خراب کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عمر ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے منبر پر فرمایا : لوگو ! تواضع اختیار کرو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص اللہ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ اسے رفعت عطا کرتا ہے ، وہ خود کو اپنی نظروں میں تو چھوٹا خیال کرتا ہے جبکہ لوگوں کی نظروں میں عظیم ہوتا ہے ، اور جو شخص تکبر کرتا ہے ، اللہ اسے پستی کا شکار کر دیتا ہے ، وہ لوگوں کی نگاہوں میں چھوٹا ہوتا ہے جبکہ وہ اپنے آپ کو بڑا تصور کرتا ہے ، حتیٰ کہ وہ ان کے نزدیک کتے یا خنزیر سے بھی ذلیل و حقیر ہوتا ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ موسیٰ بن عمران ؑ نے عرض کیا : رب جی ! تیرے بندوں میں سے کون سا شخص تیرے نزدیک زیادہ معزز ہے ؟ فرمایا : وہ شخص جو قدرت ہونے کے باوجود معاف کر دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے ، اللہ اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دیتا ہے ، جو شخص اپنے غصے کو روک لیتا ہے ، روز قیامت اللہ اس سے اپنا عذاب روک لے گا اور جو شخص اللہ کے حضور معذرت کرتا ہے ، اللہ اس کی معذرت قبول فرما لیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین چیزیں باعث نجات ہیں اور تین چیزیں باعث ہلاکت ہیں باعث نجات چیزیں یہ ہیں : ظاہر و باطن میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنا ، رضا و ناراضی میں حق بات کرنا ، اور تونگری و محتاجی میں میانہ روی اختیار کرنا ، اور باعث ہلاکت چیزیں یہ ہیں : ایسی خواہش جس کی اتباع کی جائے ، ایسا بخل جس کی اطاعت کی جائے ، اور انسان کی خود پسندی ، اور یہ ان سب سے زیادہ مہلک ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے پانچوں احادیث شعب الایمان میں نقل کی ہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ظلم روز قیامت کئی اندھیروں کا باعث ہو گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے لیکن وہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر اسے چھوڑتا نہیں ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ تیرے رب کی پکڑ اسی طرح ہوتی ہے جب وہ بستی کے ظالموں کو پکڑتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مقام حجر کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ تم ان مساکن میں ، جہاں کے باشندوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ، روتے ہوئے داخل ہونا کیونکہ جس عذاب میں وہ مبتلا ہوئے کہیں تم بھی اس میں مبتلا نہ ہو جاؤ ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر ڈھانپ لیا اور رفتار تیز کر دی حتیٰ کہ وہ وادی سے گزر گئے ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص پر اپنے (مسلمان) بھائی کا ، اس کی عزت سے متعلق یا کسی اور چیز سے متعلق کوئی حق ہو تو وہ (دنیا میں) ، اس سے معافی تلافی کروا لے قبل اس کے کہ وہ دن آ جائے جب اس کے پاس درہم و دینار نہیں ہوں گے ، اگر اس کے پاس عمل صالح ہوں گے تو وہ اس سے اس کے ظلم کے بقدر لے لیے جائیں گے ، اور اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی تو حق دار کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیے جائیں گے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، جس شخص کے پاس درہم ہوں نہ مال و متاع ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہے جو روز قیامت نماز ، روزے اور زکوۃ لے کر آئے گا اور وہ بھی آ جائے گا جسے اس نے گالی دی ہو گی ، جس کسی پر بہتان لگایا ہو گا ، جس کسی کا مال کھایا ہو گا ، جس کسی کا خون بہایا ہو گا اور جس کسی کو مارا پیٹا ہو گا ، اس (مظلوم) کو اس کی نیکیوں میں سے نیکیاں دے دی جائیں گی ، اور اگر اس کے ذمے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان (حق داروں) کے گناہ لے کر اس شخص پر ڈال دیے جائیں گے پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔