عبادہ بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا ، آپ نے اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھا ہوا تھا ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک دفعہ ایک آدمی سوٹ پہنے ہوئے تکبر کے انداز میں چل رہا تھا اور اس کے نفس نے اسے غرور میں ڈال رکھا تھا ، اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ، اور وہ روز قیامت تک اس میں اترتا چلا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں بیٹھتے تو آپ اپنے ہاتھوں سے گوٹ مار لیتے تھے ۔ ضعیف جذا ، رواہ رزین ۔
قیلہ بنت مخرمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد میں قرفصاء کے طور پر بیٹھے ہوئے دیکھا ، (پاؤں پر بیٹھے ہوئے تھے اور بازوؤں کو پنڈلیوں کے گرد لپیٹ رکھا تھا) ، وہ بیان کرتی ہیں ، جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ، خاشع و متواضع حالت میں دیکھا تو خوف کی وجہ سے میں لرز گئی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز پڑھتے تو سورج کے اچھی طرح طلوع ہو جانے تک آلتی پالتی مار کر (چار زانوں ہو کر) اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت پڑاؤ ڈالتے تو آپ اپنے دائیں پہلو پر لیٹتے تھے اور جب صبح سے تھوڑا سا پہلے پڑاؤ ڈالتے تو آپ اپنی کہنی کھڑی کرتے اور ہتھیلی پر سر رکھ لیتے تھے ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ام سلمہ ؓ کی آل سے کسی شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بستر بس اسی قدر تھا جس قدر کپڑے میں میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور مسجد (بعض نے کہا : جائے نماز) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے پاس تھی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو مسجد میں پیٹ کے بل لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا :’’ اس طرح لیٹنے کو اللہ پسند نہیں فرماتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ اصحاب صفہ میں سے تھے ، انہوں نے فرمایا : میں سینے کے درد کی وجہ سے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ اچانک ایک آدمی اپنے پاؤں سے مجھے ہلانے لگا اور اس نے کہا :’’ اس طرح لیٹنے سے اللہ ناراض ہوتا ہے ۔‘‘ میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
علی بن شیبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص رات کے وقت گھر کی چھت پر سو جائے اور اس (چھت) کے پردے نہ ہوں ، اور ایک روایت میں ہے : اس پر پتھر نہ ہوں تو اس سے ذمہ اٹھ گیا ۔‘‘ ابوداؤد اور معالم السنن للخطابی میں ((حجی)) کے الفاظ ہیں ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی کسی ایسی چھت پر سوئے جس کے پردے نہ ہوں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جو شخص مجلس کے وسط میں بیٹھتا ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر ملعون ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بہترین مجلس وہ ہے جو فراخ ہو ۔‘‘ (جہاں لوگوں کو بیٹھنے میں تنگی نہ ہو) اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ کے صحابہ کرام ؓ بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں الگ الگ (بیٹھے ہوئے) دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی سائے میں ہو ، پھر وہ (سایہ) اس سے بلند ہو جائے اور اس شخص کا کچھ حصہ دھوپ میں ہو جائے اور کچھ سائے میں تو وہ (وہاں سے) اٹھ جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
شرح السنہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا :’’ جب تم میں سے کوئی سائے میں ہو اور وہ سایہ اس سے بلند ہو جائے تو وہ شخص (وہاں سے) اٹھ جائے ، کیونکہ وہ شیطان کی مجلس ہے ۔‘‘ معمر نے اسی طرح اسے موقوف روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابواسید انصاری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ مسجد سے باہر تشریف لا رہے تھے ، راستے میں مرد عورتوں کے ساتھ شامل ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا :’’ راستے کے ایک طرف چلو ، تمہیں راستے کے وسط میں چلنے کا کوئی حق نہیں ، لہذا تم راستے کے کناروں پر چلو ۔‘‘ چنانچہ (یہ حکم سن کر) عورت (چلتے وقت) دیوار کے ساتھ لگ جاتی تھی حتی کہ اس کا کپڑا دیوار کے ساتھ اٹک جاتا تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و البیھقی فی شعب الایمان ۔