زارع ؓ فرماتے ہیں اور وہ وفد عبدالقیس میں شامل تھے : جب ہم مدینہ پہنچے تو ہم اپنی سواریوں سے جلدی جلدی اترے اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہیٔت ، سیرت و صورت ، ایک روایت میں ہے : بات چیت میں فاطمہ ؓ سے زیادہ کسی کو مشابہ نہیں پایا ، جب وہ آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا استقبال کرتے ، آپ ان کا ہاتھ پکڑتے اور ان کا (پیشانی پر) بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ بھی آپ کا استقبال کرتیں ، آپ کا ہاتھ پکڑتیں اور آپ کا بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، (کسی غزوہ سے واپسی پر) میں سب سے پہلے ابوبکر ؓ کے ساتھ مدینہ آیا تو ان کی بیٹی عائشہ ؓ لیٹی ہوئی تھیں اور وہ بخار میں مبتلا تھیں ، ابوبکر ؓ ان کے پاس آئے تو فرمایا : پیاری بیٹی ! تمہارا کیا حال ہے ؟ اور انہوں نے ان کے رخسار پر بوسہ دیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا بوسہ لیا اور فرمایا :’’ سن لو ! یہ (بچے) بخل اور بزدلی کا باعث ہوتے ہیں ، اور بے شک یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطیہ ہیں ۔‘‘ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
یعلی ؓ بیان کرتے ہیں کہ حسن اور حسین ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف تیزی سے دوڑتے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو گلے لگا لیا ، اور فرمایا :’’ بے شک اولاد بخل اور بزدلی کا باعث ہوتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
عطاء خراسانی ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مصافحہ کیا کرو (اس سے) کینہ جاتا رہتا ہے ، ہدیے (تحائف) دیا کرو ، باہم محبت پیدا ہو گی اور دشمنی و رنجش جاتی رہے گی ۔‘‘ امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے نصف النہار سے پہلے چار رکعت (نماز چاشت) پڑھی گویا اس نے وہ رکعات شب قدر میں ادا کیں ، اور جب دو مسلمان مصافحہ کرتے ہیں ، تو ان کے سارے گناہ گر جاتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب بنو قریظہ ، سعد ؓ کا فیصلہ قبول کرنے پر راضی ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو ان کی طرف بھیجا ، اور وہ آپ کے قریب ہی تھے ، چنانچہ وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے ، اور جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار سے فرمایا :’’ اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔ اور یہ حدیث مکمل طور پر باب حکم الاسراء میں گزر چکی ہے ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کوئی آدمی کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر وہاں مت بیٹھے ، بلکہ وسعت و کشادگی پیدا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی جگہ سے اٹھے اور وہ پھر وہیں واپس آ جائے تو اس جگہ کا وہی زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ کرام ؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر کوئی شخص زیادہ محبوب نہیں تھا ، اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو وہ کھڑے نہیں ہوتے تھے ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ناپسند کرتے ہیں ۔ اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
معاویہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو یہ پسند ہو کہ لوگ اس کے سامنے کھڑے رہیں تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لاٹھی کا سہارا لے کر باہر تشریف لائے تو ہم آپ کی خاطر کھڑے ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم ایسے نہ کھڑے ہوا کرو جیسے عجمی لوگ ایک دوسرے کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
سعید بن ابوالحسن ؒ بیان کرتے ہیں ، ابوبکرہ ؓ گواہی کے سلسلہ میں ہمارے پاس آئے تو ایک آدمی ان کی خاطر اپنی جگہ سے اٹھ کھرا ہوا ، انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص ایسے آدمی کے کپڑے سے اپنا ہاتھ صاف کرے جو اس نے اسے نہیں پہنایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ جاتے تو ہم آپ کے اردگرد بیٹھ جاتے تھے ، پھر آپ کھڑے ہوتے اور آپ کا واپس آنے کا ارادہ ہوتا تو آپ اپنا جوتا اتار کر یا اپنی کوئی چیز وہاں رکھ جاتے جس سے صحابہ سمجھ جاتے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئیں گے) اور وہ وہیں بیٹھے رہتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ، ان کی اجازت کے بغیر علیحدگی پیدا کرے (اور خود ان دونوں کے درمیان بیٹھ جائے) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر مت بیٹھو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ساتھ مسجد میں تشریف رکھتے اور ہمارے ساتھ گفتگو فرمایا کرتے تھے ، اور جب آپ کھڑے ہوتے تو ہم دیر تک کھڑے رہتے حتی کہ ہم آپ کو دیکھتے کہ آپ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے گھر داخل ہو جاتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
واثلہ بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، جبکہ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی خاطر اپنی جگہ سے ہٹ گئے تو آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! جگہ تو کافی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک مسلمان کا حق ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو وہ اس کے لیے (اپنی جگہ سے کچھ) ہٹ جائے ۔‘‘ امام بیہقی نے دونوں احادیث شعب الایمان میں ذکر کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کعبہ کے صحن میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے دیکھا ۔ رواہ البخاری ۔