ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ روزِ قیامت تمہیں تمہارے اور تمہارے آباء کے نام سے پکارا جائے گا ، اپنے نام اچھے رکھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے نام اور اپنی کنیت کو اس طرح اکٹھا کر کے محمد ابوالقاسم نام رکھ لے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میرے نام پر نام رکھو تو پھر میری کنیت پر کنیت مت رکھو ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جس نے میرے نام پر نام رکھا تو وہ میری کنیت نہ رکھے ، اور جس نے میری کنیت پر کنیت رکھی تو وہ میرے نام پر نام نہ رکھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھی ہے ، لیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کون ہے وہ جس نے حلال قرار دیا میرا نام رکھنا اور حرام کیا میری کنیت رکھنا ، یا کون ہے وہ جس نے حرام کیا میری کنیت رکھنا اور حلال کیا میرا نام رکھنا ؟‘‘ ابوداؤد ، اور محی السنہ ؒ نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
محمد بن حنفیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں اگر آپ کے بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو تو میں آپ کے نام پر اس کا نام اور آپ کی کنیت پر اس کی کنیت رکھ لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں ایک بوٹی چنا کرتا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر میری کنیت (ابوحمزہ) رکھی ۔ اسے ترمذی نے بیان کیا اور فرمایا : اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، اور مصابیح میں ہے کہ اس نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بُرا نام تبدیل کر دیا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
بشیر بن میمون اپنے چچا اسامہ بن اخدری سے روایت کرتے ہیں کہ اصرم نامی ایک آدمی ان لوگوں میں شامل تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : اصرم ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ تم زرعہ ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
اور ابوداؤد نے کہا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاص ، عزیز ، عتلہ ، شیطان ، حکم ، غراب ، حباب اور شہاب نام بدل دیے تھے ، اور انہوں نے کہا : میں نے اختصار کی خاطر ان کی اسناد بیان نہیں کیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابومسعود انصاری ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے ابو عبداللہ سے یا ابو عبداللہ نے ابو مسعود سے کہا : تم نے لفظ ’’زَعَمُوْا‘‘ (لوگوں کا خیال ہے) کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا فرماتے ہوئے سنا ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا :’’ آدمی کا ایسے انداز میں گفتگو کرنا بُرا ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، اور انہوں نے کہا : ابو عبداللہ سے مراد حذیفہ ہیں ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
حذیفہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یوں نہ کہا کرو : جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے ، بلکہ یوں کہو : جو اللہ چاہے ، پھر فلاں چاہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
اور ایک منقطع روایت میں ہے ، فرمایا :’’ یوں نہ کہا کرو : جو اللہ چاہے اور جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہے ، بلکہ یوں کہا کرو : کو اکیلا اللہ چاہے ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
حذیفہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ منافق کے لیے لفظِ سیّد (آقا) نہ کہو ، کیونکہ اگر وہ سیّد (سردار ، آقا) ہے تو تم نے اپنے رب کو ناراض کر دیا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عبد الحمید بن جبیر بن شیبہ بیان کرتے ہیں ، میں سعید بن مسیّب کے پاس بیٹھا تھا ، انہوں نے مجھے حدیث بیان کی کہ ان کے دادا حزن ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا :’’ تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘ اس نے کہا : میرا نام حزن ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (نہیں) بلکہ تم سہل ہو ۔‘‘ اس نے کہا : میں اپنے والد کے رکھے ہوئے نام کو تبدیل نہیں کروں گا ، ابن مسیّب نے فرمایا : اس کے بعد ہم میں ’’حزونت‘‘ (سختی) برقرار رہی ۔ رواہ البخاری ۔
ابووہب جشمی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انبیاء ؑ کے ناموں پر نام رکھا کرو ، اللہ کے ہاں پسندیدہ نام عبداللہ اور عبد الرحمن ہیں ، سب سے سچا نام حارث اور ہمام ہے جبکہ سب سے قبیح نام حرب اور مرہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمی مشرق کی (جانب) سے آئے اور انہوں نے خطاب کیا ، لوگوں نے ان کے بیان پر تعجب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک بعض بیان جادو کی سی تاثیر رکھتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک بعض شعر پُر حکمت ہوتے ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تکلف سے کلام کرنے والے ہلاک ہو گئے ۔‘‘ آپ نے تین مرتبہ یہی فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سب سے زیادہ درست بات جو کسی شاعر نے کہی وہ لبید شاعر کی یہ بات ہے : سن لو ! اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہیں امیہ بن ابی صلت کا کوئی شعر یاد ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سناؤ !‘‘ میں نے آپ کو ایک شعر سنایا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اور سناؤ !‘‘ پھر میں نے آپ کو ایک اور شعر سنایا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اور سناؤ !‘‘ حتی کہ میں نے آپ کو سو شعر سنائے ۔ رواہ مسلم ۔