ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی دو عورتوں کے درمیان چلے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے ہر شخص کو جہاں جگہ ملتی وہ وہیں بیٹھ جاتا تھا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی دو حدیثیں باب القیام میں ذکر کی گئی ہیں ، اور علی و ابوہریرہ ؓ سے مروی دو حدیثیں ہم ان شاء اللہ تعالیٰ باب اسماء النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و صفاتہ میں ذکر کریں گے ۔
عمرو بن شرید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پشت کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ کے پاس جو گوشت ہے اس پر ٹیک لگائی تھی ، اسی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر غضب ہوا (یعنی یہود) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے چونکا مارا اور فرمایا :’’ جندب ! یہ تو جہنمیوں کا سا لیٹنا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ چھینکنے کو پسند فرماتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند فرماتا ہے ۔ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے اور ’’اَلْحَمْدُ لِلہِ‘‘ کہے ، تو اسے سننے والے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسے ’’یَرْحَمُکَ اللہُ‘‘ ’’اللہ تم پر رحم فرمائے‘‘ کہے ۔ رہی جمائی تو وہ شیطان کی طرف سے ہے ، جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو وہ روکنے کی مقدور بھر کوشش کرے ، کیونکہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان اس سے مسکراتا ہے ۔‘‘ بخاری ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے :’’ کیونکہ تم میں سے کوئی ایک (جمائی کے وقت) آواز نکالتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری و مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ ((اَلْحَمْدُ لِلہِ)) کہے اور اس کا (مسلمان) بھائی یا اس کا ساتھی اسے ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) کہے ، جب وہ اسے ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) کہے تو یہ (چھینک مارے والا) کہے : اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چھینک ماری تو آپ نے ان میں سے ایک کو چھینک کا جواب دیا جبکہ دوسرے کو نہ کہا ، تو اس شخص نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی جبکہ میرے لیے دعا نہیں فرمائی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس لیے کہ اس نے ’’الحمد للہ‘‘ کہا ، جبکہ تم نے ’’الحمد للہ‘‘ نہیں کہا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے اور ’’الحمد للہ‘‘ کہے تو تم اسے دعا دو ۔ اور اگر وہ ’’الحمد للہ‘‘ نہ کہے تو تم اس کے لیے دعا نہ کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا ، جبکہ ایک آدمی نے آپ کے پاس چھینک ماری ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے کہا : ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) پھر اس نے دوسری مرتبہ چھینک ماری تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بندے کو زکام لگا ہوا ہے ۔‘‘ اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تیسری مرتبہ (چھینک آنے پر) فرمایا کہ ’’ اسے زکام لگا ہوا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و الترمذی ۔
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے کیونکہ شیطان (منہ میں) داخل ہو جاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب چھینک مارتے تو آپ اپنے ہاتھ یا اپنے کپڑے سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیتے اور اس کے ساتھ وہ اپنی آواز پست کرتے تھے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ کہے : ہر حال پر اللہ کا شکر ہے ۔ اور جو شخص اسے جواب دے تو وہ کہے : اللہ تم پر رحم فرمائے ۔ اور وہ (چھینک مارنے والا) کہے : اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، یہود ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس امید پر چھینک مارا کرتے تھے کہ آپ انہیں ((یَرْحَمُکُمُ اللہ)) کہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہا کرتے تھے :’’ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں ، ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ اتنے میں لوگوں میں سے ایک آدمی نے چھینک ماری تو اس نے کہا : السلام علیکم ! (یہ سن کر) سالم نے کہا : تجھ پر اور تیری ماں پر ، گویا اس آدمی نے اپنے دل میں کچھ ناراضی محسوس کی ، انہوں نے فرمایا : سن لو ! میں نے تمہیں صرف وہی کچھ کہا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا (ایک دفعہ) ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چھینک ماری تو اس نے کہا : السلام علیکم ! نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تجھ پر اور تیری ماں پر ، (پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ) جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ ((اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ)) کہے ، اور جو اسے جواب دے تو وہ کہے : ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) ، اور پھر وہ کہے : اللہ مجھے اور تمہیں بخش دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عبید بن رفاعہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ چھینک مارنے والے کو تین مرتبہ دعائیہ جواب دو ، وہ اگر اس سے زیادہ مرتبہ چھینک مارے تو پھر اگر تم چاہو تو اسے دعائیہ جواب دو اور اگر تم چاہو تو (جواب) نہ دو ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں :’’ اپنے (مسلمان) بھائی کو (چھینک مارنے کے جواب میں) تین بار دعائیہ جواب دو ، اگر چھینکوں میں اضافہ ہو جائے تو وہ زکام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔ اور انہوں (راوی سعید المقبری) نے کہا : میں ان کے متعلق یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مرفوع کیا ہے ۔
نافع ؒ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ کے پہلو میں چھینک ماری تو کہا :’’ اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ہو ، (یہ سن کر) ابن عمر ؓ نے فرمایا : میں بھی کہتا ہوں : ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام ہو ۔ مگر اس طرح کہنا ثابت نہیں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھایا تھا کہ ہم کہیں : ہر حال پر اللہ کا شکر ہے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھلکھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے حلق کا کوا دیکھ سکوں ، آپ تو صرف مسکرایا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔
جریر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (مجلس میں آنے سے) منع نہیں کیا اور آپ جب بھی مجھے دیکھتے تو مسکراتے ۔ متفق علیہ ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس جگہ نماز پڑھتے تو وہاں سے طلوعِ آفتاب تک نہیں اٹھتے تھے ، اور جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے ، اور (اس دوران) صحابہ کرام ؓ باتیں کرتے اور اُمورِ جاہلیت پر گفتگو کیا کرتے اور ہنستے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقط تبسم فرمایا کرتے تھے ۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے : وہ شعر پڑھا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم و الترمذی ۔