Back to Mishkat Al-Masabih

Etiquette

كتاب الْآدَاب

Chapter 24

Hadith 4728
sahih
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم نهى أنْ يمشيَ - يَعْنِي الرجلٌ - بَين المرأتينِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی دو عورتوں کے درمیان چلے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4729
sahih
وَعَن جابرِ بن سمرةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ أَحَدُنَا حَيْثُ يَنْتَهِي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَذكر حَدِيثا عبد الله بن عَمْرٍو فِي «بَابِ الْقِيَامِ» وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَلِيٍّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فِي «بَابِ أَسْمَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصِفَاتِهِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
Urdu

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب ہم نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے ہر شخص کو جہاں جگہ ملتی وہ وہیں بیٹھ جاتا تھا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی دو حدیثیں باب القیام میں ذکر کی گئی ہیں ، اور علی و ابوہریرہ ؓ سے مروی دو حدیثیں ہم ان شاء اللہ تعالیٰ باب اسماء النبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم و صفاتہ میں ذکر کریں گے ۔

Hadith 4730
sahih
عَن عمْرِو بن الشَّريدِ عَن أبيهِ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي. قَالَ: «أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عمرو بن شرید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پشت کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کی جڑ کے پاس جو گوشت ہے اس پر ٹیک لگائی تھی ، اسی حالت میں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر غضب ہوا (یعنی یہود) ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4731
sahih
وَعَن أبي ذرِّ قَالَ: مرَّ بِي النبيُّ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: «يَا جُنْدُبُ إِنَّمَا هِيَ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ ابنُ مَاجَه
Urdu

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے چونکا مارا اور فرمایا :’’ جندب ! یہ تو جہنمیوں کا سا لیٹنا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 4732
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللَّهَ كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَان فَإِذا تثاءب أحدكُم فليرده مااستطاع فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذا قَالَ: هَا ضحك الشَّيْطَان مِنْهُ
Urdu

ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ چھینکنے کو پسند فرماتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند فرماتا ہے ۔ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے اور ’’اَلْحَمْدُ لِلہِ‘‘ کہے ، تو اسے سننے والے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسے ’’یَرْحَمُکَ اللہُ‘‘ ’’اللہ تم پر رحم فرمائے‘‘ کہے ۔ رہی جمائی تو وہ شیطان کی طرف سے ہے ، جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو وہ روکنے کی مقدور بھر کوشش کرے ، کیونکہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان اس سے مسکراتا ہے ۔‘‘ بخاری ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے :’’ کیونکہ تم میں سے کوئی ایک (جمائی کے وقت) آواز نکالتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری و مسلم ۔

Hadith 4733
sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: إِذا عطسَ أحدُكم فلْيقلِ: الحمدُ لِلَّهِ وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ - أَوْ صَاحِبُهُ - يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فإِذا قَالَ لَهُ يَرْحَمك الله قليقل: يهديكم الله وَيصْلح بالكم رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ ((اَلْحَمْدُ لِلہِ)) کہے اور اس کا (مسلمان) بھائی یا اس کا ساتھی اسے ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) کہے ، جب وہ اسے ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) کہے تو یہ (چھینک مارے والا) کہے : اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 4734
sahih
وَعَن أنسٍ قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ. فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي قَالَ: «إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَلم تحمَدِ الله» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمیوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چھینک ماری تو آپ نے ان میں سے ایک کو چھینک کا جواب دیا جبکہ دوسرے کو نہ کہا ، تو اس شخص نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی جبکہ میرے لیے دعا نہیں فرمائی ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس لیے کہ اس نے ’’الحمد للہ‘‘ کہا ، جبکہ تم نے ’’الحمد للہ‘‘ نہیں کہا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 4735
sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ وَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے اور ’’الحمد للہ‘‘ کہے تو تم اسے دعا دو ۔ اور اگر وہ ’’الحمد للہ‘‘ نہ کہے تو تم اس کے لیے دعا نہ کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 4736
sahih
وَعَن سلمةَ بن الْأَكْوَع أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى فَقَالَ: «الرَّجُلُ مَزْكُومٌ» . رَوَاهُ مُسلم وَفِي رِوَايَة التِّرْمِذِيّ أَنَّهُ قَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ: «إِنَّهُ مَزْكُومٌ»
Urdu

سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا ، جبکہ ایک آدمی نے آپ کے پاس چھینک ماری ، تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے کہا : ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) پھر اس نے دوسری مرتبہ چھینک ماری تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بندے کو زکام لگا ہوا ہے ۔‘‘ اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے تیسری مرتبہ (چھینک آنے پر) فرمایا کہ ’’ اسے زکام لگا ہوا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و الترمذی ۔

Hadith 4737
sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى فَمه فإِنَّ الشيطانَ يدخلُ» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے کیونکہ شیطان (منہ میں) داخل ہو جاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 4738
sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَطَسَ غَطَّى وَجْهَهُ بِيَدِهِ أَوْ ثَوْبِهِ وَغَضَّ بِهَا صَوْتَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح
Urdu

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب چھینک مارتے تو آپ اپنے ہاتھ یا اپنے کپڑے سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیتے اور اس کے ساتھ وہ اپنی آواز پست کرتے تھے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 4739
sahih
وَعَن أبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذا عطسَ أحدكُم فلْيقلْ: الحمدُ لله عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلِ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَرْحَمك الله وَليقل هُوَ: يهديكم وَيصْلح بالكم رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
Urdu

ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ کہے : ہر حال پر اللہ کا شکر ہے ۔ اور جو شخص اسے جواب دے تو وہ کہے : اللہ تم پر رحم فرمائے ۔ اور وہ (چھینک مارنے والا) کہے : اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔

Hadith 4740
sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُونَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ فَيَقُولُ: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
Urdu

ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، یہود ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس امید پر چھینک مارا کرتے تھے کہ آپ انہیں ((یَرْحَمُکُمُ اللہ)) کہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہا کرتے تھے :’’ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 4741
sahih
وَعَن هلالِ بن يسَاف قَالَ: كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ: وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ. فَكَأَنَّ الرَّجُلَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْ إِلَّا مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ يَرُدُّ عَلَيْهِ: يرحمكَ اللَّهُ وَليقل: يغْفر لي وَلكم رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں ، ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ اتنے میں لوگوں میں سے ایک آدمی نے چھینک ماری تو اس نے کہا : السلام علیکم ! (یہ سن کر) سالم نے کہا : تجھ پر اور تیری ماں پر ، گویا اس آدمی نے اپنے دل میں کچھ ناراضی محسوس کی ، انہوں نے فرمایا : سن لو ! میں نے تمہیں صرف وہی کچھ کہا ہے جو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا تھا (ایک دفعہ) ایک آدمی نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چھینک ماری تو اس نے کہا : السلام علیکم ! نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تجھ پر اور تیری ماں پر ، (پھر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ) جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ ((اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ)) کہے ، اور جو اسے جواب دے تو وہ کہے : ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) ، اور پھر وہ کہے : اللہ مجھے اور تمہیں بخش دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 4742
sahih
وَعَن عبيد بن رِفَاعَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَمِّتِ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
Urdu

عبید بن رفاعہ ؓ ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ چھینک مارنے والے کو تین مرتبہ دعائیہ جواب دو ، وہ اگر اس سے زیادہ مرتبہ چھینک مارے تو پھر اگر تم چاہو تو اسے دعائیہ جواب دو اور اگر تم چاہو تو (جواب) نہ دو ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

Hadith 4743
sahih
وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: «شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں :’’ اپنے (مسلمان) بھائی کو (چھینک مارنے کے جواب میں) تین بار دعائیہ جواب دو ، اگر چھینکوں میں اضافہ ہو جائے تو وہ زکام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔ اور انہوں (راوی سعید المقبری) نے کہا : میں ان کے متعلق یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے حدیث کو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف مرفوع کیا ہے ۔

Hadith 4744
sahih
عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْن عمَرَ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَلَيْسَ هَكَذَا. عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقُولَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
Urdu

نافع ؒ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ کے پہلو میں چھینک ماری تو کہا :’’ اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں ، اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام ہو ، (یہ سن کر) ابن عمر ؓ نے فرمایا : میں بھی کہتا ہوں : ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے ، اور رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام ہو ۔ مگر اس طرح کہنا ثابت نہیں ہے ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں سکھایا تھا کہ ہم کہیں : ہر حال پر اللہ کا شکر ہے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4745
sahih
عَن عائشةرضي اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يتبسم. رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھلکھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ میں آپ کے حلق کا کوا دیکھ سکوں ، آپ تو صرف مسکرایا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

Hadith 4746
sahih
وَعَن جرير قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ. مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

جریر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے (مجلس میں آنے سے) منع نہیں کیا اور آپ جب بھی مجھے دیکھتے تو مسکراتے ۔ متفق علیہ ۔

Hadith 4747
sahih
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّة فيضحكون ويبتسم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَة لِلتِّرْمِذِي: يتناشدون الشِّعْرَ
Urdu

جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس جگہ نماز پڑھتے تو وہاں سے طلوعِ آفتاب تک نہیں اٹھتے تھے ، اور جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے ، اور (اس دوران) صحابہ کرام ؓ باتیں کرتے اور اُمورِ جاہلیت پر گفتگو کیا کرتے اور ہنستے تھے جبکہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقط تبسم فرمایا کرتے تھے ۔ اور ترمذی کی روایت میں ہے : وہ شعر پڑھا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم و الترمذی ۔