ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (یمن کے علاقے) عرج میں سفر کر رہے تھے کہ ایک شاعر سامنے آیا اور وہ اشعار کہنے لگا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (اس) شیطان کو پکڑو ۔‘‘ یا فرمایا :’’ (اس) شیطان کو (شعر کہنے سے) روکو ، یہ کہ کسی آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھرنا اس کے لیے شعر کے ساتھ بھرنے سے بہتر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ گانا دل میں نفاق پیدا کر دیتا ہے جس طرح پانی کھیتی اگا دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
نافع بیان کرتے ہیں ، میں ابن عمر ؓ کے ساتھ ایک راستے میں تھا تو انہوں نے بانسری کی آواز سنی ، تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈال لیں ، اور وہ راستے میں دوسری جانب ہٹ گئے ، پھر دور جا کر مجھے فرمایا : نافع ! کیا تم کچھ سن رہے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں ، انہوں نے کانوں سے انگلیاں نکالیں اور فرمایا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا آپ نے بانسری کی آواز سنی ، تو آپ نے ایسے ہی کیا تھا جیسے میں نے کیا ، نافع نے کہا : میں تب چھوٹا تھا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص مجھے زبان اور شرم گاہ (کی حفاظت) کی ضمانت دے دے تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک بندہ ایسی بات کرتا ہے جس میں اللہ کی رضا ہوتی ہے اور وہ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا ، لیکن اللہ اس کی وجہ سے درجات بلند فرما دیتا ہے ، اور بندہ ایسی بات کرتا ہے جس میں اللہ کی ناراضی ہوتی ہے اور وہ اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا ، لیکن وہ اس کے باعث جہنم میں گر جاتا ہے ۔‘‘ یہ الفاظ بخاری کے ہیں ۔ اور بخاری ، مسلم کی روایت میں ہے :’’ وہ اس (بات) کی وجہ سے جہنم میں اس قدر گہرا گر جاتا ہے جس قدر مشرق و مغرب کے درمیان دوری ہے ۔‘‘ رواہ البخاری و مسلم ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی جھگڑا کرنا کفر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنے (مسلمان) بھائی سے کہا : کافر ، تو ان دونوں میں سے ایک ضرور (ایمان سے) کفر کی طرف لوٹا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر کوئی شخص کسی شخص کو فاسق یا کافر کہہ کر پکارتا ہے اور اگر وہ شخص (جسے پکارا جا رہا ہے) ایسے نہ ہو تو پھر وہ (بات) اس (کہنے والے) پر لوٹ آتی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے کسی شخص کو کافر کہہ کر پکارا یا کہا : اللہ کے دشمن ! جبکہ وہ ایسے نہ ہو تو وہ بات اس (کہنے والے) پر لوٹ آتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
انس اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ باہم گالی گلوچ کرنے والے دو افراد میں سے اس وقت تک گنہگار وہ ہے جو پہلے گالی دیتا ہے جب تک مظلوم ایک کے بدلے میں دو گالیاں نہ دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سچے شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کثرت سے لعنت کرنے والے روزِ قیامت نہ گواہ ہوں گے اور نہ سفارشی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی کہتا ہے : لوگ (اپنے بُرے اعمال کے بدلے میں) ہلاک ہو گئے تو وہ ان سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم قیامت کے روز سب سے بدترین اس شخص کو پاؤ گے جو دوغلا ہے ، اِدھر لوگوں سے کچھ بات کرتا ہے اور اُدھر لوگوں سے کچھ بات کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں نَمَّامٌ ’’چغل خور‘‘ کا لفظ ہے ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سچائی کو اختیار کرو ، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف راہنمائی کرتی ہے ، اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ، آدمی سچ بولتا رہتا ہے اور سچائی کا متلاشی رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق (بہت سچا) لکھ دیا جاتا ہے ، اور تم جھوٹ سے بچو ، کیونکہ جھوٹ گناہوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف راہنمائی کرتے ہیں ، آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کا طلب گار رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ اور مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ بے شک سچ نیکی ہے ، اور نیکی جنت کی طرف راہنمائی کرتی ہے ، اور بے شک جھوٹ گناہ ہے ، اور گناہ جہنم کی طرف راہنمائی کرتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ام کلثوم ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگوں کے درمیان صلح کرانے والا شخص جھوٹا نہیں ، وہ خیر و بھلائی کی بات کرتا ہے اور خیر و بھلائی کی بات ہی آگے پہنچاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
مقداد بن اسود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم مدح سرائی کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی پھینکو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں دوسرے آدمی کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تیری تباہی ہو ، تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تین مرتبہ فرمایا ’’ جس نے ضرور ہی مدح سرائی کرنی ہو تو وہ کہے : میں فلاں کو اس اس طرح خیال کرتا ہوں ، جبکہ اللہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہے ، اگر موصوف ایسا ہی ہو جیسا اس نے خیال کیا ، وہ اللہ پر کسی شخص کی نسبت تزکیہ کا حکم یقینی طور پر نہ لگائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔