انس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بڑھیا عورت سے فرمایا :’’ کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی ۔‘‘ اس (عورت) نے عرض کیا : ان کے لیے کیا (مانع) ہے ؟ اور وہ قرآن پڑھتی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ کیا تم قرآن نہیں پڑھتی ہو ؟ بے شک ہم نے ان (حوروں) کو ایک خاص طریقے پر پیدا کیا ہے ، پھر ان کو کنوارا رکھا ۔‘‘ رزین ۔ شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ ہیں ۔ ضعیف ، رواہ رزین و فی شرح السنہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ زاہر بن حرام نامی ایک گنوار شخص جنگل سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تحائف لایا کرتا تھا ، اور جب وہ واپسی کا ارادہ کرتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے (سامان) دیا کرتے تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ زاہر جنگل میں ہمارا کارندہ ہے اور ہم شہر میں اس کے کار پرداز ہیں ۔‘‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے محبت کیا کرتے تھے ، حالانکہ وہ کوئی خوبصورت نہیں تھا ، چنانچہ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو وہ اپنا سامان فروخت کر رہا تھا ، آپ نے اس کے پیچھے سے اپنے حصار میں لے لیا اور وہ آپ کو نہیں دیکھتا تھا ، اس نے عرض کیا : مجھے چھوڑ دو ، یہ کون ہے ؟ اس نے ایک طرف سے دیکھا تو پہچان لیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ، جب اس نے آپ کو پہچان لیا تو وہ بڑے اہتمام کے ساتھ اپنی پشت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ مبارک کے ساتھ لگانے لگا ، اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے :’’ اس غلام کو کون خریدے گا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میری بہت کم قیمت آپ کو ملے گی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لیکن تم اللہ کے ہاں کم قیمت کے نہیں ہو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ ۔
عوف بن مالک اشجعی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ چمڑے کے چھوٹے سے خیمے میں تھے ، میں نے سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب دیا اور فرمایا :’’ اندر آ جاؤ ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سارا (اندر آ جاؤں) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم سارے کے سارے (اندر آ جاؤ) ۔‘‘ میں اندر چلا گیا ، عثمان بن ابی عاتکہ (راوی) بیان کرتے ہیں ، اس نے کہا : کیا میں چھوٹے سے خیمے میں سارے کا سارا آ جاؤں ؟ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آنے کی اجازت طلب کی اور انہوں نے عائشہ ؓ کی آواز بلند ہوتے ہوئے سنی ، جب وہ اندر تشریف لے آئے ، تو انہوں نے عائشہ ؓ کو پکڑا تا کہ انہیں طمانچہ ماریں ، اور انہوں نے فرمایا : میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر آواز بلند کرتے ہوئے نہ دیکھوں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر ؓ کو روکنے لگے اور وہ غصے کی حالت میں باہر تشریف لے گئے ، جب ابوبکر ؓ باہر نکل گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے مجھے کیسے دیکھا کہ میں نے تمہیں اس آدمی (یعنی ابوبکر ؓ) سے بچایا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، ابوبکر ؓ چند دنوں کے بعد پھر تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو ان دونوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور عائشہ ؓ) کو صلح کی حالت میں پایا اور انہوں نے ان دونوں سے کہا : تم مجھے اپنی صلح میں داخل کرو جیسے تم نے اپنی لڑائی میں مجھے داخل کیا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہم کر چکے ، ہم کر چکے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے (مسلمان) بھائی سے جھگڑا نہ کر اور نہ اس سے (تکلیف دہ) مذاق نہ کر اور نہ ہی اس سے ایسا وعدہ کر جس کی تو خلاف ورزی کرے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا : لوگوں میں سے زیادہ معزز شخص کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان میں سے اللہ کے ہاں زیادہ معزز شخص وہ ہے جو ان میں سے زیادہ متقی و پرہیزگار ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ہم اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھ رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تب معزز شخص یوسف ؑ اللہ کے نبی ، اللہ کے نبی کے بیٹے ، اللہ کے نبی کے پوتے ، اللہ کے خلیل (ابراہیم ؑ) کے پڑپوتے ہیں ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : ہم اس کے بارے میں آپ سے دریافت نہیں کر رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم عرب قبائل کے متعلق مجھ سے دریافت کر رہے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھے وہی تمہارے اسلام میں بہتر ہیں بشرطیکہ وہ (آداب شریعت کے متعلق) سمجھ بوجھ حاصل کریں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کریم بن کریم بن کریم بن کریم ، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام ہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں غزوۂ حنین کے روز ابوسفیان بن حارث ؓ آپ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے ، جب مشرکین نے آپ کو ہر طرف سے گھیر لیا تو آپ (سواری سے) نیچے اترے اور فرمانے لگے :’’ میں نبی ہوں کوئی جھوٹ نہیں ، اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس دن تمام لوگوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ شجاع کوئی نہیں دیکھا گیا ۔ متفق علیہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے پوچھا : مخلوق میں سے بہترین شخصیت ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ ابراہیم ؑ ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری مدح میں ایسے مبالغہ نہ کرنا جیسے نصاریٰ نے ابن مریم کی مدح میں مبالغہ سے کام لیا ، میں تو اس کا بندہ ہوں ، تم کہوں ، اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عیاض بن حمار مجاشعی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع اختیار کرو حتی کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر ظلم کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لوگ اپنے فوت شدہ آباؤ اجداد پر فخر کرنے سے باز آ جائیں ، وہ تو دوزخ کے کوئلے ہیں ، یا وہ اللہ کے ہاں کرم نجاست سے بھی زیادہ حقیر ہیں جو کہ اپنی ناک سے غلاظت دھکیلتا ہے ، بے شک اللہ نے آباؤ اجداد پر تمہارے جاہلی فخر و غرور کو ختم کر دیا ہے ، بس وہ (فخر کرنے والا) مؤمن متقی ہے یا فاجر بدبخت ، تمام لوگ آدم ؑ کی اولاد ہیں اور آدم ؑ مٹی سے (پیدا ہوئے) ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
مطرف بن عبداللہ بن شخیر ؒ سے روایت ہے ، وہ (اپنے والد سے) بیان کرتے ہیں ، میں بنو عامر کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم نے عرض کیا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے سید ہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ سید تو اللہ ہے ۔‘‘ پھر ہم نے عرض کیا : آپ فضیلت میں ہم سے افضل ہیں اور ہم سے عظیم تر ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو کہہ رہے ہو وہ کہو یا اپنی بات کا کچھ حصہ کہو اور شیطان تمہیں (باتیں بنانے پر) دلیر نہ بنا دے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
حسن بصری ؒ سمرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دنیا میں باعث اعزاز مال ہے جبکہ اللہ کے ہاں (آخرت میں) باعث اعزاز تقویٰ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص جاہلی نسب کی طرف نسبت کرے (اور اس پر فخر کرے) تو اس سے کہو اپنے باپ کا آلہ تناسل کاٹ کر منہ میں لے لو اور یہ بات کنایہ سے مت کہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ و احمد و البخاری فی الادب المفرد ۔
عبدالرحمن بن ابی عقبہ ؒ ، ابو عقبہ ؓ سے روایت کرتے ہیں اور وہ اہل فارس کے آزاد کردہ غلام تھے ، انہوں نے کہا : میں غزوۂ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک تھا ، میں نے ایک مشرک پر وار کیا تو میں نے کہا : اسے میری طرف سے وصول (برداشت) کرو ، میں فارسی النسل ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :’’ تم نے ایسے کیوں نہ کہا ، اسے میری طرف سے وصول (برداشت) کرو اور میں انصاری ، جوان ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن مسعود ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے اپنی قوم کی ناحق حمایت و نصرت کی تو وہ اس اونٹ کی طرح ہے جو کنویں میں گر جائے اور اسے اس کی دم سے پکڑ کر کھینچا جائے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! عصبیت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ کہ تم ناحق اپنی قوم کی معاونت کرو ۔‘‘ ضعیف جذا ، رواہ ابوداؤد ۔
سراقہ بن مالک بن جعشم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :’’ تم میں سے بہترین دفاع کرنے والا وہ ہے جو اپنے خاندان کا دفاع کرتا ہے بشرطیکہ وہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی طرف بلایا ، وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر قتال کرے اور وہ شخص ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر فوت ہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔