Back to Mishkat Al-Masabih

Etiquette

كتاب الْآدَاب

Chapter 24

Hadith 4928
sahih
وَعَن أبي الدَّرْدَاء أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِن لي أُمِّي تَأْمُرُنِي بِطَلَاقِهَا؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَإِنْ شِئْتَ فَحَافِظْ عَلَى الْبَابِ أَوْ ضَيِّعْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
Urdu

ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اس کے پاس آیا تو اس نے کہا : میری ایک بیوی ہے ، جبکہ میری والدہ اسے طلاق دینے کا مجھے حکم دیتی ہے ، (یہ سن کر) ابودرداء ؓ نے اسے کہا ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ والد جنت کا بہترین دروازہ ہے ، اگر تم چاہو تو دروازے کی حفاظت کر لو ، اور چاہو تو ضائع کر لو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

Hadith 4929
sahih
وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جدَّه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: «أُمَّكَ» قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمَّكَ» قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أُمَّكَ» قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «أَبَاكَ ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں کس سے حسن سلوک کروں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی ماں سے ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، پھر کون ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی والدہ کے ساتھ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، پھر کون ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی ماں کے ساتھ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، پھر کون ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنی ماں کے ساتھ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، پھر کس کے ساتھ ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنے والد کے ساتھ ، پھر قریب ترین اور پھر قریب تر رشتے دار کے ساتھ (اچھا سلوک کر) ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 4930
sahih
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: قَالَ الله تبَارك: أَنَا اللَّهُ وَأَنَا الرَّحْمَنُ خَلَقْتُ الرَّحِمَ وَشَقَقْتُ لَهَا مِنِ اسْمِي فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قطعهَا بتته . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : میں اللہ ہوں اور میں رحمن ہوں ، میں نے رحم تخلیق کیا اور اس کا نام اپنے نام (رحمن) سے تجویز کیا ، جس نے اسے جوڑا میں اسے جوڑوں گا اور جس نے اسے توڑا کیا میں اسے (اپنی رحمت سے) محروم کر دوں گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4931
sahih
وَعَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ قَاطِعُ الرَّحِمِ» رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الْإِيمَان»
Urdu

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس قوم میں قطع رحمی کرنے والا شخص ہو اس پر رحمت نازل نہیں ہوتی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4932
sahih
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ لصَاحبه الْعقُوبَة فِي الدُّنْيَا مَعَ مايدخر لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ظلم و سرکشی اور قطع رحمی ایسے گناہ ہیں کہ ان کے مرتکب کو اللہ دنیا میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ اسے آخرت میں بھی ذخیرہ کر لیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 4933
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلَا عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خمر» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ والدارمي
Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ احسان جتلانے والا ، والدین کا نافرمان اور مستقل شراب نوش جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و الدارمی ۔

Hadith 4934
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ مَنْسَأَةٌ فِي الْأَثَرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اپنے نسب کو اس قدر ضرور سیکھو جس کے مطابق تم صلہ رحمی کرتے ہو ، کیونکہ صلہ رحمی اہل رحم میں محبت ، مال میں اضافے اور درازئ عمر کا باعث ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4935
sahih
وَعَن ابْن عمر أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ ذَنْبًا عَظِيمًا فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «وَهَلْ لَكَ مِنْ خَالَةٍ؟» . قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فبرها» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو کیا میرے لیے توبہ (کی گنجائش) ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہاری والدہ ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہاری خالہ ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس کے ساتھ حسن سلوک کرو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

Hadith 4936
sahih
وَعَن أبي أسيد السَّاعِدِيّ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ بَقِي من برِّ أبويِّ شيءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟ قَالَ: «نَعَمْ الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
Urdu

ابواسید ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں ، اس اثنا میں کہ ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اتنے میں بنو سلمہ (کے قبیلے) سے ایک آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا والدین کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی ایسی صورت ہے جس کے ذریعے میں ان کی وفات کے بعد ان سے حسن سلوک کر سکوں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ! ان کے لیے دعا کرو ، ان کے لیے مغفرت طلب کرو ، ان کے بعد ان کی وصیت پر عمل کرو ، وہ جو صلہ رحمی کیا کرتے تھے اسے جاری رکھو اور ان کے دوستوں کی تکریم کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

Hadith 4937
sahih
وَعَن أبي الطُّفَيْل قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعْرَانَةِ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ حَتَّى دَنَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: مَنْ هِيَ؟ فَقَالُوا: هِيَ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

ابوطفیل ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جعرانہ کے مقام پر گوشت تقسیم کرتے ہوئے دیکھا ، اچانک ایک عورت آئی حتی کہ وہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہو گئی اور آپ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی اور وہ اس پر بیٹھ گئی ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعی والدہ ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 4938
sahih
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا ثَلَاثَة نفر يماشون أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ فَمَالُوا إِلَى غَارٍ فِي الْجَبَلِ فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا لِلَّهِ صَالِحَةً فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا لَعَلَّهُ يُفَرِّجُهَا. فَقَالَ أَحَدُهُمْ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ كُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ فَحَلَبْتُ بَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِيهِمَا قَبْلَ وَلَدِي وَإِنَّهُ قَدْ نَأَى بِي الشَّجَرُ فَمَا أَتَيْتُ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُؤُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَأَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِالصِّبْيَةِ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ فَفَرَجَ اللَّهُ لَهُمْ حَتَّى يرَوْنَ السماءَ قَالَ الثَّانِي: اللَّهُمَّ إِنَّه كَانَ لِي بِنْتُ عَمٍّ أُحِبُّهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ فَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا فَأَبَتْ حَتَّى آتيها بِمِائَة دِينَار فلقيتها بِهَا فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا. قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحِ الْخَاتَمَ فَقُمْتُ عَنْهَا. اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فَفَرَجَ لَهُمْ فُرْجَةً وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرْقِ أَرُزٍّ فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ قَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي. فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَتَرَكَهُ وَرَغِبَ عَنْهُ فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا فَجَاءَنِي فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَظْلِمْنِي وَأَعْطِنِي حَقِّي. فَقُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقْرِ وَرَاعِيهَا فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَهْزَأْ بِي. فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَهْزَأُ بكَ فخذْ ذلكَ البقرَ وراعيها فَأخذ فَانْطَلَقَ بِهَا. فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ مَا بَقِيَ فَفَرَجَ الله عَنْهُم . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

ابن عمر ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اس دوران کے تین آدمی سفر کر رہے تھے ، بارش آ گئی ، انہوں نے پہاڑ میں ایک غار میں پناہ لی ، اتنے میں پہاڑ سے ایک چٹان گری اور اس نے ان کی غار کا منہ بند کر دیا ۔ چنانچہ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : اپنے اعمال کا جائزہ لو جو تم نے خالص اللہ کی رضا کی خاطر کیے تھے ، پھر ان کے ذریعے اللہ سے دعا کرو شاید کے وہ اس تکلیف (چٹان) کو دور کر دے ، ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ ! میرے بوڑھے والدین تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے ، میں ان کے نان و نفقہ کا ذمہ دار تھا ، جب میں شام کے وقت مویشی لے کر واپس آتا تو میں دودھ دھو کر ، اپنی اولاد سے پہلے ، اپنے والدین کی خدمت میں پیش کیا کرتا تھا ، ایک مرتبہ میں جنگل میں دور نکل گیا جس کی وجہ سے میں شام کے وقت (دیر سے) گھر پہنچا تو میں نے ان دونوں کو سویا ہوا پایا ، میں نے حسب معمول دودھ دھویا ، پھر میں دودھ کا برتن لے کر آیا اور ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا ، میں نے انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور ان سے پہلے بچوں کو پلانا بھی نامناسب جانا جبکہ بچے میرے قدموں کے پاس بھوکے بلکتے رہے ، میری اور ان کی یہی صورت حال رہی حتی کہ صبح ہو گئی ، (اے اللہ !) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے تیری رضا کی خاطر ایسے کیا تھا تو پھر ہمارے لیے اس قدر راستہ بنا دے کہ ہم وہاں سے آسمان دیکھ لیں ، اللہ نے ان کے لیے راستہ کھول دیا حتی کہ وہ آسمان دیکھنے لگے ۔ دوسرے نے عرض کیا ، اے اللہ ! میری ایک چچا زاد بہن تھی ، میں اسے اتنا چاہتا تھا جتنا کہ زیادہ سے زیادہ مرد خواتین کو چاہتے ہیں ، میں نے اس سے برائی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن اس نے انکار کر دیا ، حتی کہ میں اسے سو دینار دوں ، میں نے کوشش کر کے سو دینار جمع کیے اور وہ لے کر اس کے پاس گیا ، اور جب میں (اس سے برا فعل کرنے کے لیے) اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا تو اس نے کہا : اللہ کے بندے ! اللہ سے ڈر جا اور اس مہر کو نہ توڑ ، (یہ سنتے ہی) میں اس سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ تیری رضا کی خاطر کیا تھا تو ہمارے لیے راستہ کھول دے ! اللہ نے ان کے لیے کچھ راستہ کھول دیا ۔ تیسرے شخص نے کہا : اے اللہ ! میں نے ایک فرق (۶ ارطل) چاولوں کی اجرت پر ایک مزدور کام پر لگا رکھا تھا ، پس جب اس نے اپنا کام مکمل کر لیا تو اس نے کہا : میرا حق مجھے ادا کرو ، جب میں نے اس کا حق اس پر پیش کیا تو وہ اسے کمتر سمجھتے ہوئے چھوڑ کر چلا گیا میں اس سے زراعت کرتا رہا حتی کہ میں نے اس سے گائے اور چرواہے جمع کر لیے ، وہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا : اللہ سے ڈر جا اور مجھ پر ظلم نہ کر اور میرا حق مجھے ادا کر ، میں نے کہا یہ گائے اور اس کے چرانے والے کو لے جا ، اس نے کہا : اللہ سے ڈر ! مجھ سے مذاق نہ کر ، میں نے کہا : میں تم سے مذاق نہیں کر رہا ، تم یہ گائے اور اس کے چرواہے کو لے جاؤ ، وہ اسے لے کر چلا گیا ۔ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو باقی راستہ بھی کھول دے ، چنانچہ اللہ نے ان کے لیے راستہ کھول دیا (اور وہ تکلیف دور کر دی) ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 4939
sahih
وَعَن معاويةَ بن جاهِمةُ أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ. فَقَالَ: «هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
Urdu

معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ جاہمہ ؓ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں جہاد میں شریک ہونے کے لیے آپ سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ کیا تمہاری والدہ ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جاؤ ! اس کے پاس رہو ، کیونکہ جنت اس کے قدموں کے پاس ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و النسائی و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4940
sahih
وَعَن ابنِ عمَرَ قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ أُحِبُّهَا وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا. فَقَالَ لِي: طَلِّقْهَا فَأَبَيْتُ. فَأَتَى عُمَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَلِّقْهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد
Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میری ایک بیوی تھی جسے میں پسند کرتا تھا ، جبکہ عمر ؓ اسے ناپسند کرتے تھے ، انہوں نے مجھے فرمایا :’’ اسے طلاق دے دو ، میں نے انکار کر دیا تو عمر ؓ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا :’’ اسے طلاق دے دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

Hadith 4941
sahih
وَعَن أبي أُمامةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْوَالِدَيْنِ عَلَى وَلَدِهِمَا؟ قَالَ: «هُمَا جَنَّتُكَ ونارُكَ» . رَوَاهُ ابنُ مَاجَه
Urdu

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! والدین کا اپنی اولاد پر کیا حق ہے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ دونوں تمہاری جنت (کا سبب) ہیں اور تمہاری جہنم (کا سبب) ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 4942
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَمُوتُ وَالِدَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا وَإِنَّهُ لَهُمَا لَعَاقٌّ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو لَهُمَا وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمَا حَتَّى يَكْتُبَهُ اللَّهُ بارا»
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ایک بندے کے والدین یا ان دونوں میں سے ایک فوت ہو جاتا ہے جبکہ وہ ان دونوں کا نافرمان ہوتا ہے ، اور وہ (ان کی موت کے بعد) ان کے لیے دعا کرتا رہتا ہے اور ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کرتا رہتا ہے تو اللہ ایسے شخص کو حسن سلوک کرنے والا لکھ دیتا ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4943
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ مُطِيعًا لِلَّهِ فِي وَالِدَيْهِ أَصْبَحَ لَهُ بَابَانِ مَفْتُوحَانِ مِنَ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا. وَمَنْ أَمْسَى عَاصِيًا لِلَّهِ فِي وَالِدَيْهِ أَصْبَحَ لَهُ بَابَانِ مَفْتُوحَانِ مِنَ النَّارِ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَوَاحِدًا» قَالَ رَجُلٌ: وَإِنْ ظَلَمَاهُ؟ قَالَ: «وَإِنْ ظلماهُ وإِن ظلماهُ وإِنْ ظلماهُ»
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اپنے والدین (کے حق) کے متعلق اللہ کی اطاعت میں صبح کرتا ہے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر ایک ہو تو (دروازہ بھی) ایک ، اور جو شخص اپنے والدین (کے حق) کے متعلق اللہ کی نافرمانی میں صبح کرتا ہے تو اس کے لیے جہنم کے دروازے کھل جاتے ہیں ، اور اگر وہ ایک ہو تو (جہنم کا دروازہ بھی) ایک ۔‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں ، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں اور اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4944
sahih
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مامن وَلَدٍ بَارٍّ يَنْظُرُ إِلَى وَالِدَيْهِ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ نَظْرَةٍ حَجَّةً مَبْرُورَةً» . قَالُوا: وَإِنْ نَظَرَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مرّة؟ قَالَ: «نعم الله أكبر وَأطيب»
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ نیک بچہ جب اپنے والدین کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو اللہ اس کے ہر بار دیکھنے کے بدلے میں ، اس کے لیے حج مبرور کا ثواب لکھ دیتا ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا : اگرچہ وہ ہر روز سو مرتبہ دیکھے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، اللہ (تصور سے) بہت بڑا اور (ہر نقص سے) پاک تر ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4945
sahih
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كلُّ الذنوبِ يغفرُ اللَّهُ مِنْهَا مَا شاءَ إِلَّا عُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ فَإِنَّهُ يُعَجَّلُ لِصَاحِبِهِ فِي الحياةِ قبلَ المماتِ»
Urdu

ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ والدین کی نافرمانی کے علاوہ اللہ جتنے چاہے گناہ معاف کر دیتا ہے ، کیونکہ وہ اس (گناہ) کے مرتکب کو مرنے سے پہلے زندگی ہی میں سزا دے دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4946
sahih
وَعَن سعيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «حقُّ كبيرِ الإِخوَةِ على صَغِيرِهِمْ حَقُّ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ» . رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الأحاديثَ الخمسةَ فِي «شعب الْإِيمَان»
Urdu

سعید بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بڑے بھائی کا اپنے چھوٹے بھائیوں پر ایسے حق ہے جیسے والد کا اپنی اولاد پر حق ہے ۔‘‘ امام بیہقی نے پانچوں احادیث شعب الایمان میں روایت کی ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 4947
sahih
عَن جَرِيرِ بْنِ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
Urdu

جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اس شخص پر رحم نہیں فرماتا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔