ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بخار کا ذکر کیا گیا تو کسی آدمی نے اسے برا بھلا کہا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے برا بھلا نہ کہو ، کیونکہ وہ گناہوں کو ایسے صاف کر دیتا ہے جیسے آگ لوہے کی میل کچیل دور کر دیتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مریض کی عیادت کی تو فرمایا :’’ خوش ہو جاؤ ،کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، وہ (بخار) میری آگ ہے میں اسے دنیا میں اپنے مومن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ اس کے لیے روز قیامت کی آگ کے حصہ کا (بدلہ) ہو جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ رب سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے : مجھے میرے غلبہ و جلال کی قسم ! میں جسے بخشنے کا ارادہ کر لوں تو میں اسے دنیا سے نہیں اٹھاتا حتیٰ کہ میں اسے بیمار کر کے یا اس کے رزق میں تنگی کر کے اس کے ذمے تمام خطاؤں کا پورا پورا حساب نہ کر لوں ۔‘‘ لااصل لہ، رواہ رزین (لم اجدہ)
شقیق ؒ بیان کرتے ہیں ، عبداللہ بن مسعود ؓ بیمار ہو گئے تو ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو وہ رونے لگے ، پس اس پر ان کو ملامت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں مرض کی وجہ سے نہیں روتا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مرض (گناہوں کا) کفارہ ہوتا ہے ۔‘‘ میں تو اس لیے روتا ہوں کہ یہ (مرض) مجھے بڑھاپے کی عمر میں لاحق ہوا ہے ، اور محنت و مشقت کرنے کے دور میں لاحق نہیں ہوا ، کیونکہ جب آدمی بیمار ہو جاتا ہے تو اس کے لیے وہی اجر لکھ دیا جاتا ہے جو اس کے بیمار ہونے سے پہلے لکھا جاتا تھا ، اور اب صرف مرض نے اسے (وہ اعمال بجا لانے سے) روک رکھا ہے ۔ لااصل لہ، رواہ رزین (لم اجدہ) ۔
عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اسے کہو کہ وہ تمہارے حق میں دعا کرے ، کیونکہ اس کی دعا ، فرشتوں جیسی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، مریض کی عیادت کرتے وقت اس کے پاس مختصر وقت کے لیے بیٹھنا اور شور کم کرنا سنت ہے ۔ انہوں نے بیان کیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ان کا شور اور اختلاف زیادہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے پاس سے چلے جاؤ ۔‘‘ لااصل لہ، رواہ رزین (لم اجدہ) ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عیادت (اتنے وقت کے لیے کرنی چاہیے) جتنا وقت دودھ کی دو دھاریں نکالنے کے درمیان ہوتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی آدمی کی عیادت کی تو فرمایا :’’ کسی چیز کو دل چاہتا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : گندم کی روٹی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس گندم کی روٹی ہو تو وہ اسے اپنے بھائی کے پاس بھیج دے ۔‘‘ پھر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تمہارے کسی مریض کا کسی چیز کو دل چاہے تو وہ اسے کھلا دیا کرو ۔‘‘ ضعیف ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، مدینہ میں پیدا ہونے والا ایک شخص فوت ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھ کر فرمایا :’’ کاش کہ یہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کسی اور جگہ فوت ہوتا ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کس لیے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک جب کوئی آدمی اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کسی جگہ فوت ہوتا ہے تو اس کی جائے پیدائش سے جائے وفات تک کے فاصلے کے برابر اسے جنت عطا کر دی جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بیماری کی حالت میں فوت ہوتا ہے تو وہ شہادت کی موت مرتا ہے ، اسے قبر کے فتنے سے بچا لیا جاتا ہے ، صبح و شام اسے جنت سے رزق پہنچا دیا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ شہداء اور اپنے بستروں پر وفات پانے والے ، طاعون کی وجہ سے فوت ہونے والوں کے بارے میں ہمارے رب عزوجل کے سامنے مقدمہ پیش کریں گے تو شہداء عرض کریں گے : ہمارے بھائی ہیں وہ ویسے ہی شہید کیے گئے جیسے ہم شہید کیے گئے ، جبکہ فوت ہونے والے کہیں گے ، یہ ہمارے بھائی ہیں ، یہ بھی ویسے ہی اپنے بستروں پر فوت ہوئے جس طرح ہم فوت ہوئے ، ہمارا رب فرمائے گا : ان کے زخم دیکھو ، اگر تو ان کے زخم ، مقتولین (شہداء) کے زخموں کی طرح ہیں تو پھر یہ ان میں سے ہیں اور ان کے ساتھ ہیں ، پس ان کے زخم انہی کے زخموں سے مشابہ تھے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و النسائی ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ طاعون سے فرار ہونے والا میدان جہاد سے فرار ہونے والے کی طرح ہے ، اور وہاں صبر کرنے (رک جانے) والے کے لیے شہید کا ثواب ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے ، اگر تو وہ نیکوکار ہے تو شاید کہ وہ نیکیوں میں اضافہ کر لے ، اور اگر وہ خطا کار ہے تو شاید کہ وہ توبہ کر لے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی موت کی تمنا کرے نہ اس کے آنے سے پہلے اس کے لیے دعا کرے ، کیونکہ جب وہ فوت ہو جاتا ہے تو اس کی امید منقطع ہو جاتی ہے ، اور مومن کی عمر تو اس کے لیے خیرو بھلائی کے اضافہ کا باعث ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص کسی تکلیف پہنچنے پر موت کی تمنا نہ کرے ، اگر اس کو ضرور کہنا ہے تو وہ یوں کہے : اے اللہ ! جب تک میرا زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہے تب تک مجھے زندہ رکھنا ، اور جب وفات میرے لیے بہتر ہو تب مجھے (دنیا سے) اٹھا لینا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے تو اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے ۔‘‘ عائشہ ؓ یا آپ کی کسی اور زوجہ مححترمہ نے فرمایا : بے شک ہم تو موت کو نا پسند کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ بات نہیں ہے ، بلکہ مومن کو موت آتی ہے تو اسے اللہ کی رضا مندی اور اس کی عزت افزائی کی بشارت دی جاتی ہے تو پھر جو اس کے آگے ہونے والا ہوتا ہے وہ اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے لہذا وہ اللہ سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے ، اور جب کافر کو موت آتی ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے تو پھر اس کو مستقبل سے زیادہ ناگوار کوئی چیز نظر نہیں آتی تو وہ اللہ سے ملاقات کرنا ناپسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔