Back to Mishkat Al-Masabih

Funerals

كتاب الجنائز

Chapter 5

Hadith 1583
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: ذُكِرَتِ الْحُمَّى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّهَا رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبَّهَا فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بخار کا ذکر کیا گیا تو کسی آدمی نے اسے برا بھلا کہا ، تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے برا بھلا نہ کہو ، کیونکہ وہ گناہوں کو ایسے صاف کر دیتا ہے جیسے آگ لوہے کی میل کچیل دور کر دیتی ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔

Hadith 1584
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ مَرِيضًا فَقَالَ: أَبْشِرْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا لِتَكَوُنَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ والْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی مریض کی عیادت کی تو فرمایا :’’ خوش ہو جاؤ ،کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، وہ (بخار) میری آگ ہے میں اسے دنیا میں اپنے مومن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ اس کے لیے روز قیامت کی آگ کے حصہ کا (بدلہ) ہو جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

Hadith 1585
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الرَّبَّ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى يَقُولُ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أُخْرِجُ أَحَدًا مِنَ الدُّنْيَا أُرِيد أَغْفِرَ لَهُ حَتَّى أَسْتَوْفِيَ كُلَّ خَطِيئَةٍ فِي عُنُقِهِ بِسَقَمٍ فِي بَدَنِهِ وَإِقْتَارٍ فِي رِزْقِهِ . رَوَاهُ رزين
Urdu

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ رب سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے : مجھے میرے غلبہ و جلال کی قسم ! میں جسے بخشنے کا ارادہ کر لوں تو میں اسے دنیا سے نہیں اٹھاتا حتیٰ کہ میں اسے بیمار کر کے یا اس کے رزق میں تنگی کر کے اس کے ذمے تمام خطاؤں کا پورا پورا حساب نہ کر لوں ۔‘‘ لااصل لہ، رواہ رزین (لم اجدہ)

Hadith 1586
sahih
وَعَن شَقِيق قَالَ: مرض عبد الله بن مَسْعُود فَعُدْنَاهُ فَجَعَلَ يَبْكِي فَعُوتِبَ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَبْكِي لِأَجْلِ الْمَرَضِ لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمَرَضُ كَفَّارَةٌ» وَإِنَّمَا أبْكِي أَنه أَصَابَنِي عَلَى حَالِ فَتْرَةٍ وَلَمْ يُصِبْنِي فِي حَال اجْتِهَاد لِأَنَّهُ يكْتب للْعَبد من الْجَرّ إِذَا مَرِضَ مَا كَانَ يُكْتَبُ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَمْرَضَ فَمَنَعَهُ مِنْهُ الْمَرَضُ. رَوَاهُ رَزِينٌ
Urdu

شقیق ؒ بیان کرتے ہیں ، عبداللہ بن مسعود ؓ بیمار ہو گئے تو ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو وہ رونے لگے ، پس اس پر ان کو ملامت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں مرض کی وجہ سے نہیں روتا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ مرض (گناہوں کا) کفارہ ہوتا ہے ۔‘‘ میں تو اس لیے روتا ہوں کہ یہ (مرض) مجھے بڑھاپے کی عمر میں لاحق ہوا ہے ، اور محنت و مشقت کرنے کے دور میں لاحق نہیں ہوا ، کیونکہ جب آدمی بیمار ہو جاتا ہے تو اس کے لیے وہی اجر لکھ دیا جاتا ہے جو اس کے بیمار ہونے سے پہلے لکھا جاتا تھا ، اور اب صرف مرض نے اسے (وہ اعمال بجا لانے سے) روک رکھا ہے ۔ لااصل لہ، رواہ رزین (لم اجدہ) ۔

Hadith 1587
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تین دن کے بعد عیادت کے لیے جایا کرتے تھے ۔ ضعیف ۔

Hadith 1588
sahih
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ك قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مَرِيضٍ فَمُرْهُ يَدْعُو لَكَ فَإِنَّ دُعَاءَهُ كَدُعَاءِ الْمَلَائِكَةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
Urdu

عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تم مریض کے پاس جاؤ تو اسے کہو کہ وہ تمہارے حق میں دعا کرے ، کیونکہ اس کی دعا ، فرشتوں جیسی ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1589
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ تَخْفِيفُ الْجُلُوسِ وَقِلَّةُ الصَّخَبِ فِي الْعِيَادَةِ عِنْدَ الْمَرِيضِ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَثُرَ لَغَطُهُمْ وَاخْتِلَافُهُمْ: «قُومُوا عَنِّي» رَوَاهُ رزين
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، مریض کی عیادت کرتے وقت اس کے پاس مختصر وقت کے لیے بیٹھنا اور شور کم کرنا سنت ہے ۔ انہوں نے بیان کیا ، جب رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ان کا شور اور اختلاف زیادہ ہوا تو آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ میرے پاس سے چلے جاؤ ۔‘‘ لااصل لہ، رواہ رزین (لم اجدہ) ۔

Hadith 1590
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: «العيادة فوَاق نَاقَة»
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ عیادت (اتنے وقت کے لیے کرنی چاہیے) جتنا وقت دودھ کی دو دھاریں نکالنے کے درمیان ہوتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1591
sahih
وَفِي رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا: «أَفْضَلُ الْعِيَادَةِ سُرْعَةُ الْقِيَامِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان
Urdu

اور سعید بن مسیّب ؒ کی مرسل روایت میں ہے :’’ بہترین عیادت وہ جس میں (عیادت کر کے) جلدی اٹھا جائے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1592
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا فَقَالَ لَهُ: «مَا تستهي؟» قَالَ: أشتهي خبز بر. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ خُبْزُ بُرٍّ فَلْيَبْعَثْ إِلَى أَخِيهِ» . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اشْتَهَى مَرِيضُ أحدكُم شَيْئا فليطعمه» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی آدمی کی عیادت کی تو فرمایا :’’ کسی چیز کو دل چاہتا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : گندم کی روٹی ، نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کے پاس گندم کی روٹی ہو تو وہ اسے اپنے بھائی کے پاس بھیج دے ۔‘‘ پھر نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جب تمہارے کسی مریض کا کسی چیز کو دل چاہے تو وہ اسے کھلا دیا کرو ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1593
sahih
وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ ك تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا لَيْتَهُ مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ» . قَالُوا وَلِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ بِغَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه
Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، مدینہ میں پیدا ہونے والا ایک شخص فوت ہو گیا تو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھ کر فرمایا :’’ کاش کہ یہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کسی اور جگہ فوت ہوتا ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کس لیے ؟ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ بے شک جب کوئی آدمی اپنی جائے پیدائش کے علاوہ کسی جگہ فوت ہوتا ہے تو اس کی جائے پیدائش سے جائے وفات تک کے فاصلے کے برابر اسے جنت عطا کر دی جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی و ابن ماجہ ۔

Hadith 1594
sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْتُ غُرْبَةٍ شَهَادَةٌ» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ پردیس کی موت شہادت ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1595
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا أَوْ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص بیماری کی حالت میں فوت ہوتا ہے تو وہ شہادت کی موت مرتا ہے ، اسے قبر کے فتنے سے بچا لیا جاتا ہے ، صبح و شام اسے جنت سے رزق پہنچا دیا جاتا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1596
sahih
عَن الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ على فرشهم إِلَى رَبنَا فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ: إِخْوَاننَا قتلوا كَمَا قتلنَا وَيَقُول: المتوفون على فرشهم إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا فَيَقُولُ رَبنَا: انْظُرُوا إِلَى جراحهم فَإِن أشبهت جراحهم جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ وَمَعَهُمْ فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قد أشبهت جراحهم . رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ
Urdu

عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ شہداء اور اپنے بستروں پر وفات پانے والے ، طاعون کی وجہ سے فوت ہونے والوں کے بارے میں ہمارے رب عزوجل کے سامنے مقدمہ پیش کریں گے تو شہداء عرض کریں گے : ہمارے بھائی ہیں وہ ویسے ہی شہید کیے گئے جیسے ہم شہید کیے گئے ، جبکہ فوت ہونے والے کہیں گے ، یہ ہمارے بھائی ہیں ، یہ بھی ویسے ہی اپنے بستروں پر فوت ہوئے جس طرح ہم فوت ہوئے ، ہمارا رب فرمائے گا : ان کے زخم دیکھو ، اگر تو ان کے زخم ، مقتولین (شہداء) کے زخموں کی طرح ہیں تو پھر یہ ان میں سے ہیں اور ان کے ساتھ ہیں ، پس ان کے زخم انہی کے زخموں سے مشابہ تھے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و النسائی ۔

Hadith 1597
sahih
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ وَالصَّابِرُ فِيهِ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ» . رَوَاهُ أَحْمد
Urdu

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ طاعون سے فرار ہونے والا میدان جہاد سے فرار ہونے والے کی طرح ہے ، اور وہاں صبر کرنے (رک جانے) والے کے لیے شہید کا ثواب ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

Hadith 1598
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يستعتب» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے ، اگر تو وہ نیکوکار ہے تو شاید کہ وہ نیکیوں میں اضافہ کر لے ، اور اگر وہ خطا کار ہے تو شاید کہ وہ توبہ کر لے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

Hadith 1599
sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُ بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ إِنَّهُ إِذَا مَاتَ انْقَطَعَ أَمَلُهُ وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خيرا» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی موت کی تمنا کرے نہ اس کے آنے سے پہلے اس کے لیے دعا کرے ، کیونکہ جب وہ فوت ہو جاتا ہے تو اس کی امید منقطع ہو جاتی ہے ، اور مومن کی عمر تو اس کے لیے خیرو بھلائی کے اضافہ کا باعث ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

Hadith 1600
sahih
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ فَإِنْ كَانَ لابد فَاعِلًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لي
Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص کسی تکلیف پہنچنے پر موت کی تمنا نہ کرے ، اگر اس کو ضرور کہنا ہے تو وہ یوں کہے : اے اللہ ! جب تک میرا زندہ رہنا میرے لیے بہتر ہے تب تک مجھے زندہ رکھنا ، اور جب وفات میرے لیے بہتر ہو تب مجھے (دنیا سے) اٹھا لینا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1601
sahih
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَوْ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ: إِنَّا لَنَكْرَهُ الْمَوْتَ قَالَ: «لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانِ اللَّهِ وَكَرَامَتِهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَأَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا حضر بشر بِعَذَاب الله وعقوبته فَلَيْسَ شَيْء أكره إِلَيْهِ مِمَّا أَمَامَهُ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ الله لقاءه»
Urdu

عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے تو اللہ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے ۔‘‘ عائشہ ؓ یا آپ کی کسی اور زوجہ مححترمہ نے فرمایا : بے شک ہم تو موت کو نا پسند کرتے ہیں ، آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ یہ بات نہیں ہے ، بلکہ مومن کو موت آتی ہے تو اسے اللہ کی رضا مندی اور اس کی عزت افزائی کی بشارت دی جاتی ہے تو پھر جو اس کے آگے ہونے والا ہوتا ہے وہ اسے سب سے زیادہ محبوب ہوتا ہے لہذا وہ اللہ سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے ، اور جب کافر کو موت آتی ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے تو پھر اس کو مستقبل سے زیادہ ناگوار کوئی چیز نظر نہیں آتی تو وہ اللہ سے ملاقات کرنا ناپسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

Hadith 1602
sahih
وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ: «وَالْمَوْتَ قَبْلَ لِقَاء الله»
Urdu

عائشہ ؓ سے مروی روایت میں ہے :’’ اللہ کی ملاقات سے پہلے موت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔