ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں فرمایا :’’ ان کے چمڑے کی پوستینیں (اونی چادریں وغیرہ) اور ہتھیار اتار لو اور ان کو خون سمیت ان کے کپڑوں میں دفن کر دو ۔‘‘ ضعیف ۔
سعد بن ابراہیم ؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ روزے سے تھے کہ (افطار کے لیے) ان کے پاس کھانا لایا گیا تو انہوں نے فرمایا : مصعب بن عمیر ؓ شہید کر دیے گئے جبکہ وہ مجھ سے بہتر تھے ، انہیں ایک چادر میں کفن دیا گیا ، اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر ان کے پاؤں ڈھانپے جاتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا ۔ راوی کہتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا : حمزہ ؓ شہید کر دیے گئے جبکہ وہ مجھ سے بہتر تھے ، پھر ہم پر دنیا کی نعمتیں وافر کر دی گئیں ، یا فرمایا : ہمیں بہت زیادہ دنیا کا مال و متاع عطا کر دیا گیا کہ ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ ہمیں دنیا ہی میں دے دیاگیا ہے ، پھر انہوں نے رونا شروع کر دیا حتیٰ کہ کھانا بھی ترک کر دیا ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓبیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبداللہ بن ابی کے پاس آئے جبکہ اسے قبر میں اتار دیا گیا تھا ، آپ کے حکم پر اسے باہر نکالا گیا ، آپ نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھا ، اور اس کے جسم پر اپنا لب مبارک تھوکا اور اسے اپنی قمیض پہنائی ، راوی بیان کرتے ہیں ، اور اس (عبداللہ بن ابی) نے عباس ؓ کو قمیض پہنائی تھی ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنازہ جلدی لے جایا کرو ، اگر تو وہ صالح ہے تو پھر تم اسے بھلائی کی طرف لے جارہے ہو ، اور اگر وہ اس کے علاوہ ہے تو پھر وہ ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب جنازے کو رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے : مجھے آگے پہنچاؤ اور اگر وہ صالح نہ ہو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہتا ہے : تباہی ہو ، تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو ۔ انسان کے علاوہ ہر چیز اس کی آواز سنتی ہے ، اور اگر انسان سن لے تو وہ بے ہوش ہو جائے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ ، اور جو شخص اس کے ساتھ جائے تو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے حتیٰ کہ اسے رکھ دیا جائے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، پھر ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ تو ایک یہودی عورت کا جنازہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : موت گھبراہٹ والی چیز ہے ، جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوتے دیکھا تو ہم بھی کھڑے ہو گئے اور ہم نے آپ کو بیٹھتے دیکھا تو ہم بھی بیٹھ گئے ۔ اور امام مالک اور ابوداؤد کی روایت میں ہے : آپ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو گئے پھر اس کے بعد آپ بیٹھ گئے ۔ رواہ مسلم و مالک و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ایمان و ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے میں شریک ہوتا ہے ، اس کے ساتھ رہتا ہے حتیٰ کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے اور اس کے دفنانے سے فارغ ہو جاتا ہے تو وہ دو قراط اجر کے ساتھ واپس آتا ہے ، ہر قراط احد پہاڑ کی مثل ہے ، اور جو شخص نماز جنازہ پڑھتا ہے اور اس کے دفن ہونے سے پہلے واپس آ جاتا ہے تو وہ ایک قراط اجر کے ساتھ واپس آتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجاشی کے فوت ہونے کی ، جس روز وہ فوت ہوئے ، خبر سنائی اور آپ صحابہ کرام ؓ کو لے کر عید گاہ تشریف لے گئے ، آپ نے ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں ۔ متفق علیہ ۔
عبدالرحمن بن ابی لیلہ بیان کرتے ہیں ، زید بن ارقم ؓ نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے ، جبکہ ایک جنازے پر انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو ہم نے ان سے سوال کیا ۔ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے بھی کہا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
طلحہ بن عبداللہ بن عوف بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عباس ؓ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو انہوں نے (بلند آواز سے) سورۃ الفاتحہ پڑھی ۔ بعد ازاں فرمایا : تاکہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے ۔ رواہ البخاری ۔
عوف بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی تو میں نے آپ کی دعا یاد کر لی ، آپ کہہ رہے تھے :’’ اے اللہ ! اسے معاف فرما ، اس کی بہترین مہمان نوازی فرما ، اس کی قبر فراخ فرما ، اس کے گناہ پانی ، اولوں اور برف سے دھو ڈال ، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا ہے ، اسے اس کے (دنیا والے) گھر سے بہتر گھر (دنیا کے) اہل سے بہتر اہل (خادم وغیرہ) اور (دنیا کی) زوجہ سے بہتر زوجہ عطا فرما ، اسے جنت میں داخل فرما اور عذاب قبر نیز عذاب جہنم سے محفوظ رکھ ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے :’’ اسے فتنہ قبر اور عذاب جہنم سے محفوظ فرما ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : (آپ نے اس قدر دعائیں کیں) کہ میں نے تمنا کی کہ کاش ! یہ میت میری ہوتی ۔ رواہ مسلم ۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص ؓ نے وفات پائی تو عائشہ ؓ نے فرمایا : انہیں مسجد میں لے آؤ تاکہ میں بھی ان کی نماز جنازہ پڑھ سکوں ، لیکن ان کی یہ بات قبول نہ کی گئی ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں ، سہیل اور اس کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی تھی ۔ رواہ مسلم ۔
سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ، حالت نفاس میں فوت ہو جانے والی عورت کی ، نماز جنازہ پڑھی ، تو آپ اس کے وسط میں کھڑے ہوئے ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے جہاں گزشتہ رات کسی کو دفن کیا گیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے کب دفن کیا گیا ْ‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، گزشتہ رات ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے مجھے کیوں نہ مطلع کیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم نے رات کی تاریکی میں اسے دفن کیا تھا ، اس لیے ہم نے آپ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا ، پس آپ کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں ، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون ، جو کہ مسجد کی صفائی کیا کرتی تھیں یا کوئی نوجوان تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نہ دیکھا تو آپ نے اس کے بارے میں سوال کیا ، صحابہ نے عرض کیا ، وہ تو وفات پا چکا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے مجھے کیوں نہ مطلع کیا ؟‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، گویا انہوں نے اس کے معاملے کو کم تر سمجھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اس کی قبر بتاؤ ۔‘‘ انہوں نے بتا دیا تو آپ نے وہاں نماز جنازہ پڑھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ قبریں اپنے اصحاب پر اندھیروں سے بھری پڑی ہیں ، اور بے شک اللہ میرے نماز جنازہ پڑھنے کے ذریعے انہیں منور فرما دیتا ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم اور الفاظ صحیح مسلم کے ہیں ۔ متفق علیہ ۔
ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام کریب ، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں قدید یا عسفان کے مقام پر ان کا بیٹا فوت ہو گیا ۔ انہوں نے فرمایا : کریب ! دیکھو ، اس کے (جنازے) کے لیے کتنے لوگ جمع ہو چکے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں ، میں باہر آیا تو دیکھا کہ لوگ جمع ہو چکے تھے ، میں نے آپ کو بتایا تو انہوں نے پوچھا : وہ چالیس ہیں ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، پھر ابن عباس ؓ نے فرمایا : اسے لے چلو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو مسلمان فوت ہو جائے اور پھر چالیس موحّد (جو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے) اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں تو اللہ اس شخص کے بارے میں ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس میت پر سو مسلمان جنازہ پڑھیں اور وہ تمام اس کے حق میں سفارش کریں تو اس کے حق میں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، وہ ایک جنازے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس کی اچھائی بیان کی ، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ واجب ہو گئی ۔‘‘ پھر وہ دوسرے جنازے کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس کی برائی بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ واجب ہو گئی ۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا : کیا واجب ہو گئی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اس کی اچھائی بیان کی تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی بیان کی تو اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی ، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو ۔‘‘ بخاری ، مسلم اور ایک روایت میں ہے ’’ مومن زمین پر اللہ کے گواہ ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔