عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس مسلمان کے بارے میں چار آدمی گواہی دے دیں کہ وہ اچھا ہے تو اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : اور تین آدمی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تین آدمی ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : دو آدمی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو آدمی ۔‘‘ پھر ہم نے ایک کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھا ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ فوت شدگان کو برا بھلا مت کہو ، کیونکہ وہ تو اپنی سزا پا چکے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہدائے احد کے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے اور فرماتے ’’ ان میں سے قرآن کا علم کس کو زیادہ تھا ؟‘‘ جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کر دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے پہلے لحد میں اتارتے ، اور فرماتے :’’ میں روز قیامت ان لوگوں کی گواہی دوں گا ۔‘‘ آپ نے انہیں اسی خون آلودہ حالت میں دفن کرنے کا حکم فرمایا ، آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی نہ انہیں غسل دیا گیا ۔ رواہ البخاری ۔
جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن دحداح کی نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو زین کے بغیر ایک گھوڑا آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا جس پر آپ سوار ہو گئے جبکہ ہم آپ کے اردگرد پیدل چلتے رہے ۔ رواہ مسلم ۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سوار شخص جنازے کے پیچھے جبکہ پیدل چلنے والا اس کے پیچھے ، اس کے آگے ، اس کے دائیں اور اس کے بائیں اس کے قریب قریب چلے گا ، اور نامکمل پیدا ہونے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کی جائے گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و احمد و الترمذی ۔ احمد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سوار جنازے کے پیچھے جبکہ پیادہ جس طرف چاہے چل سکتا ہے ، اور بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔‘‘ مصابیح میں مغیرہ بن زیاد سے مروی ہے ۔
زہری ، سالم سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ۔ احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ ، امام ترمذی نے فرمایا : اور محدثین اسے مرسل سمجھتے ہیں ۔ صحیح ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جنازے کے پیچھے چلنا چاہیے ، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیے اور جو شخص اس کے آگے چلتا ہے تو وہ (شرعی لحاظ سے) اس کے ساتھ نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، امام ترمذی نے فرمایا : ابوماجد راوی مجہول ہے ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص جنازے کے ساتھ چلے اور تین مرتبہ اسے اٹھائے تو اس نے اپنے ذمے اس کے حق کو ادا کر دیا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ۔
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک جنازہ میں شریک ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سواریوں پر دیکھا تو فرمایا :’’ کیا تمہیں حیا نہیں آتا کہ اللہ کے فرشتے تو پیدل ہیں اور تم سواریوں پر ہو ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ ثوبان ؓ سے موقوف روایت کی گئی ہے ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم جنازہ پڑھو تو میت کے لیے خلوص کے ساتھ دعا کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! ہمارے زندوں ، ہمارے مردوں ، ہمارے موجود اور ہمارے غیر موجود ، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کی مغفرت فرما ، اے اللہ ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے تو اسے اسلام پر زندہ رکھ اور تو ہم میں سے جسے فوت کرے تو اسے ایمان پر فوت کرنا ، اے اللہ ! ہمیں اس کے اجر سے محروم کرنا نہ اس کے بعد ہمیں فتنے کا شکا کرنا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی وابن ماجہ ۔
اور امام نسائی نے ابراہیم اشہلی عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے ، اور ان کی روایت ’’ ہماری عورتوں کو معاف فرما ‘‘ تک ختم ہو جاتی ہے ، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے :’’ اسے ایمان پر زندہ رکھ اور اسلام پر فوت کر ۔‘‘ اور اس کے آخر میں ہے :’’ اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا ۔‘‘ حسن ۔
واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مسلمان شخص کی نماز جنازہ پڑھائی تو میں نے آپ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا :’’ اے اللہ ! فلاں تیرے ذمے اور تیری رحمت کے سائے میں ہے ، اسے فتنہ قبر اور عذاب جہنم سے بچا ، تو اہل وفا اور اہل حق ہے ، اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما ، اس پر رحم فرما ، بے شک تو بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے فوت شدگان کے محاسن بیان کیا کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے اجتناب کرو ۔‘‘ ضعیف ۔
نافع ابو غالب ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے انس بن مالک ؓ کے ساتھ ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھی تو وہ اس کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے ، پھر ایک قریشی خاتون کا جنازہ آیا تو انہوں نے کہا : اے ابوحمزہ ! اس کی نماز جنازہ پڑھو ، پس وہ اس کی چارپائی کے وسط میں کھڑے ہوئے ، تو علاء بن زیاد نے ان سے پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح دیکھا ہے کہ آپ عورت کا جنازہ پڑھاتے وقت اس جگہ (چارپائی کے وسط میں) کھڑے ہوئے تھے اور ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت اس جگہ کھڑے ہوئے تھے جہاں آپ کھڑے ہوئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ۔ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ ابوداؤد کی ایک روایت میں اسی طرح ہے ، اس میں کچھ اضافہ ہے ، کہ آپ (عورت کی نماز جنازہ پڑھاتے وقت) عورت کے سرین کے پاس کھڑے ہوئے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و ابوداؤد ۔
عبدالرحمن بن ابی لیلی بیان کرتے ہیں ، سہیل بن حنیف ؓ اور قیس بن سعد ؓ قادسیہ میں تشریف فرما تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو وہ دونوں کھڑے ہو گئے ، انہیں بتایا گیا کہ یہ ذمی شخص کا جنازہ ہے ، ان دونوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے آپ کو بتایا گیا کہ یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا وہ جان نہیں ؟‘‘ متفق علیہ ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی جنازے میں شریک ہوتے تو آپ میت کو لحد میں اتارنے تک نہیں بیٹھتے تھے ، ایک یہودی عالم آپ کے پاس آیا تو اس نے آپ سے کہا ، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بے شک ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے ، اور فرمایا :’’ ان کی مخالفت کرو ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، بشیر بن رافع راوی قوی نہیں ۔ ضعیف ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنازہ دیکھ کر ہمیں کھڑا ہونے کا حکم فرمایا ، اس کے بعد پھر آپ بیٹھ گئے تو آپ نے ہمیں بیٹھ جانے کا حکم فرمایا ۔ حسن ، رواہ احمد ۔