ابوقتادہ ؓ حدیث بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ راحت پا گیا یا دوسرے اس سے راحت پا گئے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ راحت پا گیا یا دوسرے اس سے راحت پا گئے اس سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بندہ مومن دنیا کی مشکلات اور تکلیفوں سے راحت پا کر اللہ کی رحمت کی طرف جاتا ہے جبکہ فاجر شخص سے عبادوبلاد اور درخت و حیوانات راحت پا جاتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کندھے سے پکڑکر فرمایا :’’ دنیا میں کسی اجنبی شخص یا کسی راہ گزر کی طرح رہو ۔‘‘ اور ابن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے : جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو ، اور جب صبح ہو جائے تو پھر شام کا انتظار نہ کرو ، اور صحت میں اپنی بیماری کے لیے اور اپنی حیات سے اپنی موت کے لیے توشہ حاصل کرو ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین روز قبل ، فرماتے ہوئے سنا :’’ تمہیں اللہ سے حسن ظن کی صورت میں موت آنی چاہیے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ روز قیامت سب سے پہلے اللہ مومنوں سے کیا فرمائے گا اور وہ سب سے پہلے اس سے کیا عرض کریں گے ؟‘‘ ہم نے عرض کیا جی ہاں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا :’’ اللہ مومنوں سے فرمائے گا : کیا تم مجھے ملنا پسند کرتے تھے ؟ وہ عرض کریں گے : جی ہاں ، ہمارے پروردگار ! وہ پوچھے گا : کس لیے ؟ وہ عرض کریں گے : ہمیں آپ کے عفوو درگزر اور مغفرت کی امید تھی ، وہ فرمائے گا پس میری مغفرت تمہارے لیے واجب ہو گئی ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لذتوں کو کاٹ دینے والی ، موت کو کثرت سے یاد کیا کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک روز اپنے صحابہ سے فرمایا :’’ اللہ سے حیا کرو جس طرح اس سے حیا کرنے کا حق ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! الحمد للہ ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ بات نہیں ہے ، بلکہ جو شخص اللہ سے ایسے حیا کرتا ہے جیسے حیا کرنے کا حق ہے تو وہ سر اور ان چیزوں کی جو سر میں ہیں (آنکھ ، کان ، زبان) کی حفاظت کرے ، اور وہ پیٹ اور اس کے متعلقات (شرم گاہ ، ہاتھ ، پاؤں اور دل وغیرہ) کی حفاظت کرے ، وہ موت اور بوسیدہ ہونے کو یاد رکھے ، اور جو آخرت چاہتا ہے وہ دنیا ترک کر دے ۔ جو شخص اس طرح کرے تو اس نے اللہ سے ایسے حیا کیا جیسے اس سے حیا کرنے کا حق ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Hadith 1609
sahih
وَعَن عبد الله بن عَمْرو قَالَ ك قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان
Urdu
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ موت مومن کے لیے تحفہ ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن مرتا ہے تو اس کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
عبیداللہ بن خالد بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اچانک موت ، غضب کی گرفت ہے ۔‘‘ ابوداؤد ۔ امام بیہقی ؒ نے شعب الایمان میں اور رزین نے اپنی کتاب میں یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ غضب کی پکڑ کافر کے لیے ہے جبکہ مومن کے لیے رحمت ہے ۔‘‘ صحیح ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نوجوان شخص کے پاس گئے جبکہ وہ نزع کی حالت میں تھا ، آپ نے فرمایا :’’ تم کیسا محسوس کرتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں اللہ سے امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایسے موقع پر کسی بندے کے دل میں دو چیزیں (امید اور خوف) اکٹھی ہو جائیں تو اللہ اسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے جس کی وہ امید کرتا ہے اور جس چیز سے وہ ڈر رہا ہوتا ہے اس سے اسے بے خوف کر دیتا ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ موت کی تمنا نہ کرو ، کیونکہ مرنے کے بعد کے سماں کی ہولناکی بہت سخت ہے ، اور یہ سعادت کی بات ہے کہ بندے کی عمر دراز ہو جائے اور اللہ عزوجل اسے اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔‘‘ سندہ حسن ، رواہ احمد ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف توجہ کر کے بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے ہمیں وعظ و نصیحت کی اور ہمارے دلوں کو نرم کیا تو سعد بن ابی وقاص ؓ رونے لگے ، انہوں نے بہت زیادہ روتے ہوئے کہہ دیا : کاش کہ میں مر جاتا ، یہ سن کر ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سعد ! کیا تم میرے ہوتے ہوئے موت کی تمنا کرتے ہو ؟‘‘ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سعد ! اگر تمہیں جنت کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو پھر تمہاری عمر جتنی دراز ہو گی اور تمہارے جتنے عمل اچھے ہوں گے وہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
حارثہ بن مضرب ؒ بیان کرتے ہیں ، میں خباب ؓ کے پاس گیا تو انہوں نے جسم کو سات جگہوں پر داغا ہوا تھا ، انہوں نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا :’’ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے ۔‘‘ تو میں ضرور اس کی تمنا کرتا میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس طرح بھی دیکھا ہے کہ میرے پاس ایک درہم بھی نہیں تھا ، جبکہ اب میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم ہیں ۔ حارثہ بیان کرتے ہیں ، پھر ان کا کفن لایا گیا ، جب انہوں نے اسے دیکھا تو رونے لگے اور فرمایا :’’ لیکن حمزہ کو کفن کے لیے ایک چھوٹی سی دھاری دار چادر نصیب ہوئی ، جب اسے ان کے سر پر کیا جاتا تو پاؤں سے اکٹھی ہو جاتی اور جب پاؤں پر کی جاتی تو سر کی طرف سے اکٹھی ہو جاتی ، حتیٰ کہ اسے ان کے سر پر پھیلا دیا گیا اور ان کے پاؤں پر گھاس ڈال دی گئی ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، البتہ امام ترمذی ؒ نے یہ ذکر نہیں کیا کہ پھر ان کے لیے کفن لایا گیا ، آخر حدیث تک ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابوسعید ؓ اور ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے قریب الموت افراد کو (لا الہ الا اللہ) کی تلقین کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم کسی مریض یا میت کے پاس جاؤ تو اچھی بات کہو ، کیونکہ تم جو بات کرتے ہو تو فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو مسلمان کسی مصیبت کے آنے پر اللہ کے حکم کے مطابق یہ دعا پڑھتا ہے : بے شک ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ، اے اللہ ! میری اس مصیبت پر مجھے اجر و ثواب عطا فرما اور مجھے اس سے بہتر بدل عطا فرما ۔ تو اللہ اسے اس سے بہتر بدل عطا فرما دیتا ہے ۔‘‘ پس جب ابو سلمہ ؓ فوت ہوئے تو میں نے کہا : ابو سلمہ سے بہتر کون مسلمان شخص ہو گا ، یہ وہ پہلا گھرانا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی تھی ، پھر میں وہ دعا پڑھتی رہی تو اللہ نے مجھے بدلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا فرما دیے ۔ رواہ مسلم ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوسلمہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو ان کی نظر پھٹ چکی تھی ، آپ نے ان کی آنکھیں بند کیں پھر فرمایا :’’ جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کے پیچھے چلی جاتی ہے ۔‘‘ (یہ سن کر) ان کے اہل خانہ رونے لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے لیے دعا خیر ہی کرو ، کیونکہ تم جو کہتے ہو ، فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے اللہ ! ابوسلمہ کی مغفرت فرما ، ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما ، اس کے پیچھے باقی رہ جانے والوں میں تو اس کا خلیفہ بن جا ، تمام جہانوں کے پروردگار ! ہمیں اور اسے بخش دے ، اس کی قبر کو کشادہ فرما اور اسے منور فرما ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کا آخری کلام ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔