محمد بن سرین بیان کرتے ہیں ، حسن بن علی ؓ اور ابن عباس ؓ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو حسن ؓ کھڑے ہو گئے لیکن ابن عباس ؓ کھڑے نہ ہوئے تو حسن ؓ نے فرمایا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے نہیں ہوئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، (لیکن) پھر آپ بیٹھے رہتے تھے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حسن بن علی ؓ بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے حتیٰ کہ جنازہ گزر گیا ، تو حسن ؓ نے فرمایا : ایک یہودی کا جنازہ گزرا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے راستے پر بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ کسی یہودی شخص کا جنازہ آپ کے سر مبارک سے بلند ہو جائے لہذا آپ کھڑے ہو گئے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔
ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تمہارے پاس سے کسی یہودی یا کسی نصرانی یا کسی مسلمان کا جنازہ گزرے تو تم اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ ، تم اس کے لیے نہیں کھڑے ہو رہے بلکہ تم تو ان فرشتوں کے لیے کھڑے ہوئے ہو جو اس (جنازے) کے ساتھ ہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے ، آپ کو بتایا گیا کہ یہ تو کسی یہودی کا جنازہ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں تو صرف فرشتوں کی خاطر کھڑا ہوا ہوں ۔‘‘ ضعیف ۔
مالک بن ہبیرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور مسلمانوں کی تین صفیں اس کی نماز جنازہ پڑھ دیں تو اس کے لیے (جنت) واجب ہو جاتی ہے ۔‘‘ جب مالک ؓ دیکھتے کہ جنازہ پڑھنے والے کم ہیں تو آپ اس حدیث کی بنیاد پر انہیں تین صفوں میں تقسیم فرما دیتے تھے ۔ ابوداؤد ۔ ترمذی کی روایت میں ہے کہ جب مالک بن ہبیرہ ؓ کوئی نماز جنازہ پڑھتے اور جنازہ پڑھنے والے کم ہوتے تو وہ انہیں تین حصوں میں تقسیم فرما دیتے ، پھر بیان کرتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص پر تین صفیں نماز جنازہ پڑھیں تو اس پر (جنت) واجب ہو گئی ۔‘‘ اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ نماز جنازہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے :’’ اے اللہ ! تو اس کا رب ہے ، تو نے اسے پیدا فرمایا ، تو نے اسے اسلام کی راہ دکھائی ، تو نے اس کی روح قبض کر لی اور تو اس کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ، ہم سفارشی بن کر آئے ہیں ، اس کی مغفرت فرما ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
سعید بن مسیّب ؒ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابوہریرہ ؓ کے پیچھے ایک ایسے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہیں ، وہ دعا کر رہے تھے :’’ اے اللہ ! اسے عذاب قبر سے بچا لے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک ۔
امام بخاری ؒ نے معلق روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا : حسن بصری ؒ بچے کی نماز جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھتے اور یہ دعا کرتے : اے اللہ ! اسے ہمارے لیے پیش رو ، میر منزل ، ذخیرہ اور ثواب بنا ۔‘‘ ضعیف ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تک پیدا ہونے والا بچہ چیخے نہیں تب تک اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی نہ وہ وارث بنے گا اور نہ ہی اس کی میراث تقسیم ہو گی ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ، لیکن انہوں نے یہ ذکرنہیں کیا کہ ’’ اس کی میراث تقسیم نہیں ہو گی ۔‘‘ ضعیف ۔
ابومسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام کو کسی بلند جگہ پر کھڑے ہونے سے منع فرمایا جبکہ مقتدی اس کے نیچے ہوں ۔ ضعیف ۔
عامر بن سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے اپنے مرض وفات میں فرمایا : میرے لیے لحد تیار کرنا اور اس پر اینٹیں کھڑی کرنا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی قبر) کے ساتھ کیا گیا ۔ رواہ مسلم ۔
ابوالہیاج اسدی ؒ بیان کرتے ہیں ، علی ؓ نے مجھے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کام پر مامور نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے مامور و مبعوث فرمایا تھا ، کہ تم ہر مورتی کو مٹا دو اور ہر اونچی قبر کو برابر کر دو ۔ رواہ مسلم ۔
جابر بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبر کو پختہ بنانے ، اس پر عمارت بنانے اور اس پر (مجاور) بن کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے ۔ رواہ مسلم ۔
ابومرثد غنوی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قبروں پر (مجاور بن کر) بیٹھو نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر تم میں سے کوئی شخص آگ کے انگارے پر بیٹھ جائے ، وہ کپڑے کو جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے تو یہ اس کے لیے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں ، مدینہ میں دو گورکن تھے ، ان میں سے ایک لحد بناتا تھا جبکہ دوسرا لحد تیار نہیں کرتا تھا ، صحابہ نے فرمایا : ان دونوں میں سے جو پہلے آئے گا وہ اپنا کام کرے گا ، پس لحد بنانے والا شخص پہلے آیا تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے لحد تیار کی گئی ۔ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہمارے (مسلمانوں کے) لیے لحد ہے اور شق (دہانے کی شکل والی قبر) ہمارے علاوہ دوسروں کے لیے ہے ۔‘‘ ضعیف ۔