Narrated `Amash:
We mentioned about pledging in Salam trade to Ibrahim, Aswad, with reference to Hadrat Aishah , narrated a Hadith to me: The Prophet (ﷺ) purchased food grains from a Jew on credit and mortgaged his iron armor to him.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ
ابراہیم نخعی کی مجلس میں ہم نے ادھار لین دین میں ( سامان ) گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ایک مدت مقرر کر کے ادھا خریدا اور اپنی لوہے کی ایک زرہ اس کے پاس گروی رکھی ۔
Narrated Qatada:
Anas went to the Prophet (ﷺ) with barley bread having some dissolved fat on it. The Prophet (ﷺ) had mortgaged his armor to a Jew in Medina and took from him some barley for his family. Anas heard him saying, "The household of Muhammad did not possess even a single Sa of wheat or food grains for the evening meal, although he has nine wives to look after." (See Hadith No. 685)
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسباط ابوالیسع بصریٰ نے ، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جَو کی روٹی اور بدبودار چربی ( سالن کے طور پر ) لے گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے یہاں گروی رکھی تھی اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے قرض لیا تھا ۔ میں نے خود آپ کو یہ فرماتے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے میں کوئی شام ایسی نہیں آئی جس میں ان کے پاس ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کوئی غلہ موجود رہا ہو ، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر والیوں کی تعداد نو تھی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
When Abu Bakr As-Siddiq رضی اللہ عنہ was chosen Caliph, he said, "My people know that my profession was not incapable of providing substance to my family. And as I will be busy serving the Muslim nation, my family will eat from the National Treasury of Muslims, and I will practice the profession of serving the Muslims."
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلفیہ ہوئے تو فرمایا ، میری قوم جانتی ہے کہ میرا ( تجارتی ) کاروبار میرے گھر والوں کی گذران کے لیے کافی رہا ہے ، لیکن اب میں مسلمانوں کے کام میں مشغول ہو گیا ہوں ، اس لیے آل ابوبکر اب بیت المال میں سے کھائے گی ، اور ابوبکر مسلمانوں کا مال تجارت بڑھاتا رہے گا ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
The companions of Allah's Messenger (ﷺ) used to practice manual labor, so their sweat used to smell, and they were advised to take a bath. It is reported by Hammam and his father from Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا .
مجھ سے محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا ، ان سے عروہ نے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کام اپنے ہی ہاتھوں سے کیا کرتے تھے اور ( زیادہ محنت و مشقت کی وجہ سے ) ان کے جسم سے ( پسینے کی ) بو آ جاتی تھی ۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ اگر تم غسل کر لیا کرو تو بہتر ہو گا ۔ اس کی روایت ہمام نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی ہے ۔
Narrated Al-Miqdam رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Nobody has ever eaten a better meal than that which one has earned by working with one's own hands. The Prophet (ﷺ) of Allah, David used to eat from the earnings of his manual labor."
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، انہیں ثور نے خبر دی ، انہیں خالد بن معدان نے اور انہیں مقدام رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی ، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Prophet (ﷺ) David used not to eat except from the earnings of his manual labor."
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام بن منبہ نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، اور ان سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا داؤد علیہ السلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, it is better for any one of you to cut a bundle of wood and carry it over his back rather than to ask someone who may or may not give him."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابی عبید نے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو لکڑی کا گھٹا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے ، اس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے چاہئیے وہ اسے کچھ دیدے یا نہ دے ۔
Narrated Az-Zubair bin Al-Awwam رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "One would rather take a rope and cut wood and carry it than ask others).
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنی رسیوں کو سنبھال لے اور ان میں لکڑی باندھ کر لائے تو وہ اس سے بہتر ہے جو لوگوں سے مانگتا ہے پھرتا ہے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah's mercy be on him who is lenient in his buying, selling, and in demanding back his money."
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ، اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے ۔
Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Before your time the angels received the soul of a man and asked him, 'Did you do any good deeds (in your life)?' He replied, 'I used to order my employees to grant time to the rich person to pay his debts at his convenience.' So Allah said to the angels; "Excuse him." Rabi said that (the dead man said), 'I used to be easy to the rich and grant time to the poor.' Or, in another narration, 'grant time to the well-off and forgive the needy,' or, 'accept from the well-off and forgive the needy.'
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا کہا کہ ہم سے منصور نے ، ان سے ربعی بن حراش نے بیان کیا اور ان سے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم سے پہلے گذشتہ امتوں کے کسی شخص کی روح کے پاس ( موت کے وقت ) فرشتے آئے اور پوچھا کہ تو نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں ؟ روح نے جواب دیا کہ میں اپنے نوکروں سے کہا کرتا تھا کہ وہ مالدار لوگوں کو ( جو ان کے مقروض ہوں ) مہت دے دیا کریں اور ان پر سختی نہ کریں ۔ اور محتاجوں کو معاف کر دیا کریں ۔ روای نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر فرشتوں نے بھی اس سے درگزر کیا اور سختی نہیں کی اور ابومالک نے ربعی سے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ ) بیان کئے ہیں ” کھاتے کماتے کے ساتھ ( اپنا حق لیتے وقت ) نرم معاملہ کرتا تھا اور تنگ حال مقروض کو مہلت دیتا تھا ۔ اس کی متابعت شعبہ نے کی ہے ۔ ان سے عبدالملک نے اور ان سے ربعی نے بیان کیا ، ابوعوانہ نے کہا کہ ان سے عبدالملک نے ربعی سے بیان کیا کہ ( اس روح نے یہ الفاظ کہے تھے ) میں کھاتے کماتے کو مہلت دے دیتا تھا اور تنگ حال والے مقروض سے درگزر کرتا تھا اور نعیم بن ابی ہند نے بیان کیا ، ان سے ربعی نے ( کہ روح نے یہ الفاظ کہے تھے ) میں کھاتے کماتے لوگوں کے ( جن پر میرا کوئی حق واجب ہوتا ) عذر قبول کر لیا کرتا تھا اور تنگ حال والے سے درگزر کر دیتا تھا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "There was a merchant who used to lend the people, and whenever his debtor was in straitened circumstances, he would say to his employees, 'Forgive him so that Allah may forgive us.' So, Allah forgave him."
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ولید زبیدی نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے ( آخرت میں ) درگزر فرمائے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کو بخش دیا ۔
Narrated Hakim bin Hizam:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The seller and the buyer have the right to keep or return goods as long as they have not parted or till they part; and if both the parties spoke the truth and described the defects and qualities (of the goods), then they would be blessed in their transaction, and if they told lies or hid something, then the blessings of their transaction would be lost."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ان سے صالح ابوخلیل نے ، ان سے عبیداللہ بن حارث نے ، انہوں نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، خریدنے اور بیچنے والوں کو اس وقت تک اختیار ( بیع ختم کر دینے کا ) ہے جب تک دونوں جدا نہ ہوں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( «ما لم يتفرقا» کے بجائے ) «حتى يتفرقا» فرمایا ۔ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا ) پس اگر دونوں نے سچائی سے کام لیا اور ہر بات صاف صاف کھول دی تو ان کی خریدوفروخت میں برکت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی بات چھپا رکھی یا جھوٹ کہی تو ان کی برکت ختم کر دی جاتی ہے ۔
Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :
We used to be given mixed dates (from the booty) and used to sell (barter) two Sas of those dates) for one Sa (of good dates). The Prophet (ﷺ) said (to us), "No (bartering of) two Sas for one Sa nor two Dirhams for one Dirham is permissible", (as that is a kind of usury). (See Hadith No. 405).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے ابوسلمہ نے ، ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہمیں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ) مختلف قسم کی کھجوریں ایک ساتھ ملا کرتی تھیں اور ہم دو صاع کھجور ایک صاع کے بدلے میں بیچ دیا کرتے تھے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو صاع ایک صاع کے بدلہ میں نہ بیچی جائے اور نہ دو درہم ایک درہم کے بدلے بیچے جائیں ۔
Narrated Abu Mas`ud رضی اللہ عنہ :
An Ansari man, called Abu Shu'aib رضی اللہ عنہ , came and told his butcher slave, "Prepare meals sufficient for five persons, for I want to invite the Prophet (ﷺ) along with four other persons as I saw signs of hunger on his face." Abu Shu'aib invited them and another person came along with them. The Prophet (ﷺ) said (to Abu Shu'aib), This man followed us, so if you allow him, he will join us, and if you want him to return, he will go back." Abu Shu'aib said, "No, I have allowed him (i.e. he, too, is welcomed to the meal).
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا ، اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ
انصار میں سے ایک صحابی جن کی کنیت ابوشعیب رضی اللہ عنہ تھی ، تشریف لائے اور اپنے غلام سے جو قصاب تھا ۔ فرمایا کہ میرے لیے اتنا کھانا تیار کر جو پانچ آدمی کے لیے کافی ہو ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے ساتھ اور چار آدمیوں کی دعوت کا ارادہ کیا ، کیونکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بھوک کا اثر نمایاں دیکھا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اور صاحب بھی آ گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے ساتھ ایک اور صاحب زائد آ گئے ہیں ۔ مگر آپ چاہیں تو انہیں بھی اجازت دے سکتے ہیں ، اور اگر چاہیں تو واپس کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ، بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں ۔
Narrated Hakim bin Hizam رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The buyer and the seller have the option to cancel or to confirm the deal, as long as they have not parted or till they part, and if they spoke the truth and told each other the defects of the things, then blessings would be in their deal, and if they hid something and told lies, the blessing of the deal would be lost."
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے قتادہ نے ، کہا کہ میں نے ابوخلیل سے سنا ، وہ عبداللہ بن حارث سے نقل کرتے تھے اور وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، خریدوفروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں ( کہ بیع فسخ کر دیں یا رکھیں ) یا آپ نے ( «ما لم يتفرقا» کے بجائے ) «حتى يتفرقا» فرمایا ۔ پس اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات کھول کھول کر بیان کی تو ان کی خریدوفروخت میں برکت ہو گی اور اگر انہوں نے کچھ چھپائے رکھا یا جھوٹ بولا تو ان کے خریدوفروخت کی برکت ختم کر دی جائے گی ۔
Narrated Abu Hurairah (رضی اللہ عنہ):
The Prophet (ﷺ) said "Certainly a time will come when people will not bother to know from where they earned the money, by lawful means or unlawful means." (See Hadith no. 2050)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا ، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ مال اس نے کہاں سے لیا ، حلال طریقہ سے یا حرام طریقہ سے ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
When the last Verses of Surat al- Baqara were revealed, the Prophet (ﷺ) recited them in the mosque and proclaimed the trade of alcohol as illegal.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابوالضحیٰ نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب ( سورۃ ) بقرہ کی آخری آیتیں «الذين يأكلون الربا *** الخ» نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صحابہ رضی اللہ عنہم کو مسجد میں پڑھ کر سنایا ۔ اس کے بعد ان پر شراب کی تجارت حرام کر دیا ۔
Narrated Samura bin Jundab رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "This night I dreamt that two men came and took me to a Holy land whence we proceeded on till we reached a river of blood, where a man was standing, and on its bank was standing another man with stones in his hands. The man in the middle of the river tried to come out, but the other threw a stone in his mouth and forced him to go back to his original place. So, whenever he tried to come out, the other man would throw a stone in his mouth and force him to go back to his former place. I asked, 'Who is this?' I was told, 'The person in the river was a Riba-eater."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے ، کہا کہ ہم سے ابورجاء بصریٰ نے بیان کیا ، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، رات ( خواب میں ) میں نے دو آدمی دیکھے ، وہ دونوں میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس میں لے گئے ، پھر ہم سب وہاں سے چلے یہاں تک کہ ہم ایک خون کی نہر پر آئے ، وہاں ( نہر کے کنارے ) ایک شخص کھڑا ہوا تھا ، اورنہر کے بیچ میں بھی ایک شخص کھڑا تھا ۔ ( نہر کے کنارے پر ) کھڑے ہونے والے کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے ۔ بیچ نہر والا آدمی آتا اور جونہی وہ چاہتا کہ باہر نکل جائے فوراً ہی باہر والا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ کر مارتا جو اسے وہیں لوٹا دیتا تھا جہاں وہ پہلے تھا ۔ اسی طرح جب بھی وہ نکلنا چاہتا کنارے پر کھڑا ہوا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ مارتا اور وہ جہاں تھا وہیں پھر لوٹ جاتا ۔ میں نے ( اپنے ساتھیوں سے جو فرشتے تھے ) پوچھا کہ یہ کیا ہے ، تو انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ نہر میں تم نے جس شخص کو دیکھا وہ سود کھانے والا انسان ہے ۔
Narrated `Aun bin Abu Juhaifa:
My father bought a slave who practiced the profession of cupping. (My father broke the slave's instruments of cupping). I asked my father why he had done so. He replied, "The Prophet (ﷺ) forbade the acceptance of the price of a dog or blood, and also forbade the profession of tattooing, getting tattooed and receiving or giving Riba, (usury), and cursed the picture-makers."
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا کہ
میں نے اپنے والد کو ایک پچھنا لگانے والا غلام خریدتے دیکھا ۔ میں نے یہ دیکھ کر ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت لینے اور خون کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے ، آپ نے گودنے والی اور گدوانے والی کو ( گودنا لگوانے سے ) سود لینے والے اور سود دینے والے کو ( سود لینے یا دینے سے ) منع فرمایا اور تصویر بنانے والے پر لعنت بھیجی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The swearing (by the seller) may persuade the buyer to purchase the goods but that will be deprived of Allah's blessing."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ( سامان بیچتے وقت دکاندار کے ) قسم کھانے سے سامان تو جلدی بک جاتا ہے لیکن وہ قسم برکت کو مٹا دینے والی ہوتی ہے ۔