Back to Sahih Bukhari

Sales and Trade

كتاب البيوع

Chapter 35

Hadith 2194
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of fruits till their benefit is evident. He forbade both the seller and the buyer (such sale).

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع کیا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو تھی ۔

Hadith 2195
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُبَاعَ ثَمَرَةُ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي حَتَّى تَحْمَرَّ‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of date fruits till they were ripe. Abu `Abdullah (Al-Bukhari) said, "That means till they were red (can be eaten).

Urdu

ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے درخت پر کھجور کو بیچنے سے منع فرمایا ہے ، ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ ( «حتى تزهو‏.‏» سے ) مراد یہ ہے کہ جب تک وہ پک کر سرخ نہ ہو جائیں ۔

Hadith 2196
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَا، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تُشَقِّحَ‏.‏ فَقِيلَ مَا تُشَقِّحُ قَالَ تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) forbade the s of (date) fruits till they were red or yellow and fit for eating.

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے سلیم بن حیان نے ، ان سے سعید بن مینا نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کا «تشقح‏.‏» سے پہلے بیچنے سے منع کیا تھا ۔ پوچھا گیا کہ «تشقح‏.‏» کسے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مائل بہ زردی یا مائل بہ سرخی ہونے کو کہتے ہیں کہ اسے کھایا جا سکے ( پھل کا پختہ ہونا مراد ہے ) ۔

Hadith 2197
Sahih
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا مُعَلًّى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، وَعَنِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ‏.‏ قِيلَ وَمَا يَزْهُو قَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) forbade the sale of fruits till their benefit is evident; and the sale of date palms till the dates are almost ripe. He was asked what 'are almost ripe' meant. He replied, "Got red and yellow."

Urdu

مجھ سے علی بن ہشیم نے بیان کیا کہ ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا ، ان سے ہشیم نے بیان کیا ، انہیں حمید نے خبر دی اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے اور کھجور کے باغ کو «زهو» سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ «زهو» کسے کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا مائل بہ سرخی یا مائل بہ زردی ہونے کو کہتے ہیں ۔

Hadith 2198
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ‏.‏ فَقِيلَ لَهُ وَمَا تُزْهِي قَالَ حَتَّى تَحْمَرَّ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ، بِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of fruits till they are almost ripe. He was asked what is meant by 'are almost ripe.' He replied, "Till they become red." Allah's Messenger (ﷺ) further said, "If Allah spoiled the fruits, what right would one have to take the money of one's brother (i.e. other people)?"

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں حمید نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو «زهو» سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ کہ «زهو» کسے کہتے ہیں تو جواب دیا کہ سرخ ہونے کو ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہی بتاؤ ، اللہ تعالیٰ کے حکم سے پھلوں پر کوئی آفت آ جائے ، تو تم اپنے بھائی کا مال آخر کس چیز کے بدلے لو گے ؟

Hadith 2199
Sahih
قَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً، ابْتَاعَ ثَمَرًا قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهُ، ثُمَّ أَصَابَتْهُ عَاهَةٌ، كَانَ مَا أَصَابَهُ عَلَى رَبِّهِ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، وَلاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn Shihab:

If somebody bought fruits before their benefit is evident and then the fruits were spoiled with blights, the loss would be suffered by the owner (not the buyer). Narrated Salim bin 'Abdullah from Ibn Umar رضی اللہ عنہما : Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not sell or buy fruits before their benefit was evident and do not sell fresh fruits (dates) for dried dates."

Urdu

لیث نے کہا کہ مجھے سے یونس نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ

ایک شخص نے اگر پختہ ہونے سے پہلے ہی ( درخت پر ) پھل خریدے ، پھر ان پر کوئی آفت آ گئی تو جتنا نقصان ہوا ، وہ سب اصل مالک کو بھرنا پڑے گا ۔ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی ، اور انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو نہ بیچو ، اور نہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں بیچو ۔

Hadith 2200
Sahih
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ ذَكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي السَّلَفِ، فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ‏.‏ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ، فَرَهَنَهُ دِرْعَهُ‏.‏
English

Narrated `Aamash:

We mention the practice of pledging something to get loan before Ibrahim Nakhi, he, whereupon, said: There is no harm in it. then he report from Hadrat Aisha through Aswad: The Prophet (ﷺ) bought some foodstuff from a Jew on credit and mortgaged his armor to him.

Urdu

ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ

ہم نے ابراہیم کے سامنے قرض میں گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ پھر ہم سے اسود کے واسطہ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقررہ مدت کے قرض پر ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے یہاں گروی رکھی تھی ۔

Hadith 2201, 2202
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ and Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) appointed somebody as a governor of Khaibar. That governor brought to him an excellent kind of dates (from Khaibar). The Prophet (ﷺ) asked, "Are all the dates of Khaibar like this?" He replied, "By Allah, no, O Allah's Messenger (ﷺ)! But we barter one Sa of this (type of dates) for two Sas of dates of ours and two Sas of it for three of ours." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not do so (as that is a kind of usury) but sell the mixed dates (of inferior quality) for money, and then buy good dates with that money."

Urdu

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے عبدالمجید بن سہل بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے سعید بن مسیب نے ، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں ایک شخص کو تحصیل دار بنایا ۔ وہ صاحب ایک عمدہ قسم کی کھجور لائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجور اسی طرح کی ہوتی ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں خدا کی قسم یا رسول اللہ ! ہم تو اسی طرح ایک صاع کھجور ( اس سے گھٹیا کھجوروں کے ) دو صاع دے کر خریدتے ہیں ۔ اور دو صاع تین صاع کے بدلے میں لیتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو ۔ البتہ گھٹیا کھجور کو پہلے بیچ کر ان پیسوں سے اچھی قسم کی کھجور خرید سکتے ہو ۔

Hadith 2203
Sahih
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُخْبِرُ عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّ أَيُّمَا، نَخْلٍ بِيعَتْ قَدْ أُبِّرَتْ لَمْ يُذْكَرِ الثَّمَرُ، فَالثَّمَرُ لِلَّذِي أَبَّرَهَا، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ وَالْحَرْثُ‏.‏ سَمَّى لَهُ نَافِعٌ هَؤُلاَءِ الثَّلاَثَ‏.‏
English

Narrated Nafi', the freed slave of Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما :

If pollinated date-palms are sold and nothing is mentioned (in the contract) about their fruits, the fruits will go to the person who has pollinated them, and so will be the case with the slave and the cultivator. Nafi' mentioned those three things.

Urdu

ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے کہا ، انہیں ہشام نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا ، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع سے خبر دیتے تھے کہ

جو بھی کھجور کا درخت پیوند لگانے کے بعد بیجا جائے اور بیچتے وقت پھلوں کا کوئی ذکر نہ ہوا ہو تو پھل اسی کے ہوں گے جس نے پیوند لگایا ہے ۔ غلام اور کھیت کا بھی یہی حال ہے ۔ نافع نے ان تینوں چیزوں کا نام لیا تھا ۔

Hadith 2204
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ، إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "If somebody sells pollinated date palms, the fruits will be for the seller unless the buyer stipulates that they will be for himself (and the seller agrees).

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی نے کھجور کے ایسے درخت بیچے ہوں جن کو پیوندی کیا جا چکا تھا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے ۔ البتہ اگر خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو ۔ ( کہ پھل سمیت سودا ہو رہا ہے تو پھل بھی خریدار کی ملکیت میں آ جائیں گے ) ۔

Hadith 2205
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلاً بِتَمْرٍ كَيْلاً، وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلاً أَوْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ، وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) forbade Al-Muzabana, i.e. to sell ungathered dates of one's garden for measured dried dates or fresh ungathered grapes for measured dried grapes; or standing crops for measured quantity of foodstuff. He forbade all such bargains.

Urdu

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ۔ یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں ناپ کر بیچا جائے ۔ اور اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے میں بیچا جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام قسموں کے لین دین سے منع فرمایا ہے ۔

Hadith 2206
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلاً ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا، فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ، إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "Whoever pollinates date palms and then sells them, the fruits will belong to him unless the buyer stipulates that the fruits should belong to him (and the seller agrees).

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بھی کسی کھجور کے درخت کو پیوندی بنایا ۔ پھر اس درخت ہی کو بیچ دیا تو ( اس موسم کا پھل ) اسی کا ہو گا جس نے پیوندی کیا ہے ، لیکن اگر خریدار نے پھلوں کی بھی شرط لگا دی ہے ( تو یہ امر دیگر ہے ) ۔

Hadith 2207
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَاضَرَةِ، وَالْمُلاَمَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) forbade Muhaqala, Mukhadara, Mulamasa, Munabadha and Muzabana. (See glossary and previous Hadiths for the meanings of these terms.)

Urdu

ہم سے اسحاق بن وہب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسحاق بن ابی طلحہ انصاری نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ، مخاضرہ ، ملامسہ ، منابذہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔

Hadith 2208
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ التَّمْرِ حَتَّى تَزْهُوَ‏.‏ فَقُلْنَا لأَنَسٍ مَا زَهْوُهَا قَالَ تَحْمَرُّ وَتَصْفَرُّ، أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيكَ
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

"The Prophet (ﷺ) forbade the selling of dates till they were almost ripe." We asked Anas, "What does 'almost ripe' mean?" He replied, "They get red and yellow. The Prophet (ﷺ) added, 'If Allah destroyed the fruits present on the trees, what right would the seller have to take the money of his brother (somebody else)?' "

Urdu

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کو «زهو‏.‏» سے پہلے ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ۔ ہم نے پوچھا کہ «زهو‏.‏» کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ پک کے سرخ ہو جائے یا زرد ہو جائے ۔ تم ہی بتاؤ کہ اگر اللہ کے حکم سے پھل نہ آ سکا تو تم کس چیز کے بدلے میں اپنے بھائی ( خریدار ) کا مال اپنے لیے حلال کرو گے ۔

Hadith 2209
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَأْكُلُ جُمَّارًا، فَقَالَ ‏"‏ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ كَالرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ ‏"‏‏.‏ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ هِيَ النَّخْلَةُ‏.‏ فَإِذَا أَنَا أَحْدَثُهُمْ قَالَ ‏"‏ هِيَ النَّخْلَةُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

I was with the Prophet (ﷺ) while he was eating fresh dates. He said, "From the trees there is a tree which resembles a faithful believer." I wanted to say that it was the date palm, but I was the youngest among them (so I kept quiet). He added, "It is the date palm."

Urdu

ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک سے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے ابوبشر نے ، ان سے مجاہد نے ، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کا گابھا کھا رہے تھے ۔ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت مرد مومن کی مثال ہے میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ کھجور کا درخت ہے ، لیکن حاضرین میں ، میں ہی سب سے چھوٹی عمر کا تھا ( اس لیے بطور ادب میں چپ رہا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔

Hadith 2210
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ حَجَمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبُو طَيْبَةَ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Abu Taiba cupped Allah's Messenger (ﷺ) and so Allah's Messenger (ﷺ) ordered that a Sa of dates be paid to him and ordered his masters (for he was a slave) to reduce his tax.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوطیبہ نے پچھنا لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک صاع کھجور ( مزدوری میں ) دینے کا حکم فرمایا ۔ اور اس کے مالکوں سے فرمایا کہ وہ اس کے خراج میں کچھ کمی کر دیں ۔

Hadith 2211
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ هِنْدٌ أُمُّ مُعَاوِيَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ سِرًّا قَالَ ‏ "‏ خُذِي أَنْتِ وَبَنُوكِ مَا يَكْفِيكِ بِالْمَعْرُوفِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Hadrat Hinda, the mother of Mu'awiya said to Allah's Messenger (ﷺ):

"Abu Sufyan (her husband) is a miser. Am I allowed to take from his money secretly?" The Prophet (ﷺ) said to her, "You and your sons may take what is sufficient reasonably and fairly."

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ حضرت ہندہ رضی اللہ عنہا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ

ابوسفیان بخیل آدمی ہے ۔ تو کیا اگر میں ان کے مال سے چھپا کر کچھ لے لیا کروں تو کوئی حرج ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے لیے اور اپنے بیٹوں کے لیے نیک نیتی کے ساتھ اتنا لے سکتی ہو جو تم سب کے لیے کافی ہو جایا کرے ۔

Hadith 2212
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ فَرْقَدٍ، قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ ‏{‏وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ‏}‏ أُنْزِلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ الَّذِي يُقِيمُ عَلَيْهِ، وَيُصْلِحُ فِي مَالِهِ، إِنْ كَانَ فَقِيرًا أَكَلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوفِ‏.‏
English

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

"The Holy Verse; 'Whoever amongst the guardians is rich, he should take no wages (from the property of the orphans) but If he is poor, let him have for himself what is just and reasonable (according to his labors)' (4.6) was revealed concerning the guardian of the orphans who looks after them and manages favorably their financial affairs; If the guardian Is poor, he could have from It what Is just and reasonable, (according to his labors).

Urdu

مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں ہشام نے خبر دی ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمد نے بیان کیا کہا کہ میں نے عثمان بن فرقد سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن عروہ سے سنا ، وہ اپنے باپ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ فرماتی تھیں کہ

( قرآن کی آیت ) «ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف‏» جو شخص مالدار ہو وہ ( اپنی زیر پرورش یتیم کا مال ہضم کرنے سے ) اپنے کو بچائے ۔ اور جو فقیر ہو وہ نیک نیتی کے ساتھ اس میں سے کھا لے ۔ “ یہ آیت یتیموں کے ان سر پرستوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جو ان کی اور ان کے مال کی نگرانی اور دیکھ بھال کرتے ہوں کہ اگر وہ فقیر ہیں تو ( اس خدمت کے عوض ) نیک نیتی کے ساتھ اس میں سے کھا سکتے ہیں ۔

Hadith 2213
Sahih
حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلاَ شُفْعَةَ‏.‏
English

Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) gave preemption (to the partner) in every joint property, but if the boundaries of the property were demarcated or the ways and streets were fixed, then there was no pre-emption.

Urdu

ہم سے محمود نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، انہیں معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفعہ کا حق ہر اس مال میں قرار دیا تھا جو تقسیم نہ ہوا ہو ، لیکن اس کی حد بندی ہو جائے اور راستے بھی پھیر دیئے جائیں تو اب شفعہ کا حق باقی نہیں رہا ۔

Hadith 2214
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَةَ. حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، بِهَذَا وَقَالَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ‏.‏ تَابَعَهُ هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي كُلِّ مَالٍ‏.‏ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) decided the validity of preemption in every joint undivided property, but if the boundaries were well marked or the ways and streets were fixed, then there was no pre-emption. Hadrat Abdul Wahid a Hadith told us: There is Pre-emotion right in every property that is not divided. Hisham corroborated him from Mamar. Abdur Razzaq said: In every property and it is reported by Abdur Rehman bin Ishaq from Zuhri.

Urdu

ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، ان سے معمر نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسے مال میں شفعہ کا حق قائم رکھا جو تقسیم نہ ہوا ہو ، لیکن جب اس کی حدود قائم ہو گئی ہوں اور راستہ بھی پھیر دیا گیا ہو تو اب شفعہ کا حق باقی نہیں رہا ۔ حضرت عبدالواحد نے ایک حدیث بیان کی ہے: ہر وہ جائیداد جو تقسیم نہ ہوئی ہو اس میں قبل از جذبات کا حق ہے۔ ہشام نے معمر سے اس کی تصدیق کی۔ عبدالرزاق نے کہا: ہر مال میں اور اسے عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے۔