Narrated `Abdullah bin Abu `Aufa رضی اللہ عنہ :
A man displayed some goods in the market and swore by Allah that he had been offered so much for that, that which was not offered, and he said so, so as to cheat a Muslim. On that occasion the following Verse was revealed: "Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths (They shall have no portion in the Hereafter ..etc.)' (3.77)
ہم سے عمرو بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عوام بن حوشب نے خبر دی ، انہیں ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ
بازار میں ایک شخص نے ایک سامان دکھا کر قسم کھائی کہ اس کی اتنی قیمت لگ چکی ہے ۔ حالانکہ اس کی اتنی قیمت نہیں لگی تھی اس قسم سے اس کا مقصد ایک مسلمان کو دھوکہ دینا تھا ۔ اس پر یہ آیت اتری «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ” جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلہ میں بیچتے ہیں ۔ “(ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے)"
Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :
I got an old she-camel as my share from the booty, and the Prophet (ﷺ) had given me another from Al- Khumus. And when I intended to marry Fatima رضی اللہ عنہا (daughter of the Prophet), I arranged that a goldsmith from the tribe of Bani Qainuqa' would accompany me in order to bring Idhkhir and then sell it to the goldsmiths and use its price for my marriage banquet.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں یونس نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
غنیمت کے مال میں سے میرے حصے میں ایک اونٹ آیا تھا اور ایک دوسرا اونٹ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” خمس “ میں سے دیا تھا ۔ پھر جب میرا ارادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کرا کے لانے کا ہوا تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر گھاس ( جمع کر کے ) لائیں کیونکہ میرا ارادہ تھا کہ اسے سناروں کے ہاتھ بیچ کر اپنی شادمی کے ولیمہ میں اس کی قیمت کو لگاؤں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah made Mecca a sanctuary and it was neither permitted for anyone before, nor will it be permitted for anyone after me (to fight in it). And fighting in it was made legal for me for a few hours of a day only. None is allowed to uproot its thorny shrubs or to cut down its trees or to chase its game or to pick up its Luqata (fallen things) except by a person who would announce it publicly." `Abbas bin `Abdul-Muttalib رضی اللہ عنہ requested the Prophet, "Except Al-Idhkhir, for our goldsmiths and for the roofs of our houses." The Prophet (ﷺ) said, "Except Al-Idhkhir." `Ikrima said, "Do you know what is meant by chasing its game? It is to drive it out of the shade and sit in its place." Khalid said, "(`Abbas said: Al-Idhkhir) for our goldsmiths and our graves."
ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، ، ان سے خالد نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت ولا شہر قرار دیا ہے ۔ یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا ۔ میرے لیے بھی ایک دن چند لمحات کے لیے حلال ہوا تھا ۔ سو اب اس کی نہ گھاس کاٹی جائے ، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں ، نہ اس کے شکار بھگائے جائیں ، اور نہ اس میں کوئی گری ہوئی چیز اٹھائی جائے ۔ صرف «معرف» ( یعنی گمشدہ چیز کو اصل مالک تک اعلان کے ذریعہ پہنچانے والے ) کو اس کی اجازت ہے ۔ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اذخر کے لیے اجازت دے دیجئیے ، کہ یہ ہمارے سناروں اور ہمارے گھروں کی چھتوں کے کام میں آتی ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر کی اجازت دے دی ۔ عکرمہ نے کہا ، یہ بھی معلوم ہے کہ حرم کے شکار کو بھگانے کا مطلب کیا ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ( کسی درخت کے سائے تلے اگر وہ بیٹھا ہوا ہو تو ) تم سائے سے اسے ہٹا کر خود وہاں بیٹھ جاؤ ۔ عبدالوہاب نے خالد سے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ ) بیان کئے کہ ( اذخر ) ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے کام میں آتی ہے ۔
Narrated Khabbab رضی اللہ عنہ :
I was a blacksmith in the Pre-Islamic period, and 'Asi bin Wail owed me some money, so I went to him to demand it. He said (to me), "I will not pay you unless you disbelieve Muhammad." I said, "I will not disbelieve till Allah kills you and then you get resurrected." He said, "Leave me till I die and get resurrected, then I will be given wealth and children and I will pay you your debt." On that occasion it was revealed to the Prophet: 'Have you seen him who disbelieved in Our signs and says: Surely I will be given wealth and children? Has he known the unseen, or has he taken a covenant from the Beneficent (Allah)? (19.77- 78)
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے سلیمان نے ، ان سے ابوالضحیٰ نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہ
جاہلیت کے زمانہ میں میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا ۔ عاص بن وائل ( کافر ) پر میرا کچھ قرض تھا میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا ۔ اس نے کہا کہ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا ۔ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے ، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے ، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں ، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے اس وقت میں بھی تمہارا قرض ادا کر دوں گا ۔ اس پر آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا * أطلع الغيب أم اتخذ عند الرحمن عهدا» ” کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا ( آخرت میں ) مجھے مال اور دولت دی جائے گی ، کیا اسے غیب کی خبر ہے ؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے ۔ “
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
"A tailor invited Allah's Messenger (ﷺ) to a meal which he had prepared. " Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said, "I accompanied Allah's Messenger (ﷺ) to that meal. He served the Prophet (ﷺ) with bread and soup made with gourd and dried meat. I saw the Prophet (ﷺ) taking the pieces of gourd from the dish." Anas added, "Since that day I have continued to like gourd."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے خبر دی ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ
ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا میں بھی اس دعوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا ۔ اس درزی نے روٹی اور شوربا جس میں کدو اور بھنا ہوا گوشت تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا ۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کدو کے قتلے پیالے میں تلاش کر رہے تھے ۔ اسی دن سے میں بھی برابر کدو کو پسند کرتا ہوں ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
"A woman brought a Burda (i.e. a square piece of cloth having edging). I asked, 'Do you know what a Burda is?' They replied in the affirmative and said, "It is a cloth sheet with woven margins." Sahl went on, "She addressed the Prophet (ﷺ) and said, 'I have woven it with my hands for you to wear.' The Prophet (ﷺ) took it as he was in need of it, and came to us wearing it as a waist sheet. One of us said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Give it to me to wear.' The Prophet (ﷺ) agreed to give it to him. The Prophet (ﷺ) sat with the people for a while and then returned (home), wrapped that waist sheet and sent it to him. The people said to that man, 'You haven't done well by asking him for it when you know that he never turns down anybody's request.' The man replied, 'By Allah, I have not asked him for it except to use it as my shroud when I die." Sahl رضی اللہ عنہ added; "Later it (i.e. that sheet) was his shroud."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے کہا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ
ایک عورت ” بردہ “ لے کر آئی ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے پوچھا ، تمہیں معلوم بھی ہے کہ ” بردہ “ کسے کہتے ہیں ۔ کہا گیا جی ہاں ! بردہ ، حاشیہ دار چادر کو کہتے ہیں ۔ تو اس عورت نے کہا ، یا رسول اللہ ! میں نے خاص آپ کو پہنانے کے لیے یہ چادر اپنے ہاتھ سے بنی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت بھی تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی چادر کو بطور ازار کے پہنے ہوئے تھے ، حاضرین میں سے ایک صاحب بولے ، یا رسول اللہ ! یہ تو مجھے دے دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا لے لینا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تھوڑی دیر تک بیٹھے رہے پھر واپس تشریف لے گئے پھر ازار کو تہ کر کے ان صاحب کے پاس بھجوا دیا ۔ لوگوں نے کہا تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ازار مانگ کر اچھا نہیں کیا کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سائل کے سوال کو رد نہیں کیا کرتے ہیں ۔ اس پر ان صحابی نے کہا کہ واللہ ! میں نے تو صرف اس لیے یہ چادر مانگی ہے کہ جب میں مروں تو یہ میرا کفن بنے ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ چادر ہی ان کا کفن بنی ۔
Narrated Abu Hazim:
Some men came to Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ to ask him about the pulpit. He replied, "Allah's Messenger (ﷺ) sent for a woman (Sahl named her) (this message): 'Order your slave carpenter to make pieces of wood (i.e. a pulpit) for me so that I may sit on it while addressing the people.' So, she ordered him to make it from the tamarisk of the forest. He brought it to her and she sent it to Allah's Messenger (ﷺ) . Allah's Messenger (ﷺ) ordered it to be placed in the mosque: so, it was put and he sat on it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ان سے ابوحازم نے بیان کیا کہ
کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے یہاں منبرنبوی کے متعلق پوچھنے آئے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کے یہاں جن کا نام بھی سہل رضی اللہ عنہ نے لیا تھا ، اپنا آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے کہیں کہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو جوڑ کر منبر تیار کر دے ، تاکہ لوگوں کو وعظ کرنے کے لیے میں اس پر بیٹھ جایا کروں ۔ چنانچہ اس عورت نے اپنے غلام سے غابہ کے جھاؤ کی لکڑی کا منبر بنانے کے لیے کہا ۔ پھر ( جب منبر تیار ہو گیا تو ) انہوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ۔ وہ منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ( مسجد میں ) رکھا گیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
An Ansari woman said to Allah's Messenger (ﷺ), "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I make something for you to sit on, as I have a slave who is a carpenter?" He replied, "If you wish." So, she got a pulpit made for him. When it was Friday the Prophet (ﷺ) sat on that pulpit. The date-palm stem near which the Prophet (ﷺ) used to deliver his sermons cried so much so that it was about to burst. The Prophet (ﷺ) came down from the pulpit to the stem and embraced it and it started groaning like a child being persuaded to stop crying and then it stopped crying. The Prophet (ﷺ) said,"It has cried because of (missing) what it use to hear of the religions knowledge."
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ
ایک انصاری عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز کیوں نہ بنوا دوں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے وقت بیٹھا کریں ۔ کیونکہ میرے پاس ایک غلام بڑھئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تمہاری مرضی ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس نے تیار کیا ۔ تو جمعہ کے دن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر بیٹھے تو اس کھجور کی لکڑی سے رونے کی آواز آنے لگی ۔ جس پر ٹیک دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خطبہ دیا کرتے تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پھٹ جائے گی ۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا ۔ اس وقت بھی وہ لکڑی اس چھوٹے بچے کی طرح سسکیاں بھر رہی تھی جسے چپ کرانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس کے بعد وہ چپ ہو گئی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ اس کے رونے کی وجہ یہ تھی کہ یہ لکڑی خطبہ سنا کرتی تھی اس لیے روئی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) bought food grains from a Jew on credit and mortgaged his armor to him.
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ادھار خریدا ۔ اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھوائی ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
I was with the Prophet (ﷺ) in a Ghazwa (Military Expedition) and my camel was slow and exhausted. The Prophet came up to me and said, "O Jabir." I replied, "Yes?" He said, "What is the matter with you?" I replied, "My camel is slow and tired, so I am left behind." So, he got down and poked the camel with his stick and then ordered me to ride. I rode the camel and it became so fast that I had to hold it from going ahead of Allah's Messenger (ﷺ) . He then asked me, have you got married?" I replied in the affirmative. He asked, "A virgin or a matron?" I replied, "I married a matron." The Prophet (ﷺ) said, "Why have you not married a virgin, so that you may play with her and she may play with you?" Jabir replied, "I have sisters (young in age) so I liked to marry a matron who could collect them all and comb their hair and look after them." The Prophet (ﷺ) said, "You will reach, so when you have arrived (at home), I advise you to associate with your wife (that you may have an intelligent son)." Then he asked me, "Would you like to sell your camel?" I replied in the affirmative and the Prophet (ﷺ) purchased it for one Uqiya of gold. Allah's Messenger (ﷺ) reached before me and I reached in the morning, and when I went to the mosque, I found him at the door of the mosque. He asked me, "Have you arrived just now?" I replied in the affirmative. He said, "Leave your camel and come into (the mosque) and pray two rak`at." I entered and offered the prayer. He told Bilal to weigh and give me one Uqiya of gold. So Bilal weighed for me fairly and I went away. The Prophet (ﷺ) sent for me and I thought that he would return to me my camel which I hated more than anything else. But the Prophet (ﷺ) said to me, "Take your camel as well as its price."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے وہب بن کیسان نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( ذات الرقاع یا تبوک ) میں تھا ۔ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا ۔ اتنے میں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا جابر ! میں نے عرض کیا ، حضور حاضر ہوں ۔ فرمایا کیا بات ہوئی ؟ میں نے کہا کہ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا ہے ، چلتا ہی نہیں اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں ۔ پھر آپ اپنی سواری سے اترے اور میرے اسی اونٹ کو ایک ٹیرھے منہ کی لکڑی سے کھینچنے لگے ( یعنی ہانکنے لگے ) اور فرمایا کہ اب سوار ہو جا ۔ چنانچہ میں سوار ہو گیا ۔ اب تو یہ حال ہوا کہ مجھے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پہنچنے سے روکنا پڑ جاتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، جابر تو نے شادی بھی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی جی ہاں ! دریافت فرمایا کسی کنواری لڑکی سے کی ہے یا بیوہ سے ۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو ایک بیوہ سے کر لی ہے ۔ فرمایا ، کسی کنواری لڑکی سے کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی ۔ ( حضرت جابر بھی کنورے تھے ) میں نے عرض کیا کہ میری کئی بہنیں ہیں ۔ ( اور میری ماں کا انتقال ہو چکا ہے ) اس لیے میں نے یہی پسند کیا کہ ایسی عورت سے شادی کروں ، جو انہیں جمع رکھے ۔ ان کے کنگھا کرے اور ان کی نگرانی کرے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اب تم گھر پہنچ کر خیر و عافیت کے ساتھ خوب مزے اڑانا ۔ اس کے بعد فرمایا ، کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ چاندی میں خرید لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گئے تھے ۔ اور میں دوسرے دن صبح کو پہنچا ۔ پھر ہم مسجد آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازہ پر ملے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کیا ابھی آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ! فرمایا ، پھر اپنا اونٹ چھوڑ دے اور مسجد میں جا کے دو رکعت نماز پڑھ ۔ میں اندر گیا اور نماز پڑھی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اوقیہ چاندی تول دے ۔ انہوں نے ایک اوقیہ چاندی جھکتی ہوئی تول دی ۔ میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جابر کو ذرا بلاؤ ۔ میں نے سوچا کہ شاید اب میرا اونٹ پھر مجھے واپس کریں گے ۔ حالانکہ اس سے زیادہ ناگوار میرے لیے کوئی چیز نہیں تھی ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ یہ اپنا اونٹ لے جا اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
`Ukaz, Majanna and Dhul-Majaz were markets in the Pre-Islamic period. When the people embraced Islam they considered it a sin to trade there. So, the following Holy Verse came:-- 'There is no harm for you if you seek of the bounty of your Lord (Allah) in the Hajj season." (2.198) Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما recited it like this.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
عکاظ ، مجنہ اور ذوالمجاز یہ سب زمانہ جاہلیت کے بازار تھے ۔ جب اسلام آیا تو لوگوں نے ان میں تجارت کو گناہ سمجھا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ليس عليكم جناح** في مواسم الحج» ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی طرح قرآت کی ہے ۔
Narrated `Amr:
Here (i.e. in Mecca) there was a man called Nawwas and he had camels suffering from the disease of excessive and unquenchable thirst. Ibn `Umar went to the partner of Nawwas and bought those camels. The man returned to Nawwas and told him that he had sold those camels. Nawwas asked him, "To whom have you sold them?" He replied, "To such and such Sheikh." Nawwas said, "Woe to you; By Allah, that Sheikh was Ibn `Umar رضی اللہ عنہما ." Nawwas then went to Ibn `Umar and said to him, "My partner sold you camels suffering from the disease of excessive thirst and he had not known you." Ibn `Umar told him to take them back. When Nawwas went to take them, Ibn `Umar رضی اللہ عنہما said to him, "Leave them there as I am happy with the decision of Allah's Messenger (ﷺ) that there is no oppression . " Sufyan heard from Amr.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے کہا
یہاں ( مکہ میں ) ایک شخص نواس نام کا تھا ۔ اس کے پاس ایک بیمار اونٹ تھا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گئے اور اس کے شریک سے وہی اونٹ خرید لائے ۔ وہ شخص آیا تو اس کے ساجھی نے کہا کہ ہم نے تو وہ اونٹ بیچ دیا ۔ اس نے پوچھا کہ کسے بیچا ؟ شریک نے کہا کہ ایک شیخ کے ہاتھوں جو اس طرح کے تھے ۔ اس نے کہا افسوس ! وہ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے ۔ چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے ساتھی نے آپ کو مریض اونٹ بیچ دیا ہے اور آپ سے اس نے اس کے مرض کی وضاحت بھی نہیں کی ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ پھر اسے واپس لے جاؤ ۔ بیان کیا کہ جب وہ اس کو لے جانے لگا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اچھا رہنے دو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہیں ( آپ نے فرمایا تھا کہ ) «لا عدوى.» ( یعنی امراض چھوت والے نہیں ہوتے ) علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ سفیان نے اس روایت کو عمرو سے سنا ۔
Narrated Abu Qatada رضی اللہ عنہ :
We set out with Allah's Messenger (ﷺ) in the year of Hunain, (the Prophet (ﷺ) gave me an armor). I sold that armor and bought a garden in the region of the tribe of Bani Salama and that was the first property I got after embracing Islam.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے امام مالک نے کہا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے کہا ، ان سے ابن افلح نے ، ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابومحمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ
ہم غزوہ حنین کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک زرہ تحفہ دی اور میں نے اسے بیچ دیا ۔ پھر میں نے اس کی قیمت سے قبیلہ بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا ۔ یہ پہلی جائیداد تھی جسے میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کیا ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The example of a good companion (who sits with you) in comparison with a bad one, is like that of the musk seller and the blacksmith's bellows (or furnace); from the first you would either buy musk or enjoy its good smell while the bellows would either burn your clothes or your house, or you get a bad nasty smell thereof."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوبردہ بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے سنا اور ان سے ان کے والد موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے ۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پا لو گے ۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے ۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پا لو گے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Abu Taiba رضی اللہ عنہ cupped Allah's Messenger (ﷺ) so he ordered that he be paid one Sa of dates and ordered his masters to reduce his tax (as he was a slave and had to pay a tax to them).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں حمید نے ، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ابوطیبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھنا لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور ( بطور اجرت ) انہیں دینے کے لیے حکم فرمایا ۔ اور ان کے مالک کو فرمایا کہ ان کے خراج میں کمی کر دیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Once the Prophet (ﷺ) got his blood out (medically) and paid that person who had done it. If it had been illegal, the Prophet (ﷺ) would not have paid him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد نے جو عبداللہ کے بیٹے ہیں بیان کیا ، ان سے خالد حذاء نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور جس نے پچھنا لگایا اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجرت بھی دی ، اگر اس کی اجرت حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ہرگز نہ دیتے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Once the Prophet (ﷺ) sent to `Umar رضی اللہ عنہ a silken two-piece garment, and when he saw `Umar wearing it, he said to him, "I have not sent it to you to wear. It is worn by him who has no share in the Hereafter, and I have sent it to you so that you could benefit by it (i.e. sell it).
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابوبکر بن حفص نے بیان کیا ، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان کے باپ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک ریشمی جبہ بھیجا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے ( ایک دن ) پہنے ہوئے ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اسے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے پہن لو ، اسے تو وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ میں نے تو اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے ( بیچ کر ) فائدہ اٹھاؤ ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا (mother of the faithful believers):
I bought a cushion with pictures on it. When Allah's Messenger (ﷺ) saw it, he kept standing at the door and did not enter the house. I noticed the sign of disgust on his face, so I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I repent to Allah and H is Apostle . (Please let me know) what sin I have done." Allah's Messenger (ﷺ) said, "What about this cushion?" I replied, "I bought it for you to sit and recline on." Allah's Messenger (ﷺ) said, "The painters (i.e. owners) of these pictures will be punished on the Day of Resurrection. It will be said to them, 'Put life in what you have created (i.e. painted).' " The Prophet (ﷺ) added, "The angels do not enter a house where there are pictures."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے ، انہیں قاسم بن محمد نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر مورتیں تھیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر جوں ہی اس پر پڑی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر ہی کھڑے ہو گئے اور اندر داخل نہیں ہوئے ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے تو عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگتی ہوں ، فرمائیے مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، یہ گدا کیسا ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نے یہ آپ ہی کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس سے ٹیک لگائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، لیکن اس طرح کی مورتیں بنانے والے لوگ قیامت کے دن عذاب کئے جائیں گے ۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے جس چیز کو بنایا اسے زندہ کر دکھاؤ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جن گھروں میں تصویریں ہوتی ہیں ( رحمت کے ) فرشتے ان میں داخل نہیں ہوتے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "O Bani Najjar! Suggest a price for your garden." Part of it was a ruin and it contained some date palms.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے ، ان سے ابوالتیاح نے ، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے بنو نجار ! اپنے باغ کی قیمت مقرر کر دو ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ کو مسجد کے لیے خریدنا چاہتے تھے ) اس باغ میں کچھ حصہ تو ویرانہ اور کچھ حصے میں کھجور کے درخت تھے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "The buyer and the seller have the option to cancel or confirm the bargain before they separate from each other or if the sale is optional." Nafi` said, "Ibn `Umar رضی اللہ عنہما used to separate quickly from the seller if he had bought a thing which he liked."
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عبدالوہاب نے خبر دی ، کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، کہا کہ میں نے نافع سے سنا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، خریدوفروخت کرنے والوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں اختیار ہوتا ہے ، یا خود بیع میں اختیار کی شرط ہو ۔ ( تو شرط کے مطابق اختیار ہوتا ہے ) نافع نے کہا کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کوئی ایسی چیز خریدتے جو انہیں پسند ہوتی تو ( خریدنے کے بعد ) اپنے معاملہ دار سے جدا ہو جاتے ۔