Back to Sahih Bukhari

Sales and Trade

كتاب البيوع

Chapter 35

Hadith 2215
Sahih
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ خَرَجَ ثَلاَثَةٌ يَمْشُونَ فَأَصَابَهُمُ الْمَطَرُ، فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِمْ صَخْرَةٌ‏.‏ قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ادْعُوا اللَّهَ بِأَفْضَلِ عَمَلٍ عَمِلْتُمُوهُ‏.‏ فَقَالَ أَحَدُهُمُ اللَّهُمَّ، إِنِّي كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَرْعَى، ثُمَّ أَجِيءُ فَأَحْلُبُ، فَأَجِيءُ بِالْحِلاَبِ فَآتِي بِهِ أَبَوَىَّ فَيَشْرَبَانِ، ثُمَّ أَسْقِي الصِّبْيَةَ وَأَهْلِي وَامْرَأَتِي، فَاحْتَبَسْتُ لَيْلَةً‏.‏ فَجِئْتُ فَإِذَا هُمَا نَائِمَانِ ـ قَالَ ـ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا، وَالصِّبِيْةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ رِجْلَىَّ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمَا، حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ‏.‏ قَالَ فَفُرِجَ عَنْهُمْ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أُحِبُّ امْرَأَةً مِنْ بَنَاتِ عَمِّي كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرَّجُلُ النِّسَاءَ، فَقَالَتْ لاَ تَنَالُ ذَلِكَ مِنْهَا حَتَّى تُعْطِيَهَا مِائَةَ دِينَارٍ‏.‏ فَسَعَيْتُ فِيهَا حَتَّى جَمَعْتُهَا، فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتِ اتَّقِ اللَّهَ، وَلاَ تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلاَّ بِحَقِّهِ‏.‏ فَقُمْتُ وَتَرَكْتُهَا، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فُرْجَةً، قَالَ فَفَرَجَ عَنْهُمُ الثُّلُثَيْنِ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقٍ مِنْ ذُرَةٍ فَأَعْطَيْتُهُ، وَأَبَى ذَاكَ أَنْ يَأْخُذَ، فَعَمَدْتُ إِلَى ذَلِكَ الْفَرَقِ، فَزَرَعْتُهُ حَتَّى اشْتَرَيْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَعْطِنِي حَقِّي‏.‏ فَقُلْتُ انْطَلِقْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرَاعِيهَا، فَإِنَّهَا لَكَ‏.‏ فَقَالَ أَتَسْتَهْزِئُ بِي‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ مَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ وَلَكِنَّهَا لَكَ‏.‏ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا‏.‏ فَكُشِفَ عَنْهُمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "While three persons were walking, rain began to fall and they had to enter a cave in a mountain. A big rock rolled over and blocked the mouth of the cave. They said to each other, 'Invoke Allah with the best deed you have performed (so Allah might remove the rock)'. One of them said, 'O Allah! My parents were old and I used to go out for grazing (my animals). On my return I would milk (the animals) and take the milk in a vessel to my parents to drink. After they had drunk from it, I would give it to my children, family and wife. One day I was delayed and on my return I found my parents sleeping, and I disliked to wake them up. The children were crying at my feet (because of hunger). That state of affairs continued till it was dawn. O Allah! If You regard that I did it for Your sake, then please remove this rock so that we may see the sky.' So, the rock was moved a bit. The second said, 'O Allah! You know that I was in love with a cousin of mine, like the deepest love a man may have for a woman, and she told me that I would not get my desire fulfilled unless I paid her one-hundred Dinars (gold pieces). So, I struggled for it till I gathered the desired amount, and when I sat in between her legs, she told me to be afraid of Allah, and asked me not to deflower her except rightfully (by marriage). So, I got up and left her. O Allah! If You regard that I did if for Your sake, kindly remove this rock.' So, two-thirds of the rock was removed. Then the third man said, 'O Allah! No doubt You know that once I employed a worker for one Faraq (three Sa's) of millet, and when I wanted to pay him, he refused to take it, so I sowed it and from its yield I bought cows and a shepherd. After a time that man came and demanded his money. I said to him: Go to those cows and the shepherd and take them for they are for you. He asked me whether I was joking with him. I told him that I was not joking with him, and all that belonged to him. O Allah! If You regard that I did it sincerely for Your sake, then please remove the rock.' So, the rock was removed completely from the mouth of the cave."

Urdu

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا کہا کہ ہم کو ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی ۔ انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی ۔ اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھکی ( اور اس غار کے منہ کو بند کر دیا جس میں یہ تینوں پناہ لیے ہوئے تھے ) اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو ، نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ۔ اس پر ان میں سے ایک نے یہ دعا کی ” اے اللہ ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے ۔ میں باہر لے جا کر اپنے مویشی چراتا تھا ۔ پھر جب شام کو واپس آتا تو ان کا دودھ نکالتا اور برتن میں پہلے اپنے والدین کو پیش کرتا ۔ جب میرے والدین پی چکتے تو پھر بچوں کو اور اپنی بیوی کو پلاتا ۔ اتفاق سے ایک رات واپسی میں دیر ہو گئی اور جب میں گھر لوٹا تو والدین سو چکے تھے ۔ اس نے کہا کہ پھر میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں بچے میرے قدموں میں بھوکے پڑے رو رہے تھے ۔ میں برابر دودھ کا پیالہ لیے والدین کے سامنے اسی طرح کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا ، تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹا کر اتنا راستہ تو بنا دے کہ ہم آسمان کو تو دیکھ سکیں “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ چنانچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا ۔ دوسرے شخص نے دعا کی ” اے اللہ ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی ایک مرد کو کسی عورت سے ہو سکتی ہے ۔ اس لڑکی نے کہا تم مجھ سے اپنی خواہش اس وقت تک پوری نہیں کر سکتے جب تک مجھے سو اشرفی نہ دے دو ۔ میں نے ان کے حاصل کرنے کی کوشش کی ، اور آخر اتنی اشرفی جمع کر لی ۔ پھر جب میں اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھا ۔ تو وہ بولی ، اللہ سے ڈر ، اور مہر کو ناجائز طریقے پر نہ توڑ ۔ اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا ۔ اب اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ عمل تیری ہی رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے ( نکلنے کا ) راستہ بنا دے “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ چنانچہ وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا ۔ تیسرے شخص نے دعا کی ” اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور سے ایک فرق جوار پر کام کرایا تھا ۔ جب میں نے اس کی مزدوری اسے دے دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا ۔ میں نے اس جوار کو لے کر بو دیا ( کھیتی جب کٹی تو اس میں اتنی جوار پیدا ہوئی کہ ) اس سے میں نے ایک بیل اور ایک چرواہا خرید لیا ۔ کچھ عرصہ بعد پھر اس نے آ کر مزدوری مانگی کہ خدا کے بندے مجھے میرا حق دیدے ۔ میں نے کہا کہ اس بیل اور اس کے چرواہے کے پاس جاؤ کہ یہ تمہارے ہی ملک ہیں ۔ اس نے کہا کہ مجھ سے مذاق کرتے ہو ۔ میں نے کہا ” میں مذاق نہیں کرتا “ واقعی یہ تمہارے ہی ہیں ۔ تو اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو یہاں ہمارے لیے ( اس چٹان کو ہٹا کر ) راستہ بنا دے ۔ چنانچہ وہ غار پورا کھل گیا اور وہ تینوں شخص باہر آ گئے ۔

Hadith 2216
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةً ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ بَلْ بَيْعٌ‏.‏ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً‏.‏
English

Narrated `Abdur-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ عنہما :

We were with the Prophet (ﷺ) when a tall pagan with long matted unkempt hair came driving his sheep. The Prophet (ﷺ) asked him, "Are those sheep for sale or for gifts?" The pagan replied, "They are for sale." The Prophet (ﷺ) bought one sheep from him.

Urdu

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے کہ ایک مسٹنڈا لمبے قد والا مشرک بکریاں ہانکتا ہوا آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ یہ بیچنے کے لیے ہیں یا عطیہ ہیں ؟ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ( یہ بیچنے کے لیے ہیں ) یا ہبہ کرنے کے لیے ؟ اس نے کہا کہ نہیں بلکہ بیچنے کے لیے ہیں ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خرید لی ۔

Hadith 2217
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ بِسَارَةَ، فَدَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ، أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيلَ دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ بِامْرَأَةٍ، هِيَ مِنْ أَحْسَنِ النِّسَاءِ‏.‏ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ، مَنْ هَذِهِ الَّتِي مَعَكَ قَالَ أُخْتِي‏.‏ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا، فَقَالَ لاَ تُكَذِّبِي حَدِيثِي فَإِنِّي أَخْبَرْتُهُمْ أَنَّكِ أُخْتِي، وَاللَّهِ إِنْ عَلَى الأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ‏.‏ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي فَقَالَتِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي، إِلاَّ عَلَى زَوْجِي فَلاَ تُسَلِّطْ عَلَىَّ الْكَافِرَ‏.‏ فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ الأَعْرَجُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَتِ اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ يُقَالُ هِيَ قَتَلَتْهُ‏.‏ فَأُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ تُصَلِّي، وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي، إِلاَّ عَلَى زَوْجِي، فَلاَ تُسَلِّطْ عَلَىَّ هَذَا الْكَافِرَ، فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَتِ اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ فَيُقَالُ هِيَ قَتَلَتْهُ، فَأُرْسِلَ فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَىَّ إِلاَّ شَيْطَانًا، ارْجِعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، وَأَعْطُوهَا آجَرَ‏.‏ فَرَجَعَتْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ فَقَالَتْ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ كَبَتَ الْكَافِرَ وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "The Prophet (ﷺ) Abraham emigrated with Sarah رضی اللہ عنہا and entered a village where there was a king or a tyrant. (The king) was told that Abraham had entered (the village) accompanied by a woman who was one of the most charming women. So, the king sent for Abraham and asked, 'O Abraham! Who is this lady accompanying you?' Abraham replied, 'She is my sister (i.e. in religion).' Then Abraham returned to her and said, 'Do not contradict my statement, for I have informed them that you are my sister. By Allah, there are no true believers on this land except you and 1.' Then Abraham sent her to the king. When the king got to her, she got up and performed ablution, prayed and said, 'O Allah! If I have believed in You and Your Apostle, and have saved my private parts from everybody except my husband, then please do not let this pagan overpower me.' On that the king fell in a mood of agitation and started moving his legs. Seeing the condition of the king, Sarah رضی اللہ عنہا said, 'O Allah! If he should die, the people will say that I have killed him.' The king regained his power, and proceeded towards her but she got up again and performed ablution, prayed and said, 'O Allah! If I have believed in You and Your Apostle and have kept my private parts safe from all except my husband, then please do not let this pagan overpower me.' The king again fell in a mood of agitation and started moving his legs. On seeing that state of the king, Sarah رضی اللہ عنہا said, 'O Allah! If he should die, the people will say that I have killed him.' The king got either two or three attacks, and after recovering from the last attack he said, 'By Allah! You have sent a satan to me. Take her to Abraham and give her Ajar.' So she came back to Abraham and said, 'Allah humiliated the pagan and gave us a slave-girl for service."

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ابراہیم علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ( نمرود کے ملک سے ) ہجرت کی تو ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک بادشاہ رہتا تھا یا ( یہ فرمایا کہ ) ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا ۔ اس سے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کسی نے کہہ دیا کہ وہ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت لے کر یہاں آئے ہیں ۔ بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے پچھوا بھیجا کہ ابراہیم ! یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہے تمہاری کیا ہوتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہے ۔ پھر جب ابراہیم علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے تو ان سے کہا کہ میری بات نہ جھٹلانا ، میں تمہیں اپنی بہن کہہ آیا ہوں ۔ خدا کی قسم ! آج روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے ۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کو بادشاہ کے یہاں بھیجا ، یا بادشاہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ۔ اس وقت حضرت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑی ہو گئی تھیں ۔ انہوں نے اللہ کے حضور میں یہ دعا کی کہ ” اے اللہ ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول ( ابراہیم علیہ السلام ) پر ایمان رکھتی ہوں اور اگر میں نے اپنے شوہر کے سوا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے ، تو تو مجھ پر ایک کافر کو مسلط نہ کر ۔ “ اتنے میں بادشاہ تھرایا اور اس کا پاؤں زمین میں دھنس گیا ۔ اعرج نے کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ اے اللہ ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے ۔ چنانچہ وہ پھر چھوٹ گیا اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا ۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے پھر نماز پڑھنے لگی تھیں اور یہ دعا کرتی جاتی تھیں ” اے اللہ ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر ( حضرت ابراہیم علیہ السلام ) کے سوا اور ہر موقع پر میں نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر ۔ “ چنانچہ وہ پھر تھرایا ، کانپا اور اس کے پاؤس زمین میں دھنس گئے ۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ابوسلمہ نے بیان کیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی دعا کی کہ ” اے اللہ ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے ۔ “ اب دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ بھی وہ بادشاہ چھوڑ دیا گیا ۔ آخر وہ کہنے لگا کہ تم لوگوں نے میرے یہاں ایک شیطان بھیج دیا ۔ اسے ابراہیم ( علیہ السلام ) کے پاس لے جاؤ اور انہیں آجر ( حضرت ہاجرہ ) کو بھی دے دو ۔ پھر حضرت سارہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ دیکھتے نہیں اللہ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ساتھ میں ایک لڑکی بھی دلوا دی ۔

Hadith 2218
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلاَمٍ، فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلَىَّ أَنَّهُ ابْنُهُ، انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ‏.‏ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ ‏ "‏ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ ‏"‏‏.‏ فَلَمْ تَرَهُ سَوْدَةُ قَطُّ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Sa`d bin Abi Waqqas and 'Abu bin Zam`a رضی اللہ عنہ quarreled over a boy. Sa`d رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This boy is the son of my brother (`Utba bin Abi Waqqas) who took a promise from me that I would take him as he was his (illegal) son. Look at him and see whom he resembles." 'Abu bin Zam`a said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This is my brother and was born on my father's bed from his slave-girl." Allah's Apostle cast a look at the boy and found definite resemblance to `Utba and then said, "The boy is for you, O 'Abu bin Zam`a. The child goes to the owner of the bed and the adulterer gets nothing but the stones (despair, i.e. to be stoned to death). Then the Prophet (ﷺ) said, "O Sauda bint Zama رضی اللہ عنہ! Screen yourself from this boy." So, Sauda رضی اللہ عنہ never saw him again.

Urdu

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ، کہ

سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کا ایک بچے کے بارے میں جھگڑا ہوا ۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے ۔ اس نے وصیت کی تھی کہ یہ اب اس کا بیٹا ہے ۔ آپ خود میرے بھائی سے اس کی مشابہت دیکھ لیں ۔ لیکن عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو میرا بھائی ہے ۔ میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے ۔ اور اس کی باندی کے پیٹ کا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کی صورت دیکھی تو صاف عتبہ سے ملتی تھی ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کے اے عبد ! یہ بچہ تیرے ہی ساتھ رہے گا ، کیونکہ بچہ فراش کے تابع ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں صرف پتھر ہے اور اے سودہ بنت زمعہ ! اس لڑکے سے تو پردہ کیا کر ، چنانچہ سودہ رضی اللہ عنہا نے پھر اسے کبھی نہیں دیکھا ۔

Hadith 2219
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ لِصُهَيْبٍ اتَّقِ اللَّهَ وَلاَ تَدَّعِ إِلَى غَيْرِ أَبِيكَ‏.‏ فَقَالَ صُهَيْبٌ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا، وَأَنِّي قُلْتُ ذَلِكَ، وَلَكِنِّي سُرِقْتُ وَأَنَا صَبِيٌّ‏.‏
English

Narrated `Abdur-Rahman bin `Auf said to Suhaib رضی اللہ عنہ :

'Fear Allah and do not ascribe yourself to somebody other than your father.' Suhaib replied, 'I would not like to say it even if I were given large amounts of money, but I say I was kidnapped in my childhood.' "

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا ،

اللہ سے ڈر اور اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا نہ بن ۔ صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر مجھے اتنی اتنی دولت بھی مل جائے تو بھی میں یہ کہنا پسند نہیں کرتا ۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ میں تو بچپن ہی میں چرا لیا گیا تھا ۔

Hadith 2220
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ ـ أَوْ أَتَحَنَّتُ بِهَا ـ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صِلَةٍ وَعَتَاقَةٍ وَصَدَقَةٍ، هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ قَالَ حَكِيمٌ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Hakim bin Hizam رضی اللہ عنہ :

"O Allah's Messenger (ﷺ)! I used to do good deeds in the Pre-Islamic period of Ignorance, e.g., keeping good relations with my Kith and kin, manumitting slaves and giving alms. Shall I receive a reward for all that?" Hadrat Hakeem رضی اللہ عنہ said that Allah's Messenger (ﷺ) replied, "You embraced Islam with all the good deeds which you did in the past."

Urdu

ہم سے ابوالولیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی انہیں حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ان نیک کاموں کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے ، جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صلہ رحمی ، غلام آزاد کرنے اور صدقہ دینے کے سلسلہ میں کیا کرتا تھا کیا ان اعمال کا بھی مجھے ثواب ملے گا ؟ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنی نیکیاں تم پہلے کر چکے ہو ان سب کے ساتھ اسلام لائے ہو ۔

Hadith 2221
Sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ فَقَالَ ‏"‏ هَلاَّ اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ‏"‏‏.‏ قَالُوا إِنَّهَا مَيِّتَةٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما :

Once Allah's Messenger (ﷺ) passed by a dead sheep and said to the people, "Wouldn't you benefit by its skin?" The people replied that it was dead. The Prophet (ﷺ) said, "But its eating only is illegal."

Urdu

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ، ان سے صالح نے بیان کیا ، کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردہ بکری پر ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے چمڑے سے تم لوگوں نے کیوں نہیں فائدہ اٹھایا ؟ صحابہ نے عرض کیا ، کہ وہ تو مردار ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مردار کا صرف کھانا منع ہے ۔

Hadith 2222
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لاَ يَقْبَلَهُ أَحَدٌ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is, son of Mary (Jesus) will shortly descend amongst you people (Muslims) as a just ruler and will break the Cross and kill the pig and abolish the Jizya (a tax taken from the non-Muslims, who are in the protection, of the Muslim government). Then there will be abundance of money and nobody will accept charitable gifts.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابن مسیب نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، وہ زمانہ آنے والا ہے جب ابن مریم ( عیسیٰ علیہ السلام ) تم میں ایک عادل اور منصف حاکم کی حیثیت سے اتریں گے ۔ وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے ، سوروں کو مار ڈالیں گے اور جزیہ کو ختم کر دیں گے ۔ اس وقت مال کی اتنی زیادتی ہو گی کہ کوئی لینے والا نہ رہے گا ۔

Hadith 2223
Sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ فُلاَنًا بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ قَاتَلَ اللَّهُ فُلاَنًا، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

Once `Umar رضی اللہ عنہ was informed that a certain man sold alcohol. `Umar said, "May Allah curse him! Doesn't he know that Allah's Messenger (ﷺ) said, 'May Allah curse the Jews, for Allah had forbidden them to eat the fat of animals but they melted it and sold it."

Urdu

ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے طاؤس نے خبر دی ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ فرماتے تھے کہ

عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے ، تو آپ نے فرمایا کہ اسے اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کر دے ۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ چربی ان پر حرام کی گئی تھی لیکن ان لوگوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا ۔

Hadith 2224
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَاتَلَ اللَّهُ يَهُودًا حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ قَاتَلَهُمْ اللَّهُ لَعَنَهُمْ قُتِلَ لُعِنَ الْخَرَّاصُونَ الْكَذَّابُونَ
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah curse the Jews, because Allah made fat illegal for them but they sold it and ate its price. "

Urdu

ہم سے عبدان نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ یہودیوں کو تباہ کرے ، ظالموں پر چربی حرام کر دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھائی ۔

Hadith 2225
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّي إِنْسَانٌ، إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ‏.‏ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لاَ أُحَدِّثُكَ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ، حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا ‏"‏‏.‏ فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ‏.‏ فَقَالَ وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلاَّ أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ، كُلِّ شَىْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ سَمِعَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ مِنَ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ هَذَا الْوَاحِدَ‏.‏
English

Narrated Sa`id bin Abu Al-Hasan:

While I was with Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما a man came and said, "O father of `Abbas! My sustenance is from my manual profession and I make these pictures." Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "I will tell you only what I heard from Allah's Messenger (ﷺ) . I heard him saying, 'Whoever makes a picture will be punished by Allah till he puts life in it, and he will never be able to put life in it.' " Hearing this, that man heaved a sigh and his face turned pale. Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said to him, "What a pity! If you insist on making pictures I advise you to make pictures of trees and any other unanimated objects." Imam Abu Abdullah Bukhari said: Once Saeed bin Abu Aroubah heard from Nadr bin Anas.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، انہیں عوف بن ابی حمید نے خبر دی ، انہیں سعید بن ابی حسن نے ، کہا کہ

میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا ، اور کہا کہ اے ابوعباس ! میں ان لوگوں میں سے ہوں ، جن کی روزی اپنے ہاتھ کی صنعت پر موقوف ہے اور میں یہ مورتیں بناتا ہوں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس پر فرمایا کہ میں تمہیں صرف وہی بات بتلاؤں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے بھی کوئی مورت بنائی تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک عذاب کرتا رہے گا جب تک وہ شخص اپنی مورت میں جان نہ ڈال دے اور وہ کبھی اس میں جان نہیں ڈال سکتا ( یہ سن کر ) اس شخص کا سانس چڑھ گیا اور چہرہ زرد پڑ گیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ افسوس ! اگر تم مورتیں بنانی ہی چاہتے ہو تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی جس میں جان نہیں ہے مورتیں بنا سکتے ہو ۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس سے صرف یہی ایک حدیث سنی ہے ۔

Hadith 2226
Sahih
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ لَمَّا نَزَلَتْ آيَاتُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ عَنْ آخِرِهَا خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ حُرِّمَتِ التِّجَارَةُ فِي الْخَمْرِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

When the last verses of Surat-al-Baqara were revealed, the Prophet (ﷺ) went out (of his house to the Mosque) and said, "The trade of alcohol has become illegal."

Urdu

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابوضحی نے ، ان سے مسروق نے ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

جب سورۃ البقرہ کی تمام آیتیں نازل ہو چکیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ شراب کی سوداگری حرام قرار دی گئی ہے ۔

Hadith 2227
Sahih
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ ثَلاَثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ، وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Allah says, 'I will be against three persons on the Day of Resurrection: -1. One who makes a covenant in My Name, but he proves treacherous. -2. One who sells a free person (as a slave) and eats the price, -3. And one who employs a laborer and gets the full work done by him but does not pay him his wages.' "

Urdu

مجھ سے بشر بن مرحوم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن امیہ نے ، ان سے سعید بن ابی سعید نے ، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تین طرح کے لوگ ایسے ہوں گے جن کا قیامت کے دن میں مدعی بنوں گا ، ایک وہ شخص جس نے میرے نام پر عہد کیا اور وہ توڑ دیا ، وہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور وہ شخص جس نے کوئی مزدور اجرت پر رکھا ، اس سے پوری طرح کام لیا ، لیکن اس کی مزدوری نہیں دی ۔

Hadith 2228
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ فِي السَّبْىِ صَفِيَّةُ، فَصَارَتْ إِلَى دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

Amongst the captives was Safiya رضی اللہ عنہا . First she was given to Dihya Al-Kalbi and then to the Prophet.

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

قیدیوں میں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں ۔ پہلے تو وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو ملیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آئیں ۔

Hadith 2229
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ـ رضى الله عنه ـ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا، فَنُحِبُّ الأَثْمَانَ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ فَقَالَ ‏ "‏ أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلاَّ هِيَ خَارِجَةٌ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

While he was sitting with Allah's Messenger (ﷺ) he said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We get female captives as our share of booty, and we are interested in their prices, what is your opinion about coitus interrupt us?" The Prophet (ﷺ) said, "Do you really do that? It is better for you not to do it. No soul that which Allah has destined to exist, but will surely come into existence.

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہیر نے بیان کیا کہ مجھے ابن محیریز نے خبر دی اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، کہ

وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ۔ ( ایک انصاری صحابی نے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! لڑائی میں ہم لونڈیوں کے پاس جماع کے لیے جاتے ہیں ۔ ہمارا ارادہ انہیں بیچنے کا بھی ہوتا ہے ۔ تو آپ عزل کر لینے کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا تم لوگ ایسا کرتے ہو ؟ اگر تم ایسا نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں ۔ اس لیے کہ جس روح کی بھی پیدائش اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھ دی ہے وہ پیدا ہو کر ہی رہے گی ۔

Hadith 2230
Sahih
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَاعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمُدَبَّرَ‏.‏
English

Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) sold a Mudabbar (on behalf of his master who was still living and in need of money).

Urdu

ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے سلمہ بن کہیل نے ، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام بیچا تھا ۔

Hadith 2231
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ بَاعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) sold a Mudabbar.

Urdu

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عمرو نے ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا تھا کہ

مدبر غلام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیچا تھا ۔

Hadith 2232, 2233
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ رضى الله عنهما أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا، سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُسْأَلُ عَنِ الأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ قَالَ ‏ "‏ اجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Zaid bin Khalid and Abu Huraira رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) was asked about an unmarried slave-girl who committed illegal sexual intercourse. They heard him saying, "Flog her, and if she commits illegal sexual intercourse after that, flog her again, and on the third (or the fourth) offense, sell her."

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے صالح نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں عبیداللہ نے خبر دی ، انہیں زید بن خالد اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ

ان دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ سے غیر شادی شدہ باندی کے متعلق جو زنا کر لے سوال کیا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کوڑے لگاؤ ، پھر اگر وہ زنا کر لے تو اسے کوڑے لگاؤ ۔ اور پھر اسے بیچ دو ۔ ( آخری جملہ آپ نے ) تیسری یا چوتھی مرتبہ کے بعد ( فرمایا تھا ) ۔

Hadith 2234
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ، فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ، وَلاَ يُثَرِّبْ عَلَيْهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلاَ يُثَرِّبْ، ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

I heard the Prophet (ﷺ) saying, "If a slave-girl of yours commits illegal sexual intercourse and her illegal sexual intercourse is proved, she should be lashed, and after that nobody should blame her, and if she commits illegal sexual intercourse the second time, she should be lashed and nobody should blame her after that, and if she does the offense for the third time and her illegal sexual intercourse is proved, she should be sold even for a hair rope."

Urdu

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے لیث نے خبر دی ، انہیں سعید نے ، انہیں ان کے والد نے ، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے خود سنا ہے کہ جب کوئی باندی زنا کرائے اور وہ ثابت ہو جائے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے ، البتہ اسے لعنت ملامت نہ کی جائے ۔ پھر اگر وہ زنا کرائے تو اس پر اس مرتبہ بھی حد جاری کی جائے ، لیکن کسی قسم کی لعنت ملامت نہ کی جائے ۔ تیسری مرتبہ بھی اگر زنا کرے اور زنا ثابت ہو جائے تو اسے بیچ ڈالے خواہ بال کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو ۔

Hadith 2235
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا، وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا، حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ ‏"‏‏.‏ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ، حَتَّى تَرْكَبَ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) came to Khaibar and when Allah made him victorious and he conquered the town by breaking the enemy's defense, the beauty of Safiya bint Huyai bin Akhtab رضی اللہ عنہا was mentioned to him and her husband had been killed while she was a bride. Allah's Messenger (ﷺ) selected her for himself and he set out in her company till he reached Sadd-ar-Rawha' where her menses were over and he married her. Then Hais (a kind of meal) was prepared and served on a small leather sheet (used for serving meals). Allah's Messenger (ﷺ) then said to me, "Inform those who are around you (about the wedding banquet)." So that was the marriage banquet given by Allah's Messenger (ﷺ) for (his marriage with) Safiya رضی اللہ عنہا . After that we proceeded to Medina and I saw that Allah's Messenger (ﷺ) was covering her with a cloak while she was behind him. Then he would sit beside his camel and let Safiya رضی اللہ عنہا put her feet on his knees to ride (the camel).

Urdu

ہم سے عبدالغفار بن داؤد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے حسن کی تعریف کی گئی ۔ ان کا شوہر قتل ہو گیا تھا ۔ وہ خود ابھی دلہن تھیں ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لیے پسند کر لیا ۔ پھر روانگی ہوئی ۔ جب آپ سد الروحاء پہنچے تو پڑاؤ ہوا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں ان کے ساتھ خلوت کی ۔ پھر ایک چھوٹے دستر خوان پر حیس تیار کر کے رکھوایا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے قریب کے لوگوں کو ولیمہ کی خبر کر دو ۔ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا یہی ولیمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔ پھر جب ہم مدینہ کی طرف چلے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباء سے صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے پردہ کرایا ۔ اور اپنے اونٹ کو پاس بٹھا کر اپنا ٹخنہ بچھا دیا ۔ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹخنے پر رکھ کر سوار ہو گئیں ۔