Narrated `Abdullah bin Mas`ud رضی اللہ عنہ :
Whoever buys a sheep which has not been milked for a long time, has the option of returning it along with one Sa of dates; and the Prophet (ﷺ) forbade going to meet the seller on the way (as he has no knowledge of the market price and he may sell his goods at a low price).
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے معمتر نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ ہم سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
جو شخص «مصراة» بکری خریدے اور اسے واپس کرنا چاہے تو ( اصل مالک کو ) اس کے ساتھ ایک صاع بھی دے ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے ( جو مال بیچنے لائیں ) آگے بڑھ کر خریدنے سے منع فرمایا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not go forward to meet the caravan (to buy from it on the way before it reaches the town). And do not urge buyers to cancel their purchases to sell them (your own goods) yourselves, and do not practice Najsh. A town dweller should not sell the goods for the desert dweller. Do not leave sheep unmilked for a long time, when they are on sale, and whoever buys such an animal has the option of returning it, after milking it, along with a Sa of dates or keeping it. it has been kept unmilked for a long period by the seller (to deceive others).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوالزناد نے ، انہیں اعرج نے ، اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں کی پیشوائی ( ان کا سامان شہر پہنچے سے پہلے ہی خرید لینے کی غرض سے ) نہ کرو ۔ ایک شخص کسی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور کوئی «نجش» (دھوکہ فریب ) نہ کرے اور کوئی شہری ، بدوی کا مال نہ بیچے اور بکری کے تھن میں دودھ نہ روکے ۔ لیکن اگر کوئی اس ( آخری ) صورت میں جانور خرید لے تو اسے دوہنے کے بعد دونوں طرح کے اختیارات ہیں ۔ اگر وہ اس بیع پر راضی ہے تو جانور کو روک سکتا ہے اور اگر وہ راضی نہیں تو ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دے کر اسے واپس کر دے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever buys a sheep which has been kept unmilked for a long period, and milks it, can keep it if he is satisfied, and if he is not satisfied, he can return it, but he should pay one Sa of dates for the milk."
ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے زیادنے خبر دی کہ عبدالرحمٰن بن زید کے غلام ثابت نے انہیں خبر دی ، کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے «مصراة» بکری خریدی اور اسے دوہا ۔ تو اگر وہ اس معاملہ پر راضی ہے تو اسے اپنے لیے روک لے اور اگر راضی نہیں ہے تو ( واپس کر دے اور ) اس کے دودھ کے بدلے میں ایک صاع کھجور دیدے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If a slave-girl commits illegal sexual intercourse and it is proved beyond doubt, then her owner should lash her and should not blame her after the legal punishment. And then if she repeats the illegal sexual intercourse he should lash her again and should not blame her after the legal punishment, and if she commits it a third time, then he should sell her even for a hair rope."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے سعید مقبری نے خبر دی ، ان سے ان کے باپ نے ، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی باندی زنا کرے اور اس کے زنا کا ثبوت ( شرعی ) مل جائے تو اسے کوڑے لگوائے ، پھر اس کی لعنت ملامت نہ کرے ۔ اس کے بعد اگر پھر وہ زنا کرے تو پھر کوڑے لگوائے مگر پھر لعنت ملامت نہ کرے ۔ پھر اگر تیسری مرتبہ بھی زنا کرے تو اسے بیچ دے چاہے بال کی ایک رسی کے بدلہ ہی میں کیوں نہ ہو ۔
Narrated Abu Huraira and Zaid bin Khalid رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) was asked about the slave-girl, if she was a virgin and committed illegal sexual intercourse. The Prophet (ﷺ) said, "If she committed illegal sexual intercourse, lash her, and if she did it a second time, then lash her again, and if she repeated the third time, then sell her even for a hair rope." Ibn Shihab said, "I don't know whether to sell her after the third or fourth offense."
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی غیر شادی شدہ باندی زنا کرے ( تو اس کا کیا حکم ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کوڑے لگاؤ ۔ اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے لگاؤ ۔ پھر بھی اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو ، اگرچہ ایک رسی ہی کے بدلے میں وہ فروخت ہو ۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ ( بیچنے کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا تھا یا چوتھی مرتبہ ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) came to me and I told him about the slave-girl (Buraira رضی اللہ عنہا) Allah's Messenger (ﷺ) said, "Buy and manumit her, for the Wala is for the one who manumits." In the evening the Prophet (ﷺ) got up and glorified Allah as He deserved and then said, "Why do some people impose conditions which are not present in Allah's Book (Laws)? Whoever imposes such a condition as is not in Allah's Laws, then that condition is invalid even if he imposes one hundred conditions, for Allah's conditions are more binding and reliable."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہمیں شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بریرہ رضی اللہ عنہا کے خریدنے کا ) ذکر کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم خرید کر آزاد کر دو ۔ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ( خریدوفروخت میں ) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل کتاب اللہ میں نہیں ہے جو شخص بھی کوئی ایسی شرط لگائے گا جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو وہ شرط باطل ہو گی ۔ خواہ سو شرطیں ہی کیوں نہ لگا لے کیونکہ اللہ ہی کی شرط حق اور مضبوط ہے ( اور اسی کا اعتبار ہے ) ۔ “
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Aisha رضی اللہ عنہا wanted to buy Buraira رضی اللہ عنہا and he (the Prophet (ﷺ) ) went out for the prayer. When he returned, she told him that they (her masters) refused to sell her except on the condition that her Wala' would go to them. The Prophet (ﷺ) replied, 'The Wala' would go to him who manumits.' " Hammam asked Nafi` whether her (Buraira's) husband was a free man or a slave. He replied that he did not know.
ہم سے حسان بن ابی عباد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے نافع سے سنا ، وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، بریرہ رضی اللہ عنہا کی ( جو باندی تھیں ) قیمیت لگا رہی تھیں ( تاکہ انہیں خرید کر آزاد کر دیں ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے ( مسجد میں ) تشریف لے گئے ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ( بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں نے تو ) اپنے لیے ولاء کی شرط کے بغیر انہیں بیچنے سے انکار کر دیا ہے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے ۔ میں نے نافع سے پوچھا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر آزاد تھے یا غلام ، تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں ۔
Narrated Jarir رضی اللہ عنہ :
I have given a pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) for to testify that None has the right to be worshipped but Allah, and Muhammad is His Apostle, to offer prayers perfectly, to pay Zakat, to listen to and obey (Allah's and His Prophet's orders), and to give good advice to every Muslim.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے اسماعیل نے ، ان سے قیس نے ، انہوں نے جریر رضی اللہ عنہ سے یہ سنا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شہادت پر کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے اور ( اپنے مقررہ امیر کی بات ) سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
"Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Do not go to meet the caravans on the way (for buying their goods without letting them know the market price); a town dweller should not sell the goods of a desert dweller on behalf of the latter.' I asked Ibn `Abbas, 'What does he mean by not selling the goods of a desert dweller by a town dweller?' He said, 'He should not become his broker.' "
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے ، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو ( ان کو منڈی میں آنے دو ) اور کوئی شہری ، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے ، انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ” کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے “ کا مطلب کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) forbade the selling of the goods of a desert dweller by a town person. And the same in the saying of Hadrat Ibn-e- Abbas رضی اللہ عنہما .
مجھ سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوعلی حنفی نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری ، کسی دیہاتی کا مال بیچے ۔ یہی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی کہا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "A buyer should not urge a seller to restore a purchase so as to buy it himself, and do not practice Najsh; and a town dweller should not sell goods of a desert dweller."
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں سعید بن مسیب نے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے مول پر مول نہ کرے اور کوئی «نجش» (دھوکہ ، فریب ) نہ کرے ، اور نہ کوئی شہری ، کسی دیہاتی کے لیے بیچے یا مول لے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
We were forbidden that a town dweller should sell goods of a desert dweller.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہمیں اس سے روکا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت بیچے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) forbade the meeting (of caravans) on the way and the selling of goods by an inhabitant of the town on behalf of a desert dweller.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تجارتی قافلوں سے ) آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا ہے اور بستی والوں کو باہر والوں کا مال بیچنے سے بھی منع فرمایا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
"What is the meaning of, 'No town dweller should sell (or buy) for a desert dweller'?" Ibn `Abbas said, "It means he should not become his broker."
مجھ سے عیاش بن عبدالولید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا ، ان سے ابن طاؤس نے ، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مطلب کیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے ؟ تو انہوں نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
Whoever buys an animal which has been kept unmilked for a long time, could return it, but has to pay a Sa of dates along with it. And the Prophet (ﷺ) forbade meeting the owners of goods on the way away from the market.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہ ہم سے تیمی نے بیان کیا ، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جو کوئی دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدے ( وہ بکری پھیر دے ) اور اس کے ساتھ ایک صاع دیدے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ والوں سے آگے بڑھ کر ملنے سے منع فرمایا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "You should not try to cancel the purchases of one another (to get a benefit thereof), and do not go ahead to meet the caravan (for buying the goods) (but wait) till it reaches the market."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور جو مال باہر سے آ رہا ہو اس سے آگے جا کر نہ ملے جب تک وہ بازار میں نہ آئے ۔
Narrated `Abdullah:
We used to go ahead to meet the caravan and used to buy foodstuff from them. The Prophet (ﷺ) forbade us to sell it till it was carried to the market. Imam Abu Abdullah Bukhari said: According to Hadith of Obaidullah, that place was at the upper part of the bazaar.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم آگے قافلوں کے پاس خود ہی پہنچ جایا کرتے تھے اور ( شہر میں پہنچنے سے پہلے ہی ) ان سے غلہ خرید لیا کرتے ، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ ہم اس مال کو اسی جگہ بیچیں جب تک اناج کے بازار میں نہ لائیں ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ ملنا بازار کے بلند کنارے پر تھا ۔ ( جدھر سے سوداگر آیا کرتے تھے ) اور یہ بات عبیداللہ کی حدیث سے نکلتی ہے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Some people used to buy foodstuff at the head of the market and used to sell it on the spot. Allah's Apostle forbade them to sell it till they brought it to (their) places.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے ، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا ، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
لوگ بازار کی بلند جانب جا کر غلہ خریدتے اور وہیں بیچنے لگتے ۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ غلہ وہاں نہ بیچیں جب تک اس کو اٹھوا کر دوسری جگہ نہ لے جائیں ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
"Barira رضی اللہ عنہا came to me and said, 'I have agreed with my masters to pay them nine Uqiyas (of gold) (in installments) one Uqiya per year; please help me.' I said, 'I am ready to pay the whole amount now provided your masters agree that your Wala' will be for me.' So, Barira went to her masters and told them about that offer but they refused to accept it. She returned, and at that time, Allah's Messenger (ﷺ) was sitting (present). Barira said, 'I told them of the offer but they did not accept it and insisted on having the Wala'.' The Prophet (ﷺ) heard that." `Aisha narrated the whole story to the Prophet. He said to her, "Buy her and stipulate that her Wala' would be yours as the Wala' is for the manumitter." `Aisha did so. Then Allah's Messenger (ﷺ) stood up in front of the people, and after glorifying Allah he said, "Amma Ba`du (i.e. then after)! What about the people who impose conditions which are not in Allah's Book (Laws)? Any condition that is not in Allah's Book (Laws) is invalid even if they were one hundred conditions, for Allah's decisions are the right ones and His conditions are the strong ones (firmer) and the Wala' will be for the manumitter."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے باپ عروہ نے ، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا ( جو اس وقت تک باندی تھیں ) آئیں اور کہنے لگیں کہ میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ چاندی پر کتابت کر لی ہے ۔ شرط یہ ہوئی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ چاندی انہیں دیا کروں ۔ اب آپ بھی میری کچھ مدد کیجئے ۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ اگر تمہارے مالک یہ پسند کریں کہ یک مشت ان کا سب روپیہ میں ان کے لیے ( ابھی ) مہیا کر دوں اور تمہارا ترکہ میرے لیے ہو تو میں ایسا بھی کر سکتی ہوں ۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں ۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی تجویز ان کے سامنے رکھی ۔ لیکن انہوں نے اس سے انکار کیا ، پھر بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے یہاں واپس آئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ) بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تو آپ کی صورت ان کے سامنے رکھی تھی مگر وہ نہیں مانتے بلکہ کہتے ہیں کہ ترکہ تو ہمارا ہی رہے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کو حقیقت حال سے خبر کی ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بریرہ کو تم لے لو اور انہیں ترکہ کی شرط لگانے دو ۔ ترکہ تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرئے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر لوگوں کے مجمع میں تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ، امابعد ! کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ( خریدوفروخت میں ) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کتاب اللہ میں کوئی اصل نہیں ہے ۔ جو کوئی شرط ایسی لگائی جائے جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہو گی ۔ خواہ ایسی سو شرطیں کوئی کیوں نہ لگائے ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر مقدم ہے اور اللہ کی شرط ہی بہت مضبوط ہے اور ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Aisha رضی اللہ عنہا , (mother of the faithful believers) wanted to buy a slave girl and manumit her, but her masters said that they would sell her only on the condition that her Wala' would be for them. `Aisha رضی اللہ عنہا told Allah's Messenger (ﷺ) of that. He said, "What they stipulate should not hinder you from buying her, as the Wala' is for the manumitted."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاہا کہ ایک باندی کو خرید کر آزاد کر دیں ، لیکن ان کے مالکوں نے کہا کہ ہم انہیں اس شرط پر آپ کو بیچ سکتے ہیں کہ ان کی ولاء ہمارے ساتھ رہے ۔ اس کا ذکر جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شرط کی وجہ سے تم قطعاً نہ رکو ۔ ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے ۔