Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
On the day of the battle of the Trench (i.e. Ghazwat-ul-Khandaq) the Ansar used to say, "We are those who have given the pledge of allegiance to Muhammad for Jihad (i.e. holy fighting) as long as we live." The Prophet (ﷺ) , replied to them, "O Allah! There is no life except the life of the Hereafter; so please honor the Ansar and the Emigrants."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حمید طویل نے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا
آپ نے فرمایا کہ انصار غزوہ خندق کے موقعہ پر ( خندق کھودتے ہوئے ) یہ شعر پڑھتے تھے ” ہم وہ ہیں جنہوں نے حضرت ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد پر بیعت کی ہے ، جب تک ہماری جان میں جان ہے “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب یہ سنا تو ) اس کے جواب میں یوں فرمایا : ” اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں ہے ، پس انصار اور مہاجرین پر اپنا فضل و کرم فرما ۔ “
Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) came to us while we were digging the trench and carrying out the earth on our backs. Allah's Messenger (ﷺ) then said, "O Allah ! There is no life except the life of the Hereafter, so please forgive the Emigrants and the Ansar."
مجھ سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن حازم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے ۔ اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی ” اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں ، پس انصار اور مہاجرین کی تو مغفرت فرما ۔ “
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A man came to the Prophet. The Prophet (ﷺ) sent a messenger to his wives (to bring something for that man to eat) but they said that they had nothing except water. Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "Who will take this (person) or entertain him as a guest?" An Ansar man said, "I." So he took him to his wife and said to her, "Entertain generously the guest of Allah's Messenger (ﷺ) " She said, "We have got nothing except the meals of my children." He said, "Prepare your meal, light your lamp and let your children sleep if they ask for supper." So she prepared her meal, lighted her lamp and made her children sleep, and then stood up pretending to mend her lamp, but she put it off. Then both of them pretended to be eating, but they really went to bed hungry. In the morning the Ansari went to Allah's Messenger (ﷺ) who said, "Tonight Allah laughed or wondered at your action." Then Allah revealed: "But give them (emigrants) preference over themselves even though they were in need of that And whosoever is saved from the covetousness Such are they who will be successful." (59.9)
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن داود نے بیان کیا ، ان سے فضیل بن غزوان نے ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک صاحب ( خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھوکے حاضر ہوئے ، آپ نے انہیں ازواج مطہرات کے یہاں بھیجا ۔ ( تاکہ ان کو کھانا کھلادیں ) ازواج مطہرات نے کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کی کون مہمانی کرے گا ؟ ایک انصاری صحابی بولے میں کروں گا ۔ چنانچہ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کر ، بیوی نے کہا کہ گھر میںبچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں ہے ، انہوں نے کہا جو کچھ بھی ہے اسے نکال دو اور چراغ جلالو اور بچے اگر کھانا مانگتے ہیں تو انہیں سلادو ۔ بیوی نے کھانا نکال دیا اور چراغ جلادیا اور اپنے بچوں کو ( بھوکا ) سلادیا ، پھر وہ دکھاتو یہ رہی تھیں جیسے چراغ درست کر رہی ہوں لیکن انہوں نے اسے بجھا دیا ، اس کے بعد دونوں میاں بیوی مہمان پر ظاہر کرنے لگے کہ گویا وہ بھی ان کے ساتھ کھا رہے ہیں ، لیکن ان دونوں نے ( اپنے بچوں سمیت رات ) فاقہ سے گزار دی ، صبح کے وقت جب وہ صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں میاں بیوی کے نیک عمل پر رات کو اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا ( یہ فرمایا کہ اسے ) پسند کیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” اور وہ ( انصار ) ترجیح دیتے ہیں اپنے نفسوں کے اوپر ( دوسرے غریب صحابہ کو ) اگرچہ وہ خود بھی فاقہ ہی میں ہوں اور جو اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا گیا سو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔ “
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Abu Bakr and Al-`Abbas رضی اللہ عنہما passed by one of the gatherings of the Ansar who were weeping then. He (i.e. Abu Bakr or Al-`Abbas رضی اللہ عنہما ) asked, "Why are you weeping?" They replied, "We are weeping because we remember the gathering of the Prophet (ﷺ) with us." So Abu Bakr went to the Prophet (ﷺ) and told him of that. The Prophet (ﷺ) came out, tying his head with a piece of the hem of a sheet. He ascended the pulpit which he never ascended after that day. He glorified and praised Allah and then said, "I request you to take care of the Ansar as they are my near companions to whom I confided my private secrets. They have fulfilled their obligations and rights which were enjoined on them but there remains what is for them. So, accept the good of the good-doers amongst them and excuse the wrongdoers amongst them."
مجھ سے ابوعلی محمد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدان کے بھائی شاذان نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، ہمیں شعبہ بن حجاج نے خبر دی ، ان سے ہشام بن زید نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
حضرت ابوبکر اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما انصار کی ایک مجلس سے گزرے ، دیکھا کہ تمام اہل مجلس رورہے ہیں ، پوچھا آپ لوگ کیوں رورہے ہیں ؟ مجلس والوں نے کہا کہ ابھی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کو یاد کر رہے تھے جس میں ہم بیٹھا کرتے تھے ( یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کا واقعہ ہے ) اس کے بعد یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی اطلاع دی ، بیان کیا کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، سرمبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی ، راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور اس کے بعد پھر کبھی منبر پر آپ تشریف نہ لا سکے ، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم و جان ہیں ، انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں لیکن اس کا بدلہ جو انہیں ملنا چاہیے تھا ، وہ ملنا ابھی باقی ہے ، اس لیے تم لوگ بھی ان کے نیک لوگوں کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرتے رہنا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) (in his fatal illness) came out wrapped in a sheet covering his shoulders and his head was tied with an oily tape of cloth till he sat on the pulpit, and after praising and glorifying Allah, he said, "Then-after, O people! The people will go on increasing, but the Ansar will go on decreasing till they become just like salt in a meal. So whoever amongst you will be the ruler and have the power to harm or benefit others, should accept the good of the good-doers amongst them and excuse the wrongdoers amongst them."
ہم سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن غسیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا میں نے عکرمہ سے سنا ، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں شانوں پر چادر اوڑھے ہوئے تھے ، اور ( سرمبارک پر ) ایک سیاہ پٹی ( بندھی ہوئی تھی ) آپ منبرپر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : امابعد ا ے لوگو ! دوسروں کی تو بہت کثرت ہو جائے گی لیکن انصار کم ہو جائیں گے اور وہ ایسے ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے ، پس تم میں سے جو شخص بھی کسی ایسے محکمہ میں حاکم ہو جس کے ذریعہ کسی کو نقصان ونفع پہنچا سکتا ہو تو اسے انصار کے نیکوکاروں کی پذیرائی کرنی چاہیے ۔ اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرنا چاہیے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The Ansar are my near companions to whom I confided my private secrets, People will go on increasing but the Ansar will go on decreasing; so accept the good of the good-doers amongst them and excuse the wrong-doers amongst them. "
ہم سے محمد بن بشارنے بیان کیا ، ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، انصار میرے جسم و جان ہیں ، ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہو جائیں گے ، لیکن انصار کم رہ جائیں گے ، اس لیے ان کے نیکوکاروں کی پذیرائی کیا کرنا ، اور خطا کاروں سے درگزر کیا کرنا ۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
A silken cloth was given as a present to the Prophet (ﷺ) . His companions started touching it and admiring its softness. The Prophet (ﷺ) said, "Are you admiring its softness? The handkerchiefs of Sa`d bin Mu`adh (in Paradise) are better and softer than it." This hadith has also been narrated by Qatadah and Zuhri, who heard it from Anas رضی اللہ عنہ (may Allah be pleased with him), who narrated it from the Prophet (ﷺ).
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا مجھ سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحٰق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں ایک ریشمی حلہ آیا تو صحابہ اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی اور نزاکت پر تعجب کرنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا تمہیں اس کی نرمی پر تعجب ہے ، سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال ( جنت میں ) اس سے کہیں بہتر ہیں یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) اس سے کہیں زیادہ نرم و نازک ہیں ، اس حدیث کی روایت قتادہ اور زہری نے بھی کی ہے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "The Throne (of Allah) shook at the death of Sa`d bin Mu`adh رضی اللہ عنہ ." Through another group of narrators, Jabir رضی اللہ عنہ added, "I heard the Prophet (ﷺ) : saying, 'The Throne of the Beneficent shook because of the death of Sa`d bin Mu`adh رضی اللہ عنہ ."
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ کے داماد فضل بن مساور نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے ، ان سے ابوسفیان نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش ہل گیا اور اعمش سے روایت ہے ، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ، ایک صاحب نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ براء رضی اللہ عنہ تو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ چارپائی جس پر معاذ رضی اللہ عنہ کی نعش رکھی ہوئی تھی ، ہل گئی تھی ، حضرت جابررضی اللہ عنہ نے کہا ان دونوں قبیلوں ( اوس اور خزرج ) کے درمیان ( زمانہ جاہلیت میں ) دشمنی تھی ، میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش رحمن ہل گیا تھا ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Some people (i.e. the Jews of Bani bin Quraiza) agreed to accept the verdict of Sa`d bin Mu`adh رضی اللہ عنہ so the Prophet (ﷺ) sent for him (i.e. Sa`d bin Mu`adh رضی اللہ عنہ ). He came riding a donkey, and when he approached the Mosque, the Prophet (ﷺ) said, "Get up for the best amongst you." or said, "Get up for your chief." Then the Prophet (ﷺ) said, "O Sa`d! These people have agreed to accept your verdict." Sa`d رضی اللہ عنہ said, "I judge that their warriors should be killed and their children and women should be taken as captives." The Prophet said, "You have given a judgment similar to Allah's Judgment (or the King's judgment).
ہم سے محمد بن عر عرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سعد بن ابراہیم نے ، ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک قوم ( یہود بنی قریظہ ) نے سعد بن معاذرضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا گیا اور وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے ، جب اس جگہ کے قریب پہنچے جسے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام جنگ میں ) نماز پڑھنے کے لیے منتخب کیا ہوا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے سب سے بہتر شخص کے لیے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ) اپنے سردار کو لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سعد ! انہوں نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جو لوگ جنگ کرنے والے ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں ، بچوں کو جنگی قیدی بنا لیا جائے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) فرشتے کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Two men left the Prophet (ﷺ) on a very dark night. Suddenly a light came in front of them, and when they separated, the light also separated along with them. Mamar has said with reference to Thabit and Hadrat Anas رضی اللہ عنہ that they were Hadrat Osaid bin Hodair and an Ansari. Hammad with reference to Thabit and Hadrat Anas رضی اللہ عنہ say: It was Hadrat Osaid bin Hudair and Hadrat Abbad bin Bishr رضی اللہ عنہما who came from the prophet (ﷺ).
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا ، کہا ہم سے حبان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، انہیں قتادہ نے خبر دی اور انہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر دو صحابی ایک تاریک رات میں ( اپنے گھر کی طرف ) جانے لگے تو ایک غیبی نور ان کے آگے آگے چل رہا تھا ، پھر جب وہ جدا ہوئے تو ان کے ساتھ ساتھ وہ نور بھی الگ الگ ہو گیا اور معمر نے ثابت سے بیان کیا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے انصاری صحابی ( کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی ) اور حماد نے بیان کیا ، انہیں ثابت نے خبر دی اور انہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی ۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نقل کیا ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Learn the recitation of Qur'an from four persons: Ibn Mas`ud, Salim, the freed slave of Abu Hudhaifa, Ubai and Mu`adh bin Jabal رضی اللہ عنہم ."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن چار ( حضرات صحابہ ) عبداللہ بن مسعود ، ابوحذیفہ کے غلام سالم اور ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم سے سیکھو ۔
Narrated Abu Usaid رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The best of the Ansar's houses are those of Bani An-Najjar, then those of Bani `Abdul Ash-hal, then those of Bani Al-Harith bin Al-Khazraj, then those of Bani Saida; but there is goodness in all the houses of the Ansar." Sa`d bin Ubada رضی اللہ عنہ who was one of those who embraced Islam early, said, "I see that Allah's Messenger (ﷺ) is giving others superiority above us." Some people said to him, "But he has given you superiority above many other people."
ہم سے اسحٰق نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انصار کا بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے ، پھر بنو عبدالاشھل کا ، پھر بنو عبدالحارث کا ، پھر بنو ساعدہ کا اور خیر انصار کے تمام گھرانوں میں ہے ، حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ اسلام قبول کرنے میں بڑی قدامت رکھتے تھے کہ میرا خیال ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر دوسروں کو فضیلت دے دی ہے ، ان سے کہا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کوبھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے ۔ ( اعتراض کی کیا بات ہے )
Narrated Masruq:
`Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہما was mentioned before `Abdullah bin `Amr who said, "That is a man I still love, as I heard the Prophet (ﷺ) saying 'Learn the recitation of Qur'an from four from `Abdullah bin Mas`ud -- he started with him--Salim, the freed slave of Abu Hudaifa, Mu`adh bin Jabal رضی اللہ عنہ and Ubai bin Ka`b رضی اللہ عنہ ."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی مجلس میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ
اس وقت سے ان کی محبت میرے دل میں بیٹھ گئی جب سے میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے نام سے ابتداء کی ، اور ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سالم سے ، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said to Ubai رضی اللہ عنہ , "Allah has ordered me to recite to you: 'Those who disbelieve (Surat-al- Bayina 98).' " Ubai رضی اللہ عنہ said, "Has He mentioned my name?" The Prophet (ﷺ) said, "Yes." On hearing this, Ubai رضی اللہ عنہ started weeping.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے شعبہ سے سنا ، انہوں نے قتادہ سے سنا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو سورۃ ” لم يكن الذين كفروا “ سناؤں ، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ، اس پر حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرط مسرت سے رونے لگے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
"The Qur'an was collected in the lifetime of the Prophet (ﷺ) by four (men), all of whom were from the Ansar: Ubai, Mu`adh bin Jabal, Abu Zaid and Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہم ." I asked Anas رضی اللہ عنہ , "Who is Abu Zaid?" He said, "One of my uncles."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چار آدمی جن سب کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا ، قرآن مجید جمع کرنے والے تھے ، ابی بن کعب ، معاذ بن جبل ، ابوزید اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم ، میں نے پوچھا : ابوزید کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے ایک چچا ہیں ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
On the day of the battle of Uhud, the people ran away, leaving the Prophet (ﷺ) , but Abu- Talha رضى الله عنه was shielding the Prophet (ﷺ) with his shield in front of him. Abu Talha رضى الله عنه was a strong, experienced archer who used to keep his arrow bow strong and well stretched. On that day he broke two or three arrow bows. If any man passed by carrying a quiver full of arrows, the Prophet (ﷺ) would say to him, "Empty it in front of Abu Talha رضى الله عنه ." When the Prophet (ﷺ) stated looking at the enemy by raising his head, Abu Talha رضى الله عنه said, "O Allah's Prophet! Let my parents be sacrificed for your sake! Please don't raise your head and make it visible, lest an arrow of the enemy should hit you. Let my neck and chest be wounded instead of yours." (On that day) I saw `Aisha, the daughter of Abu Bakr رضى الله عنه and Um Sulaim both lifting their dresses up so that I was able to see the ornaments of their legs, and they were carrying the water skins of their arms to pour the water into the mouths of the thirsty people and then go back and fill them and come to pour the water into the mouths of the people again. (On that day) Abu Talha's sword fell from his hand twice or thrice.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
احد کی لڑائی کے موقعہ پر جب صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ادھر ادھر چلنے لگے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنی ایک ڈھال سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے حضرت ابوطلحہ بڑے تیرانداز تھے اور خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے ، چنانچہ اس دن دو یا تین کمانیں انہوں نے توڑ دی تھیں ، اس وقت اگر کوئی مسلمان ترکش لیے ہوئے گزرتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اس کے تیر ابوطلحہ کو دے دو ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حالات معلوم کرنے کے لیے اچک کر دیکھنے لگتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے یا نبی اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، اچک کر ملاحظہ نہ فرمائیں ، کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے ، میرا سینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کی ڈھال بنا رہا اور میں نے عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور ام سلیم ( ابوطلحہ کی بیوی ) کو دیکھا کہ اپنا ازار اٹھائے ہوئے ( غازیوں کی مدد میں ) بڑی تیزی کے ساتھ مشغول تھیں ۔ ( اس خدمت میں ان کے انہماک و استغراق کی وجہ سے انہیں کپڑوں تک کا ہوش نہ تھا یہاں تک کہ ) میں ان کی پنڈلیوں کے زیور دیکھ سکتا تھا ۔ انتہائی جلدی کے ساتھ مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے جاتی تھیں اور مسلمانوں کو پلا کر واپس آتی تھیں اور پھر انہیں بھر کر لے جاتیں اور ان کا پانی مسلمانوں کو پلاتیں اور ابوطلحہ کے ہاتھ سے اس دن دو یا تین مرتبہ تلوار چھوٹ کر گر پڑی تھی ۔
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ :
I have never heard the Prophet (ﷺ) saying about anybody walking on the earth that he is from the people of Paradise except `Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ . The following Verse was revealed concerning him: "And a witness from the children of Israel testifies that this Qur'an is true" (46.10) The reports says that he does not know whether Imam Malik himself added the word 'Verse' or it is present inthe Hadith.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا ، وہ عمربن عبیداللہ کے مولیٰ ابونضر کے واسطے سے بیان کرتے ہیں ، وہ عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اور ان سے ان کے والد ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے متعلق یہ نہیں سنا کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں ، بیان کیا کہ آیت ( ( وشهد شاهد من بني إسرائيل ) ) ( الاحقاف : 10 ) انہیں کے بارے میں نازل ہوئی تھی ( راوی حدیث عبداللہ بن یوسف نے ) بیان کیا کہ آیت کے نزول کے متعلق مالک کا قول ہے یا حدیث میں اسی طرح تھا ۔
Narrated Qais bin Ubad:
While I was sitting in the Mosque of Medina, there entered a man (Abdullah bin Salam) with signs of solemnity over his face. The people said, "He is one of the people of Paradise." He prayed two light rak`at and then left. I followed him and said, "When you entered the Mosque, the people said, 'He is one of the people of Paradise.' " He said, "By Allah, one ought not say what he does not know; and I will tell you why. In the lifetime of the Prophet (ﷺ) I had a dream which I narrated to him. I saw as if I were in a garden." He then described its extension and greenery. He added: In its center there was an iron pillar whose lower end was fixed in the earth and the upper end was in the sky, and at its upper end there was a (ring-shaped) hand-hold. I was told to climb it. I said, "I can't." "Then a servant came to me and lifted my clothes from behind and I climbed till I reached the top (of the pillar). Then I got hold of the hand-hold, and I was told to hold it tightly, then I woke up and (the effect of) the handhold was in my hand. I narrated al I that to the Prophet (ﷺ) who said, 'The garden is Islam, and the handhold is the Most Truth-worthy Hand-Hold. So you will remain as a Muslim till you die." The narrator added: "The man was `Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ ." There is Waseef in place of Minsaf.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ازہرسمان نے بیان کیا ، ان سے ابوعوانہ نے ، ان سے محمد نے اور ان سے قیس بن عبادنے بیان کیا کہ
میں مسجدنبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ مسجد میں داخل ہوئے جن کے چہرے پرخشوع وخضوع کے آثار ظاہر تھے لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنتی لوگوں میں سے ہیں ، پھر انہوں نے دو رکعت نماز مختصرطریقہ پر پڑھی اور باہر نکل گئے میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور عرض کیا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنت والوں میں سے ہیں ، اس پر انہوں نے کہا خدا کی قسم ! کسی کے لیے ایسی بات زبان سے نکالنا مناسب نہیں ہے جسے وہ نہ جانتا ہو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ ایسا کیوں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، میں نے ایک خواب دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا میں نے خواب یہ دیکھا تھا کہ جیسے میں ایک باغ میں ہوں ، پھر انہوں نے اس کی وسعت اور اس کے سبزہ زاروں کا ذکر کیا اس باغ کے درمیان میں ایک لوہے کا ستون ہے جس کا نچلاحصہ زمین میں ہے اور اوپر کا آسمان پر اور اس کی چوٹی پر ایک گھنا درخت ہے ، ( العروۃ ) مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں ہے اتنے میں ایک خادم آیا اور پیچھے سے میرے کپڑے اس نے اٹھائے تو میں چڑھ گیا اور جب میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے اس گھنے درخت کو پکڑ لیا مجھ سے کہا گیا کہ اس درخت کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے ، ابھی میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی ، یہ خواب جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو باغ تم نے دیکھا ہے ، وہ تواسلام ہے اور اس میں ستون اسلام کاستون ہے اور عروہ ( گھنادرخت ) العروۃ الوثقی ہے اس لیے تم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہو گے ، یہ بزرگ حضرت عبداللہ بن سلام تھے اورمجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ان سے معاذ نے بیان کیا ان سے ابن عون نے بیان کیا ان سے محمدنے ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے انہوں نے منصف ( خادم ) کے بجائے وصیف کا لفظ ذکر کیا ۔
Narrated Abu Burda:
When I came to Medina. I met `Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ . He said, "Will you come to me so that I may serve you with Sawiq (i.e. powdered barley) and dates, and let you enter a (blessed) house that in which the Prophet (ﷺ) entered?" Then he added, "You are In a country where the practice of Riba (i.e. usury) is prevalent; so if somebody owe you something and he sends you a present of a load of chopped straw or a load of barley or a load of provender then do not take it, as it is Riba." Nadr, Abu Dawood and Wahab did not report " البیت " from Shobah.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ
میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ، انہوں نے کہا ، آو تمہیں میں ستو اور کھجور کھلاؤں گا اور تم ایک ( باعظمت ) مکان میں داخل ہو گے ( کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے گئے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابربھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ بھی سود ہے ، نضر ابوداؤد اور وہب نے ( اپنی روایتوں میں ) البیت ( گھر ) کا ذکر نہیں کیا ۔
Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying (as below) Narrated `Ali رضی اللہ عنہ : The Prophet (ﷺ) said, "The best of the world's women is Mary (at her lifetime), and the best of the world's women is Khadija (at her lifetime).
مجھ سے محمدنے بیان کیا ، کہا ہم کو خبر دی عبدہ نے ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن جعفرسے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( دوسری سند ) اور مجھ سے صدقہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی ، انہیں ہشام نے ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن جعفرسے سنا انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اپنے زمانے میں ) حضرت مریم علیہاالسلام سب سے افضل عورت تھیں اور ( اس امت میں ) حضرت خدیجہ ( رضی اللہ عنہا ) سب سے افضل ہیں ۔