Narrated Hisham's father:
Khadija رضی اللہ عنہا died three years before the Prophet (ﷺ) departed to Medina. He stayed there for two years or so and then he married `Aisha رضی اللہ عنہا when she was a girl of six years of age, and he consumed that marriage when she was nine years old.
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد ( عروہ بن زبیر ) نے بیان کیا کہ
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کو ہجرت سے تین سال پہلے ہو گئی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے تقریباً دو سال بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی جب رخصتی ہوئی تو وہ نوسال کی تھیں ۔
Narrated Abu Wail:
We visited Khabbaba رضی اللہ عنہ who said, "We migrated with the Prophet (ﷺ) for Allah's Sake, so our reward bng a striped woolen cloak. When we covered his head with it, his feet became naked, and when covered his feet, his head became naked. So Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to cover his head and put some Idhkhir (i.e. a special kind of grass) on his feet. (On the other hand) some of us have had their fruits ripened (in ecame due and sure with Allah. Some of us passed away without taking anything of their rewards (in this world) and one of them was Mus`ab bin `Umar رضی اللہ عنہ who was martyred on the day (of the battle) of Uhud leavithis world) and they are collecting them."
ہم سے ( عبداللہ بن زبیر ) حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے گئے تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہجرت کی تھی ، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر دے گا ۔ پھر ہمارے بہت سے ساتھی اس دنیا سے اٹھ گئے اور انہوں نے ( دنیا میں ) اپنے اعمال کا پھل نہیں دیکھا ۔ انہیں میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کی لڑائی میں شہید کئے گئے تھے اور صرف ایک دھاری دار چادر چھوڑی تھی ۔ ( کفن دیتے وقت ) جب ہم ان کی چادر سے ان کا سر ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ان کا سر ڈھانک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں ۔ ( تاکہ چھپ جائیں ) اور ہم میں ایسے بھی ہیں کہ ( اس دنیا میں بھی ) ان کے اعمال کا میوہ پک گیا ، پس وہ اس کو چن رہے ہیں ۔
Narrated `Umar رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "The reward of deeds depends on the intentions, so whoever emigrated for the worldly benefits or to marry a woman, his emigration was for that for which he emigrated, but whoever emigrated for the Sake of Allah and His Apostle, his emigration is for Allah and His Apostle."
ہم سے مسدد بن مسر ہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ، ان سے محمد بن ابراہیم نے ، ان سے علقمہ بن ابی وقاص نے ، بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں ۔ پس جس کا مقصد ہجرت سے دنیا کمانا ہو وہ اپنے اسی مقصد کو حاصل کر سکے گا یا مقصد ہجرت سے کسی عورت سے شادی کرنا ہو تو وہ بھی اپنے مقصد تک پہنچ سکے گا ، لیکن جن کا ہجرت سے مقصد اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے سمجھی جائے گی ۔
Narrated Mujahid bin Jabir Al-Makki:
`Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما used to say, "There is no more Hijrah (i.e. migration) after the Conquest of Mecca."
مجھ سے اسحاق بن یزید دمشقی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیاں کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ بن ابی لبابہ نے بیان کیا ، ان سے مجاہد بن جبر مکی نے بیان کیا کہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد ( مکہ سے مدینہ کی طرف ) ہجرت باقی نہیں رہی ۔
Narrated 'Ata bin Abi Rabah:
`Ubaid bin `Umar Al-Laithi and I visited Aisha رضی اللہ عنہا and asked her about the Hijra (i.e. migration), and she said, "Today there is no (Hijrah) emigration. A believer used to run away with his religion to Allah and His Apostle lest he should be put to trial because of his religion. Today Allah has made Islam triumphant, and today a believer can worship his Lord wherever he likes. But the deeds that are still rewardable (in place of emigration) are Jihad and good intentions." (See Hadith No. 42 Vol. 4).
مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ
عبید بن عمیر لیثی کے ساتھ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم نے ان سے فتح مکہ کے بعد ہجرت کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان اپنے دین کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عہد کر کے آتا تھا ، اس خطرہ کی وجہ سے کہ کہیں وہ فتنہ میں نہ پڑ جائے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا ہے اور آ ج ( سرزمین عرب میں ) انسان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے ، البتہ جہاد اور نیت ثواب باقی ہے ۔
Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :
"O Allah! You know that there is none against whom I am eager to fight more willingly for Your Cause than those people who disbelieved Your Apostle and drove him out (of his city). O Allah! I think that You have ended the fight between us and them." Aban bin Yazeed, Hisham, Urwah report from Hadrat Aisha رضی اللہ عنہا and this narrrated goes: Who falseified Your Prophet ﷺ sent him into exile, the people means the Quraish.
مجھ سے زکریابن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہشام نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز پسندیدہ نہیں کہ تیرے راستے میں ، میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی اور انہیں ( ان کے وطن مکہ سے ) نکالا اے اللہ ! لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی کا سلسلہ ختم کر دیا ہے ۔ اور ابان بن یزید نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ ( یہ الفاظ سعد رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ) من قوم کذبوا نبیک اخرجوہ من قریش ۔ یعنی جنہوں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا ۔ باہر نکال دیا ۔ اس سے قریش کے کافر مراد ہیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضى الله عنهما :
Allah's Messenger (ﷺ) started receiving the Divine Inspiration at the age of forty. Then he stayed in Mecca for thirteen years, receiving the Divine Revelation. Then he was ordered to migrate and he lived as an Emigrant for ten years and then died at the age of sixty-three (years).
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے روح نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا گیا تھا ۔ پھر آپ پر مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک وحی آتی رہی اس کے بعد آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور آپ نے ہجرت کی حالت میں دس سال گزارے ، ( مدینہ میں ) جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) stayed in Mecca for thirteen years (after receiving the first Divine Inspiration) and died at the age of sixty-three.
مجھ سے مطر بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریابن اسحاق نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ سال قیام کیا اور جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) sat on the pulpit and said, "Allah has given one of His Slaves the choice of receiving the splendor and luxury of the worldly life whatever he likes or to accept the good (of the Hereafter) which is with Allah. So he has chosen that good which is with Allah." On that Abu Bakr رضی اللہ عنہ wept and said, "Our fathers and mothers be sacrificed for you." We became astonished at this. The people said, "Look at this old man! Allah's Messenger (ﷺ) talks about a Slave of Allah to whom He has given the option to choose either the splendor of this worldly life or the good which is with Him, while he says. 'our fathers and mothers be sacrifice(i for you." But it was Allah's Messenger (ﷺ) who had been given option, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ knew it better than we. Allah's Messenger (ﷺ) added, "No doubt, I am indebted to Abu Bakr رضی اللہ عنہ more than to anybody else regarding both his companionship and his wealth. And if I had to take a Khalil from my followers, I would certainly have taken Abu Bakr رضی اللہ عنہ, but the fraternity of Islam is. sufficient. Let no door (i.e. Khoukha) of the Mosque remain open, except the door of Abu Bakr رضی اللہ عنہ ."
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا ، ان سے عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابو النضر نے ، ان سے عبید یعنی ابن حنین نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ، فرمایا اپنے ایک نیک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو وہ چاہے اسے اپنے لئے پسند کر لے یا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے ( آخرت میں ) اسے پسند کر لے ۔ اس بندے نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والی چیز کو پسند کر لیا ۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ۔ ( حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) ہمیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس رونے پر حیرت ہوئی ، بعض لوگوں نے کہا اس بزرگ کو دیکھئیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں اور جو اللہ کے پاس ہے اس میں سے کسی کے پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ماں باپ حضور پر فدا ہوں ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ان دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ اس بات سے واقف تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پراحسان کرنے والے ابوبکر ہیں ۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بنا سکتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا البتہ اسلامی رشتہ ان کے ساتھ کافی ہے ۔ مسجد میں کوئی دروازہ اب کھلا ہوا باقی نہ رکھا جائے سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازے کے ۔
Narrated 'Aisha رضی اللہ عنہا (the wife of the Prophet) :
I never remembered my parents believing in any religion other than the true religion (i.e. Islam), and (I don't remember) a single day passing without our being visited by Allah's Messenger (ﷺ) in the morning and in the evening. When the Muslims were put to test (i.e. troubled by the pagans), Abu Bakr رضی اللہ عنہ set out migrating to the land of Ethiopia, and when he reached Bark-al-Ghimad, Ibn Ad-Daghina, the chief of the tribe of Qara, met him and said, "O Abu Bakr! Where are you going?" Abu Bakr رضی اللہ عنہ replied, "My people have turned me out (of my country), so I want to wander on the earth and worship my Lord." Ibn Ad-Daghina said, "O Abu Bakr! A man like you should not leave his home-land, nor should he be driven out, because you help the destitute, earn their livings, and you keep good relations with your Kith and kin, help the weak and poor, entertain guests generously, and help the calamity-stricken persons. Therefore I am your protector. Go back and worship your Lord in your town." So Abu Bakr رضی اللہ عنہ returned and Ibn Ad-Daghina accompanied him. In the evening Ibn Ad-Daghina visited the nobles of Quraish and said to them. "A man like Abu Bakr رضی اللہ عنہ should not leave his homeland, nor should he be driven out. Do you (i.e. Quraish) drive out a man who helps the destitute, earns their living, keeps good relations with his Kith and kin, helps the weak and poor, entertains guests generously and helps the calamity-stricken persons?" So the people of Quraish could not refuse Ibn Ad-Daghina's protection, and they said to Ibn Ad-Daghina, "Let Abu Bakr رضی اللہ عنہ worship his Lord in his house. He can pray and recite there whatever he likes, but he should not hurt us with it, and should not do it publicly, because we are afraid that he may affect our women and children." Ibn Ad-Daghina told Abu Bakr رضی اللہ عنہ of all that. Abu Bakr رضی اللہ عنہ stayed in that state, worshipping his Lord in his house. He did not pray publicly, nor did he recite Quran outside his house. Then a thought occurred to Abu Bakr رضی اللہ عنہ to build a mosque in front of his house, and there he used to pray and recite the Quran. The women and children of the pagans began to gather around him in great number. They used to wonder at him and look at him. Abu Bakr رضی اللہ عنہ was a man who used to weep too much, and he could not help weeping on reciting the Quran. That situation scared the nobles of the pagans of Quraish, so they sent for Ibn Ad-Daghina. When he came to them, they said, "We accepted your protection of Abu Bakr رضی اللہ عنہ on condition that he should worship his Lord in his house, but he has violated the conditions and he has built a mosque in front of his house where he prays and recites the Quran publicly. We are now afraid that he may affect our women and children unfavorably. So, prevent him from that. If he likes to confine the worship of his Lord to his house, he may do so, but if he insists on doing that openly, ask him to release you from your obligation to protect him, for we dislike to break our pact with you, but we deny Abu Bakr رضی اللہ عنہ the right to announce his act publicly." Ibn Ad-Daghina went to Abu- Bakr رضی اللہ عنہ and said, ("O Abu Bakr!) You know well what contract I have made on your behalf; now, you are either to abide by it, or else release me from my obligation of protecting you, because I do not want the 'Arabs hear that my people have dishonored a contract I have made on behalf of another man." Abu Bakr رضی اللہ عنہ replied, "I release you from your pact to protect me, and am pleased with the protection from Allah." At that time the Prophet (ﷺ) was in Mecca, and he said to the Muslims, "In a dream I have been shown your migration place, a land of date palm trees, between two mountains, the two stony tracts." So, some people migrated to Medina, and most of those people who had previously migrated to the land of Ethiopia, returned to Medina. Abu Bakr رضی اللہ عنہ also prepared to leave for Medina, but Allah's Messenger (ﷺ) said to him, "Wait for a while, because I hope that I will be allowed to migrate also." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "Do you indeed expect this? Let my father be sacrificed for you!" The Prophet (ﷺ) said, "Yes." So Abu Bakr رضی اللہ عنہ did not migrate for the sake of Allah's Messenger (ﷺ) in order to accompany him. He fed two she-camels he possessed with the leaves of As-Samur tree that fell on being struck by a stick for four months. One day, while we were sitting in Abu Bakr's house at noon, someone said to Abu Bakr رضی اللہ عنہ , "This is Allah's Messenger (ﷺ) with his head covered coming at a time at which he never used to visit us before." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "May my parents be sacrificed for him. By Allah, he has not come at this hour except for a great necessity." So Allah's Messenger (ﷺ) came and asked permission to enter, and he was allowed to enter. When he entered, he said to Abu Bakr رضی اللہ عنہ . "Tell everyone who is present with you to go away." Abu Bakr رضی اللہ عنہ replied, "There are none but your family. May my father be sacrificed for you, O Allah's Messenger (ﷺ)!" The Prophet (ﷺ) said, "i have been given permission to migrate." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "Shall I accompany you? May my father be sacrificed for you, O Allah's Messenger (ﷺ)!" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Yes." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! May my father be sacrificed for you, take one of these two she-camels of mine." Allah's Messenger (ﷺ) replied, "(I will accept it) with payment." So we prepared the baggage quickly and put some journey food in a leather bag for them. Asma, Abu Bakr's daughter, cut a piece from her waist belt and tied the mouth of the leather bag with it, and for that reason she was named Dhat-un-Nitaqain (i.e. the owner of two belts). Then Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ reached a cave on the mountain of Thaur and stayed there for three nights. 'Abdullah bin Abi Bakr who was intelligent and a sagacious youth, used to stay (with them) aver night. He used to leave them before day break so that in the morning he would be with Quraish as if he had spent the night in Mecca. He would keep in mind any plot made against them, and when it became dark he would (go and) inform them of it. 'Amir bin Fuhaira, the freed slave of Abu Bakr رضی اللہ عنہ , used to bring the milch sheep (of his master, Abu Bakr رضی اللہ عنہ) to them a little while after nightfall in order to rest the sheep there. So they always had fresh milk at night, the milk of their sheep, and the milk which they warmed by throwing heated stones in it. 'Amir bin Fuhaira would then call the herd away when it was still dark (before daybreak). He did the same in each of those three nights. Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ had hired a man from the tribe of Bani Ad-Dail from the family of Bani Abd bin Adi as an expert guide, and he was in alliance with the family of Al-'As bin Wail As-Sahmi and he was on the religion of the infidels of Quraish. The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ trusted him and gave him their two she-camels and took his promise to bring their two she camels to the cave of the mountain of Thaur in the morning after three nights later. And (when they set out), 'Amir bin Fuhaira and the guide went along with them and the guide led them along the sea-shore.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے ماں باپ کو دین اسلام ہی پر پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر صبح و شام دونوں وقت تشریف نہ لاتے ہوں ، پھر جب ( مکہ میں ) مسلمانوں کو ستایا جانے لگا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی ہجرت کا ارادہ کر کے نکلے ۔ جب آپ مقام برک غماد پر پہنچے تو آپ کی ملاقات ابن الدغنہ سے ہوئی جو قبیلہ قارہ کا سردار تھا ۔ اس نے پوچھا ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) ! کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے اب میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ ملک ملک کی سیاحت کروں ( اور آزادی کے ساتھ ) اپنے رب کی عبادت کروں ۔ ابن الدغنہ نے کہا لیکن ابوبکر ! تم جیسے انسان کو اپنے وطن سے نہ خود نکلنا چاہئے اور نہ اسے نکالا جانا چاہیے ۔ تم محتاجوں کی مدد کرتے ہو ، صلہ رحمی کرتے ہو ۔ بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے ہو ، مہمان نوازی کرتے ہو اور حق پر قائم رہنے کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتے ہو ، میں تمہیں پناہ دیتا ہوں واپس چلو اور اپنے شہر ہی میں اپنے رب کی عبادت کرو ۔ چنانچہ وہ واپس آ گئے اور ابن الدغنہ بھی آپ کے ساتھ واپس آیا ۔ اس کے بعد ابن الدغنہ قریش کے تمام سرداروں کے یہاں شام کے وقت گیا اور سب سے اس نے کہا کہ ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) جیسے شخص کو نہ خود نکلنا چاہیے اور نہ نکالا جانا چا ہیے کیا تم ایسے شخص کو نکال دو گے جو محتاجوں کی امداد کرتا ہے ، صلہ رحمی کرتا ہے ، بے کسوں کا بوجھ اٹھا تا ہے ، مہمان نوازی کرتا ہے اور حق کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتا ہے ؟ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ سے انکا ر نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہہ دو ، کہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر کے اندر ہی کیا کریں ، وہیں نماز پڑھیں اور جو جی چاہے وہیں پڑھیں ، اپنی عبادات سے ہمیں تکلیف نہ پہنچا ئیں ، اس کا اظہار نہ کریں کیونکہ ہمیں اس کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے اس فتنہ میں نہ مبتلا ہو جائیں ۔ یہ باتیں ابن الدغنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی آ کر کہہ دیں کچھ دنوں تک تو آپ اس پر قائم رہے اور اپنے گھر کے اندر ہی اپنے رب کی عبادت کرتے رہے ، نہ نماز بر سر عام پڑھتے اور نہ گھر کے سوا کسی اورجگہ تلاوت قرآن کرتے تھے لیکن پھر انہوں نے کچھ سوچا اور اپنے گھر کے سامنے نماز پڑھنے کے لئے ایک جگہ بنائی جہاں آپ نے نماز پڑھنی شروع کی اور تلاوت قرآن بھی وہیں کرنے لگے ، نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں مشرکین کی عورتوں اور بچوں کا مجمع ہونے لگا ۔ وہ سب حیرت اور پسندیدگی کے ساتھ دیکھتے رہا کرتے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے ۔ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو آنسو ؤں کو روک نہ سکتے تھے ۔ اس صورت حال سے مشرکین قریش کے سردار گھبراگئے اور انہوں نے ابن الدغنہ کو بلا بھیجا ، جب ابن الدغنہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ ہم نے ابوبکر کے لئے تمہاری پناہ اس شرط کے ساتھ تسلیم کی تھی کہ اپنے رب کی عبادت وہ اپنے گھر کے اندر کیا کریں لیکن انہوں نے شرط کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنے گھر کے سامنے نماز پڑھنے کے لئے ایک جگہ بنا کر برسر عام نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن کرنے لگے ہیں ۔ ہمیں اس کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے اس فتنے میں نہ مبتلا ہو جائیں اس لئے تم انہیں روک دو ، اگر انہیں یہ شرط منظور ہو کہ اپنے رب کی عبادت صرف اپنے گھر کے اندر ہی کیا کریں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ اظہار ہی کریں تو ان سے کہو کہ تمہاری پناہ واپس دے دیں ، کیونکہ ہمیں یہ پسند نہیں کہ تمہاری دی ہوئی پناہ میں ہم دخل اندازی کریں لیکن ابوبکر کے اس اظہار کو بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ابن الدغنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں آیا اور اس نے کہا کہ جس شرط کے ساتھ میں نے آپ کے ساتھ عہد کیا تھا وہ آپ کو معلوم ہے ، اب یا آپ اس شرط پر قائم رہیے یا پھر میرے عہد کو واپس کیجئے کیونکہ یہ مجھے گوار ا نہیں کہ عرب کے کانوں تک یہ بات پہنچے کہ میں نے ایک شخص کو پناہ دی تھی ۔ لیکن اس میں ( قریش کی طرف سے ) دخل اندازی کی گئی ۔ اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہاری پناہ واپس کرتا ہوں اور اپنے رب عزوجل کی پناہ پر راضی اور خوش ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ میں تشریف رکھتے تھے ۔ آپ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تمہاری ہجرت کی جگہ مجھے خواب میں دکھائی گئی ہے وہا ں کھجور کے باغات ہیں اور دو پتھریلے میدانوں کے درمیان واقع ہے ، چنانچہ جنہیں ہجرت کرنی تھی انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جو لوگ سرزمین حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے تھے وہ بھی مدینہ چلے آئے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ ہجرت کی تیار ی شروع کر دی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کچھ دنوں کے لئے توقف کرو ۔ مجھے توقع ہے کہ ہجرت کی اجازت مجھے بھی مل جائے گی ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا واقعی آپ کو بھی اس کی توقع ہے ، میرے باپ آپ پر فدا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سفر کے خیال سے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور دو اونٹنیوں کو جو ان کے پاس تھیں کیکر کے پتے کھلا کر تیار کرنے لگے چار مہینے تک ۔ ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے عروہ نے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ، ایک دن ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر بیٹھے ہوئے تھے بھری دوپہر تھی کہ کسی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر پر رومال ڈالے تشریف لا رہے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہمارے یہاں اس وقت آنے کا نہیں تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں ۔ ایسے وقت میں آپ کسی خاص وجہ سے ہی تشریف لا رہے ہوں گے ، انہوں نے بیان کیا کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی ٰ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اجازت دی تو آپ اندر داخل ہوئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اس وقت یہاں سے تھوڑی دیر کے لئے سب کو اٹھادو ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہاں اس وقت تو سب گھر کے ہی آدمی ہیں ، میرے باپ آپ پر فدا ہوں ، یا رسول اللہ ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت دے دی گئی ہے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ ! کیا مجھے رفاقت سفر کا شرف حاصل ہو سکے گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ان دونوں میں سے ایک اونٹنی آپ لے لیجئے ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے جلدی جلدی ان کے لئے تیاریاں شروع کر دیں اور کچھ توشہ ایک تھیلے میں رکھ دیا ۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ٹکڑے کر کے تھیلے کا منہ اس سے باندھ دیا اور اسی وجہ سے انکانام ذات النطاقین ( دوپٹکے والی ) پڑ گیا عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جبل ثور کے غار میں پڑاؤ کیا اور تین راتیں گزاریں عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات وہیں جا کر گزارا کرتے تھے ، یہ نو جوان بہت سمجھدار تھے اور ذہین بےحد تھے ۔ سحر کے وقت وہاں سے نکل آتے اور صبح سویرے ہی مکہ پہنچ جاتے جیسے وہیں رات گزری ہو ۔ پھر جو کچھ یہاں سنتے اور جس کے ذریعہ ان حضرات کے خلاف کاروائی کے لیے کوئی تدبیر کی جاتی تو اسے محفوظ رکھتے اور جب اندھیرا چھا جاتا تو تمام اطلاعات یہاں آ کر پہنچاتے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ آپ ہر دو کے لئے قریب ہی دودھ دینے والی بکری چرایا کرتے تھے اور جب کچھ رات گزر جاتی تو اسے غار میں لاتے تھے ۔ آپ اسی پر رات گزارتے اس دودھ کو گرم لوہے کے ذریعہ گرم کر لیا جاتا تھا ۔ صبح منہ اندھیرے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ غار سے نکل آتے تھے ان تین راتوں میں روزانہ کا ان کا یہی دستور تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنی الدیل جو بنی عبد بن عدی کی شاخ تھی ، کے ایک شخص کو راستہ بتانے کے لئے اجرت پر اپنے ساتھ رکھا تھا ۔ یہ شخص راستوں کا بڑا ماہر تھا ۔ آل عاص بن وائل سہمی کا یہ حلیف بھی تھا اور کفار قریش کے دین پر قائم تھا ۔ ان بزرگوں نے اس پر اعتماد کیا اور اپنے دونوں اونٹ اس کے حوالے کر دیئے ۔ قرار یہ پایا تھا کہ تین راتیں گزار کر یہ شخص غار ثور میں ان سے ملاقات کرے ۔ چنانچہ تیسری رات کی صبح کو وہ دونوں اونٹ لے کر ( آ گیا ) اب عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور یہ راستہ بتانے والا ان حضرات کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے ساحل کے راستے سے ہوتے ہوئے ۔
Narrated Suraqa bin Ju'sham رضی اللہ عنہ :
"The messengers of the heathens of Quraish came to us declaring that they had assigned for the persons why would kill or arrest Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr, a reward equal to their bloodmoney. While I was sitting in one of the gatherings of my tribe. Bani Mudlij, a man from them came to us and stood up while we were sitting, and said, "O Suraqa! No doubt, I have just seen some people far away on the seashore, and I think they are Muhammad and his companions." Suraqa added, "I too realized that it must have been they. But I said 'No, it is not they, but you have seen so-and-so, and so-and-so whom we saw set out.' I stayed in the gathering for a while and then got up and left for my home. and ordered my slave-girl to get my horse which was behind a hillock, and keep it ready for me. Then I took my spear and left by the back door of my house dragging the lower end of the spear on the ground and keeping it low. Then I reached my horse, mounted it and made it gallop. When I approached them (i.e. Muhammad and Abu Bakr), my horse stumbled and I fell down from it, Then I stood up, got hold of my quiver and took out the divining arrows and drew lots as to whether I should harm them (i.e. the Prophet (ﷺ) and Abu Bakr) or not, and the lot which I disliked came out. But I remounted my horse and let it gallop, giving no importance to the divining arrows. When I heard the recitation of the Quran by Allah's Messenger (ﷺ) who did not look hither and thither while Abu Bakr was doing it often, suddenly the forelegs of my horse sank into the ground up to the knees, and I fell down from it. Then I rebuked it and it got up but could hardly take out its forelegs from the ground, and when it stood up straight again, its fore-legs caused dust to rise up in the sky like smoke. Then again I drew lots with the divining arrows, and the lot which I disliked, came out. So I called upon them to feel secure. They stopped, and I remounted my horse and went to them. When I saw how I had been hampered from harming them, it came to my mind that the cause of Allah's Messenger (ﷺ) (i.e. Islam) will become victorious. So I said to him, "Your people have assigned a reward equal to the bloodmoney for your head." Then I told them all the plans the people of Mecca had made concerning them. Then I offered them some journey food and goods but they refused to take anything and did not ask for anything, but the Prophet (ﷺ) said, "Do not tell others about us." Then I requested him to write for me a statement of security and peace. He ordered 'Amr bin Fuhaira who wrote it for me on a parchment, and then Allah's Messenger (ﷺ) proceeded on his way. Allah's Messenger (ﷺ) met Az-Zubair رضی اللہ عنہ in a caravan of Muslim merchants who were returning from Sham. Az-Zubair رضی اللہ عنہ provided Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ with white clothes to wear. When the Muslims of Medina heard the news of the departure of Allah's Messenger (ﷺ) from Mecca (towards Medina), they started going to the Harra every morning . They would wait for him till the heat of the noon forced them to return. One day, after waiting for a long while, they returned home, and when they went into their houses, a Jew climbed up the roof of one of the forts of his people to look for some thing, and he saw Allah's Messenger (ﷺ) and his companions dressed in white clothes, emerging out of the desert mirage. The Jew could not help shouting at the top of his voice, "O you 'Arabs! Here is your great man whom you have been waiting for!" So all the Muslims rushed to their arms and received Allah's Messenger (ﷺ) on the summit of Harra. The Prophet (ﷺ) turned with them to the right and alighted at the quarters of Bani 'Amr bin 'Auf, and this was on Monday in the month of Rabi-ul-Awal. Abu Bakr رضی اللہ عنہ stood up, receiving the people while Allah's Messenger (ﷺ) sat down and kept silent. Some of the Ansar who came and had not seen Allah's Messenger (ﷺ) before, began greeting Abu Bakr رضی اللہ عنہ, but when the sunshine fell on Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ came forward and shaded him with his sheet only then the people came to know Allah's Messenger (ﷺ). Allah's Messenger (ﷺ) stayed with Bani 'Amr bin 'Auf for ten nights and established the mosque (mosque of Quba) which was founded on piety. Allah's Messenger (ﷺ) prayed in it and then mounted his she-camel and proceeded on, accompanied by the people till his she-camel knelt down at (the place of) the Mosque of Allah's Messenger (ﷺ) at Medina. Some Muslims used to pray there in those days, and that place was a yard for drying dates belonging to Suhail and Sahl, the orphan boys who were under the guardianship of 'Asad bin Zurara. When his she-camel knelt down, Allah's Messenger (ﷺ) said, "This place, Allah willing, will be our abiding place." Allah's Messenger (ﷺ) then called the two boys and told them to suggest a price for that yard so that he might take it as a mosque. The two boys said, "No, but we will give it as a gift, O Allah's Messenger (ﷺ)!" Allah's Messenger (ﷺ) then built a mosque there. The Prophet (ﷺ) himself started carrying unburnt bricks for its building and while doing so, he was saying "This load is better than the load of Khaibar, for it is more pious in the Sight of Allah and purer and better rewardable." He was also saying, "O Allah! The actual reward is the reward in the Hereafter, so bestow Your Mercy on the Ansar and the Emigrants." Thus the Prophet (ﷺ) recited (by way of proverb) the poem of some Muslim poet whose name is unknown to me. (Ibn Shibab said, "In the Hadiths it does not occur that Allah's Apostle recited a complete poetic verse other than this one.")
ابن شہاب نے بیان کیا اور مجھے عبدالرحمٰن بن مالک مدلجی نے خبر دی ، وہ سراقہ بن مالک بن جعشم کے بھتیجے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں خبر دی اور انہوں نے سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ
ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے اور یہ پیش کش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اگر کوئی شخص قتل کر دے یا قید کر لائے تو اسے ہر ایک کے بدلے میں ایک سو اونٹ دیئے جائیں گے ۔ میں اپنی قوم بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان کا ایک آدمی سامنے آیااور ہمارے قریب کھڑا ہو گیا ۔ ہم ابھی بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس نے کہا سراقہ ! ساحل پر میں ابھی چند سائے دیکھ کر آ رہا ہوں میرا خیال ہے کہ وہ محمد اور ان کے ساتھی ہی ہیں ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سراقہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں سمجھ گیا اس کا خیال صحیح ہے لیکن میں نے اس سے کہا کہ وہ لوگ نہیں ہیں میں نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے ہمارے سامنے سے اسی طرف گئے ہیں ۔ اس کے بعد میں مجلس میں تھوڑی دیر اور بیٹھا رہا اور پھر اٹھتے ہی گھر گیا اور لونڈی سے کہا کہ میرے گھوڑے کو لے کر ٹیلے کے پیچھے چلی جائے اور وہیں میرا انتظار کرے ، اس کے بعد میں نے اپنا نیزہ اٹھایا اور گھر کی پشت کی طرف سے باہر نکل آیا میں نیزے کی نوک سے زمین پر لکیر کھینچتا ہوا چلا گیا اور اوپر کے حصے کو چھپائے ہوئے تھا ۔ ( سراقہ یہ سب کچھ اس لئے کر رہا تھا کہ کسی کو خبر نہ ہو ورنہ وہ بھی میرے انعام میں شریک ہو جائے گا ) میں گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہوا اور صبا رفتاری کے ساتھ اسے لے چلا ، جتنی جلدی کے ساتھ بھی میرے لئے ممکن تھا ، آخر میں نے ان کو پا ہی لیا ۔ اسی وقت گھوڑے نے ٹھو کر کھائی اور مجھے زمین پر گرا دیا ۔ لیکن میں کھڑاہو گیا اور اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا اس میں سے تیر نکال کر میں نے فال نکالی کہ آیا میں انہیں نقصان پہنچا سکتا ہوں یا نہیں ۔ فال ( اب بھی ) وہ نکلی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا ۔ لیکن میں دوبارہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور تیروں کے فال کی پرواہ نہیں کی ۔ پھر میرا گھوڑا مجھے تیزی کے ساتھ دوڑائے لئے جا رہا تھا ۔ آخر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرا ، ت سنی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کوئی توجہ نہیں کر رہے تھے لیکن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ باربار مڑ کر دیکھتے تھے ، تو میرے گھوڑے کے آگے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے جب وہ ٹخنوں تک دھنس گیا تو میں اس کے اوپر گر پڑا اور اسے اٹھنے کے لئے ڈانٹا میں نے اسے اٹھا نے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے پاؤں زمین سے نہیں نکال سکا ۔ بڑی مشکل سے جب اس نے پوری طرح کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اس کے آگے کے پاؤں سے منتشر سا غبار اٹھ کر دھوئیں کی طرح آسمان کی طرف چڑھنے لگا ۔ میں نے تیروں سے فال نکالی لیکن اس مرتبہ بھی وہی فال آئی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا ۔ اس وقت میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو امان کے لئے پکارا ۔ میری آواز پر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا ۔ ان تک برے ارادے کے ساتھ پہنچنے سے جس طرح مجھے روک دیا گیا تھا ، اسی سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت غالب آ کر رہے گی ۔ اس لئے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کے مارنے کے لئے سو اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا ہے ۔ پھر میں نے آپ کو قریش کے ارادوں کی اطلاع دی ۔ میں نے ان حضرات کی خدمت میں کچھ توشہ اور سامان پیش کیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا مجھ سے کسی اور چیز کا بھی مطالبہ نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ہمارے متعلق راز داری سے کام لینا لیکن میں نے عرض کیا کہ آپ میرے لئے ایک امن کی تحریر لکھ دیجئیے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے چمڑے کے ایک رقعہ پر تحریر امن لکھ دی ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے ۔ ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام سے واپس آ رہے تھے ۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سفید پوشاک پیش کی ۔ ادھر مدینہ میں بھی مسلمانوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے ہجرت کی اطلاع ہو چکی تھی اور یہ لوگ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک آتے اور انتظار کرتے رہتے لیکن دوپہر کی گرمی کی وجہ سے ( دوپہر کو ) انہیں واپس جانا پڑتا تھا ایک دن جب بہت طویل انتظار کے بعد سب لوگ آ گئے اور اپنے گھر پہنچ گئے تو ایک یہودی اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے چڑھا ۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا سفید سفید چلے آ رہے ہیں ۔ ( یا تیزی سے جلدی جلدی آ رہے ہیں ) جتنا آپ نزدیک ہو رہے تھے اتنی ہی دور سے پانی کی طرح ریتی کا چمکنا کم ہوتا جاتا ۔ یہودی بے اختیار چلا اٹھا کہ اے عرب کے لوگو ! تمہارے یہ بزرگ سردار آ گئے جن کا تمہیں انتظار تھا ۔ مسلمان ہتھیار لے کر دوڑ پڑے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام حرہ پر استقبال کیا ۔ آپ نے ان کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں قیام کیا ۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ اور پیر کا دن تھا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں سے ملنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے ۔ انصار کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا ، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو سلام کر رہے تھے ۔ لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ پڑنے لگی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا ۔ اس وقت سب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عمرو بن عوف میں تقریباً دس راتوں تک قیام کیا اور وہ مسجد ( قباء ) جس کی بنیاد تقویٰ پر قائم ہے وہ اسی دوران میں تعمیر ہوئی اور آپ نے اس میں نماز پڑھی پھر ( جمعہ کے دن ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ پیدل روانہ ہوئے ۔ آخر آپ کی سواری مدینہ منورہ میں اس مقام پر آ کر بیٹھ گئی جہاں اب مسجدنبوی ہے ۔ اس مقام پر چند مسلمان ان دنوں نماز ادا کیا کرتے تھے ۔ یہ جگہ سہیل اور سہل ( رضی اللہ عنہما ) دو یتیم بچوں کی تھی اور کھجور کا یہاں کھلیان لگتا تھا ۔ یہ دونوں بچے حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے جب آپ کی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاء اللہ یہی ہمارے قیام کی جگہ ہو گی ۔ اس کے بعد آپ نے دونوں یتیم بچوں کو بلایا اور ان سے اس جگہ کا معاملہ کرنا چاہا تاکہ وہاں مسجد تعمیر کی جا سکے ۔ دونوں بچوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم یہ جگہ آپ کو مفت دے دیں گے ، لیکن حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مفت طور پر قبول کرنے سے انکار کیا ۔ زمین کی قیمت ادا کر کے لے لی اور وہیں مسجد تعمیر کی ۔ اس کی تعمیر کے وقت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اینٹوں کے ڈھونے میں شریک تھے ۔ اینٹ ڈھوتے وقت آپ فرماتے جاتے تھے کہ ” یہ بوجھ خیبر کے بوجھ نہیں ہیں بلکہ اس کا اجر و ثواب اللہ کے یہاں باقی رہنے والا ہے اس میں بہت طہارت اور پاکی ہے “ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرما تے تھے کہ ” اے اللہ ! اجر تو بس آخرت ہی کا ہے پس ، تو انصار اور مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما “ اس طرح آپ نے ایک مسلمان شاعر کا شعر پڑھا جن کا نام مجھے معلوم نہیں ، ابن شہاب نے بیان کیا کہ احادیث سے ہمیں یہ اب تک معلوم نہیں ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر کے سوا کسی بھی شاعر کے پورے شعر کو کسی موقعہ پر پڑھا ہو ۔
Narrated Asma رضی اللہ عنہا :
I prepared the journey food for the Prophet (ﷺ) and Abu Bakr when they wanted (to migrate to) Medina. I said to my father (Abu Bakr رضی اللہ عنہ), "I do not have anything to tie the container of the journey food with except my waist belt." He said, "Divide it lengthwise into two." I did so, and for this reason I was named 'Dhat-un-Nitaqain' (i.e. the owner of two belts). (Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said, "Asma', Dhat-un-Nitaq.")
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد اور فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماءرضی اللہ عنہا نے کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ ہجرت کر کے جانے لگے تو میں نے آپ دونوں کے لئے ناشتہ تیار کیا ۔ میں نے اپنے والد ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے کہا کہ میرے پٹکے کے سوا اور کوئی چیز اس وقت میرے پاس ایسی نہیں جس سے میں اس ناشتہ کو باندھ دوں ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پھر اس کے دو ٹکڑے کر لو ۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اس وقت سے میرا نام ذات النطاقین ( دو پٹکوں والی ) ہو گیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسماء کو ذات النطاق کہا ۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
When the Prophet (ﷺ) migrated to Medina, Suraqa bin Malik bin Ju'sham pursued him. The Prophet (ﷺ) invoked evil on him, therefore the forelegs of his horse sank into the ground. Suraqa said (to the Prophet ), "Invoke Allah to rescue me, and I will not harm you. "The Prophet (ﷺ) invoked Allah for him. Then Allah's Messenger (ﷺ) felt thirsty and he passed by a shepherd. Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "I took a bowl and milked a little milk in it and brought it to the Prophet (ﷺ) and he drank till I was pleased."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے ، کہا میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ کا پیچھا کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا ، اس نے عرض کیا کہ میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے ( کہ اس مصیبت سے نجات دے ) میں آپ کا کوئی نقصان نہیں کروں گا ، آپ نے اس کے لیے دعا کی ۔ ( اس کا گھوڑا زمین سے نکل آیا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ راستے میں پیاس معلوم ہوئی اتنے میں ایک چرواہا گزرا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں ( ریوڑ کی ایک بکری کا ) تھوڑا سا دودھ دوہا ، وہ دودھ میں نے آپ کی خدمت میں لا کر پیش کیا جسے آپ نے نوش فرمایا کہ مجھے خوشی حاصل ہوئی ۔
Narrated Asma رضی اللہ عنہا :
She conceived `Abdullah bin Az-Zubair رضی اللہ عنہا . She added, "I migrated to Medina while I was at full term of pregnancy and alighted at Quba where I gave birth to him. Then I brought him to the Prophet (ﷺ) and put him in his lap. The Prophet (ﷺ) asked for a date, chewed it, and put some of its juice in the child's mouth. So, the first thing that entered the child's stomach was the saliva of Allah's Messenger (ﷺ). Then the Prophet rubbed the child's palate with a date and invoked for Allah's Blessings on him, and he was the first child born amongst the Emigrants in the Islamic Land (i.e. Medina). Similarly, Khalid bin Makhlad, Ali bin Mushir, Hisham, Urwah has reported from Hadrat from Asma رضی اللہ عنہا that when she migrated to the Prophet (ﷺ), she was Pregnant.
مجھ سے زکریابن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ان کے پیٹ میں تھے ، انہیں دنوں جب حمل کی مدت بھی پوری ہو چکی تھی ، میں مدینہ کے لئے روانہ ہوئی یہاں پہنچ کر میں نے قباء میں پڑاؤ کیا اور یہیں عبداللہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔ پھر میں انہیں لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کی گود میں اسے رکھ دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور طلب فرمائی اور اسے چبا کر آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے منہ میں اسے رکھ دیا ۔ چنانچہ سب سے پہلی چیز جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک لعاب تھا ۔ اس کے بعد آپ نے ان کے لئے دعا فرمائی اور اللہ سے ان کے لئے برکت طلب کی ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے بچے ہیں جن کی پیدائش ہجرت کے بعد ہوئی ۔ زکریا کے ساتھ اس روایت کی متا بعت خالد بن مخلد نے کی ہے ۔ ان سے علی بن مسہرنے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کو نکلیں تھیں تو وہ حاملہ تھیں ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
The first child who was born in the Islamic Land (i.e. Medina) amongst the Emigrants, was `Abdullah bin Az-Zubair رضی اللہ عنہما . They brought him to the Prophet. The Prophet (ﷺ) took a date, and after chewing it, put its juice in his mouth. So the first thing that went into the child's stomach, was the saliva of the Prophet.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسامہ نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
سب سے پہلا بچہ جواسلام میں ( ہجرت کے بعد ) پیدا ہوا ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہیں ، انہیں لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے چبایا پھر اس کو ان کے منہ میں ڈال دیا ۔ اس لئے سب سے پہلی چیز جو ان کے پیٹ میں گئی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک تھا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) arrived at Medina with Abu Bakr رضی اللہ عنہ , riding behind him on the same camel. Abu Bakr رضی اللہ عنہ was an elderly man known to the people, while Allah's Messenger (ﷺ) was a youth that was unknown. Thus, if a man met Abu Bakr رضی اللہ عنہ , he would say, "O Abu Bakr! Who is this man in front of you?" Abu Bakr رضی اللہ عنہ would say, "This man shows me the Way," One would think that Abu Bakr رضی اللہ عنہ meant the road, while in fact, Abu Bakr رضی اللہ عنہ the way of virtue and good. Then Abu Bakr رضی اللہ عنہ looked behind and saw a horse-rider pursuing them. He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This is a horse-rider pursuing us." The Prophet (ﷺ) looked behind and said, "O Allah! Cause him to fall down." So the horse threw him down and got up neighing. After that the rider, Suraqa said, "O Allah's Prophet! Order me whatever you want." The Prophet said, "Stay where you are and do not allow anybody to reach us." So, in the first part of the day Suraqa was an enemy of Allah's Prophet and in the last part of it, he was a protector. Then Allah's Apostle alighted by the side of the Al-Harra and sent a message to the Ansar, and they came to Allah's Prophet and Abu Bakr رضی اللہ عنہ , and having greeted them, they said, "Ride (your she-camels) safe and obeyed." Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ rode and the Ansar, carrying their arms, surrounded them. The news that Allah's Prophet had come circulated in Medina. The people came out and were eagerly looking and saying "Allah's Prophet has come! Allah's Prophet has come! So the Prophet (ﷺ) went on till he alighted near the house of Abu Ayub رضی اللہ عنہ . While the Prophet (ﷺ) was speaking with the family members of Abu Ayub رضی اللہ عنہ , `Abdullah bin Salam heard the news of his arrival while he himself was picking the dates for his family from his family garden. He hurried to the Prophet (ﷺ) carrying the dates which he had collected for his family from the garden. He listened to Allah's Prophet and then went home. Then Allah's Prophet said, "Which is the nearest of the houses of our kith and kin?" Abu Ayub رضی اللہ عنہ replied, "Mine, O Allah's Prophet! This is my house and this is my gate." The Prophet (ﷺ) said, "Go and prepare a place for our midday rest." Abu Ayub رضی اللہ عنہ said, "Get up (both of you) with Allah's Blessings." So when Allah's Prophet went into the house, `Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ came and said "I testify that you (i.e. Muhammad) are Apostle of Allah and that you have come with the Truth. The Jews know well that I am their chief and the son of their chief and the most learned amongst them and the son of the most learned amongst them. So send for them (i.e. Jews) and ask them about me before they know that I have embraced Islam, for if they know that they will say about me things which are not correct." So Allah's Messenger (ﷺ) sent for them, and they came and entered. Allah's Messenger (ﷺ) said to them, "O (the group of) Jews! Woe to you: be afraid of Allah. By Allah except Whom none has the right to be worshipped, you people know for certain, that I am Apostle of Allah and that I have come to you with the Truth, so embrace Islam." The Jews replied, "We do not know this." So they said this to the Prophet and he repeated it thrice. Then he said, "What sort of a man is `Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ amongst you?" They said, "He is our chief and the son of our chief and the most learned man, and the son of the most learned amongst us." He said, "What would you think if he should embrace Islam?" They said, "Allah forbid! He can not embrace Islam." He said, " What would you think if he should embrace Islam?" They said, "Allah forbid! He can not embrace Islam." He said, "What would you think if he should embrace Islam?" They said, "Allah forbid! He can not embrace Islam." He said, "O Ibn Salam! Come out to them." He came out and said, "O (the group of) Jews! Be afraid of Allah except Whom none has the right to be worshipped. You know for certain that he is Apostle of Allah and that he has brought a True Religion!' They said, "You tell a lie." On that Allah's Messenger (ﷺ) turned them out.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے باپ عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے عبد العزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بوڑھے ہو گئے تھے اور ان کو لوگ پہچانتے بھی تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابھی جوان معلوم ہوتے تھے اور آپ کو لوگ عام طور سے پہچانتے بھی نہ تھے ۔ بیان کیا کہ اگر راستہ میں کوئی ملتا اور پوچھتا کہ اے ابوبکر ! یہ تمہارے ساتھ کون صاحب ہیں ؟ تو آپ جواب دیتے کہ یہ میرے ہادی ہیں ، مجھے راستہ بتاتے ہیں پوچھنے والا یہ سمجھتا کہ مدینہ کا راستہ بتلانے والا ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مطلب اس کلام سے یہ تھا کہ آپ دین وایمان کا راستہ بتلاتے ہیں ۔ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے مڑے تو ایک سوار نظر آیا جو ان کے قریب آچکا تھا ۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ سوار آ گیا اور اب ہمارے قریب ہی پہنچنے والا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے مڑ کر دیکھا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اسے گرادے چنانچہ گھوڑی نے اسے گرا دیا ۔ پھر جب وہ ہنہناتی ہوئی اٹھی تو سوار ( سراقہ ) نے کہا اے اللہ کے نبی ! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ کھڑا رہ اور دیکھ کسی کو ہماری طرف نہ آنے دینا ۔ راوی نے بیان کیا کہ وہی شخص جو صبح آپ کے خلاف تھا شام جب ہوئی تو آپ کا وہ ہتھیار تھا دشمن کو آپ سے روکنے لگا ۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ پہنچ کر ) حرہ کے قریب اترے اور انصار کو بلابھیجا ۔ اکابر انصار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں کو سلام کیا اور عرض کیا آپ سوار ہو جائیں آپ کی حفاظت اور فرمانبرداری کی جائے گی ، چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سوار ہو گئے اور ہتھیار بند انصار نے آپ دونوں کو حلقہ میں لے لیا ۔ اتنے میں مدینہ میں بھی سب کو معلوم ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں سب لوگ آپ کو دیکھنے کے لئے بلندی پر چڑھ گئے اور کہنے لگے کہ اللہ کے نبی آ گئے ۔ اللہ کے نبی آ گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف چلتے رہے اور ( مدینہ پہنچ کر ) حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھرکے پاس سواری سے اتر گئے ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ( ایک یہودی عالم نے ) اپنے گھر والوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنا ، وہ اس وقت اپنے ایک کھجور کے باغ میں تھے اور کھجور جمع کر رہے تھے انہوں نے ( سنتے ہی ) بڑی جلدی کے ساتھ جو کچھ کھجور جمع کر چکے تھے اسے رکھ دینا چاہا جب آپ کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جمع شدہ کھجوریں ان کے ساتھ ہی تھیں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اپنے گھر واپس چلے آئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے ( نانہالی ) اقارب میں کس کا گھر یہاں سے زیادہ قریب ہے ؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرا اے اللہ کے نبی ! یہ میرا گھر ہے اور یہ اس کا دروازہ ہے فرمایا ( اچھا تو جاؤ ) دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ ہمارے لئے درست کرو ہم دوپہر کو وہیں آرام کریں گے ۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا پھر آپ دونوں تشریف لے چلیں ، اللہ مبارک کرے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ان کے گھر میں داخل ہوئے تھے کہ عبداللہ بن سلام بھی آ گئے اور کہا کہ ” میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ، اور یہودی میرے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور ان کے سردار کا بیٹا ہوں اور ان میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور ان کے سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں ، اس لئے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام لانے کا خیال انہیں معلوم ہو ، بلایئے اور ان سے میرے بارے میں دریافت فرما یئے ، کیونکہ انہیں اگر معلوم ہو گیا کہ میں اسلام لاچکا ہوں تو میرے متعلق غلط باتیں کہنی شروع کر دیں گے ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور جب وہ آپ کی خدمت حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے فرمایا اے یہودیو ! افسوس تم پر ، اللہ سے ڈرو ، اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول بر حق ہوں اور یہ بھی کہ میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں ، پھر اب اسلام میں داخل ہو جاؤ ، انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح تین مرتبہ کہا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اچھا عبداللہ بن سلام تم میں کون صاحب ہیں ؟ انہوں نے کہا ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ، ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے اور ہمارےسب سے بڑے عالم کے بیٹے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ اسلام لے آئیں ۔ پھر تمہار ا کیا خیال ہو گا ۔ کہنے لگے اللہ ان کی حفاظت کرے ، وہ اسلام کیوں لانے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن سلام ! اب ان کے سامنے آ جاؤ ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آ گئے اور کہا اے یہود ! خدا سے ڈرو اس اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تمہیں خوب معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں ۔ یہودیوں نے کہا تم جھوٹے ہو ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے باہر چلے جانے کے لئے فرمایا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہ :
`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہما fixed a grant of 4000 (Dirhams) for every Early Emigrant (i.e. Muhajir) and fixed a grant of 3500 (Dirhams) only for Ibn `Umar رضی اللہ عنہما . Somebody said to `Umar, "Ibn `Umar رضی اللہ عنہما is also one of the Early Emigrants; why do you give him less than four-thousand?" `Umar رضی اللہ عنہ replied, "His parents took him with them when they migrated, so he was not like the one who had migrated by himself.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ، ان سے ابن جریج نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عمر نے خبر دی ، انہیں نافع نے یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ، فرمایا
آپ نے تمام مہاجرین اولین کا وظیفہ ( اپنے عہد خلافت میں ) چار چار ہزار چار چار قسطوں میں مقرر کر دیا تھا ، لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا وظیفہ چار قسطوں میں ساڑھے تین ہزار تھا اس پر ان سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مہاجرین میں سے ہیں ۔ پھر آپ انہیں چار ہزار سے کم کیوں دیتے ہیں ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہیں ان کے والدین ہجرت کر کے یہاں لائے تھے ۔ اس لئے وہ ان مہاجرین کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے خود ہجرت کی تھی ۔
Narrated Khabbab رضی اللہ عنہ :
We migrated with Allah's Messenger (ﷺ) (See Hadith No. 253 below).
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی انہیں اعمش نے ، انہیں ابووائل شقیق بن سلمہ نے اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی ۔
Narrated Khabbab رضی اللہ عنہ :
We migrated with Allah's Messenger (ﷺ) seeking Allah's Countenance, so our rewards became due and sure with Allah. Some of us passed away without eating anything of their rewards in this world. One of these was Mus`ab bin `Umar رضی اللہ عنہ who was martyred on the day of the battle of Uhud. We did not find anything to shroud his body with except a striped cloak. When we covered his head with it, his feet remained uncovered, and when we covered his feet with it, his head remained uncovered. So Allah's Apostle ordered us to cover his head with it and put some Idhkhir (i.e. a kind of grass) over his feet. And there are some amongst us whose fruits have ripened and they are collecting them (i.e. they have received their rewards in this world).
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، انہوں نے شقیق بن سلمہ سے سنا ، کہا کہ ہم سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر بھی ضرور دے گا ۔ پس ہم میں سے بعض تو پہلے ہی اس دنیا سے اٹھ گئے ۔ اور یہاں اپنا کوئی بدلہ انہوں نے نہیں پایا ۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے ہیں ۔ احد کی لڑائی میں انہوں نے شہادت پائی ۔ اور ان کے کفن کے لئے ہمارے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہیں تھا ۔ اور وہ بھی ایسا کہ اگر اس سے ہم ان کا سر چھپا تے تو ان کے پاؤں کھل جاتے ۔ اور اگر پاؤں چھپاتے تو سر کھلا رہ جاتا ۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کا سر چھپا دیا جائے اور پاؤں کو اذخر گھاس سے چھپا دیا جائے ۔ اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنے عمل کا پھل اس دنیا میں پختہ کر لیا ۔ اور اب وہ اس کو خوب چن رہے ہیں ۔
Narrated Abu Burda Bin Abi Musa Al-Ash`ari:
`Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما said to me, "Do you know what my father said to your father once?" I said, "No." He said, "My father said to your father, 'O Abu Musa, will it please you that we will be rewarded for our conversion to Islam with Allah's Messenger (ﷺ) and our migration with him, and our Jihad with him and all our good deeds which we did, with him, and that all the deeds we did after his death will be disregarded whether good or bad?' Your father (i.e. Abu Musa رضی اللہ عنہ) said, 'No, by Allah, we took part in Jihad after Allah's Messenger (ﷺ) , prayed and did plenty of good deeds, and many people have embraced Islam at our hands, and no doubt, we expect rewards from Allah for these good deeds.' On that my father (i.e. `Umar) said, 'As for myself, By Him in Whose Hand `Umar's soul is, I wish that the deeds done by us at the time of the Prophet (ﷺ) remain rewardable while whatsoever we did after the death of the Prophet (ﷺ) be enough to save us from Punishment in that the good deeds compensate for the bad ones.' " On that I said (to Ibn `Umar رضی اللہ عنہ), "By Allah, your father was better than my father!"
ہم سے یحییٰ بن بشر نے بیان کیا ، کہا ہم سے روح نے بیان کیا ، ان سے عوف نے بیان کیا ، ان سے معاویہ بن قرہ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ
مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا ۔ کیا تم کو معلوم ہے کہ میرے والد عمر رضی اللہ عنہ نے تمہارے والد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو کیا جواب دیا تھا ، انہوں نے کہا نہیں ، تو عبداللہ بن عمر نے کہا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کہا اے ابوموسیٰ ! کیا تم اس پر راضی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا اسلام ، آپ کے ساتھ ہماری ہجرت ، آپ کے ساتھ ہمارا جہاد ہمارے تمام عمل جوہم نے آپ کی زندگی میں کئے ہیں ان کے بدلہ میں ہم اپنے ان اعمال سے نجات پا جائیں جو ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں گو وہ نیک بھی ہوں بس برابری پر معاملہ ختم ہو جائے ۔ اس پر آپ کے والد نے میرے والد سے کہا خدا کی قسم ! میں اس پر راضی نہیں ہوں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جہاد کیا ، نمازیں پڑھیں ، روزے رکھے اور بہت سے اعمال خیر کئے اور ہمارے ہاتھ پر ایک مخلوق نے اسلام قبول کیا ، ہم تو اس کے ثواب کی بھی امید رکھتے ہیں اس پر میرے والد نے کہا ( خیر ابھی تم سمجھو ) لیکن جہاں تک میرا سوال ہے تو اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری خواہش ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کئے ہوئے ہمارے اعمال محفوظ رہے ہوں اور جتنے اعمال ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں ان سب سے اس کے بدلہ میں ہم نجات پا جائیں اور برابر پر معاملہ ختم ہو جائے ۔ ابوبردہ کہتے ہیں اس پر میں نے کہا اللہ کی قسم آپ کے والد ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) میرے والد ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) سے بہتر تھے ۔