Back to Sahih Bukhari

Merits of the Helpers in Madinah (Ansaar)

كتاب مناقب الأنصار

Chapter 64

Hadith 3836
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَلاَ مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلاَ يَحْلِفْ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏"‏‏.‏ فَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا، فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "If anybody has to take an oath, he should swear only by Allah." The people of Quraish used to swear by their fathers, but the Prophet (ﷺ) said, "Do not swear by your fathers. "

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو اللہ کے سوا اور کسی کی قسم نہ کھائے ۔ پس قریش اپنے باپ دادا کی قسمیں کھاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ۔

Hadith 3837
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَىِ الْجَنَازَةِ وَلاَ يَقُومُ لَهَا، وَيُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُومُونَ لَهَا، يَقُولُونَ إِذَا رَأَوْهَا كُنْتِ فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ‏.‏ مَرَّتَيْنِ‏.‏
English

Narrated `Abdur-Rahman bin Al-Qasim:

Al-Qasim used to walk in front of the funeral procession. He used not to get up for the funeral procession (in case it passed by him). And he narrated from `Aisha رضی اللہ عنہا that she said, "The people of the pre-lslamic period of ignorance used to stand up for the funeral procession. When they saw it they used to say twice: 'You were noble in your family. What are you now?"

Urdu

مجھ سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہامجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا کہ

ان کے والدقاسم بن محمد جنازہ کے آگے آگے چلاکرتے تھے اور جنازہ کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہوتے تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے وہ بیان کرتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ جنازہ کے لئے کھڑے ہو جایا کرتے تھے اور اسے دیکھ کر دوبارکہتے تھے کہ ، اے مرنے والے جس طرح اپنی زندگی میں تو اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا. اب تم کیا ہو؟"

Hadith 3838
Sahih
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ قَالَ عُمَرُ ـ رضى الله عنه ـ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لاَ يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيرٍ، فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ‏.‏
English

Narrated `Umar رضی اللہ عنہ :

The pagans used not to leave Jam' (i.e. Muzdalifa) till the sun had risen on Thabir mountain. The Prophet contradicted them by leaving (Muzdalifa) before the sun rose.

Urdu

مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا

جب تک دھوپ ثبیر پہاڑی پر نہ آجاتی قریش ( حج میں ) مزدلفہ سے نہیں نکلا کرتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور سورج نکلنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا ۔

Hadith 3839
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَكُمْ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏{‏وَكَأْسًا دِهَاقًا‏}‏ قَالَ مَلأَى مُتَتَابِعَةً‏.‏
English

Narrated Husain:

That `Ikrima said, "Kasan Dihaqa means glass full (of something) followed successively with other full glasses."

Urdu

مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا ، کیا تم لوگوں سے یحییٰ بن مہلب نے یہ حدیث بیان کی تھی کہ ان سے حصین نے بیان کیا ،

ان سے عکرمہ نے ( قرآن مجید کی آیت میں ) کے متعلق فرمایا کہ اس کے ( معنی ٰ ہیں ) بھرا ہوا پیالہ جس کا مسلسل دور چلے ۔

Hadith 3840
Sahih
قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، فِي الْجَاهِلِيَّةِ اسْقِنَا كَأْسًا دِهَاقًا‏.‏
English

Ibn `Abbas said رضی اللہ عنہما :

"In the pre-lslamic period of ignorance I heard my father saying, "Provide us with Kasan Dihaqa."

Urdu

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں ( یہ لفظ استعمال کرتے تھے ) ’ ’اسقنا کاسا دھاقا “ یعنی ہم کو بھرپور جام شراب پلاتے رہو ۔

Hadith 3841
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلاَ كُلُّ شَىْءٍ مَا خَلاَ اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "The most true words said by a poet was the words of Labid." He said, Verily, Everything except Allah is perishable and Umaiya bin As-Salt was about to be a Muslim (but he did not embrace Islam).

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیا ن نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک نے ، ان سے ابوسلمہ نے ، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے سچی بات جو کوئی شاعر کہہ سکتا تھا وہ لبید شاعر نے کہی ” ہا ں اللہ کے سوا ہرچیز باطل ہے “ اور امیہ بن ابی الصلٹ ( جاہلیت کا ایک شاعر ) مسلمان ہونے کے قریب تھا ۔

Hadith 3842
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ لأَبِي بَكْرٍ غُلاَمٌ يُخْرِجُ لَهُ الْخَرَاجَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِهِ، فَجَاءَ يَوْمًا بِشَىْءٍ فَأَكَلَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ الْغُلاَمُ تَدْرِي مَا هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا هُوَ قَالَ كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا أُحْسِنُ الْكِهَانَةَ، إِلاَّ أَنِّي خَدَعْتُهُ، فَلَقِيَنِي فَأَعْطَانِي بِذَلِكَ، فَهَذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ‏.‏ فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَىْءٍ فِي بَطْنِهِ‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

Abu Bakr رضی اللہ عنہ had a slave who used to give him some of his earnings. Abu Bakr رضی اللہ عنہ used to eat from it. One day he brought something and Abu Bakr رضی اللہ عنہ ate from it. The slave said to him, "Do you know what this is?" Abu Bakr رضی اللہ عنہ then enquired, "What is it?" The slave said, "Once, in the pre-Islamic period of ignorance I foretold somebody's future though I did not know this knowledge of foretelling but I, cheated him, and when he met me, he gave me something for that service, and that is what you have eaten from." Then Abu Bakr رضی اللہ عنہ put his hand in his mouth and vomited whatever was present in his stomach.

Urdu

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے ، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام تھا جو روزانہ انہیں کچھ کمائی دیا کرتا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے اپنی ضرورت میں استعمال کیا کرتے تھے ۔ ایک دن وہ غلام کوئی چیز لایا اورحضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے کھا لیا ۔ پھر غلام نے کہا آپ کو معلوم ہے ؟ یہ کیسی کمائی سے ہے ؟ آپ نے دریافت فرمایا کیسی ہے ؟ اس نے کہا میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شحص کے لیے کہا نت کی تھی حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی ، میں نے اسے صرف دھوکہ دیا تھالیکن اتفاق سے وہ مجھے مل گیا اور اس نے اس کی اجرت میں مجھ کو یہ چیز دی تھی ، آپ کھا بھی چکے ہیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور پیٹ کی تمام چیزیں قے کر کے نکال ڈالیں ۔

Hadith 3843
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَايَعُونَ لُحُومَ الْجَزُورِ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ، قَالَ وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ تَحْمِلَ الَّتِي نُتِجَتْ، فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

In the pre-lslamic period of ignorance the people used to bargain with the meat of camels on the principle of Habal-al-Habala which meant the sale of a she-camel that would be born by a she-camel that had not yet been born. The Prophet (ﷺ) forbade them such a transaction.

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے کہا ، مجھ کو نافع نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

زمانہ جاہلیت کے لوگ ” حبل الحبلہ “ تک قیمت کی ادائیگی کے وعدہ پر ، اونٹ کا گوشت ادھار بیچا کرتے تھے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبل الحبلۃ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی حاملہ اوٹنی اپنا بچہ جنے پھر وہ نوزائیدہ بچہ ( بڑھ کر ) حاملہ ہو ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی خریدوفروخت ممنوع قرار دے دی تھی ۔

Hadith 3844
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، قَالَ غَيْلاَنُ بْنُ جَرِيرٍ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَيُحَدِّثُنَا عَنِ الأَنْصَارِ،، وَكَانَ، يَقُولُ لِي فَعَلَ قَوْمُكَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَفَعَلَ قَوْمُكَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا‏.‏
English

Narrated Ghailan bin Jarir:

We used to visit Anas bin Malik رضی اللہ عنہ and he used to talk to us about the Ansar, and used to say to me: "Your people did so-and-so on such-and-such a day, and your people did so-and-so on such-and-such a day."

Urdu

ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ غیلان بن جریر نے بیان کیا کہ

ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ وہ ہم سے انصار کے متعلق بیان فرمایا کرتے تھے اور مجھ سے فرما تے کہ تمہاری قوم نے فلاں موقع پر یہ کا رنامہ انجام دیا ، فلاں موقع پر یہ کارنامہ انجام دیا ۔

Hadith 3845
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا قَطَنٌ أَبُو الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ قَسَامَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَفِينَا بَنِي هَاشِمٍ، كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ اسْتَأْجَرَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ فَخِذٍ أُخْرَى، فَانْطَلَقَ مَعَهُ فِي إِبِلِهِ، فَمَرَّ رَجُلٌ بِهِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ فَقَالَ أَغِثْنِي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي، لاَ تَنْفِرُ الإِبِلُ‏.‏ فَأَعْطَاهُ عِقَالاً، فَشَدَّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِهِ، فَلَمَّا نَزَلُوا عُقِلَتِ الإِبِلُ إِلاَّ بَعِيرًا وَاحِدًا، فَقَالَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ مَا شَأْنُ هَذَا الْبَعِيرِ لَمْ يُعْقَلْ مِنْ بَيْنِ الإِبِلِ قَالَ لَيْسَ لَهُ عِقَالٌ‏.‏ قَالَ فَأَيْنَ عِقَالُهُ قَالَ فَحَذَفَهُ بِعَصًا كَانَ فِيهَا أَجَلُهُ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ أَتَشْهَدُ الْمَوْسِمَ قَالَ مَا أَشْهَدُ، وَرُبَّمَا شَهِدْتُهُ‏.‏ قَالَ هَلْ أَنْتَ مُبْلِغٌ عَنِّي رِسَالَةً مَرَّةً مِنَ الدَّهْرِ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ فَكُنْتَ إِذَا أَنْتَ شَهِدْتَ الْمَوْسِمَ فَنَادِ يَا آلَ قُرَيْشٍ‏.‏ فَإِذَا أَجَابُوكَ، فَنَادِ يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ‏.‏ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَسَلْ عَنْ أَبِي طَالِبٍ، فَأَخْبِرْهُ أَنَّ فُلاَنًا قَتَلَنِي فِي عِقَالٍ، وَمَاتَ الْمُسْتَأْجَرُ، فَلَمَّا قَدِمَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ أَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ مَا فَعَلَ صَاحِبُنَا قَالَ مَرِضَ، فَأَحْسَنْتُ الْقِيَامَ عَلَيْهِ، فَوَلِيتُ دَفْنَهُ‏.‏ قَالَ قَدْ كَانَ أَهْلَ ذَاكَ مِنْكَ‏.‏ فَمَكُثَ حِينًا، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي أَوْصَى إِلَيْهِ أَنْ يُبْلِغَ عَنْهُ وَافَى الْمَوْسِمَ فَقَالَ يَا آلَ قُرَيْشٍ‏.‏ قَالُوا هَذِهِ قُرَيْشٌ‏.‏ قَالَ يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ‏.‏ قَالُوا هَذِهِ بَنُو هَاشِمٍ‏.‏ قَالَ أَيْنَ أَبُو طَالِبٍ قَالُوا هَذَا أَبُو طَالِبٍ‏.‏ قَالَ أَمَرَنِي فُلاَنٌ أَنْ أُبْلِغَكَ رِسَالَةً أَنَّ فُلاَنًا قَتَلَهُ فِي عِقَالٍ‏.‏ فَأَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَهُ اخْتَرْ مِنَّا إِحْدَى ثَلاَثٍ، إِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَدِّيَ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ، فَإِنَّكَ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا، وَإِنْ شِئْتَ حَلَفَ خَمْسُونَ مِنْ قَوْمِكَ أَنَّكَ لَمْ تَقْتُلْهُ، فَإِنْ أَبَيْتَ قَتَلْنَاكَ بِهِ فَأَتَى قَوْمَهُ، فَقَالُوا نَحْلِفُ‏.‏ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَدْ وَلَدَتْ لَهُ‏.‏ فَقَالَتْ يَا أَبَا طَالِبٍ أُحِبُّ أَنْ تُجِيزَ ابْنِي هَذَا بِرَجُلٍ مِنَ الْخَمْسِينَ وَلاَ تَصْبُرْ يَمِينَهُ حَيْثُ تُصْبَرُ الأَيْمَانُ‏.‏ فَفَعَلَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا طَالِبٍ، أَرَدْتَ خَمْسِينَ رَجُلاً أَنْ يَحْلِفُوا مَكَانَ مِائَةٍ مِنَ الإِبِلِ، يُصِيبُ كُلَّ رَجُلٍ بَعِيرَانِ، هَذَانِ بَعِيرَانِ فَاقْبَلْهُمَا عَنِّي وَلاَ تَصْبُرْ يَمِينِي حَيْثُ تُصْبِرُ الأَيْمَانُ‏.‏ فَقَبِلَهُمَا، وَجَاءَ ثَمَانِيةٌ وَأَرْبَعُونَ فَحَلَفُوا‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا حَالَ الْحَوْلُ وَمِنَ الثَّمَانِيَةِ وَأَرْبَعِينَ عَيْنٌ تَطْرِفُ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The first event of Qasama in the pre-lslamic period of ignorance was practiced by us (i.e. Banu Hashim). A man from Banu Hashim was employed by a Quraishi man from another branch-family. The (Hashimi) laborer set out with the Quraishi driving his camels. There passed by him another man from Banu Hashim. The leather rope of the latter's bag had broken so he said to the laborer, "Will you help me by giving me a rope in order to tie the handle of my bag lest the camels should run away from me?" The laborer gave him a rope and the latter tied his bag with it. When the caravan halted, all the camels' legs were tied with their fetters except one camel. The employer asked the laborer, "Why, from among all the camels has this camel not been fettered?" He replied, "There is no fetter for it." The Quraishi asked, "Where is its fetter?" and hit the laborer with a stick that caused his death (later on Just before his death) a man from Yemen passed by him. The laborer asked (him), "Will you go for the pilgrimage?" He replied, "I do not think I will attend it, but perhaps I will attend it." The (Hashimi) laborer said, "Will you please convey a message for me once in your life?" The other man said, "yes." The laborer wrote: 'When you attend the pilgrimage, call the family of Quraish, and if they respond to you, call the family of Banu Hashim, and if they respond to you, ask about Abu Talib and tell him that so-and-so has killed me for a fetter." Then the laborer expired. When the employer reached (Mecca), Abu Talib visited him and asked, "What has happened to our companion?" He said, "He became ill and I looked after him nicely (but he died) and I buried him." Then Abu Talib said, "The deceased deserved this from you." After some time, the messenger whom the laborer has asked to convey the message, reached during the pilgrimage season. He called, "O the family of Quraish!" The people replied, "This is Quraish." Then he called, "O the family of Banu Hashim!" Again the people replied, "This is Banu Hashim." He asked, "Who is Abu Talib?" The people replied, "This is Abu Talib." He said, "'So-and-so has asked me to convey a message to you that so-and-so has killed him for a fetter (of a camel)." Then Abu Talib went to the (Quraishi) killer and said to him, "Choose one of three alternatives: (i) If you wish, give us one-hundred camels because you have murdered our companion, (ii) or if you wish, fifty of your men should take an oath that you have not murdered our companion, and if you do not accept this, (iii) we will kill you in Qisas." The killer went to his people and they said, "We will take an oath." Then a woman from Banu Hashim who was married to one of them (i.e.the Quraishis) and had given birth to a child from him, came to Abu Talib and said, "O Abu Talib! I wish that my son from among the fifty men, should be excused from this oath, and that he should not take the oath where the oathtaking is carried on." Abu Talib excused him. Then another man from them came (to Abu Talib) and said, "O Abu Talib! You want fifty persons to take an oath instead of giving a hundred camels, and that means each man has to give two camels (in case he does not take an oath). So there are two camels I would like you to accept from me and excuse me from taking an oath where the oaths are taken. Abu Talib accepted them from him. Then 48 men came and took the oath. Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما further said:) By Him in Whose Hand my life is, before the end of that year, none of those 48 persons remained alive.

Urdu

ہم سے ابو معمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے قطن ابو الہیثم نے کہا ، ہم سے ابو یزید مدنی نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا

جاہلیت میں سب سے پہلا قسامہ ہمارے ہی قبیلہ بنو ہاشم میں ہوا تھا ، بنوہاشم کے ایک شخص عمرو بن علقمہ کو قریش کے کسی دوسرے خاندان کے ایک شخص ( خداش بن عبداللہ عامری ) نے نوکری پر رکھا ، اب یہ ہاشمی نوکراپنے صاحب کے ساتھ اس کے اونٹ لے کر شام کی طرف چلا ، وہاں کہیں اس نوکر کے پاس سے ایک دوسرا ہاشمی شخص گزرا ، اس کی بوری کا بندھن ٹوٹ گیا تھا ۔ اس نے اپنے نو کر بھائی سے التجا کی میری مدد کراونٹ باندھنے کی مجھے ایک رسی دیدے ، میں اس سے اپنا تھیلا باندھوں اگر رسی نہ ہو گی تو وہ بھاگ تھوڑے جائے گا ۔ اس نے ایک رسی اسے دے دی اور اس نے اپنی بوری کا منہ اس سے باندھ لیا ( اور چلا گیا ) ۔ پھر جب اس نوکر اور صاحب نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو تمام اونٹ باندھے گئے لیکن ایک اونٹ کھلا رہا ۔ جس صاحب نے ہاشمی کو نوکری پر اپنے ساتھ رکھاتھا اس نے پو چھا سب اونٹ تو باندھے ، یہ اونٹ کیوں نہیں باندھا گیا کیا بات ہے ؟ نوکرنے کہا اس کی رسی موجود نہیں ہے ۔ صاحب نے پوچھا کیا ہوئی اس کی رسی ؟ اور غصہ میں آ کر ایک لکڑی اس پر پھینک ماری اس کی موت آن پہنچی ۔ اس کے ( مرنے سے پہلے ) وہاں سے ایک یمنی شخص گذر رہا تھا ۔ ہاشمی نوکرنے پوچھا کیا حج کے لیے ہر سال تم مکہ جاتے ہو ؟ اس نے کہا ابھی تو ارادہ نہیں ہے لیکن میں کبھی جاتا رہتا ہوں ۔ اس نوکرنے کہا جب بھی تم مکہ پہنچوکیا میرا ایک پیغام پہنچادوگے ؟ اس نے کہا ہاں پہنچا دوں گا ۔ اس نوکرنے کہا کہ جب بھی تم حج کے لیے جاؤ تو پکار نا اے قریش کے لوگو ! جب وہ تمہارے پاس جمع ہو جائیں تو پکارنا اے بنی ہاشم ! جب وہ تمہارے پاس آ جائیں تو ان سے ابوطالب پو چھنا اور انہیں بتلانا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک رسی کے لیے قتل کر دیا ۔ اس وصیت کے بعد وہ نوکر مرگیا ، پھر جب اس کا صاحب مکہ آیا تو ابوطالب کے یہا ں بھی گیا ۔ جناب ابوطالب نے دریافت کیا ہمارے قبیلہ کے جس شخص کو تم اپنے ساتھ نوکری کے لیے لے گئے تھے اس کا کیا ہوا ؟ اس نے کہا کہ وہ بیمار ہو گیا تھا میں نے خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ( لیکن وہ مرگیاتو ) میں نے اسے دفن کر دیا ۔ ابوطالب نے کہا کہ اس کے لیے تمہاری طر ف سے یہی ہونا چاہئے تھا ۔ ایک مدت کے بعد وہی یمنی شخص جسے ہاشمی نوکرنے پیغام پہنچانے کی وصیت کی تھی ، موسم حج میں آیا اور آواز دی اے قریش کے لوگو ! لوگوں نے بتا دیا کہ یہاں ہیں قریش ۱س نے آواز دی اے بنو ہاشم ! لوگو ں نے بتایا کہ بنوہاشم یہ ہیں اس نے پوچھاابوطالب کہاں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا تو اس نے کہا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک پیغام پہنچانے کے لیے کہا تھا کہ فلاں شخص نے اسے ایک رسی کی وجہ سے قتل کر دیا ہے ۔ اب جناب ابوطالب اس صاحب کے یہا ں آئے اور کہا کہ ان تین چیزوں میں سے کوئی چیز پسند کر لو اگر تم چاہو تو سو اونٹ دیت میں دے دو کیونکہ تم نے ہمارے قبیلہ کے آدمی کو قتل کیا ہے اور اگر چاہو تو تمہاری قو م کے پچاس آ دمی اس کی قسم کھالیں کہ تم نے اسے قتل نہیں کیا ۔ اگر تم اس پر تیار نہیں تو ہم تمہیں اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے ۔ وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا تو وہ اس کے لیے تیار ہو گئے کہ ہم قسم کھا لیں گے ۔ پھر بنو ہاشم کی ایک عورت ابوطالب کے پاس آئی جو اسی قبیلہ کے ایک شخص سے بیاہی ہوئی تھی اور اپنے اس شوہر سے اس کا بچہ بھی تھا ۔ اس نے کہا اے ابوطالب ! آپ مہر بانی کریں اور میرے اس لڑکے کو ان پچاس آدمیوں میں معاف کر دیں اور جہاں قسمیں لی جاتی ہیں ( یعنی رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ) اس سے وہا ں قسم نہ لیں ۔ حضرت ابوطالب نے اسے معاف کر دیا ۔ اس کے بعد ان میں کا ایک اورشخص آیا اور کہا اے ابوطالب ! آپ نے سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم طلب کی ہے ، اس طرح ہر شخص پر دو دو اونٹ پڑ تے ہیں ۔ یہ دواونٹ میری طرف سے آپ قبول کر لیں اور مجھے اس مقام پر قسم کھا نے کے لیے مجبور نہ کریں جہاں قسم لی جاتی ہے ۔ حضرت ابوطالب نے اسے بھی منظور کر لیا ۔ اس کے بعد بقیہ جو اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسم کھائی ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابھی اس واقعہ کو پورا سال بھی نہیں گذرا تھا کہ ان اڑتالیس آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں رہا جو آنکھ ہلاتا ۔

Hadith 3846
Sahih
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِّلَتْ سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوا، قَدَّمَهُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم فِي دُخُولِهِمْ فِي الإِسْلاَمِ‏.‏
English

Narrated 'Aisha رضی اللہ عنہا :

Allah caused the day of Buath to take place before Allah's Messenger (ﷺ) was sent (as an Apostle) so that when Allah's Messenger (ﷺ) reached Medina, those people had already divided (in different groups) and their chiefs had been killed or wounded. So Allah made that day precede Allah's Messenger (ﷺ) so that they (i.e. the Ansar) might embrace Islam.

Urdu

مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ

بعاث کی لڑائی اللہ تعالیٰ نے ( مصلحت کی وجہ سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے برپاکرادی تھی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں انصار کی جماعت میں پھوٹ پڑ ی ہوئی تھی ۔ ان کے سردار مارے جا چکے تھے یا زخمی ہو چکے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو اس لیے پہلے برپاکیا تھا کہ انصار اسلام میں داخل ہو جائیں ۔

Hadith 3847
Sahih
وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، أَنَّ كُرَيْبًا، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لَيْسَ السَّعْىُ بِبَطْنِ الْوَادِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سُنَّةً، إِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْعَوْنَهَا وَيَقُولُونَ لاَ نُجِيزُ الْبَطْحَاءَ إِلاَّ شَدًّا
English

Narrated Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما :

To run along the valley between two green pillars of Safa and Marwa (mountains) was not Sunna, but the people in the pre-islamic period of ignorance used to run along it, and used to say: "We do not cross this rain stream except running strongly. "

Urdu

اور عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، انہیں عمرو نے خبر دی ، انہیں بکیر بن اشج نے اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مولا کریب نے ان سے بیان کیا کہ عبد للہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا

صفا اور مروہ کے درمیان نالے کے اندر زور سے دوڑنا سنت نہیں ہے یہا ں جاہلیت کے دور میں لوگ تیزی کے ساتھ دوڑا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم تو اس پتھریلی جگہ سے دوڑ ہی کر پار ہوں گے ۔

Hadith 3848
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا مُطَرِّفٌ، سَمِعْتُ أَبَا السَّفَرِ، يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا مِنِّي مَا أَقُولُ لَكُمْ، وَأَسْمِعُونِي مَا تَقُولُونَ، وَلاَ تَذْهَبُوا فَتَقُولُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَلْيَطُفْ مِنْ وَرَاءِ الْحِجْرِ، وَلاَ تَقُولُوا الْحَطِيمُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَ يَحْلِفُ فَيُلْقِي سَوْطَهُ أَوْ نَعْلَهُ أَوْ قَوْسَهُ‏.‏
English

Narrated Abu As-Safar:

I heard Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما saying, "O people! Listen to what I say to you, and let me hear whatever you say, and don't go (without understanding), and start saying, 'Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said so-and-so, Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said soand- so, Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما said so-and-so.' He who wants to perform the Tawaf around the Ka`ba should go behind Al-Hijr (i.e. a portion of the Ka`ba left out unroofed) and do not call it Al-Hatim, for in the pre-Islamic period of ignorance if any man took an oath, he used to throw his whip, shoes or bow in it.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو مطرف نے خبر دی ، کہا میں نے ابو السفرسے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ

میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے کہا اے لوگو ! میری باتیں سنوکہ میں تم سے بیان کرتا ہوں اور ( جو کچھ تم نے سمجھاہے ) وہ مجھے سناؤ ۔ ایسا نہ ہو کہ تم لوگ یہا ں سے اٹھ کر ( بغیر سمجھے ) چلے جاؤ اور پھر کہنے لگو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا ۔ جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے تو وہ حطیم کے پیچھے سے طواف کرے اور حجر کو حطیم نہ کہا کرو یہ جاہلیت کا نام ہے اس وقت لوگوں میں جب کوئی کسی بات کی قسم کھا تا تو اپنا کوڑا ، جوتا یا کمان وہاں پھینک دیتا ۔

Hadith 3849
Sahih
حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ رَأَيْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قِرْدَةً اجْتَمَعَ عَلَيْهَا قِرَدَةٌ قَدْ زَنَتْ، فَرَجَمُوهَا فَرَجَمْتُهَا مَعَهُمْ‏.‏
English

Narrated `Amr bin Maimun:

During the pre-lslamic period of ignorance I saw a she-monkey surrounded by a number of monkeys. They were all stoning it, because it had committed illegal sexual intercourse. I too, stoned it along with them.

Urdu

ہم سے نعیم بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے حصین نے ، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ

میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندر یا دیکھی اس کے چاروں طرف بہت سے بندر جمع ہو گئے تھے ، اس بندریا نے زنا کرایا تھا اس لیے سبھوں نے مل کر اسے رجم کیا اور ان کے ساتھ میں بھی پتھر مارنے میں شریک ہوا ۔

Hadith 3850
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ خِلاَلٌ مِنْ خِلاَلِ الْجَاهِلِيَّةِ الطَّعْنُ فِي الأَنْسَابِ وَالنِّيَاحَةُ، وَنَسِيَ الثَّالِثَةَ، قَالَ سُفْيَانُ وَيَقُولُونَ إِنَّهَا الاِسْتِسْقَاءُ بِالأَنْوَاءِ‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

"Following are some traits of the people of the pre- Islamic period of ignorance (i) to defame the ancestry of other families, (ii) and to wail over the dead." 'Ubaidullah forgot the third trait. Sufyan said, "They say it (i.e. the third trait) was to believe that rain was caused by the influence of stars (i.e. if a special star appears it will rain).

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے کہا کہ

جاہلیت کی عادتوں میں سے یہ عادتیں ہیں نسب کے معاملہ میں طعنہ مارنا اور میت پر نوحہ کرنا ، تیسری عادت کے متعلق ( عبیداللہ راوی ) بھول گئے تھے اور سفیا ن نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ تیسری بات ستاروں کو بارش کی علت سمجھناہے ۔

Hadith 3851
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ، فَمَكَثَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ سَنَةً، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ، فَهَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَكَثَ بِهَا عَشْرَ سِنِينَ، ثُمَّ تُوُفِّيَ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) was inspired Divinely at the age of forty. Then he stayed in Mecca for thirteen years, and then was ordered to migrate, and he migrated to Medina and stayed there for ten years and then died.

Urdu

ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا ، کہا ان سے ہشام نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمرچالیس سال کی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ، اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا او ر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منور ہ ہجرت کر کے چلے گئے ، وہاں دس سال رہے پھر آپ نے وفات فرمائی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس حسا ب سے کل عمر شریف آپ کی تریسٹھ سال ہوتی ہے اور یہی صحیح ہے ۔

Hadith 3852
Sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ، وَإِسْمَاعِيلُ، قَالاَ سَمِعْنَا قَيْسًا، يَقُولُ سَمِعْتُ خَبَّابًا، يَقُولُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً، وَهْوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَقَدْ لَقِينَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً فَقُلْتُ أَلاَ تَدْعُو اللَّهَ فَقَعَدَ وَهْوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ فَقَالَ ‏ "‏ لَقَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ لَيُمْشَطُ بِمِشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عِظَامِهِ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُوضَعُ الْمِنْشَارُ عَلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ، فَيُشَقُّ بِاثْنَيْنِ، مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ مَا يَخَافُ إِلاَّ اللَّهَ ‏"‏‏.‏ زَادَ بَيَانٌ وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ‏.‏
English

Narrated Khabbaba:

I came to the Prophet (ﷺ) while he was leaning against his sheet cloak in the shade of the Ka`ba. We were suffering greatly from the pagans in those days. i said (to him). "Will you invoke Allah (to help us)?" He sat down with a red face and said, "(A believer among) those who were before you used to be combed with iron combs so that nothing of his flesh or nerves would remain on his bones; yet that would never make him desert his religion. A saw might be put over the parting of his head which would be split into two parts, yet all that would never make him abandon his religion. Allah will surely complete this religion (i.e. Islam) so that a traveler from Sana to Hadra-maut will not be afraid of anybody except Allah." (The sub-narrator, Baiyan added, "Or the wolf, lest it should harm his sheep.")

Urdu

ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے بیان بن بشر اور اسماعیل بن ابوخالد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم نے قیس بن ابوحازم سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے خباب بن ارت سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے تلے چادر مبارک پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔ ہم لوگ مشرکین سے انتہائی تکالیف اٹھا رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعاکیوں نہیں فرماتے ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے بیٹھ گئے ۔ چہرہ مبارک غصہ سے سرخ ہو گیا اور فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گذر چکے ہیں کہ لوہے کے کنگھوں کو ان کے گوشت اورپٹھوں سے گذار کر ان کی ہڈیوں تک پہنچا دیا گیا اور یہ معاملہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا ، کسی کے سر پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے گئے اور یہ بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکا ، اس دین اسلام کو تو اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دن تمام وکمال تک پہنچائے گا کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک ( تنہا ) جائے گا اور ( راستے ) میں اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف تک نہ ہو گا ۔ بیان نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا کہ ” سوائے بھیڑیئے کے کہ اس سے اپنی بکریوں کے معاملہ میں اسے ڈرہو گا ۔ “

Hadith 3853
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه قَالَ قَرَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّجْمَ، فَسَجَدَ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ إِلاَّ سَجَدَ، إِلاَّ رَجُلٌ رَأَيْتُهُ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًا فَرَفَعَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ وَقَالَ هَذَا يَكْفِينِي‏.‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا بِاللَّهِ‏.‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) recited Surat An-Najam and prostrated, and there was nobody who did not prostrate then except a man whom I saw taking a handful of pebbles, lifting it, and prostrating on it. He then said, "This is sufficient for me." No doubt I saw him killed as a disbeliever afterwards.

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے ، ان سے اسودنے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم پڑھی اور سجدہ کیا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام لوگوں نے سجدہ کیا صرف ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ اپنے ہاتھ میں اس نے کنکریاں اٹھا کر اس پر اپنا سر رکھ دیا اور کہنے لگا کہ میرے لیے بس اتنا ہی کا فی ہے ۔ میں نے پھر اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں وہ قتل کیا گیا ۔

Hadith 3854
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ، فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلأَ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ ـ أَوْ أُبَىَّ بْنَ خَلَفٍ ‏"‏‏.‏ شُعْبَةُ الشَّاكُّ ـ فَرَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، فَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ غَيْرَ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَىٍّ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ، فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ‏.‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :

While the Prophet (ﷺ) was prostrating, surrounded by some of Quraish, `Uqba bin Abi Mu'ait brought the intestines (i.e. Abdominal contents) of a camel and put them over the back of the Prophet. The Prophet (ﷺ) did not raise his head, (till) Fatima, came and took it off his back and cursed the one who had done the harm. The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Destroy the chiefs of Quraish, Abu Jahl bin Hisham, `Utba bin Rabi`al, Shaba bin Rabi`a, Umaiya bin Khalaf or Ubai bin Khalaf." (The sub-narrator Shu`ba, is not sure of the last name.) I saw these people killed on the day of Badr battle and thrown in the well except Umaiya or Ubai whose body parts were mutilated but he was not thrown in the well.

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے ابواسحاق نے ، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز پڑھتے ہوئے ) سجدہ کی حالت میں تھے ، قریش کے کچھ لوگ وہیں اردگرد موجود تھے ۔ اتنے میں عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھڑی بچہ دان لایا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ مبارک پر اسے ڈال دیا ۔ اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر نہیں اٹھایا پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور گندگی کو پیٹھ مبارک سے ہٹایا اور جس نے ایسا کیا تھا اسے بددعا دیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ ! قریش کی اس جماعت کو پکڑلے ۔ ابوجہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف یا ( امیہ کے بجائے آپ نے بددعا ) ابی بن خلف ( کے حق میں فرمائی ) شبہ راوی حدیث شعبہ کو تھا ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر میں نے دیکھا کہ بدرکی لڑائی میں یہ سب لوگ قتل کر دئیے گئے اور ایک کنویں میں ا نہیں ڈال دیا گیا تھاسوائے امیہ یا ابی کے کہ اس کاہر ایک جوڑ الگ الگ ہو گیا تھا اس لئے کنویں میں نہیں ڈالا جا سکا ۔

Hadith 3855
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَوْ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى قَالَ سَلِ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ، مَا أَمْرُهُمَا ‏{‏وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ ‏}‏ ‏{‏وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا‏}‏ فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَمَّا أُنْزِلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ قَالَ مُشْرِكُو أَهْلِ مَكَّةَ فَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ، وَدَعَوْنَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ، وَقَدْ أَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏إِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ‏}‏ الآيَةَ فَهَذِهِ لأُولَئِكَ وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ الرَّجُلُ إِذَا عَرَفَ الإِسْلاَمَ وَشَرَائِعَهُ، ثُمَّ قَتَلَ فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ‏.‏ فَذَكَرْتُهُ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ إِلاَّ مَنْ نَدِمَ‏.‏
English

Narrated `AbdurRahman bin Abza رضی اللہ عنہ :

"Ask Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما about these two Qur'anic Verses: 'Nor kill such life as Allah has made sacred, Except for just cause.' (25.168) "And whoever kills a believer intentionally, his recompense is Hell. (4.93) So I asked Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما who said, "When the Verse that is in Sura-al-Furqan was revealed, the pagans of Mecca said, 'But we have slain such life as Allah has made sacred, and we have invoked other gods along with Allah, and we have also committed fornication.' So Allah revealed:-- 'Except those who repent, believe, and do good-- (25.70) So this Verse was concerned with those people. As for the Verse in Surat-an-Nisa (4-93), it means that if a man, after understanding Islam and its laws and obligations, murders somebody, then his punishment is to dwell in the (Hell) Fire forever." Then I mentioned this to Mujahid who said, "Except the one who regrets (one's crime) . "

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، کہا مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا یا ( منصور نے ) اس طرح بیان کیا کہ مجھ سے حکم نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دونوں آیتو ں کے متعلق پوچھو کہ ان میں مطابقت کس طرح پیدا کی جائے ( ایک آیت ولا تقتلوا النفس التي حرم الله الا بالحق اور دوسری آیت ومن يقتل مؤمنا متعمدا‏ ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے میں نے پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ جب سورۃ الفرقا ن کی آیت نازل ہوئی تو مشرکین مکہ نے کہا ہم نے تو ان جانوں کا بھی خون کیا ہے جن کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا تھا ہم اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی عبادت بھی کرتے رہے ہیں اور بدکاریوں کا بھی ہم نے ارتکاب کیا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ” إلا من تاب وآمن‏ “ ( وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آ ئیں ) تو یہ آیت ان کے حق میں نہیں ہے لیکن سورۃ النساء کی آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو اسلام اور شرائع اسلام کے احکام جان کر بھی کسی کو قتل کرے تو اس کی سزاجہنم ہے ، میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس ارشاد کا ذکر مجاہد سے کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ لوگ اس حکم سے الگ ہیں جو توبہ کر لیں ۔