Narrated Ibn `Amr bin Al-As رضی اللہ عنہما:
"Tell me of the worst thing which the pagans did to the Prophet." He said, "While the Prophet (ﷺ) was praying in the Hijr of the Ka`ba; `Uqba bin Abi Mu'ait came and put his garment around the Prophet's neck and throttled him violently. Abu Bakr رضی اللہ عنہ came and caught him by his shoulder and pushed him away from the Prophet (ﷺ) and said, "Do you want to kill a man just because he says, 'My Lord is Allah?' " Ibn-e-Ishaq also reported the same. Yahya bin Urwah, Hadrat Abdullah bin Amr Abdah رضی اللہ عنہما , Hisham, his father, Amr bin Al-Aas, Muhammad bin Amr, Abu Salmah, Amr bin Al-Aas رضی اللہ عنہ has also reported it.
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھاکہ
مجھے مشرکیں کے سب سے سخت ظلم کے متعلق بتاؤ جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور ظالم اپنا کپڑا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں پھنسا کر زور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹنے لگا اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آ گئے اور انہوں نے اس بدبخت کا کندھا پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسے ہٹا دیا اور کہا کہ تم لوگ ایک شخص کو صرف اس لئے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے الآیۃ عیاش بن ولید کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابن اسحاق نے کی ( اور بیان کیا کہ ) مجھ سے یحییٰ بن عروہ نے بیان کیا اور ان سے عروہ نے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور عبدہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا اور محمد بن عمرو نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے ، اس میں یوں ہے کہ مجھ سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ۔
Narrated `Ammar bin Yasir رضی اللہ عنہما :
I saw Allah's Messenger (ﷺ) , and the only converts (to Islam) with him, were five slaves, two women and Abu Bakr رضی اللہ عنہ .
مجھ سے عبداللہ بن حماد آملی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن مجالد نے بیان کیا ، ان سے بیان نے ، ان سے وبرہ نے ان سے ہمام بن حارث نے بیان کیا کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں بھی دیکھا ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پانچ غلام ، دو عورتوں اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا اور کوئی ( مسلمان ) نہیں تھا ۔
Narrated Abu 'Is-haq Saud bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ :
None embraced Islam, except on the day I embraced it. And for seven days I was one of the three persons who were Muslims (one-third of Islam).
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم مروزی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ابواسامہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے ہاشم بن ہاشم نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے سعد بن مسیب سے سنا ، کہا کہ میں نے ابواسحاق سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
جس دن میں اسلام لایا ہوں دوسرے لوگ بھی اسی دن اسلام لائے اور اسلام میں داخل ہونے والے تیسرے آدمی کی حیثیت سے مجھ پر سات دن گزرے ۔
Narrated `Abdur-Rahman:
"I asked Masruq, 'Who informed the Prophet (ﷺ) about the Jinns at the night when they heard the Qur'an?' He said, 'Your father `Abdullah رضی اللہ عنہ informed me that a tree informed the Prophet (ﷺ) about them.' "
مجھ سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا ، ان سے معن بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے مسروق سے پوچھا کہ جس رات میں جنوں نے قرآن مجید سنا تھا اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کس نے دی تھی ؟ مسروق نے کہا کہ مجھ سے تمہارے والد عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جنوں کی خبر ایک ببول کے درخت نے دی تھی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
That once he was in the company of the Prophet (ﷺ) carrying a water pot for his ablution and for cleaning his private parts. While he was following him carrying it (i.e. the pot), the Prophet (ﷺ) said, "Who is this?" He said, "I am Abu Huraira رضی اللہ عنہ ." The Prophet (ﷺ) said, "Bring me stones in order to clean my private parts, and do not bring any bones or animal dung." Abu Huraira رضی اللہ عنہ went on narrating: So I brought some stones, carrying them in the corner of my robe till I put them by his side and went away. When he finished, I walked with him and asked, "What about the bone and the animal dung?" He said, "They are of the food of Jinns. The delegate of Jinns of (the city of) Nasibin came to me--and how nice those Jinns were--and asked me for the remains of the human food. I invoked Allah for them that they would never pass by a bone or animal dung but find food on them."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے دادا نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو اور قضائے حاجت کے لئے ( پانی کا ) ایک برتن لئے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون صاحب ہیں ؟ بتایا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ استنجے کے لئے چند پتھر تلاش کر لاؤ اور ہاں ہڈی اور لید نہ لا نا ۔ تو میں پتھر لے کر حاضر ہوا ۔ میں انہیں اپنے کپڑے میں رکھے ہوئے تھا اور لاکرمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اسے رکھ دیا اور وہاں سے واپس چلا آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت سے فارغ ہو گئے تو میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ ہڈی اور گوبر میں کیا بات ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لئے کہ وہ جنوں کی خوراک ہیں ۔ میرے پاس نصیبین کے جنوں کا ایک وفد آیا تھا اور کیا ہی اچھے وہ جن تھے ۔ تو انہوں نے مجھ سے تو شہ مانگا میں نے ان کے لئے اللہ سے یہ دعا کی کہ جب بھی ہڈی یا گوبر پر ان کی نظر پڑے تو ان کے لئے اس چیز سے کھا نا ملے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
When Abu Dhar رضی اللہ عنہ received the news of the Advent of the Prophet (ﷺ) he said to his brother, "Ride to this valley (of Mecca) and try to find out the truth of the person who claims to be a prophet who is informed of the news of Heaven. Listen to what he says and come back to me." So his brother set out and came to the Prophet (ﷺ) and listened to some of his talks, and returned to Abu Dhar رضی اللہ عنہ and said to him. "I have seen him enjoining virtuous behavior and saying something that is not poetry." Abu Dhar رضی اللہ عنہ said, "You have not satisfied me as to what I wanted." He then took his journey-food and carried a water skin of his, containing some water till be reached Mecca. He went to the Mosque and searched for the Prophet and though he did not know him, he hated to ask anybody about him. When a part of the night had passed away, `Ali رضی اللہ عنہ saw him and knew that he was a stranger. So when Abu Dhar رضی اللہ عنہ saw `Ali رضی اللہ عنہ , he followed him, and none of them asked his companion about anything, and when it was dawn, Abu Dhar رضی اللہ عنہ took his journey food and his water-skin to the Mosque and stayed there all the day long without being perceived by the Prophet, and when it was evening, he came back to his retiring place. `Ali رضی اللہ عنہ passed by him and said, "Has the man not known his dwelling place yet?" So `Ali رضی اللہ عنہ awakened him and took him with him and none of them spoke to the other about anything. When it was the third day. `Ali رضی اللہ عنہ did the same and Abu Dhar رضی اللہ عنہ stayed with him. Then `Ali رضی اللہ عنہ said "Will you tell me what has brought you here?" Abu Dhar رضی اللہ عنہ said, "If you give me a firm promise that you will guide me, then I will tell you." `Ali رضی اللہ عنہ promised him, and he informed `Ali رضی اللہ عنہ about the matter. `Ali رضی اللہ عنہ said, "It is true, and he is the Messenger of Allah. Next morning when you get up, accompany me, and if I see any danger for you, I will stop as if to pass water, but if I go on, follow me and enter the place which I will enter." Abu Dhar رضی اللہ عنہ did so, and followed `Ali till he entered the place of the Prophet, and Abu Dhar رضی اللہ عنہ went in with him, Abu Dhar رضی اللہ عنہ listened to some of the Prophet's talks and embraced Islam on the spot. The Prophet (ﷺ) said to him, "Go back to your people and inform them (about it) till you receive my order." Abu Dhar رضی اللہ عنہ said, "By Him in Whose Hand my life is, I will proclaim my conversion loudly amongst them (i.e. the pagans)." So he went out, and when he reached the Mosque, he said as loudly as possible, "I bear witness that None has the right to be worshipped except Allah, and Muhammad is the Messenger of Allah." The People got up and beat him painfully. Then Al-Abbas رضی اللہ عنہما came and knelt over him ((to protect him) and said (to the people), "Woe to you! Don't you know that this man belongs to the tribe of Ghifar and your trade to Sha'm is through their way?" So he rescued him from them. Abu Dhar رضی اللہ عنہ again did the same the next day. They beat him and took vengeance on him and again Al-Abbas رضی اللہ عنہ knelt over him (to protect him).
مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے ، کہا ہم سے مثنیٰ نے ، ان سے ابوجمرہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جب ابوذر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا مکہ جانے کے لئے سواری تیار کر اور اس شخص کے متعلق جو نبی ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبرآتی ہے ۔ میرے لئے خبریں حاصل کر کے لا ۔ اس کی باتوں کو خود غور سے سننا اور پھر میرے پاس آنا ۔ ان کے بھائی وہاں سے چلے اور مکہ حاضر ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں خود سنیں پھر واپس ہو کر انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میں نے انہیں خود دیکھا ہے ، وہ اچھے اخلاق کا لوگوں کوحکم کرتے ہیں اور میں نے ان سے جو کلام سنا وہ شعر نہیں ہے ۔ اس پر ابو ذررضی اللہ عنہ نے کہا جس مقصد کے لئے میں نے تمہیں بھیجا تھا مجھے اس پر پوری طرح تشفی نہیں ہوئی ، آخر انہوں نے خودتوشہ باندھا ، پانی سے بھر ا ہوا ایک پر انا مشکیزہ ساتھ لیا اور مکہ آئے ، مسجدالحرام میں حاضری دی اور یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پو چھنا بھی مناسب نہیں سمجھا ، کچھ رات گزرگئی کہ وہ لیٹے ہوئے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو اس حالت میں دیکھا اور سمجھ گئے کہ کوئی مسافر ہے ، علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ میرے گھر پر چل کر آرام کیجئے ۔ ابوذر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پیچھے چلے گئے لیکن کسی نے ایک دوسرے کے بارے میں بات نہیں کی ۔ جب صبح ہوئی تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنا مشکیزہ اور توشہ اٹھایا اور مسجدالحرام میں آ گئے ۔ یہ دن بھی یونہی گزر گیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے ۔ شام ہوئی تو سونے کی تیاری کرنے لگے ۔ علی رضی اللہ عنہ پھر وہاں سے گزرے اور سمجھ گئے کہ ابھی اپنے ٹھکانے جانے کا وقت اس شخص پر نہیں آیا ، وہ انہیں وہاں سے پھر اپنے ساتھ لے آئے اور آج بھی کسی نے ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی ، تیسرا دن جب ہوا اور علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ یہی کام کیا اور اپنے ساتھ لے گئے تو ان سے پوچھا کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ یہاں آنے کا باعث کیا ہے ؟ ابوذررضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کر لو کہ میری راہ نمائی کرو گے تو میں تم کو سب کچھ بتا دوں گا ۔ علی رضی اللہ عنہ نے وعدہ کر لیا تو انہوں نے اپنے خیالات کی خبر دی ۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بلاشبہ وہ حق پر ہیں اور اللہ کے سچے رسول ہیں اچھا صبح کو تم میرے پیچھے پیچھے میرے ساتھ چلنا ۔ اگر میں ( راستے میں ) کوئی ایسی بات دیکھوںگا جس سے مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہو تو میں کھڑا ہو جاؤں گا ۔ ( کسی دیوار کے قریب ) گویا مجھے پیشاب کرنا ہے ، اس وقت تم میرا انتظار نہ کر نا اور جب میں پھر چلنے لگوں تو میرے پیچھے آ جانا تاکہ کوئی سمجھ نہ سکے کہ یہ دونوں ساتھ ہیں اور اس طرح جس گھر میں ، میں داخل ہوں تم بھی داخل ہو جانا ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور پیچھے پیچھے چلے تاآنکہ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے ، آپ کی باتیں سنیں اور وہیں اسلام لے آئے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اب اپنی قوم غفار میں واپس جاؤ اور انہیں میرا حال بتاؤ تاآنکہ جب ہمارے غلبہ کا علم تم کو ہو جائے ( تو پھر ہمارے پاس آ جانا ) ابو ذررضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان قریشیوں کے مجمع میں پکا رکر کلمئہ توحید کا اعلان کروں گا ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہا ں سے واپس وہ مسجدالحرام میں آئے اور بلند آواز سے کہا کہ ” میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں “ ۔ یہ سنتے ہی سارا مجمع ان پر ٹوٹ پڑا اور انہیں اتنا مارا کہ زمین پر لٹا دیا اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ آ گئے اور ابوذر رضی اللہ عنہ کے اوپر اپنے کو ڈال کر قریش سے کہا افسوس کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ شخص قبیلہ غفار سے ہے اور شام جانے والے تمہارے تاجروں کا راستہ ادھر ہی سے پڑتاہے اس طرح سے ان سے ان کو بچایا ۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ دوسرے دن مسجدالحرام میں آئے اور اپنے اسلام کا اظہار کیا ۔ قو م پھر بری طرح ان پر ٹوٹ پڑی اور مارنے لگی اس دن بھی عباس ان پر اوندھے پڑگئے
Narrated Qais:
I heard Sa`id bin Zaid bin `Amr bin Nufail رضی اللہ عنہ saying in the mosque of Al-Kufa. "By Allah, I have seen myself tied and forced by `Umar رضی اللہ عنہ to leave Islam before `Umar رضی اللہ عنہ himself embraced Islam. And if the mountain of Uhud could move from its place for the evil which you people have done to `Uthman رضی اللہ عنہ , then it would have the right to move from its place."
ہم سے قتیبہ بن سعیدنے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے ، ان سے قیس نے بیان کیا کہ
میں نے کوفہ کی مسجد میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ ایک وقت تھا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے سے پہلے مجھے اس وجہ سے باندھ رکھا تھا کہ میں نے اسلام کیوں قبول کیا لیکن تم لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی وجہ سے اگر احد پہاڑبھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اسے ایسا کرنا ہی چا ہئے ۔
Narrated `Abdullah bin Mus'ud رضی اللہ عنہما :
We have been powerful since `Umar رضی اللہ عنہ embraced Islam.
مجھ سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے ، انہیں قیس بن ابی حازم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعدہم لوگ ہمیشہ عزت سے رہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
While `Umar رضی اللہ عنہ was at home in a state of fear, there came Al-`As bin Wail As-Sahmi Abu `Amr, wearing an embroidered cloak and a shirt having silk hems. He was from the tribe of Bani Sahm who were our allies during the pre-Islamic period of ignorance. Al-`As said to `Umar رضی اللہ عنہ "What is wrong with you?" He said, "Your people claim that they would kill me if I become a Muslim." Al-`As said, "Nobody will harm you after I have given protection to you." So Al-`As went out and met the people streaming in the whole valley. He said, "Where are you going?" They said, "We want Ibn Al-Khattab who has embraced Islam." Al-`As said, "There is no way for anybody to touch him." So the people retreated.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمربن محمد نے بیان کیا ، کہامجھ کو میرے دادا زید بن عبداللہ بن عمرو نے خبر دی ، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ( اسلام لانے کے بعد قریش سے ) ڈرے ہوئے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوعمرو عاص بن وائل سہمی اندر آیا ، ایک دھاری دار چادر اور ریشمی کرتہ پہنے ہوئے تھا وہ قبیلہ بنوسہم سے تھا جو زمانہ جاہلیت میں ہمارے حلیف تھے ، عاص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کیا بات ہے ؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہاری قوم بنو سہم والے کہتے ہیں کہ اگر میں مسلمان ہوا تو وہ مجھ کو مارڈالیں گے ۔ عاص نے کہا ” تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا “ جب عاص نے یہ کلمہ کہہ دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں بھی اپنے کو امان میں سمجھتا ہوں ۔ اس کے بعد عاص باہر نکلا تو دیکھا کہ میدان لوگوں سے بھر گیا ہے ۔ عاص نے پوچھا کدھر کا رخ ہے ؟ لوگوں نے کہا ہم ابن خطاب کی خبر لینے جاتے ہیں جو بےدین ہو گیا ہے ۔ عاص نے کہا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ، یہ سنتے ہی لوگ لوٹ گئے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
When `Umar رضی اللہ عنہ embraced Islam, all The (disbelieving) people gathered around his home and said, "`Umar رضی اللہ عنہ has embraced Islam." At that time I was still a boy and was on the roof of my house. There came a man wearing a cloak of Dibaj (i.e. a kind of silk), and said, "`Umar رضی اللہ عنہ has embraced Islam. Nobody can harm him for I am his protector." I then saw the people going away from `Umar رضی اللہ عنہ and asked who the man was, and they said, "Al-`As bin Wail."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عمرو بن دینا ر سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ
جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ عمر بےدین ہو گیا ہے ، میں ان دنوں بچہ تھا اور اس وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا ۔ اچانک ایک شخص آیا جو ریشم کی قباء پہنے ہوئے تھا ، اس شخص نے لوگوں سے کہا ٹھیک ہے عمر بےدین ہو گیا لیکن یہ مجمع کیساہے ؟ دیکھو میں عمر کو پناہ دے چکا ہوں ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ اس کی یہ بات سنتے ہی لوگ الگ الگ ہو گئے ۔ میں نے پوچھا یہ کون صاحب تھے ؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ عاص بن وائل ہیں ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
I never heard `Umar رضی اللہ عنہ saying about something that he thought it would be so-and-so, but he was quite right. Once, while `Umar رضی اللہ عنہ was sitting, a handsome man passed by him, `Umar رضی اللہ عنہ said, "If I am not wrong, this person is still on his religion of the pre-lslamic period of ignorance or he was their foreteller. Call the man to me." When the man was called to him, he told him of his thought. The man said, "I have never seen such a day on which a Muslim is faced with such an accusation." `Umar رضی اللہ عنہ said, "I am determined that you should tell me the truth." He said, "I was a foreteller in the pre-lslamic period of ignorance." Then `Umar رضی اللہ عنہ said, "Tell me the most astonishing thing your female Jinn has told you of." He said, "One-day while I was in the market, she came to me scared and said, 'Haven't you seen the Jinns and their despair and they were overthrown after their defeat (and prevented from listening to the news of the heaven) so that they (stopped going to the sky and) kept following camel-riders (i.e. 'Arabs)?" `Umar رضی اللہ عنہ said, "He is right." and added, "One day while I was near their idols, there came a man with a calf and slaughtered it as a sacrifice (for the idols). An (unseen) creature shouted at him, and I have never heard harsher than his voice. He was crying, 'O you bold evil-doer! A matter of success! An eloquent man is saying: None has the right to be worshipped except you (O Allah).' On that the people fled, but I said, 'I shall not go away till I know what is behind this.' Then the cry came again: 'O you bold evil-doer! A matter of success! An eloquent man is saying: None has the right to be worshipped except Allah.' I then went away and a few days later it was said, "A prophet has appeared."
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمرو بن محمد بن زید نے بیان کیا ، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ
جب بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی چیز کے متعلق کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ اس طرح ہے تو وہ اسی طرح ہوئی جیسا وہ اس کے متعلق اپنا خیا ل ظاہر کرتے تھے ۔ ایک دن وہ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خوبصورت شخص وہاں سے گزرا ۔ انہوں نے کہا یا تو میرا گمان غلط ہے یا یہ شخص اپنے جاہلیت کے دین پر اب بھی قائم ہے یا یہ زمانہ جاہلیت میں اپنی قوم کا کاہن رہا ہے ۔ اس شخص کو میرے پاس بلاؤ ۔ وہ شخص بلایا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے بھی یہی بات دھرائی ۔ اس پر اس نے کہا میں نے تو آج کے دن کا سا معاملہ کبھی نہیں دیکھا جو کسی مسلمان کو پیش آیا ہو ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن میں تمہارے لئے ضروری قرار دیتا ہوں کہ تم مجھے اس سلسلے میں بتاؤ ۔ اس نے اقرار کیا کہ زمانہ جاہلیت میں میں اپنی قوم کا کاہن تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا غیب کی جو خبریں تمہاری جنیہ تمہارے پاس لاتی تھی ، اس کی سب سے حیرت انگیز کوئی بات سناؤ ؟ شخص مذکور نے کہا کہ ایک دن میں بازار میں تھا کہ جنیہ میرے پاس آئی ۔ میں نے دیکھا کہ وہ گھبرائی ہوئی ہے ، پھر اس نے کہا جنوں کے متعلق تمہیں معلوم نہیں ۔ جب سے انہیں آسمانی خبروں سے روک دیا گیا ہے وہ کس درجہ ڈرے ہوئے ہیں ، مایوس ہو رہے ہیں اور اونٹنیوں کے پالان کی کملیوں سے مل گئے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے سچ کہا ۔ ایک مرتبہ میں بھی ان دنوں بتوں کے قریب سویا ہوا تھا ۔ ایک شخص ایک بچھڑا لایا اور اس نے بت پر اسے ذبح کر دیا اس کے اندر سے اس قدر زور کی آواز نکلی کہ میں نے ایسی شدید چیخ کبھی نہیں سنی تھی ۔ اس نے کہا اے دشمن ! ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد مل جائے ایک فصیح خوش بیان شخص یوں کہتا ہے لا الہٰ الا اللہ یہ سنتے ہی تمام لوگ ( جو وہاں موجود تھے ) چونک پڑے ( چل دئیے ) میں نے کہا میں تو نہیں جانے کا ، دیکھو اس کے بعد کیا ہوتا ہے ۔ پھر یہی آواز آئی ارے دشمن تجھ کو ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد بر آئے ایک فصیح شخص یوں کہہ رہا ہے لا الہٰ الا اللہ ۔ اس وقت میں کھڑا ہوا اور ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ لوگ کہنے لگے یہ ( حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے سچے رسول ہیں ۔
Narrated Sa`id bin Zaid رضی اللہ عنہ :
I saying to the people, "If you but saw me and `Umar's sister tied and forced by `Umar to leave Islam while he was not yet a Muslim. And if the mountain of Uhud could move from its place for the evil which you people have done to `Uthman رضی اللہ عنہ , it would have the right to do that."
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے قیس نے ، کہا کہ میں نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا
انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا ایک وقت تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ جب اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے تو مجھے اوراپنی بہن کو اس لئے باندھ رکھا تھا کہ ہم اسلام کیوں لائے ، اور آج تم نے جو کچھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ برتاؤ کیا ہے ، اگر اس پر احد پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The people of Mecca asked Allah's Messenger (ﷺ) to show them a miracle. So he showed them the moon split in two halves between which they saw the Hira' mountain.
مجھ سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، ان سے سعیدبن ابی عروبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
کفار مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نشانی کا مطالبہ کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دوٹکڑے کر کے دکھا دئیے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے حرا پہاڑ کو ان دونوں ٹکڑوں کے بیچ میں دیکھا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The moon was split ( into two pieces ) while we were with the Prophet (ﷺ) in Mina. He said, "Be witnesses." Then a Piece of the moon went towards the mountain. Abu Duha, Masrooq, reports from Hadrat Abdullah bin Masroud رضی اللہ عنہما that the moon spilt inti two in Makkah (Mukarramah). Muhammad bin Muslim, Ibn-e-Najeeh, Mujahid has reported the same from Hadrat Abdullah bin Masoud رضی اللہ عنہما .
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے ابو معمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جس وقت چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ کے میدان میں موجودتھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگو ! گواہ رہنا ، اور چاند کا ایک ٹکڑا دوسرے سے الگ ہو کر پہاڑ کی طرف چلا گیا تھا اور ابو الضحیٰ نے بیان کیا ، ان سے مسروق نے ، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ شق قمر کا معجزہ مکہ میں پیش آیا تھا ۔ ابراہیم نخعی کے ساتھ اس کی متابعت محمد بن مسلم نے کی ہے ، ان سے ابونجیح نے بیان کیا ، ان سے مجاہد نے ، ان سے ابو معمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے ۔
Narrated `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہما :
During the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ) the moon was split (into two places).
ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عراک بن مالک نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بلا شک وشبہ چاند پھٹ گیا تھا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
The moon was split (into two pieces).
ہم سے عمر بنا حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا ، ان سے ابو معمر نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
چاند پھٹ گیا تھا ۔
Narrated `Abdur-Rahman bin Al-Aswad bin 'Abu Yaghuth:
"What prevents you from speaking to your uncle `Uthman رضی اللہ عنہ regarding his brother Al-Walid bin `Uqba?" The people were speaking against the latter for what he had done. 'Ubaidullah said, "So I kept waiting for `Uthman رضی اللہ عنہ , and when he went out for the prayer, I said to him, 'I have got something to say to you as a piece of advice.' `Uthman رضی اللہ عنہ said, 'O man! I seek Refuge with Allah from you. So I went away. When I finished my prayer, I sat with Al-Miswar and Ibn 'Abu Yaghutb and talked to both of them of what I had said to `Uthman رضی اللہ عنہ and what he had said to me. They said, 'You have done your duty.' So while I was sitting with them. `Uthman's Messenger came to me. They said, 'Allah has put you to trial." I set out and when I reached `Uthman رضی اللہ عنہ , he said, 'What is your advice which you mentioned a while ago?' I recited Tashahhud and added, 'Allah has sent Muhammad and has revealed the Holy Book (i.e. Qur'an) to him. You (O `Uthman!) were amongst those who responded to the call of Allah and His Apostle and had faith in him. And you took part in the first two migrations (to Ethiopia and to Medina), and you enjoyed the company of Allah's Messenger (ﷺ) and learned his traditions and advice. Now the people are talking much about Al-Walid bin `Uqba and so it is your duty to impose on him the legal punishment.' `Uthman رضی اللہ عنہ then said to me, 'O my nephew! Did you ever meet Allah's Messenger (ﷺ) ?' I said, 'No, but his knowledge has reached me as it has reached the virgin in her seclusion.' `Uthman رضی اللہ عنہ then recited Tashahhud and said, 'No doubt, Allah has sent Muhammad with the Truth and has revealed to him His Holy Book (i.e. Qur'an) and I was amongst those who responded to the call of Allah and His Apostle and I had faith in Muhammad's Mission, and I had performed the first two migrations as you have said, and I enjoyed the company of Allah's Messenger (ﷺ) and gave the pledge of allegiance to him. By Allah, I never disobeyed him and never cheated him till Allah caused him to die. Then Allah made Abu Bakr رضی اللہ عنہ Caliph, and by Allah, I was never disobedient to him, nor did I cheat him. Then `Umar رضی اللہ عنہ became Caliph, and by Allah, I was never disobedient to him, nor did I cheat him. Then I became Caliph. Have I not then the same rights over you as they had over me?' I replied in the affirmative. `Uthman رضی اللہ عنہ further said, 'The what are these talks which are reaching me from you? As for what you ha mentioned about Al-Walid bin 'Uqb; Allah willing, I shall give him the leg; punishment justly. Then `Uthman رضی اللہ عنہ ordered that Al-Walid be flogged fort lashes. He ordered `Ali رضی اللہ عنہ to flog him an he himself flogged him as well." Younus, the nephew of zuhri has reported from Zuhri which add: Don't exercise the right over you as those people would enjoy? Imam Abdullah said: "بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ " means due to which you were severely tested. And in place of الِابْتِلَاءُ ,بَلَاءُ and تَّمْحِيصُ are used and it a derived from بَلَوْتُهُ and مَحَّصْتُهُ i.e. I squeezed out whatever he had. يَبْلُو means he puts in trial. مُبْتَلِيكُمْ means he is the one who put you in trial. And His saying "بَلَاءٌ عَظِيمٌ" means blessings and it is derived from أَبْلَتُهُ i.e. I grave him bounties, and that is derived from أَبْلَيْتُهُ i.e. I tested him.
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، انہیں معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے کہا کہ ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا ، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیارنے خبر دی ، انہیں مسور بن مخرمہ اور عبد الر حمن بن اسود بن عبد یغوث
ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا تم اپنے ماموں ( امیرالمؤمنین ) عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے باب میں گفتگو کیوں نہیں کرتے ، ( ہوا یہ تھا کہ لوگوں نے اس پر بہت اعتراض کیا تھا جو حضرت عثمان نے ولید کے ساتھ کیا تھا ) ، عبیداللہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے نکلے تو میں ان کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے ، آپ کو ایک خیرخواہانہ مشورہ دینا ہے ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بھلے آدمی ! تم سے تو میں خدا کی پنا ہ مانگتا ہوں ۔ یہ سن کر میں وہاں سے واپس چلا آیا ۔ نماز سے فا رغ ہونے کے بعد میں مسور بن مخرمہ اور ابن عبد یغوث کی خدمت میں حاضر ہوا اور عثمان رضی اللہ عنہ سے جو کچھ میں نے کہا تھا اور انہوں نے اس کا جواب مجھے جودیا تھا ، سب میں نے بیان کر دیا ۔ ان لوگوں نے کہا تم نے اپنا حق ادا کر دیا ۔ ابھی میں اس مجلس میں بیٹھا تھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کا آدمی میرے پاس ( بلانے کے لیے ) آیا ۔ ان لوگوں نے مجھ سے کہا تمہیں اللہ تعالیٰ نے امتحان میں ڈالا ہے ۔ آخر میں وہاں سے چلا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ نے دریافت کیا تم ابھی جس خیرخواہی کا ذکر کر رہے تھے وہ کیاتھی ؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے کہا اللہ گواہ ہے پھر میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی کتاب نازل فرمائی ، آپ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا تھا ۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے دو ہجرتیں کیں ( ایک حبشہ کو اور دوسری مدینہ کو ) آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو دیکھا ہے ۔ بات یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کے بارے میں لوگوں میں اب بہت چرچا ہونے لگا ہے ۔ اس لئے آپ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر ( شراب نوشی کی ) حد قائم کریں ۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے بھتیجے یا میرے بھانجے کیا تم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی باتیں اس طرح میں نے حاصل کی تھیں جو ایک کنوا ری لڑکی کو بھی اپنے پردے میں معلوم ہو چکی ہیں ۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سن کر پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کو گواہ کر کے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر اپنی کتاب نازل کی تھی اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر ( ابتداء ہی میں ) لبیک کہا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے تھے میں اس پر ایمان لایا اور جیسا کہ تم نے کہا میں نے دو ہجرتیں کیں ۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی ۔ اللہ کی قسم ! میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی آخر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دے دی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتحب ہوئے ۔ اللہ کی قسم ! میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان کے کسی معاملہ میں کوئی خیانت کی ۔ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے میں نے ان کی بھی کبھی نافرمانی نہیں کی اور نہ کبھی خیانت کی ۔ اس کے بعد میں خلیفہ ہوا ۔ کیا اب میرا تم لوگوں پر وہی حق نہیں ہے جو ان کا مجھ پر تھا ؟ عبیداللہ نے عرض کیا یقیناً آپ کا حق ہے پھر انہوں نے کہا پھر ان باتوں کی کیا حقیقت ہے جو تم لوگوں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں ؟ جہاں تک تم نے ولید بن عقبہ کے بارے میں ذکر کیا ہے تو ہم انشاءاللہ اس معاملے میں اس کی گرفت حق کے ساتھ کریں گے ۔ راوی نے بیان کیا کہ آخر ( گواہی کے بعد ) ولید بن عقبہ کو چالیس کوڑے لگوائے گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ کوڑے لگائیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نے اس کو کوڑے مارے تھے ۔ اس حدیث کو یونس اورزہری کے بھتیجے نے بھی زہری سے روایت کیا اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کا قول اس طرح بیان کیا ، کیا تم لوگوں پر میرا وہی حق نہیں ہے جو ان لوگوں کا تم پر تھا ۔امام عبداللہ نے فرمایا: بَلَاءٌ مِنْ رَبِّكُمْ یعنی جس کی وجہ سے آپ کو سخت آزمائش میں ڈالا گیا۔ اور الِابْتِلَاءُ کی جگہ بَلَاءُ اور تَّمْحِيصُ استعمال ہوا ہے اور یہ بَلَوْتُهُ اور مَحَّصْتُهُ سے ماخوذ ہے یعنی جو کچھ اس کے پاس تھا میں نے نچوڑ لیا۔ يَبْلُو کا مطلب ہے کہ وہ آزمائش میں ڈالتا ہے۔ مُبْتَلِيكُمْ یعنی وہی ہے جس نے تمہیں آزمائش میں ڈالا۔ اور اس کا قول "بَلَاءٌ عَظِيمٌ" سے مراد نعمت ہے اور یہ أَبْلَتُهُ سے ماخوذ ہے یعنی میں نے اس پر فضل کیا اور یہ أَبْلَيْتُهُ سے ماخوذ ہے یعنی میں نے اسے آزمایا۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Um Habiba رضی اللہ عنہا and Um Salama رضی اللہ عنہا mentioned a church they had seen in Ethiopia and in the church there were pictures. When they told the Prophet (ﷺ) of this, he said, "Those people are such that if a pious man amongst them died, they build a place of worship over his grave and paint these pictures in it. Those people will be Allah's worst creatures on the Day of Resurrection . "
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد ( عروہ بن زبیر ) نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک گر جے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اس کے اندر تصویریں تھیں ۔ انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ان میں کوئی نیک مرد ہوتا اور اس کی وفات ہو جاتی تو اس کی قبر کو وہ لوگ مسجد بناتے اور پھر اس میں اس کی تصویریں رکھتے ۔ یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بدتر ین مخلوق ہوں گے ۔
Narrated Um Khalid bint Khalid رضی اللہ عنہا :
When I came from Ethiopia (to Medina), I was a young girl. Allah's Messenger (ﷺ) made me wear a sheet having marks on it. Allah's Messenger (ﷺ) was rubbing those marks with his hands saying, "Sanah! Sanah!" (i.e. good, good). Hamaidi says: i.e. elegant, elegant.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق بن سعید سعیدی نے بیان کیا ۔ ان سے ان کے والد سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے ، ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں جب حبشہ سے آئی تو بہت کم عمر تھی ۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر عنایت فرمائی اور پھر آپ نے اس کی دھاریوں پر اپنا ہاتھ پھیر کر فرمایا سناہ سناہ ۔ حمیدی نے بیان کیا کہ سناہ سناہ حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی اچھا اچھا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
We used to greet the Prophet (ﷺ) while he used to be in prayers, and he used to reply to our greetings. But when we came back from Najashi (the King of Ethiopia) we greeted him (while he was praying) and he did not reply to us. We said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We used to greet you in the past and you used to reply to us." He said, "Verily The Mind is occupied and busy with more important matter during the prayer." (So one cannot return One's greetings.) Sulaiman asked Ibrahim: What do you do in this situation? He sad: I reply in heart.
ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
( ابتداء اسلام میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرماتے تھے ۔ لیکن جب ہم نجاشی کے ملک حبشہ سے واپس ( مدینہ ) آئے اور ہم نے ( نماز پڑھتے میں ) آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب نہیں دیا ۔ نماز کے بعد ہم نے عرض کیا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم پہلے آپ کو سلام کرتے تھے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرمایا کرتے تھے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ہاں نماز میں آدمی کو دوسرا شغل ہوتا ہے ۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا ایسے موقعہ پر آپ کیا کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں دل میں جواب دے دیتا ہوں ۔