Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I did not feel jealous of any of the wives of the Prophet (ﷺ) as much as I did of Khadija رضی اللہ عنہ(although) she died before he married me, for I often heard him mentioning her, and Allah had told him to give her the good tidings that she would have a palace of Qasab (i.e. pipes of precious stones and pearls in Paradise), and whenever he slaughtered a sheep, he would send her women-friends a good share of it.
ہم سے سعید بن عفیرنے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، کہا کہ ہشام نے میرے پاس اپنے والد ( عروہ ) سے لکھ کر بھیجا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی کے معاملہ میں ، میں نے اتنی غیرت نہیں محسوس کی جتنی غیرت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے معاملہ ، میں محسوس کرتی تھی ، وہ میرے نکاح سے پہلے ہی وفات پا چکی تھیں لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے میں ان کا ذکر سنتی رہتی تھی ، اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا کہ انہیں ( جنت میں ) موتی کے محل کی خوش خبر دی سنا دیں ، آنخصرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر کبھی بکری ذبح کرتے تو ان سے میل محبت رکھنے والی خواتین کو اس میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے جو ان کے لیے کافی ہو جاتا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I did not feel jealous of any woman as much as I did of Khadija because Allah's Messenger (ﷺ) used to mention her very often. He married me after three years of her death, and his Lord (or Gabriel) ordered him to give her the good news of having a palace of Qasab in Paradise.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے معاملہ میں ، میں جتنی غیرت محسوس کرتی تھی اتنی کسی عورت کے معاملے میں نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ذکر اکثر کیا کرتے تھے ، انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح ان کی وفات کے تین سال بعد ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا یا جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ یہ پیغام پہنچایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I did not feel jealous of any of the wives of the Prophet (ﷺ) as much as I did of Khadija though I did not see her, but the Prophet (ﷺ) used to mention her very often, and when ever he slaughtered a sheep, he would cut its parts and send them to the women friends of Khadija. When I sometimes said to him, "(You treat Khadija in such a way) as if there is no woman on earth except Khadija," he would say, "Khadija رضی اللہ عنہا was such-and-such, and from her I had children."
مجھ سے عمربن محمد بن حسن نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے حفص نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی ، حالانکہ انہیں میں نے دیکھابھی نہیں تھا ، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کاذکربکثرت فرمایاکرتے تھے اور اگر کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے میں نے اکثرحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جیسے دنیا میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں ! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اورایسی تھیں اور ان سے میرے اولاد ہے ۔
Narrated Isma`il:
I asked `Abdullah bin Abi `Aufa, "Did the Prophet (ﷺ) give glad tidings to Khadija رضی اللہ عنہا ?" He said, "Yes, of a palace of Qasab (in Paradise) where there will be neither any noise nor any fatigue."
ہم سے مسددنے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے بیان کیا کہ
میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کوبشارت دی تھی ؟ انہوں نے فرمایا کہ کہ ہاں ، جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دی تھی ، جہاں نہ کوئی شوروغل ہو گا اور نہ تھکن ہو گی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Gabriel علیہ السلام came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This is Khadija رضی اللہ عنہا coming to you with a dish having meat soup (or some food or drink). When she reaches you, greet her on behalf of her Lord (i.e. Allah) and on my behalf, and give her the glad tidings of having a Qasab palace in Paradise wherein there will be neither any noise nor any fatigue (trouble) . "
ہم سے قتیبہ بن سعیدنے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، ان سے عمارہ نے ، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس ایک برتن لیے آ رہی ہیں جس میں سالن یا ( فرمایا ) کھانایا ( فرمایا ) پینے کی چیز ہے جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی جانب سے انہیں سلام پہنچا دیجئیے گا اور میری طرف سے بھی ! اور انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی بشارت دے دیجئیے گا ، جہاں نہ شور و ہنگامہ ہو گا اور نہ تکلیف و تھکن ہو گی ۔
Narrated 'Aisha رضی اللہ عنہا :
Once Hala bint Khuwailid, Khadija's sister, asked the permission of the Prophet (ﷺ) to enter. On that, the Prophet (ﷺ) remembered the way Khadija رضی اللہ عنہا used to ask permission, and that upset him. He said, "O Allah! Hala!" So I became jealous and said, "What makes you remember an old woman amongst the old women of Quraish an old woman (with a teethless mouth) of red gums who died long ago, and in whose place Allah has given you somebody better than her?"
اور اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا ، انہیں علی بن مسہرنے خبر دی ، انہیں ہشام نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلدنے ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اجازت لینے کی ادا یاد آ گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونک اٹھے اور فرمایا اللہ ! یہ تو ہالہ ہیں ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مجھے اس پر بڑی غیرت آئی ، میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کی کس بوڑھی کا ذکر کیا کرتے ہیں جس کے مسوڑوں پر بھی دانتوں کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے ( صرف سرخی باقی رہ گئی تھی ) اور جسے مرے ہوئے بھی ایک زمانہ گزر چکا ہے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر بیوی دے دی ہے ۔
Narrated Jarir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) has never refused to admit me since I embraced Islam, and whenever he saw me, he would smile.
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان یا کہا ہم سے خالدنے بیان کیا ، ان سے بیان نے کہ میں نے قیس سے سنا ، انہوں نے بیان کیاکہ حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ،
جب سے میں اسلام میں داخل ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( گھرکے اندر آنے سے ) نہیں روکا ( جب بھی میں نے اجازت چاہی ) اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکراتے ۔
Narrated Jarir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ :
There was a house called Dhul-Khalasa in the Pre-lslamic Period and it was also called Al-Ka'ba Al-Yamaniya or Al-Ka'ba Ash-Shamiya. Allah's Messenger (ﷺ) said to me, "Will you relieve me from Dhul-Khalasa?" So I left for it with 150 cavalrymen from the tribe of Ahmas and then we destroyed it and killed whoever we found there. Then we came to the Prophet (ﷺ) and informed him about it. He invoked good upon us and upon the tribe of Ahmas.
اور قیس سے روایت ہے کہ حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
زمانہ جاہلیت میں ” ذوالخلصہ “ نامی ایک بت کدہ تھا اسے ” الکعبۃ الیمانیۃ یا الکعبۃ الشامیۃ “ بھی کہتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ” ذی الخلصہ “ کے وجودسے میں جس اذیت میں مبتلا ہوں ، کیا تم مجھے اس سے نجات دلا سکتے ہو ؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو میں لے کر چلا ، انہوں نے بیان کیا اور ہم نے بت کدے کو ڈھا دیا اور اس میں جو تھے ان کو قتل کر دیا ، پھر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے اور قبیلہ احمس کے لیے دعا فرمائی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
On the day of the battle of Uhud the pagans were defeated completely. Then Satan shouted loudly, "O Allah's slaves! Beware the ones behind you!" So the front files attacked the back ones. Then Hudhaifa رضی اللہ عنہ looked and saw his father, and said loudly, "O Allah's slaves! My father! My father!" By Allah, they did not stop till they killed him (i.e. Hudaifa's father). Hudhaifa رضی اللہ عنہ said, "May Allah forgive you!" The sub-narrator said, "By Allah, because of what Hudhaifa رضی اللہ عنہ said, he remained in a good state till he met Allah (i.e. died).
مجھ سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلمہ بن رجاء نے ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
احدکی لڑائی میں جب مشرکین ہارچکے تو ابلیس نے چلا کر کہا اے اللہ کے بندو ! پیچھے والوں کو ( قتل کرو ) چنانچہ آگے کے مسلمان پیچھے والوں پر پل پڑے اور انہیں قتل کرنا شروع کر دیا ، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو ان کے والد ( یمان رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے انہوں نے پکار کر کہا اے اللہ کے بندو یہ تو میرے والد ہیں میرے والد ! عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اللہ کی قسم ! اس وقت تک لوگ وہاں سے نہیں ہٹے جب تک انہیں قتل نہ کر لیا ، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا اللہ تمہاری مغفرت کرے ، ( ہشام نے بیان کیا کہ ) اللہ کی قسم ! حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر یہ کلمہ دعائیہ کہتے رہے ( کہ اللہ ان کے والد پر حملہ کرنے والوں کو بخشے جو کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے یہ حرکت کربیٹھے ) یہ دعا مرتے دم تک کرتے رہے ۔
Narrated 'Aishah (رضی اللہ عنہا):
Hind bint 'Utba رضی اللہ عنہا came and said, "O Allah's Messenger! (Before I embraced Islam) there was no family on the surface of the earth I wished to see in degradation more than I did your family, but today there is no family on the surface of the earth I wish to see honored more than I did yours." The Prophet (ﷺ) said, "I thought similarly, by Him in whose Hand my soul is!" She further said, "O Allah's Messenger ! Abu Sufyan is a miser, so, is it sinful of me to feed my children from his property ?" He said, "I do not allow it unless you take for your needs what is just and reasonable."
اور عبدان نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ نے نے خبر دی انہیں یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، ان سے عروہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ،
حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے بعد ) حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! روئے زمین پر کسی گھرانی کی ذلت آپ کی گھرانی کی ذلت سی زیادہ میرے لیے خوشی کا باعث نہیں تھی لیکن آج کسی گھرانے کی عزت روئے زمین پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر انے کی عزت سے زیادہ میرے لیے خوشی کی وجہ نہیں ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں ابھی اور ترقی ہو گی اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، پھر ہند نے کہا یا رسول اللہ ! ابوسفیان بہت بخیل ہیں تو کیا اس میں کچھ حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے ( ان کی اجازت کے بغیر ) بال بچوں کو کھلا دیا اور پلا دیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ہاں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ دستورکے مطابق ہونا چاہئے ۔
Narrated 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) met Zaid bin 'Amr bin Nufail رضی اللہ عنہ in the bottom of (the valley of) Baldah before any Divine Inspiration came to the Prophet. A meal was presented to the Prophet (ﷺ) but he refused to eat from it. (Then it was presented to Zaid) who said, "I do not eat anything which you slaughter in the name of your stone idols. I eat none but those things on which Allah's Name has been mentioned at the time of slaughtering." Zaid bin 'Amr used to criticize the way Quraish used to slaughter their animals, and used to say, "Allah has created the sheep and He has sent the water for it from the sky, and He has grown the grass for it from the earth; yet you slaughter it in other than the Name of Allah. He used to say so, for he rejected that practice and considered it as something abominable.
مجھ سے محمدبن ابی بکر نے بیان کیا ، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیدبن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے ( وادی ) بلدح کے نشیبی علاقہ میں ملاقات ہوئی ، یہ قصہ نزول وحی سے پہلے کا ہے ، پھرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک دسترخوان بچھایا گیا تو زید بن عمرو بن نفیل نے کھانے سے انکارکر دیا اور جن لوگوں نے دسترخوان بچھایا تھا ان سے کہا کہ اپنے بتوں کے نام پر جو تم ذبیحہ کرتے ہو میں اسے نہیں کھاتا میں تو بس وہی ذبیحہ کھایا کرتا ہوں جس پر صرف اللہ کا نام لیا گیا ہو ، زید بن عمرو قریش پر ان کے ذبیحے کے بارے میں عیب لگایا کرتے اور کہتے تھے کہ بکری کو پیدا تو کیا اللہ تعالیٰ نے ، ا سی نے اس کے لیے آسمان سے پانی برسایا ہے اسی نے اس کے لیے زمین سے گھاس اگائی ، پھر تم لوگ اللہ کے سوا دوسرے ( بتوں کے ) ناموں پر اسے ذبح کرتے ہو ۔ زید نے یہ کلمات ان کے ان کاموں پر اعتراض کرتے ہوئے اور ان کے اس عمل کو بہت بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہے تھے ۔
Narrated Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما :
Zaid bin 'Amr bin Nufail went to Sham, inquiring about a true religion to follow. He met a Jewish religious scholar and asked him about their religion. He said, "I intend to embrace your religion, so tell me some thing about it." The Jew said, "You will not embrace our religion unless you receive your share of Allah's Anger." Zaid رضی اللہ عنہ said, "'I do not run except from Allah's Anger, and I will never bear a bit of it if I have the power to avoid it. Can you tell me of some other religion?" He said, "I do not know any other religion except the Hanif." Zaid رضی اللہ عنہ enquired, "What is Hanif?" He said, "Hanif is the religion of (the prophet) Abraham علیہ السلام who was neither a Jew nor a Christian, and he used to worship None but Allah (Alone)" Then Zaid رضی اللہ عنہ went out and met a Christian religious scholar and told him the same as before. The Christian said, "You will not embrace our religion unless you get a share of Allah's Curse." Zaid رضی اللہ عنہ replied, "I do not run except from Allah's Curse, and I will never bear any of Allah's Curse and His Anger if I have the power to avoid them. Will you tell me of some other religion?" He replied, "I do not know any other religion except Hanif." Zaid رضی اللہ عنہ enquired, "What is Hanif?" He replied, Hanif is the religion of (the prophet) Abraham علیہ السلام who was neither a Jew nor a Christian and he used to worship None but Allah (Alone)" When Zaid رضی اللہ عنہ heard their Statement about (the religion of) Abraham علیہ السلام, he left that place, and when he came out, he raised both his hands and said, "O Allah! I make You my Witness that I am on the religion of Abraham علیہ السلام."
موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور مجھے یقین ہے کہ انہوں نے یہ ابن عمر رضی اللہ عنہماسے بیان کیا تھا کہ
زید بن عمرو بن نفیل شام گئے ، دین ( خالص ) کی تلاش میں نکلے ، وہاں وہ ایک یہودی عالم سے ملے تو انہوں نے ان کے دین کے بارے میں پوچھا اور کہا ممکن ہے کہ میں تمہارا دین اختیارکر لوں ، اس لیے تم مجھے اپنے دین کے متعلق بتاو ، یہودی عالم نے کہا کہ ہمارے دین میں تم اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک تم اللہ کے غضب کے ایک حصہ کے لیے تیار نہ ہو جاؤ ، اس پر زیدرضی اللہ عنہ نے کہا کہ واہ میں اللہ کے غضب ہی سے بھاگ کر آیا ہوں ، پھر خدا کے غضب کو میں اپنے اوپرکبھی نہ لوں گا اور نہ مجھ کو اسے اٹھانے کی طاقت ہے ! کیا تم مجھے کسی اور دوسرے دین کا کچھ پتہ بتا سکتے ہو ؟ اس عالم نے کہا میں نہیں جانتا ( کوئی دین سچا ہو تو دین حنیف ہو ) زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا دین حنیف کیا ہے ؟ اس عالم نے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام کا دین جو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور وہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے ، زید وہاں سے چلے آئے اور ایک نصرانی پادری سے ملے ، ان سے بھی اپنا خیال بیان کیا اس نے بھی یہی کہا کہ تم ہمارے دین میں آو گے تو اللہ تعالیٰ کی لعنت میں سے ایک حصہ لو گے ، زیدرضی اللہ عنہ نے کہا میں اللہ کی لعنت سے ہی بچنے کے لیے تو یہ سب کچھ کر رہا ہوں ، اللہ کی لعنت اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں اور نہ میں اس کا یہ غضب کس طرح اٹھا سکتا ہوں ! کیا تم میرے لیے اس کے سوا کوئی اور دین بتلا سکتے ہو ، پادری نے کہا کہ میری نظر میں ہو تو صرف ایک دین حنیف سچا دین ہے زیدنے پوچھا دین حنیف کیا ہے ؟ کہا کہ وہ دین ابراہیم علیہ السلام ہے جو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور اللہ کے سوا وہ کسی کی پوجا نہیں کرتے تھے ، زیدنے جب دین ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ان کی یہ رائے سنی تو وہاں سے روانہ ہو گئے ، اور اس سرزمین سے باہر نکل کر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور یہ دعا کی ، اے اللہ ! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں دین ابراہیم پر ہوں ۔
Narrated Asma bint Abi Bakr رضی اللہ عنہما :
I saw Zaid bin Amr bin Nufail standing with his back against the Ka'ba and saying, "O people of Quraish! By Allah, none amongst you is on the religion of Abraham except me." He used to preserve the lives of little girls: If somebody wanted to kill his daughter he would say to him, "Do not kill her for I will feed her on your behalf." So he would take her, and when she grew up nicely, he would say to her father, "Now if you want her, I will give her to you, and if you wish, I will feed her on your behalf."
اورلیث بن سعدنے کہا کہ مجھے ہشام نے لکھا ، اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے اور انہوں نے کہا کہ ہم سے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ
میں نے زیدبن عمرو بن نفیل کوکعبہ سے اپنی پیٹھ لگائے ہوئے کھڑے ہو کر یہ کہتے سنا ، اے قریش کے لوگو ! خدا کی قسم میرے سوا اور کوئی تمہارے یہاں دین ابراہیم پر نہیں ہے اور زید بیٹیوں کوزندہ نہیں گاڑتے تھے اور ایسے شخص سے جواپنی بیٹی کو مار ڈالنا چاہتاکہتے اس کی جان نہ لے اس کے تمام اخراجات کاذمہ میں لیتاہوں ، چنانچہ لڑکی کو اپنی پرورش میں رکھ لیتے جب وہ بڑی ہو جاتی تو اس کے باپ سے کہتے اب اگر تم چاہو تو میں تمہاری لڑکی کو تمہارے حوالے کرسکتاہوں اوراگرتمہاری مرضی ہو تو میں اس کے سب کام پورے کر دوں گا ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
When the Ka`ba was rebuilt, the Prophet (ﷺ) and `Abbas رضی اللہ عنہ went to carry stones. `Abbas رضی اللہ عنہ said to the Prophet (ﷺ) "(Take off and) put your waist sheet over your neck so that the stones may not hurt you." (But as soon as he took off his waist sheet) he fell unconscious on the ground with both his eyes towards the sky. When he came to his senses, he said, "My waist sheet! My waist sheet!" Then he tied his waist sheet (round his waist).
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
جب کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ اس کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اپنا تہبند گردن پر رکھ لو اس طرح پتھر کی ( خراش لگنے سے ) بچ جاؤ گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایسا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گر پڑے اور آپ کی نظر آسمان پر گڑگئی جب ہوش ہوا تو آپ نے چچا سے فرمایا میرا تہبند لاؤ پھر انہوں نے آپ کا تہبند خوب مضبوط باندھ دیا ۔
Narrated `Amr bin Dinar and 'Ubaidullah bin Abi Yazid:
In the lifetime of the Prophet (ﷺ) there was no wall around the Ka`ba and the people used to pray around the Ka`ba till `Umar رضی اللہ عنہ became the Caliph and he built the wall around it. 'Ubaidullah رضی اللہ عنہما further said, "Its wall was low, so Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہما built it."
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینا ر نے اور عبیداللہ بن ابی یزید نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بیت اللہ کے گرد احاطہٰ کی دیوار نہ تھی لوگ کعبہ کے گرد نماز پڑھتے تھے پھر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے اس کے گرد دیوار بنوائی ۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ یہ دیوار یں بھی پست تھیں عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہما نے ان کو بلند کیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Ashura' (i.e. the tenth of Muharram) was a day on which the tribe of Quraish used to fast in the prelslamic period of ignorance. The Prophet (ﷺ) also used to fast on this day. So when he migrated to Medina, he fasted on it and ordered (the Muslims) to fast on it. When the fasting of Ramadan was enjoined, it became optional for the people to fast or not to fast on the day of Ashura.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
عاشورا کا روزہ قریش کے لوگ زمانہ جاہلیت میں رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے باقی رکھا تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا لیکن جب رمضان کا روزہ ۲ھ میں فرض ہوا تو اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ جس کا جی چاہے عاشورا کا روزہ رکھے اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The people used to consider the performance of `Umra in the months of Hajj an evil deed on the earth, and they used to call the month of Muharram as Safar and used to say, "When (the wounds over) the backs (of the camels) have healed and the foot-marks (of the camels) have vanished (after coming from Hajj), then `Umra becomes legal for the one who wants to perform `Umra." Allah's Messenger (ﷺ) and his companions reached Mecca assuming Ihram for Hajj on the fourth of Dhul-Hijja. The Prophet (ﷺ) ordered his companions to perform `Umra (with that lhram instead of Hajj). They asked, "O Allah's Apostle! What kind of finishing of Ihram?" The Prophet (ﷺ) said, "Finish the Ihram completely.'
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ، ان سے ان کے والدنے اور ان سے حضرت عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
زمانہ جاہلیت میں لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ خیال کرتے تھے ۔ وہ محرم کو صفر کہتے ۔ ان کے ہاں یہ مثل تھی کہ اونٹ کی پیٹھ کا زخم جب اچھا ہونے لگے اور ( حاجیوں کے ) نشانات قدم مٹ چکیں تو اب عمرہ کرنے والوں کا عمرہ جائز ہوا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو حج کا احرام باندھے ہوئے ( مکہ ) تشریف لائے تو آپ نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے حج کو عمرہ کر ڈالیں ( طواف اور سعی کر کے احرام کھول دیں ) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ( اس عمرہ اور حج کے دوران میں ) کیا چیز یں حلال ہوں گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام چیزیں ! جو احرام کی نہ ہونے کی حالت میں حلال تھیں وہ سب حلال ہو جائیں گی ۔
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab's grand-father:
In the pre-lslamic period of ignorance a flood of rain came and filled the valley in between the two mountains (around the Ka`ba). Sufyan, the transmitter, says: They considered it to be a great event.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، کہا کہ عمرو بن دینار بیان کیا کرتے تھے کہ ہم سے سعید بن مسیب نے اپنے والد سے بیان کیا ، انہوں نے سعید کے داداحزن سے بیان کیاکہ
زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ سیلاب آیا کہ ( مکہ کی ) دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی ہی پانی ہو گیا سفیان نے بیان کیا کہ بیان کرتے تھے کہ اس حدیث کا ایک بہت بڑا قصہ ہے
Narrated Qais bin Abi Hazim:
Abu Bakr رضی اللہ عنہ went to a lady from the Ahmas tribe called Zainab bint Al-Muhajir and found that she refused to speak. He asked, "Why does she not speak." The people said, "She has intended to perform Hajj without speaking." He said to her, "Speak, for it is illegal not to speak, as it is an action of the pre-islamic period of ignorance. So she spoke and said, "Who are you?" He said, "A man from the Emigrants." She asked, "Which Emigrants?" He replied, "From Quraish." She asked, "From what branch of Quraish are you?" He said, "You ask too many questions; I am Abu Bakr رضی اللہ عنہ ." She said, "How long shall we enjoy this good order (i.e. Islamic religion) which Allah has brought after the period of ignorance?" He said, "You will enjoy it as long as your Imams keep on abiding by its rules and regulations." She asked, "What are the Imams?" He said, "Were there not heads and chiefs of your nation who used to order the people and they used to obey them?" She said, "Yes." He said, "So they (i.e. the Imams) are those whom I meant."
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے ابو بشر نے اور ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلہ احمس کی ایک عورت سے ملے ان کا نام زینب بنت مہاجر تھا ، آپ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کر تیں دریافت فرمایا کیا بات ہے یہ بات کیوں نہیں کرتیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ مکمل خاموشی کے ساتھ حج کرنے کی منت مانی ہے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اجی بات کرو اس طرح حج کر نا تو جاہلیت کی رسم ہے ، چنانچہ اس نے بات کی اور پوچھا آپ کون ہیں ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں مہاجرین کا ایک آدمی ہوں ۔ انہوں نے پوچھا کہ مہاجرین کے کس قبیلہ سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ قریش سے ، انہوں نے پوچھا قریش کے کس خاندان سے ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا تم بہت پوچھنے والی عورت ہو ، میں ابوبکر ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا جاہلیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں یہ دین حق عطافرمایا ہے اس پر ہم ( مسلمان ) کب تک قائم رہ سکیں گے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس پر تمہار ا قیام اس وقت تک رہے گا جب تک تمہار ے امام حاکم سید ھے رہیں گے ۔ اس خاتون نے پوچھا امام سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا کیا تمہاری قوم میں سردار اور اشراف لوگ نہیں ہیں جو اگر لوگوں کو کوئی حکم دیں تو وہ اس کی اطاعت کریں ؟ اس نے کہا کہ کیوں نہیں ہیں ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امام سے یہی مراد ہیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
A black lady slave of some of the 'Arabs embraced Islam and she had a hut in the mosque. She used to visit us and talk to us, and when she finished her talk, she used to say: "The day of the scarf was one of our Lord's wonders: Verily! He has delivered me from the land of Kufr." When she said the above verse many times, I (i.e. `Aisha رضی اللہ عنہا) asked her, "What was the day of the scarf?" She replied, "Once the daughter of some of my masters went out and she was wearing a leather scarf (round her neck) and the leather scarf fell from her and a kite descended and picked it up, mistaking it for a piece of meat. They (i.e. my masters) accused me of stealing it and they tortured me to such an extent that they even looked for it in my private parts. So, while they all were around me, and I was in my great distress, suddenly the kite came over our heads and threw the scarf, and they took it. I said to them 'This is what you accused me of stealing, though I was innocent."
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی ، انہیں ہشام نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ایک کالی عورت جو کسی عرب کی باندی تھی ، اسلام لائی اور مسجد میں اس کے رہنے کے لیے ایک کوٹھری تھی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا وہ ہما رے یہاں آیا کرتی اور باتیں کیا کرتی تھی ، لیکن جب باتوں سے فارغ ہو جاتی تو وہ یہ شعر پڑھتی ” اور ہار والا دن بھی ہمارے رب کے عجائب قدرت میں سے ہے ، کہ اسی نے ( بفضلہ ) کفر کے شہر سے مجھے چھڑایا ۔ “ اس نے جب کئی مرتبہ یہ شعر پڑھا توعائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے دریافت کیا کہ ہار والے دن کاقصہ کیا ہے ؟ اس نے بیان کیا کہ میرے مالکوں کے گھر انے کی ایک لڑکی ( جو نئی دولہن تھی ) لال چمڑے کا ایک ہار باندھے ہوئے تھی ۔ وہ باہر نکلی تو اتفاق سے وہ گر گیا ۔ ایک چیل کی اس پر نظر پڑی اور وہ اسے گوشت سمجھ کر اٹھا لے گئی ۔ لوگوں نے مجھ پر اس کی چوری کی تہمت لگائی اور مجھے سزائیں دینی شروع کیں ۔ یہاں تک کہ میری شرمگاہ کی بھی تلاشی لی ۔ خیر وہ ابھی میرے چاروں طرف جمع ہی تھے اور میں اپنی مصیبت میں مبتلا تھی کہ چیل آئی اور ہمارے سروں کے با لکل اوپر اڑنے لگی ۔ پھر اس نے وہی ہار نیچے گرا دیا ۔ لوگوں نے اسے اٹھا لیا تو میں نے ان سے کہا اسی کے لیے تم لوگ مجھے اتہام لگا رہے تھے حالانکہ میں بےگناہ تھی ۔