Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
A man said, "O Allah's Messenger (ﷺ). What type of clothes should a Muhrim wear Allah's Messenger (ﷺ) replied, 'Do not wear shirts, turbans trousers hooded cloaks or Khuffs (socks made from thick fabric or leather); but if someone cannot get sandals, then he can wear Khuffs after cutting them short below the ankles. Do not wear clothes touched by saffon or wars (two kinds of perfumes).
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا ، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! محرم کس طرح کا کپڑا پہنے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( محرم کے لیے ) کہ قمیص نہ پہنو نہ عمامے نہ پاجامے نہ برنس اور نہ موزے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملے تو وہ ( چمڑے کے ) موزوں کو ٹخنہ سے نیچے تک کاٹ کر انہیں پہن سکتا ہے اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگایا گیا ہو ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever cannot get an Izar, can wear trousers, and whoever cannot wear sandals can wear Khuffs (socks made from thick fabric or leather)."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے عمرو نے ، ان سے جابر بن زید نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( محرم کے بارے میں ) فرمایا جسے تہمد نہ ملے وہ پاجامہ پہنے اور جسے چپل نہ ملیں وہ موزے پہنیں ۔
Narrated `Abdullah:
A man got up and said, O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you order us to wear when we assume the state of Ihram?" The Prophet (ﷺ) replied, "Do not wear shirts, trousers, turbans, hooded cloaks or Khuffs (socks made from thick fabric or leather), but if a man has no sandals, he can wear Khuffs after cutting them short below the ankles; and do not wear clothes touched with (perfumes) of saffron or wars."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ نے بیان کیا کہ
ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! احرام باندھنے کے بعد ہمیں کس چیز کے پہننے کا حکم ہے ؟ فرمایا کہ قمیص نہ پہنو نہ پاجامے ، نہ عمامے ، نہ برنس اور نہ موزے پہنو ۔ البتہ اگر کسی کے پاس چپل نہ ہوں تو وہ چمڑے کے ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران اور ورس لگا ہوا ہو ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "A Muhrim should not wear a shirt, a turban, trousers, hooded cloaks, a garment touched with (perfumes) of saffron or wars, or Khuffs (socks made from thick fabric or leather) except if one has no sandals in which case he should cut short the Khuffs below the ankles."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا ، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی ، انہیں ان کے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ) نے خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیص نہ پہنے نہ عمامہ پہنے نہ پاجامہ نہ برنس اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران اور ورس لگا ہو اور نہ موزے پہنے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملیں تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے ۔ ( پھر پہنے )
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Some Muslim men emigrated to Ethiopia whereupon Abu Bakr رضی اللہ عنہ also prepared himself for the emigration, but the Prophet (ﷺ) said (to him), "Wait, for I hope that Allah will allow me also to emigrate." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "Let my father and mother be sacrificed for you. Do you hope that (emigration)?" The Prophet said, 'Yes." So Abu Bakr رضی اللہ عنہ waited to accompany the Prophet (ﷺ) and fed two she-camels he had on the leaves of As-Samur tree regularly for four months One day while we were sitting in our house at midday, someone said to Abu Bakr رضی اللہ عنہ , "Here is Allah's Messenger (ﷺ), coming with his head and a part of his face covered with a cloth-covering at an hour he never used to come to us." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "Let my father and mother be sacrificed for you, (O Prophet)! An urgent matter must have brought you here at this hour." The Prophet (ﷺ) came and asked the permission to enter, and he was allowed. The Prophet (ﷺ) entered and said to Abu Bakr رضی اللہ عنہ , "Let those who are with you, go out." Abu Bakr رضی اللہ عنہ replied, "(There is no stranger); they are your family. Let my father be sacrificed for you, O Allah's Apostle!" The Prophet (ﷺ) said, "I have been allowed to leave (Mecca)." Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, " I shall accompany you, O Allah's Messenger (ﷺ), Let my father be sacrificed for you!" The Prophet (ﷺ) said, "Yes," Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)s! Let my father be sacrificed for you. Take one of these two shecamels of mine" The Prophet (ﷺ) said. I will take it only after paying its price." So we prepared their baggage and put their journey food In a leather bag. And Asma' bint Abu Bakr cut a piece of her girdle and tied the mouth of the leather bag with it. That is why she was called Dhatan- Nitaqaln. Then the Prophet (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ went to a cave in a mountain called Thour and remained there for three nights. `Abdullah bin Abu Bakr رضی اللہ عنہ . who was a young intelligent man. used to stay with them at night and leave before dawn so that in the morning, he would he with the Quraish at Mecca as if he had spent the night among them. If he heard of any plot contrived by the Quraish against the Prophet and Abu Bakr رضی اللہ عنہ , he would understand it and (return to) inform them of it when it became dark. 'Amir bin Fuhaira رضی اللہ عنہ , the freed slave of Abu Bakr رضی اللہ عنہ used to graze a flock of milch sheep for them and he used to take those sheep to them when an hour had passed after the `Isha prayer. They would sleep soundly till 'Amir bin Fuhaira رضی اللہ عنہ awakened them when it was still dark. He used to do that in each of those three nights.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں معمر نے ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
بہت سے مسلمان حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کی تیاریاں کرنے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ٹھہر جاؤ کیونکہ مجھے بھی امید ہے کہ مجھے ( ہجرت کی ) اجازت دی جائے گی ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا آپ کو بھی امید ہے ؟ میرا باپ آپ پر قربان ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کے خیال سے رک گئے اور اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے پتے کھلا کر چار مہینے تک انہیں خوب تیار کرتے رہے ۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہم ایک دن دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھکے ہوئے تشریف لا رہے ہیں ۔ اس وقت عموماً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف نہیں لاتے تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میرے ماں باپ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت کسی وجہ ہی سے تشریف لا سکتے ہیں ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان پرپہنچ کر اجازت چاہی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور اندر داخل ہوتے ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جو لوگ تمہارے پاس اس وقت ہیں انہیں اٹھا دو ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی میرا باپ آپ پر قربان ہو یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ سب آپ کے گھر ہی کے افراد ہیں ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی پھر یا رسول اللہ ! مجھے رفاقت کا شرف حاصل رہے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ۔ عرض کی یا رسول اللہ ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے بہت جلدی جلدی سامان سفر تیار کیا اور سفر کا ناشتہ ایک تھیلے میں رکھا ۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پٹکے کے ایک ٹکڑے سے تھیلہ کے منہ کو باندھا ۔ اسی وجہ سے انہیں ” ذات النطاق “ ( پٹکے والی ) کہنے لگے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ثور نامی پہاڑ کی ایک غار میں جا کر چھپ گئے اور تین دن تک اسی میں ٹھہرے رہے ۔ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات آپ حضرات کے پاس ہی گزارتے تھے ۔ وہ نو جوان ذہین اور سمجھدار تھے ۔ صبح تڑ کے میں وہاں سے چل دیتے تھے اور صبح ہوتے ہوتے مکہ کے قریش میں پہنچ جاتے تھے ۔ جیسے رات میں مکہ ہی میں رہے ہوں ۔ مکہ مکرمہ میں جو بات بھی ان حضرات کے خلاف ہوتی اسے محفوظ رکھتے اور جوں ہی رات کا اندھیرا چھا جاتا غار ثور میں ان حضرات کے پاس پہنچ کر تمام تفصیلات کی اطلاع دیتے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی بکریاں چراتے تھے اور جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا تو ان بکریوں کو غار ثور کی طرف ہانک لاتے تھے ۔ آپ حضرات بکریوں کے دودھ پر رات گزارتے اور صبح کی پوپھٹتے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو جاتے ۔ ان تین راتوں میں انہوں نے ہر رات ایسا ہی کیا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
In the year of the conquest of Mecca the Prophet (ﷺ) entered Mecca, wearing a helmet on his head.
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے زہری نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال ( مکہ مکرمہ میں ) داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھی ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Once I was walking with Allah's Messenger (ﷺ) and he was wearing a Najram Burd with thick margin. A bedouin followed him and pulled his Burd so violently that I noticed the side of the shoulder of Allah's Messenger (ﷺ) affected by the margin of the Burd because of that violent pull. The Bedouin said, "O Muhammad! Give me some of Allah's wealth which is with you." Allah's Messenger (ﷺ) turned and looked at him, and smiling, 'he ordered that he be given something.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ( یمن کے ) نجران کی بنی ہوئی موٹے حاشیے کی ایک چادر تھی ۔ اتنے میں ایک دیہاتی آ گیا اور اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑ کر اتنی زور سے کھینچا کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھے پر دیکھا کہ اس کے زورسے کھینچنے کی وجہ سے نشان پڑ گیا تھا ۔ پھر اس نے کہا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! مجھے اس مال میں سے دیئے جانے کا حکم کیجیئے جو اللہ کا مال آپ کے پاس ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرائے اور آپ نے اسے دیئے جانے کا حکم فرمایا ۔
Narrated Shahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
"A lady came with a Burda. Sahl then asked (the people), "Do you know what Burda is?" Somebody said, "Yes. it is a Shamla with a woven border." Sahl added, "The lady said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! I have knitted this (Burda) with my own hands for you to wear it." Allah's Messenger (ﷺ) took it and he was in need of it. Allah's Messenger (ﷺ) came out to us and he was wearing it as an Izar. A man from the people felt it and said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Give it to me to wear.' The Prophet (ﷺ) s said, 'Yes.' Then he sat there for some time (and when he went to his house), he folded it and sent it to him. The people said to that man, 'You have not done a right thing. You asked him for it, though you know that he does not put down anybody's request.' The man said, 'By Allah! I have only asked him so that it may be my shroud when I die." Sahl رضی اللہ عنہ added, "Late it was his shroud."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک عورت ایک چادر لے کر آئیں ( جو اس نے خود بنی تھی ) حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ پردہ کیا تھا پھر بتلایا کہ یہ ایک اونی چادرتھی جس کے کناروں پر حاشیہ ہوتا ہے ۔ ان خاتون نے حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ چادر میں نے خاص آپ کے اوڑھنے کے لیے بنی ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر ان سے اس طرح لی گویا آپ کو اس کی ضرورت ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہمد کے طور پر پہن کر ہمارے پاس تشریف لائے ۔ جماعت صحابہ میں سے ایک صاحب ( عبدالرحمٰن بن عوف ) نے اس چادر کو چھوا اور عرض کی یا رسول اللہ ! یہ مجھے عنایت فرما دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ۔ جتنی دیر اللہ نے چاہا آپ مجلس میں بیٹھے رہے پھر تشریف لے گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر ان صاحب کے پاس بھجوادیا ۔ صحابہ نے اس پر ان سے کہا تم نے اچھی بات نہیں کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چادر مانگ لی ۔ تمہیں معلوم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سائل کو محروم نہیں فرماتے ۔ ان صاحب نے کہا اللہ کی قسم میں نے تو صرف آنحضرت سے یہ اس لیے مانگی ہے کہ جب میں مروں تو یہ میرا کفن ہو ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ وہ چادر اس صحابی کے کفن ہی میں استعمال ہوئی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying "From among my followers, a group (o 70,000) will enter Paradise without being asked for their accounts, Their faces will be shining like the moon." 'Ukasha bin Muhsin Al-Asadi رضی اللہ عنہ got up, lifting his covering sheet and said, "O Allah's Messenger (ﷺ) Invoke Allah for me that He may include me with them." The Prophet (ﷺ) said! "O Allah! Make him from them." Then another man from Al-Ansar got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah for me that He may include me with them." On that Allah's Messenger (ﷺ) said, "'Ukasha has anticipated you."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ سے حضرت سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے جنت میں ستر ہزار کی ایک جماعت داخل ہو گی ان کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے ۔ حضرت عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی دھاری دار چادر سنبھالتے ہوئے اٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے لیے بھی دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے انہیں میں سے بنا دے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ ! عکاشہ کو بھی انہیں میں سے بنا دے ۔ اس کے بعد قبیلہ انصار کے ایک صحابی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے بنا دے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے عکاشہ دعا کرا چکا ۔
Narrated Qatada Anas رضی اللہ عنہ :
"What kind of clothes was most beloved to the Prophet?" He replied, "The Hibra (a kind of Yemenese cloth).
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح کا کپڑا زیادہ پسند تھا بیان کیا کہ حبرۃ کی سبز یمنی چادر ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The most beloved garment to the Prophet (ﷺ) to wear was the Hibra (a kind of Yemenese cloth).
مجھ سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معاذ دستوائی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کپڑوں میں یمنی سبز چادر پہننا بہت پسند تھی ۔
Narrated `Aisha (the wife of the Prophet) رضی اللہ عنہا :
When Allah's Messenger (ﷺ) died, he was covered with a Hibra Burd (green square decorated garment).
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی نعش مبارک پر ایک سبز یمنی چادر ڈال دی گئی تھی ۔
Narrated `Aisha and `Abdullah bin `Abbas رضی اللہ عنہم :
When the disease of Allah's Messenger (ﷺ) got aggravated, he covered his face with a Khamisa, but when he became short of breath, he would remove it from his face and say, "It is like that! May Allah curse the Jews Christians because they took the graves of their prophets as places of worship." By that he warned his follower of imitating them, by doing that which they did.
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعدنے بیان کیا ، ان سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی ، ان سے حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب آخری مرض طاری ہوا تو آپ اپنی کملی چہرہ مبارک پر ڈالتے تھے اور جب سانس گھٹنے لگتا تو چہرہ کھول لیتے اور اسی حالت میں فرماتے ” یہود و نصاریٰ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہو گئے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔ “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عمل بد سے ( مسلمانوں کو ) ڈرا رہے تھے ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) offered prayer while he was wearing a Khamisa of his that had printed marks. He looked at its marks and when he finished prayer, he said, "Take this Khamisa of mine to Abu Jahm, for it has just now diverted my attention from my prayer, and bring to me the Anbijania (a plain thick sheet) of Abu Jahm bin Hudhaifa bin Ghanim who belonged to Bani Adi bin Ka`b."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک نقشی چادر میں نماز پڑھی اور اس کے نقش ونگار پر نماز ہی میں ایک نظر ڈالی ۔ پھر سلام پھیر کر فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم کو واپس دے دو ۔ اس نے ابھی مجھے میری نماز سے غافل کر دیا تھا اور ابوجہم کی سادی چادر لیتے آؤ ۔ یہ ابوجہم بن حذیفہ بن غانم بنی عدی بن کعب قبیلے میں سے تھے ۔
Narrated Abu Burda:
Aisha رضی اللہ عنہا brought out to us a Kisa and an Izar and said, "The Prophet (ﷺ) died while wearing these two." (Kisa, a square black piece of woolen cloth. Izar, a sheet cloth garment covering the lower half of the body).
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے ابوبردہ نے بیان کیا کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک موٹی کملی ( کساء ) اور ایک موٹی ازار نکال کر دکھائی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ان ہی دو کپڑوں میں قبض ہوئی تھی ۔ (کیسہ، اونی کپڑے کا ایک مربع سیاہ ٹکڑا۔ ازار، ایک چادر والا لباس جو جسم کے نچلے حصے کو ڈھانپتا ہے)۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) had forbidden: (A) the Mulamasa and Munabadha (bargains), (B) the offering of two prayers, one after the morning compulsory prayer till the sun rises, and the others, after the `Asr prayer till the sun sets (C) He also forbade that one should sit wearing one garment, nothing of which covers his private parts (D) and prevent them from exposure to the sky; (E) he also forbade Ishtimalas- Samma'.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اورمنابذہ سے منع فرمایا اور دو وقت نمازوں سے بھی آپ نے منع فرمایا نماز فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص صرف ایک کپڑا جسم پر لپیٹ کر گھٹنے اوپر اٹھا کر اس طرح بیٹھ جائے کہ اس کی شرمگاہ پر آسمان و زمین کے درمیان کوئی چیز نہ ہو ۔ اور اشتمال صماء سے منع فرمایا ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) forbade two ways of wearing clothes and two kinds of dealings. (A) He forbade the dealings of the Mulamasa and the Munabadha. In the Mulamasa transaction the buyer just touches the garment he wants to buy at night or by daytime, and that touch would oblige him to buy it. In the Munabadha, one man throws his garment at another and the latter throws his at the former and the barter is complete and valid without examining the two objects or being satisfied with them (B) The two ways of wearing clothes were Ishtimal-as-Samma, i e., to cover one's shoulder with one's garment and leave the other bare: and the other way was to wrap oneself with a garment while one was sitting in such a way that nothing of that garment would cover one's private part.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں عامر بن سعد نے خبر دی ، اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے اور دو طرح کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ۔ خرید فروخت میں ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۔ ملامسہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص ( خریدار ) دوسرے ( بیچنے والے ) کے کپڑے کو رات یا دن میں کسی بھی وقت بس چھو دیتا ( اور دیکھے بغیر صرف چھونے سے بیع ہو جاتی ) صرف چھونا ہی کافی تھا کھول کردیکھا نہیں جاتا تھا ۔ منابذہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص اپنی ملکیت کا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکتا اور دوسرا اپنا کپڑا پھینکتا اور بغیر دیکھے اور بغیر باہمی رضامندی کے صرف اسی سے بیع منعقد ہو جاتی اور دو کپڑے ( جن سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا انہیں میں سے ایک ) اشتمال صماء ہے ۔ صماء کی صورت یہ تھی کہ اپنا کپڑا ( ایک چادر ) اپنے ایک شانے پر اس طرح ڈالا جاتا کہ ایک کنارہ سے ( شرمگاہ ) کھل جاتی اور کوئی دوسرا کپڑا وہاں نہیں ہوتا تھا ۔ دوسرے پہناوے کا طریقہ یہ تھا کہ بیٹھ کر اپنے ایک کپڑے سے کمر اور پنڈلی باندھ لیتے تھے اور شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہیں ہوتا تھا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) forbade two types of dresses: (A) To sit in an Ihtiba' posture in one garment nothing of which covers his private parts. (B) to cover one side of his body with one garment and leave the other side bare The Prophet (ﷺ) also forbade the Mulamasa and Munabadha.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا یہ کہ کوئی شخص ایک ہی کپڑے سے اپنی کمر اورپنڈلی کو ملا کر باندھ لے اور شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو اور یہ کہ کوئی شخص ایک کپڑے کو اس طرح جسم پر لپیٹے کہ ایک طرف کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو اور آپ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) forbade Ishtimal-as-Samma' and that a man should sit in an Ihtiba' posture in one garment, nothing of which covers his private parts.
مجھ سے محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو مخلد نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریح نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہمیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور انہیں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے منع فرمایا اور اس سے بھی کہ کوئی شخص ایک کپڑے سے پنڈلی اور کمر کوملا لے اورشرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو ۔
Narrated Um Khalid bint Khalid رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) was given some clothes including a black Khamisa. The Prophet (ﷺ) said, "To whom shall we give this to wear?" The people kept silent whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Fetch Um Khalid for me." I (Um Khalid) was brought carried (as I was small girl at that time). The Prophet (ﷺ) took the Khamisa in his hands and made me wear it and said, "May you live so long that your dress will wear out and you will mend it many times." On the Khamisa there were some green or pale designs (The Prophet (ﷺ) saw these designs) and said, "O Um Khalid! This is Sanah." (Sanah in a Ethiopian word meaning beautiful).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسحاق بن سعید نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے سعید بن فلاں یعنی عمرو بن سعید بن عاص نے اور ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے جس میں ایک چھوٹی کالی کملی بھی تھی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیاخیال ہے یہ چادر کسے دی جائے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ام خالد کو میرے پاس بلا لاؤ ۔ انہیں گود میں اٹھا کر لایا گیا ( کیونکہ بچی تھیں ) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر اپنے ہاتھ میں لی اور انہیں پہنایا اور دعا دی کہ جیتی رہو ۔ اس چادر میں ہرے اور زرد نقش و نگار تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد ! یہ نقش ونگار ” سناہ “ ہیں ۔ ” سناہ “ حبشی زبان میں خوب اچھے کے معنی میں آتا ہے ۔