Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) forbade the wearing of a gold ring. Amr, Shobah, Qqatadah, reported same from Basheer bin Naheek.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے نضر بن انس نے ، ان سے بشیر بن نہیک نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی کے پہننے سے مردوں کو منع فرمایا تھا ۔ اور عمرو نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں قتادہ نے ، انہوں نے نضر سے سنا اور انہوں نے بشیر سے سنا ۔ آگے اسی طرح روایت بیان کی ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) wore a gold or silver .. ring and placed its stone towards the palm of his hand. The people also started wearing gold rings like it, but when the Prophet (ﷺ) saw them wearing such rings, he threw away that golden ring and then wore a silver ring.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ا ن سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا پھر کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوالیں ۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوالی ۔
Narrated Ibn. `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) wore a gold ring or a silver ring and placed its stone towards the palm of his hand and had the name 'Muhammad, the Messenger of Allah' engraved on it. The people also started wearing gold rings like it, but when the Prophet (ﷺ) saw them wearing such rings, he threw away his own ring and said. "I will never wear it," and then wore a silver ring, whereupon the people too started wearing silver rings. Ibn `Umar رضی اللہ عنہما added: After the Prophet (ﷺ) Abu Bakr رضی اللہ عنہ wore the ring, and then `Umar رضی اللہ عنہ and then `Uthman wore it till it fell in the Aris well from `Uthman رضی اللہ عنہ .
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو اسا مہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے یاچاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا اور اس پر ” محمدرسول اللہ “ کے الفاظ کھدوائے پھر دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوالیں ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اس طرح کی انگوٹھیاں بنوالی تو آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا ۔ پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگو ٹھیاں بنوالیں ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس انگوٹھی کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت عثمان نے پہنا ۔ آخر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وہ انگوٹھی اریس کے کنویں میں گر گئی ۔
Narrated Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) wore a gold ring, then he threw it and said, "I will never wear it." The people also threw their (gold) rings.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حرمت سے پہلے ) سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے پھر حرمت کا حکم آنے پر آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ میں اب سے کبھی نہیں پہنوں گا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
He saw a silver ring on the hand of Allah's Messenger (ﷺ) for one day only. Then the people had silver rings made for themselves and wore it. On that, Allah's Messenger (ﷺ) threw away their rings as well. (For the details of this Hadith, see Fath-ul-Bari). Similarly, Ibrahim bin Sa'd, Ziyad, and Shobah reported from Zuhri. And Ibn-e-Mussafir has reported from Zuhri: I saw silver ring.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی پھر دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوانی شروع کر دیں اور پہننے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دیں اور دوسرے لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دی ۔ اس روایت کی متابعت ابراہیم بن سعد ، زیاد اور شعیب نے زہری سے کی ہے اور ابن مسافر نے زہری سے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ” خاتما من ورق “ بیان کیا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
"Did the Prophet (ﷺ) wear a ring?" Anas said, "Once he delayed the: `Isha' prayer till midnight. Then he came, facing us ..... as if l am now Looking at the glitter of his ring ..... and said, "The people have offered their prayers and slept but you have been in prayer as you have been waiting for it."
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی ، کہا ہم کو حمید نے خبر دی ، کہا انہوں نے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا
کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی ۔ انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز آدھی رات میں پڑھائی ۔ پھر چہرہ مبارک ہماری طرف کیا ، جیسے اب بھی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے لیکن تم اس وقت بھی نماز میں ہو جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The ring of the Prophet (ﷺ) was of silver, and its stone was of silver too. Yahya, Ayyub, Humaid, Hadrat Anas رضی اللہ عنہ reported it.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو معتمر نے خبر دی ، کہا کہ میں نے حمید سے سنا ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا ۔
Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :
A woman came to the Prophet (ﷺ) and said, "I have come to present myself to you (for marriage)." She kept standing for a long period during which period the Prophet (ﷺ) looked at her carefully. When she stayed for a Long period, a man said to the Prophet (ﷺ) "If you are not in need of her, then marry her to me." The Prophet (ﷺ) said, "Have you got anything to give her (as Mahr)?" The man said, "No." The Prophet said, "Go (to your house) and search for something." The man went and came back to say, "By Allah, I could not find anything." The Prophet (ﷺ) said, "Go again and search for something, even if it be an iron ring." He went again and came back saying, "No, by Allah, I could not get even an iron ring." The man had only an Izar and had no Rida' (upper garment). He said, "I will give her my Izar as Mahr." On that the Prophet (ﷺ) said, "Your Izar? If she wears it, nothing of it will remain on you, and if you wear it nothing of it will be on her" The man went aside and sat down When the Prophet (ﷺ) saw him leaving (after a while), he called back and asked. "How much Qur'an do you know (by heart)? He said, 'I know such and such Suras," naming some Suras. The Prophet (ﷺ) said, "I marry her to you for the amount of Qur'an you know (by heart).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ہوں ، دیر تک وہ عورت کھڑٰی رہی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور پھر سر جھکا لیا جب دیر تک وہ وہیں کھڑی رہیں تو ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کیا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو ان کا نکاح مجھ سے کر دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو مہر میں انہیں دے سکو ، انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھ لو ۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ واللہ ! مجھے کچھ نہیں ملا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ تلاش کرو ، لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی ۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ وہ مجھے لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی ۔ وہ ایک تہمد پہنے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر ( کرتے کی جگہ ) چادر بھی نہیں تھی ۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں انہیں اپنا تہمد مہر میں دے دوں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارا تہمد یہ پہن لیں گی تو تمہارے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا ۔ اور اگر تم اسے پہن لو گے تو ان کے لیے کچھ نہیں رہے گا ۔ وہ صاحب اس کے بعد ایک طرف بیٹھ گئے پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے دیکھا تو آپ نے انہیں بلوایا اور فرمایا تمہیں قرآن کتنا یادہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں ۔ انہوں نے سورتوں کو شمار کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا میں نے اس عورت کو تمہارے نکاح میں اس قرآن کے عوض میں دے دیا جو انہیں یاد ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) wanted to write a letter to a group of people or some non-Arabs. It was said to him, "They do not accept any letter unless it is stamped." So the Prophet (ﷺ) had a silver ring made for himself, and on it was engraved: 'Muhammad, the Messenger of Allah'. .. as if I am now looking at the glitter of the ring on the finger (or in the palm) of the Prophet (ﷺ) .
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجم کے کچھ لوگوں ( شاہان عجم ) کے پاس خط لکھنا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ عجم کے لوگ کوئی خط اس وقت تک نہیں قبول کرتے جب تک اس پر مہر لگی ہوئی نہ ہو ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ۔ جس پر یہ کندہ تھا ” محمد رسول اللہ “ گویا اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی یا آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک دیکھ رہا ہوں ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) had a silver ring made for himself and it was worn by him on his hand. Afterwards it was worn by Abu Bakr رضی اللہ عنہ , and then by `Umar رضی اللہ عنہ , and then by `Uthman رضی اللہ عنہ till it fell in the Aris well. (On that ring) was engraved: 'Muhammad, the Messenger of Allah."
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن نمیر نے خبر دی ، انہیں عبیداللہ عمری نے ، انہیں نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ۔ وہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں ، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ، اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہتی تھی لیکن ان کے زمانہ میں وہ اریس کے کنویں میں گر گئی اس کا نقش ” محمد رسول اللہ “ تھا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) got a ring made for himself and said, "I have got a ring made (for myself) and engraved a certain engraving on it so none of you should get such an engraving on his ring." I saw the glitter of the ring on his little finger.
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا ، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اس پر لفظ ( محمد رسول اللہ ) کندہ کرایا ہے اس لیے انگوٹھی پرکوئی شخص یہ نقش نہ کندہ کرائے ۔ انس نے بیان کیا کہ جیسے اس انگوٹھی کی چمک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چھنگلیاں میں اب بھی میں دیکھ رہا ہوں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
When the Prophet (ﷺ) intended to write to the Byzantines, it was said to him, "Those people do not read your letter unless it is stamped." So the Prophet (ﷺ) took a silver ring and got 'Muhammad, the Apostle of Allah' engraved on it .... as if I am now looking at its glitter in his hand.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روم ( کے بادشاہ کو ) خط لکھانا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ اگر آپ کے خط پر مہر نہ ہوئی تو وہ خط نہیں پڑھتے ۔ چنانچہ آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس پر لفظ ” محمد رسول اللہ “ کندہ کرایا ۔ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی اب بھی میں دیکھ رہا ہوں ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) had a golden ring made for himself, and when he wore it. he used to turn its stone toward the palm of his! hand. So the people too had gold made for themselves. The Prophet (ﷺ) then ascended the pulpit, and after glorifying and praising Allah, he said, "I had it made for me, but now I will never wear it again." He threw it away, and then the people threw away their rings too. (Juwairiya, a subnarrator, said: I think Anas said that the Prophet (ﷺ) was wearing the ring in his right hand.)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک سونے کی انگوٹھی بنوائی اور پہننے میں آپ اس کا رنگ اندر کی طرف رکھتے تھے ۔ آپ کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنا لیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا میں نے بھی سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی ( حرمت نازل ہونے کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب میں اسے نہیں پہنوں گا ۔ پھر آپ نے وہ انگوٹھی پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی سونے کی انگوٹھیوں کو پھینک دیا ۔ جویریہ نے بیان کیا کہ مجھے یہی یاد ہے کہ نافع نے ” داہنے ہاتھ میں “ بیان کیا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) took a silver ring and had 'Muhammad, the Apostle' of Allah' engraved on it. The Prophet then said (to us), 'I have a silver ring with 'Muhammad, the Messenger of Allah engraved on it, so none of you should have the same engraving on his ring."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں یہ نقش کھدوایا ” محمد رسول اللہ “ اور لوگوں سے کہہ دیا کہ میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوا کر اس پر محمد رسول اللہ نقش کروایا ہے ۔ اس لیے اب کوئی شخص یہ نقش اپنی انگوٹھی پر نہ کھدوائے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
When Abu Bakr رضی اللہ عنہ became the Caliph, he wrote a letter to him (and stamped it with the Prophet's ring) and the engraving of the ring was in three lines: Muhammad in one line, 'Apostle' in another line, and 'Allah' in a third line.
مجھ سے عبداللہ انصاری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد عبداللہ بن مثنیٰ نے بیان کیا ، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھ کو زکوٰۃ کے مسائل لکھوا دیئے اور انگوٹھی ( مہر ) کا نقش تین سطروں میں تھا ایک سطر میں ” محمد “ دوسری سطر میں ” رسول “ اور تیسری سطر میں ” اللہ “ ۔
Anas added:
The ring of the Prophet (ﷺ) was in his hand, and after him, in Abu Bakr's hand, and then in `Umar's hand after Abu Bakr. When `Uthman was the Caliph, once he was sitting at the well of Aris. He removed the ring from his hand and while he was trifling with it, dropped into the well. We kept on going to the well with `Uthman for three days looking for the ring, and finally the well was drained, but the ring was not found.
حضرت امام بخاری نے کہا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اتنا اور روایت کیا ، کہا مجھ سے محمد بن عبداللہ انصاری نے ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے ، ان سے ثمامہ بن عبداللہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی ۔ آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ آیا تو وہ اریس کے کنویں پر ایک مرتبہ بیٹھے ، بیان کیا کہ پھر انگوٹھی نکالی اور اسے الٹنے پلٹنے لگے کہ اتنے میں وہ ( کنویں میں ) گر گئی ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہم تین دن تک اسے ڈھونڈتے رہے اور کنویں کا سارا پانی بھی کھینچ ڈالا لیکن وہ انگوٹھی نہیں ملی ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
I offered the `Id prayer with the Prophet (ﷺ) and he offered prayer before the Khutba (sermon). Ibn Wahb added: After the prayer the Prophet (ﷺ) came towards (the rows of) the women and ordered them to give alms, and the women started putting their big and small rings in the garment of Bilal رضی اللہ عنہ.
ہم سے ابو عاصم نبیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کوابن جریج نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو حسن بن مسلم نے خبر دی ، انہیں طاؤس نے اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
میں عیدالفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور ابن وہب نے جریج سے یہ لفظ بڑھائے کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے مجمع کی طرف گئے ( اور صدقہ کی ترغیب دلائی ) تو عورتیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے دار انگوٹھیاں ڈالنے لگیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) came out on the day of `Id and offered a two-rak`at prayer, and he did not pray any rak`a before it, nor after it. Then he went towards the women and ordered them to give alms. The women started donating their earring and necklaces.
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عدی بن ثابت نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن ( آبادی سے باہر ) گئے اور دو رکعت نماز پڑھائی آپ نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نفل نمازنہیں پڑھی پھر آپ عورتوں کے مجمع کی طرف آئے اور انہیں صدقہ کا حکم فرمایا ۔ چنانچہ عورتیں اپنی بالیاں اور خوشبو اور مشک کے ہار صدقہ میں دینے لگیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
A necklace belonging to Asma' رضی اللہ عنہا was lost, and the Prophet (ﷺ) sent men in its search. The time for the prayer became due and they were without ablution and they could not find water; therefore they prayed without ablution, They mentioned that to the Prophet (ﷺ) . Then Allah revealed the Verse of Tayammum. (`Aisha رضی اللہ عنہا added: that she had borrowed (the necklace) from Asma').
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا ہار ( جو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے عاریت پر لیا تھا ) گم ہو گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کو بھیجا اسی دوران میں نماز کا وقت ہو گیا اور لوگ بلا وضو تھے چونکہ پانی بھی موجود نہیں تھا ، اس لئے سب نے بلا وضو نماز پڑھی پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت نازل ہوئی ۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ہار انہوں نے حضرت اسماء سے عاریتاً لیا تھا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
"The Prophet (ﷺ) offered a two-rak`at prayer on `Id day and he did not offer any (Nawafil prayer) before or after it. He then went towards the women, and Bilal رضی اللہ عنہ was accompanying him, and ordered them to give alms. And so the women started giving their earrings (etc .).
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی ، کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو رکعتیں پڑھا ئیں نہ اس کے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعدپھر آپ عورتوں کی طرف تشریف لائے ، آپ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے ۔ آپ نے عورتوں کو صدقہ کا حکم فرمایا تو وہ اپنی بالیاں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں ڈالنے لگیں ۔