Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
When Um Sulaim رضی اللہ عنہا gave birth to a child. she said to me, "O Anas! Watch this boy carefully and do not give him anything to eat or drink until you have taken him to the Prophet (ﷺ) tomorrow morning for the Tahnik." So the next morning I took the child to the Prophet (ﷺ) who was sitting in a garden and was wearing a Huraithiya Khamisa and was branding the she-camel on which he had come during the Conquest of Mecca.
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے ابن عون نے ، ان سے محمد نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جب حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس اس بچہ کو دیکھتے رہو کوئی چیز اس کے پیٹ میں نہ جائے اور جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لاؤ تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جھوٹا اس کے منہ میں ڈالیں ۔ چنانچہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں تھے اور آپکے جسم پر قبیلہ بنی حریث کی بنی ہوئی چادر ( خمیصۃ حریثیۃ ) تھی اور آپ اس سواری پر نشان لگا رہے تھے جس پر آپ فتح مکہ کے موقع پر سوار تھے ۔
Narrated `Ikrima رضی اللہ عنہ :
Rifa`a رضی اللہ عنہ divorced his wife whereupon `Abdur Rahman bin Az-Zubair Al-Qurazi رضی اللہ عنہ married her. `Aisha رضی اللہ عنہا said that the lady (came), wearing a green veil (and complained to her (Aisha رضی اللہ عنہا ) of her husband and showed her a green spot on her skin caused by beating). It was the habit of ladies to support each other, so when Allah's Messenger (ﷺ) came, `Aisha رضی اللہ عنہا said, "I have not seen any woman suffering as much as the believing women. Look! Her skin is greener than her clothes!" When `Abdur Rahman heard that his wife had gone to the Prophet, he came with his two sons from another wife. She said, "By Allah! I have done no wrong to him but he is impotent and is as useless to me as this," holding and showing the fringe of her garment, `Abdur-Rahman said, "By Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! She has told a lie! I am very strong and can satisfy her but she is disobedient and wants to go back to Rifa`a." Allah's Messenger (ﷺ) said, to her, "If that is your intention, then know that it is unlawful for you to remarry Rifa`a unless `Abdur-Rahman has had sexual intercourse with you." Then the Prophet (ﷺ) saw two boys with `Abdur- Rahman and asked (him), "Are these your sons?" On that `Abdur Rahman said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "You claim what you claim (i.e.. that he is impotent)? But by Allah, these boys resemble him as a crow resembles a crow,"
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی نے ، کہا ہم کو ایوب سختیانی نے خبر دی ، انہیں عکرمہ نے
رفاعہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی ۔ پھر ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ نے نکاح کر لیا تھا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ خاتون سبز اوڑھنی اورڑھے ہوئے تھیں ، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ( اپنے شوہر کی ) شکایت کی اور اپنے جسم پر سبز نشانات ( چوٹ کے ) دکھائے پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ( جیسا کہ عادت ہے ) عکرمہ نے بیان کیا کہ عورتیں آپس میں ایک دوسرے کی مددکرتی ہیں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ) کہا کہ کسی ایمان والی عورت کا میں نے اس سے زیادہ برا حال نہیں دیکھا ان کا جسم ان کے کپڑے سے بھی زیادہ برا ہو گیا ہے ۔ بیان کیا کہ ان کے شوہر نے بھی سن لیا تھا کہ بیوی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ہیں چنانچہ وہ بھی آ گئے اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے ان سے پہلی بیوی کے تھے ان کی بیوی نے کہا اللہ کی قسم مجھے ان سے کوئی اورشکایت نہیں البتہ ان کے ساتھ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں جس سے میرا کچھ نہیں ہوتا ۔ انہوں نے اپنے کپڑے کا پلو پکڑ کر اشارہ کیا ( یعنی ان کے شوہر کمزور ہیں ) اس پر ان کے شوہر نے کہا یا رسول اللہ ! واللہ یہ جھوٹ بولتی ہے میں تو اس کو ( جماع کے وقت ) چمڑے کی طرح ادھیڑ کر رکھ دیتا ہوں مگر یہ شریر ہے یہ مجھے پسند نہیں کرتی اور رفاعہ کے یہاں دوبارہ جانا چاہتی ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو تمہارے لیے وہ ( رفاعہ ) اس وقت تک حلال نہیں ہوں گے جب تک یہ ( عبدالرحمٰن دوسرے شوہر ) تمہارا مزا نہ چکھ لیں ۔ بیان کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کے ساتھ دو بچے بھی دیکھے تو دریافت فرمایا کیا یہ تمہارے بچے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیاجی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا ، اس وجہ سے تم یہ باتیں سوچتی ہو ۔ اللہ کی قسم یہ بچے ان سے اتنے ہی مشابہ ہیں جتنا کہ کوا کوے سے مشابہ ہوتا ہے ۔
Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :
On the day of the battle of Uhud, on the right and on the left of the Prophet (ﷺ) were two men wearing white clothes, and I had neither seen them before, nor did I see them afterwards.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا ، کہا ہم کو محمدبن بشر نے خبر دی ، کہا ہم سے مسعمر نے بیان کیا ، ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جنگ احدکے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو ( جو فرشتے تھے ) دیکھا وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے میں نے انہیں نہ اس سے پہلے دیکھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا ۔
Narrated Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
I came to the Prophet (ﷺ) while he was wearing white clothes and sleeping. Then I went back to him again after he had got up from his sleep. He said, "Nobody says: 'None has the right to be worshipped but Allah' and then later on he dies while believing in that, except that he will enter Paradise." I said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft?" He said. 'Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft." I said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft?" He said. 'Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft." I said, 'Even it he had committed illegal sexual intercourse and theft?' He said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft, inspite of the Abu Dharr's dislike. Abu `Abdullah said, "This is at the time of death or before it if one repents and regrets and says "None has the right to be worshipped but Allah. He will be forgiven his sins."
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے حسین نے ، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے ، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا ، ان سے ابو اسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو جسم مبارک پر سفید کپڑاتھا اور آپ سورہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ نے فرمایا جس بندہ نے بھی کلمہ لا الہٰ الا اللہ ( اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ) کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا ۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو ، چاہے اس نے چوری کی ہو ، آپ نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو ، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو ۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو ۔ میں نے ( حیرت کی وجہ سے پھر ) عرض کیا چاہے اس زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہوچا ہے اس نے چوری کی ہو ۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو ۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ابوذر کے علی الرغم ( وان رغم انف ابی ذر ) ضرور بیان کرتے ۔ ابوعبداللہ حضرت امام بخاری نے کہا یہ صورت کہ ( صرف کلمہ سے جنت میں داخل ہو گا ) یہ اس وقت ہو گی جب موت کے وقت یا اس سے پہلے ( گناہوں سے ) توبہ کی اور کہا کہ لا الہٰ الا اللہ ، اس کی مغفرت ہو جائے گی ۔
Narrated Aba `Uthman An-Nahdi:
While we were with `Utba bin Farqad at Adharbijan رضی اللہ عنہ , there came `Umar's letter indicating that Allah's Apostle had forbidden the use of silk except this much, then he pointed with his index and middle fingers. To our knowledge, by that he meant embroidery.
ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، کہا ہم سے قتادہ نے ، کہا کہ میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہ
ہمارے پاس عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب آیا ہم اس وقت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ آذر بائیجان میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے استعمال سے ( مردوں کو ) منع کیا ہے سوا اتنے کے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے کے قریب کی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے اس کی مقدار بتائی ۔ ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہ ہماری سمجھ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس سے ( کپڑے وغیرہ ریشم کے ) پھول بوٹے بنانے سے تھی ۔
Narrated Abu `Uthman:
While we were at Adharbijan, `Umar رضی اللہ عنہ wrote to us: 'Allah's Messenger (ﷺ) forbade wearing silk except this much. Then the Prophet (ﷺ) approximated his two fingers (index and middle fingers) (to illustrate that) to us.' Zuhair (the sub-narrator) raised up his middle and index fingers.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، ان سے عاصم نے بیان ، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ
ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا اس وقت ہم آذر بائیجان میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا تھا سوا اتنے کے اور اس کی وضاحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کے اشارے سے کی تھی ۔ زہیر ( راوی حدیث ) نے بیچ کی اورشہادت کی انگلیاں اٹھا کر بتایا ۔
Narrated Abu `Uthman:
While we were with `Utba رضی اللہ عنہ . `Umar رضی اللہ عنہ wrote to us: The Prophet (ﷺ) said, "There is none who wears silk in this world except that he will wear nothing of it in the Hereafter." ' Abu `Uthman pointed out with his middle and index fingers. This hadith has also been narrated by Abu `Uthman.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے تیمی نے بیان کیا اور ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ
ہم حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں ریشم جو شخص بھی پہنے گا اسے آخر ت میں نہیں پہنایا جائے گا ۔ ابو عثمان نے اپنی درمیانی اور شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کیا۔ اس حدیث کو ابو عثمان نے بھی روایت کیا ہے۔
Narrated Ibn Abi Laila:
While Hudhaifa رضی اللہ عنہ was at Al-Madain, he asked for water whereupon the chief of the village brought him water in a silver cup. Hudhaifa threw it at him and said, "I have thrown it only because I have forbidden him to use it, but he does not stop using it. Allah's Messenger (ﷺ) said, 'Gold, silver, silk and Dibaj (a kind of silk) are for them (unbelievers) in this world and for you (Muslims) in the hereafter.'
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حکم نے ، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے ۔ انہوں نے پانی مانگا ۔ ایک دیہاتی چاندی کے برتن میں پانی لایا ۔ انہوں نے اسے پھینک دیا اور کہا کہ میں نے صرف اسے اس لیے پھینکا ہے کہ میں اس شخص کو منع کر چکا ہوں ( کہ چاندی کے برتن میں مجھے کھانا اور پانی نہ دیا کرو ) لیکن وہ نہیں مانا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا ، چاندی ، ریشم اور دیبا ان ( کفار ) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے ( مسلمانوں ) کے لیے آخرت میں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, Whoever wears silk in this world shall not wear it in the Hereafter."
ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، شعبہ نے بیان کیا کہ
اس پر میں نے پوچھا کیا یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ؟ عبدالعزیز نے بیان کیا کہ قطعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ جومرد ریشمی لباس دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا ۔
Narrated Ibn Az-Zubair رضی اللہ عنہ :
"Muhammad said, 'Whoever wears silk in this world, shall not wear it in the Hereafter."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا ۔
Narrated `Umar رضی اللہ عنہ :
"The Prophet (ﷺ) said, 'Whoever wears silk in this world, shall not wear it in the Hereafter." Abu Mamar, Abdul Warith, Yazeed, Muadhah, Umm-e-Amr, the daughter of Abdullah, Abdullah bin Zubair رضی اللہ عنہما , Hadrat Umer has reported it from the prophet ﷺ.
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں ابو ذہبان خلیفہ بن کعب نے ، کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا ، کہا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مردنے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا ۔ اور ہم سے ابو معمر نے بیان کیا ، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے یزید نے کہ معاذ نے بیان کیا کہ مجھے ام عمرو بنت عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
Narrated 'Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "None wears silk in this world, but he who will have no share in the Hereafter." I said: He has spoken the truth and Abu Hafs has not ascribed a lie to Allah's Apostle ﷺ. Imran has reported this Hadith in the same way from Abdullah bin Raja, Jareer and Yahya.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے علی مبارک نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے عمران بن حطان نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ریشم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو ۔ بیان کی کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابو حفص یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں ریشم تو وہی مرد پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو ۔ میں نے اس پر کہا کہ سچ کہا اور ابو حفص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات نسبت نہیں کر سکتے اور عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے اور ان سے عمران نے اورپوری حدیث بیان کی ۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) was given a silk garment as a gift and we started touching it with our hands and admiring it. On that the Prophet (ﷺ) said, "Do you wonder at this?" We said, "Yes." He said, "The handkerchiefs of Sa`d bin Mu`adh in Paradise are better than this."
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے حضرت براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ میں پیش ہوا تو ہم اسے چھونے لگے اور اس کی ( نرمی و ملائمت پر ) حیرت زدہ ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس پر حیرت ہے ۔ ہم نے عرض کیا جی ہاں فرمایا جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بھی اچھے ہیں ۔
Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) forbade us to drink out of gold and silver vessels, or eat in it, Ann also forbade the wearing of silk and Dibaj or sitting on it.
ہم سے علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے والد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی نجیح سے سنا ، انہوں نے مجاہد سے ، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور ان سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتن میں پینے اور کھانے سے منع فرمایا تھا اور ریشم اور دیبا ج پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا تھا ۔
Narrated Ibn Azib رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) forbade us to use the red Mayathir and to use Al-Qassiy.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کوسفیان نے خبر دی ، انہیں اشعث بن ابی شعثاء نے ، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سرخ ” میثرہ “ اور ” قسی “ کے پہننے سے منع فرمایا ہے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) allowed Az-Zubair and `Abdur-Rahman رضی اللہ عنہما to wear silk because they were suffering from an itch.
ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ، انہیں قتادہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر اور حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کو ، کیونکہ انہیں خارش ہو گئی تھی ، ریشم پہننے کی اجازت دی تھی ۔
Narrated `Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) gave me a silk suit. I went out wearing it, but seeing the signs of anger on his face, I tore it and distributed it among my wives.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور حضرت امام بخاری نے کہا کہ مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے اور ان سے زید بن وہب نے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا حلہ عنایت فرمایا ۔ میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار دیکھے ۔ چنانچہ میں نے اس کے ٹکڑے کر کے اپنی عزیزعورتوں میں بانٹ دیئے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
`Umar رضی اللہ عنہ saw a silk suit being sold, so he said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Why don't you buy it so that you may wear it when delegates come to you, and also on Fridays?" The Prophet (ﷺ) said, "This is worn only by him who has no share in the Hereafter." Afterwards the Prophet (ﷺ) sent to `Umar رضی اللہ عنہ a silk suit suitable for wearing. `Umar رضی اللہ عنہ said to the Prophet, "You have given it to me to wear, yet I have heard you saying about it what you said?" The Prophet (ﷺ) said, "I sent it to you so that you might either sell it or give it to somebody else to wear."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! بہتر ہے کہ آپ اسے خرید لیں اور وفود سے ملاقت کے وقت اور جمعہ کے دن اسے زیب تن کیا کریں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہ پہنتا ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہوتا ۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ریشم کی دھاریوں والا ایک جوڑا حلہ بھیجا ، ہدیہ کے طور پر ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے مجھے یہ جوڑا حلہ عنایت فرمایا ہے حالانکہ میں خود آپ سے اس کے بارے میں وہ بات سن چکا ہوں جو آپ نے فرمائی تھی ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں یہ کپڑا اس لیے دیا ہے کہ اسے بیچ دو یا ( عورتوں وغیرہ میں سے ) کسی کو پہنا دو ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
He had seen Um Kulthum رضی اللہ عنہا , the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) , wearing a red silk garment.
ہم سے ابوا لیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو سرخ دھاری دار ریشمی جوڑا پہنے دیکھا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
For one year I wanted to ask `Umar رضی اللہ عنہ about the two women who helped each other against the Prophet (ﷺ) but I was afraid of him. One day he dismounted his riding animal and went among the trees of Arak to answer the call of nature, and when he returned, I asked him and he said, "(They were) `Aisha and Hafsa رضی اللہ عنہما ." Then he added, "We never used to give significance to ladies in the days of the Pre-lslamic period of ignorance, but when Islam came and Allah mentioned their rights, we used to give them their rights but did not allow them to interfere in our affairs. Once there was some dispute between me and my wife and she answered me back in a loud voice. I said to her, 'Strange! You can retort in this way?' She said, 'Yes. Do you say this to me while your daughter troubles Allah's Messenger (ﷺ)?' So I went to Hafsa and said to her, 'I warn you not to disobey Allah and His Apostle.' I first went to Hafsa and then to Um Salama and told her the same. She said to me, 'O `Umar! It surprises me that you interfere in our affairs so much that you would poke your nose even into the affairs of Allah's Messenger (ﷺ) and his wives.' So she rejected my advice. There was an Ansari man; whenever he was absent from Allah's Messenger (ﷺ) and I was present there, I used to convey to him what had happened (on that day), and when I was absent and he was present there, he used to convey to me what had happened as regards news from Allah's Messenger (ﷺ) . During that time all the rulers of the nearby lands had surrendered to Allah's Messenger (ﷺ) except the king of Ghassan in Sham, and we were afraid that he might attack us. All of a sudden the Ansari came and said, 'A great event has happened!' I asked him, 'What is it? Has the Ghassani (king) come?' He said, 'Greater than that! Allah's Messenger (ﷺ) has divorced his wives! I went to them and found all of them weeping in their dwellings, and the Prophet (ﷺ) had ascended to an upper room of his. At the door of the room there was a slave to whom I went and said, "Ask the permission for me to enter." He admitted me and I entered to see the Prophet (ﷺ) lying on a mat that had left its imprint on his side. Under his head there was a leather pillow stuffed with palm fires. Behold! There were some hides hanging there and some grass for tanning. Then I mentioned what I had said to Hafsa and Um Salama and what reply Um Salama had given me. Allah's Messenger (ﷺ) smiled and stayed there for twenty nine days and then came down." (See Hadith No. 648, Vol. 3 for details)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے ، ان سے یحییٰ بن سعید نے ، ان سے عبید بن حنین نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے بارے میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں اتفاق کر لیا تھا ، پوچھنے کاارادہ کرتا رہا لیکن ان کا رعب سامنے آ جاتا تھا ۔ ایک دن ( مکہ کے راستہ میں ) ایک منزل پرقیام کیا اور پیلو کے درختوں میں ( وہ قضائے حاجت کے لیے ) تشریف لے گئے ۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا انہوں نے بتلایا کہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں پھر کہا کہ جاہلیت میں ہم عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے ۔ جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا ( اور ان کے حقوق ) مردوں پر بتائے تب ہم نے جانا کہ ان کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن اب بھی ہم اپنے معاملات میں ان کا دخیل بننا پسند نہیں کرتے تھے ۔ میرے اور میری بیوی میں کچھ گفتگو ہو گئی اور اس نے تیز وتند جواب مجھے دیاتو میں نے اس سے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ۔ اس نے کہا تم مجھے یہ کہتے ہو اورتمہاری بیٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی تکلیف پہنچاتی ہے ۔ میں ( اپنی بیٹی ام المؤمنین ) حفصہ کے پاس آیا اور اس سے کہا میں تجھے تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے معاملہ میں سب سے پہلے میں ہی حفصہ کے یہاں گیا پھر میں حضرت ام سلمہ کے پاس آیا اور ان سے بھی یہی بات کہی لیکن انہوں نے کہا کہ حیرت ہے تم پر عمر ! تم ہمارے معاملات میں دخیل ہو گئے ہو ۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج کے معاملات میں دخل دینا باقی تھا ۔ ( سو اب وہ بھی شروع کر دیا ) انہوں نے میری بات رد کر دی ۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں موجود نہ ہوتے اور میں حاضر ہوتا تو تمام خبریں ان سے آ کر بیان کرتا تھا اور جب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے غیرحاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام خبریں مجھے آ کر سناتے تھے ۔ آپ کے چاروں طرف جتنے ( بادشاہ وغیرہ ) تھے ان سب سے آپ کے تعلقات ٹھیک تھے ۔ صرف شام کے ملک غسان کا ہمیں خوف رہتا تھا کہ وہ کہیں ہم پر حملہ نہ کر دے ۔ میں نے جو ہوش وحواس درست کئے تو وہی انصاری صحابی تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایک حادثہ ہو گیا ۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی ۔ کیا غسان چڑھ آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا حادثہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ۔ میں جب ( مدینہ ) حاضر ہوا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ پر چلے گئے تھے اور بالا خانہ کے دروازہ پر ایک نو جوان پہرے دار موجود تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے کہا کہ میرے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر حاضر ہونے کی اجازت مانگ لو پھر میں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے تھے اور آپ کے سرکے نیچے ایک چھوٹا سا چمڑے کاتکیہ تھا ۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور ببول کے پتے تھے ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حفصہ اور ام سلمہ سے کہی تھیں اور وہ بھی جو ام سلمہ نے میری بات رد کرتے ہوئے کہا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرادیئے ۔ آپ نے اس بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام کیا پھر آپ وہاں سے نیچے اتر آئے ۔