Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
A woman who used to practise tattooing was brought to `Umar رضی اللہ عنہ . `Umar رضی اللہ عنہ got up and said, "I beseech you by Allah, which of you heard the Prophet (ﷺ) saying something about tattooing?" l got up and said, "O chief of the Believers! l heard something." He said, "What did you hear?" I said, "I heard the Prophet (addressing the ladies), saying, 'Do not practise tattooing and do not get yourselves tattooed.'"
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے عمارہ نے ، ان سے ابو زرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو گودنے کا کام کرتی تھی ۔ عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ( اور اس وقت موجود صحابہ سے ) کہا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کسی نے کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گودنے کے متعلق سنا ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا امیرالمؤمنین ! میں نے سنا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا سنا ہے ؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ گودنے کا کام نہ کرو اور نہ گدواؤ ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) has cursed the lady who lengthens hair artificially and that who gets her hair lengthened in such away, and the lady who practises tattooing and that who gets it done for herself.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، انہیں عبیداللہ نے خبر دی ، کہا مجھ کو خبر دی نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اورلگوانے والی اور گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت بھیجی ہے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Allah has cursed those women who practise tattooing and those who get it done for themselves, and those who remove hair from their faces, and those who artificially create spaces between their teeth to look beautiful, such women as alter the features created by Allah. Why should I not then curse those whom Allah's Messenger (ﷺ) has cursed and that is in Allah's Book?
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے سفیان بن عیینہ نے ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے علقمہ نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ
گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر ، بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے پھر میں بھی کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ کتاب اللہ میں بھی موجود ہے ۔
Narrated Abu Talha رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Angels do not enter a house in which there is a dog or there are pictures." Laith, Younus, Ibn-e-Shihab, Obaidullah, Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما , Hadrat Abu Talha heard the same from the prophet ﷺ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے ، ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مورتیں ہوں ۔ اور لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یونس بن یزید نے ، ان ابن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی ہے ۔
Narrated Muslim:
We were with Masruq at the house of Yasar bin Numair. Masruq saw pictures on his terrace and said, "I heard `Abdullah saying that he heard the Prophet (ﷺ) saying, "The people who will receive the severest punishment from Allah will be the picture makers.'"
ہم سے حمیدی عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے مسلم بن صبیحہ نے بیان کیا کہ
ہم مسروق بن اجدع کے ساتھ یسار بن نمیر کے گھر میں تھے ۔ مسروق نے ان کے گھر کے سائبان میں تصویر یں دیکھیں تو کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے سنا ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہو گا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Those who make these pictures will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them. 'Make alive what you have created.'"
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا اور انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ یہ مورتیں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے بنایا ہے اب اس میں جان بھی ڈالو ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا:
I never used to leave in the Prophet (ﷺ) house anything carrying images or crosses but he obliterated it.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ، ان سے عمران بن حطان نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں جب بھی کوئی چیز ایسی ملتی جس پر صلیب کی مورت بنی ہو ( جیسے نصاریٰ رکھتے ہیں ) تو اس کو توڑ ڈالتے ۔
Narrated Abu Zur'a:
l entered a house in Medina with Abu Huraira رضی اللہ عنہ , and he saw a man making pictures at the top of the house. Abu Huraira said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying that Allah said, 'Who would be more unjust than the one who tries to create the like of My creatures? Let them create a grain: let them create a gnat.' "Abu Huraira then asked for a water container and washed his arms up to his armpits. I said, "0 Abu i Huraira! Is this something you have heard I from Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, I wash the arms to the extent of wearing ornaments.
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے ، کہا ہم سے عمارہ نے ، کہا ہم سے ابو زرعہ نے ، کہا کہ
میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ( مروان بن حکم کے گھر میں ) گیا تو انہوں نے چھت پر ایک مصور کو دیکھا جو تصویر بنا رہا تھا ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ) اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میری مخلوق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے اگر اسے یہی گھمنڈ ہے تو اسے چاہیئے کہ ایک دانہ پیدا کرے ، ایک چیونٹی پیداکرے ۔ پھر انہوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا اور اپنے ہاتھ اس میں دھوئے ۔ جب بغل دھونے لگے تو میں نے عرض کیا ابوہریرہ ! کیا ( بغل تک دھونے کے بارے میں ) تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے انہوں نے کہا میں نے جہاں تک زیور پہنا جا سکتا ہے وہاں تک دھویا ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) returned from a journey when I had placed a curtain of mine having pictures over (the door of) a chamber of mine. When Allah's Messenger (ﷺ) saw it, he tore it and said, "The people who will receive the severest punishment on the Day of Resurrection will be those who try to make the like of Allah's creations." So we turned it (i.e., the curtain) into one or two cushions.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا ، ان دنوں مدینہ منورہ میں ان سے بڑھ کر عالم فاضل نیک کوئی آدمی نہیں تھا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد ( قاسم بن ابی بکر ) سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر ( غزوہ تبوک ) سے تشریف لائے تو میں نے اپنے گھر کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا تھا ، اس پر تصویریں تھیں جب آپ نے دیکھا تو اسے کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ لوگ گرفتار ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی طرح خود بھی بناتے ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے پھاڑ کر اس پردہ کی ایک یا دو توتکیے بنا لیں ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) returned from a journey when I had hung a thick curtain having pictures (in front of a door). He ordered me to remove it and I removed it.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے اور میں نے پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصویریں تھیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے اتار لینے کا حکم دیا تو میں نے اسے اتارلیا ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) and I used to take a bath from one container (of water).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل جنابت کیا کرتے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
I purchased a cushion with pictures on it. The Prophet (came and) stood at the door but did not enter. I said (to him), "I repent to Allah for what (the guilt) I have done." He said, "What is this cushion?" I said, "It is for you to sit on and recline on." He said, "The makers of these pictures will be punished on the Day of Resurrection and it will be said to them, 'Make alive what you have created.' Moreover, the angels do not enter a house where there are pictures.'"
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے ، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر تصویر یں تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اسے دیکھ کر ) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں تشریف لائے ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جو غلطی کی ہے اس سے میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا کس لیے ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کے بیٹھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے لیے ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورت کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ اور فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں مورت ہو ۔
Narrated Abu Talha رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Angels (of mercy) do not enter a house where there are pictures.'" The sub narrator Busr added: "Then Zaid رضی اللہ عنہ fell ill and we paid him a visit. Behold! There was, hanging at his door, a curtain decorated with a picture. I said to 'Ubaidullah Al-Khaulani, the step son of Maimuna رضی اللہ عنہا , the wife of the Prophet (ﷺ) , "Didn't Zaid tell us about the picture the day before yesterday?" 'Ubaidullah said, "Didn't you hear him saying: 'except a design in a garment'?" Ibn-e-Wahab, Hadrat Abu Talha رضی اللہ عنہ reported likewise from the prophet ﷺ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے بکیر بن عبداللہ نے ، ان سے بسر بن سعید نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویریں ہوں ۔ بسر نے بیان کیا کہ ( اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد ) پھر زید رضی اللہ عنہ بیمار پڑے تو ہم ان کی مزاج پرسی کے لیے گئے ۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے دروازہ پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے جس پر تصویر ہے ۔ میں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ربیب عبیداللہ بن اسود سے کہا کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس سے پہلے ایک مرتبہ تصویروں کے متعلق حدیث سنائی تھی ۔ عبیداللہ نے کہا کہ کیا تم نے سنا نہیں تھا ، حدیث بیان کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جو مورت کپڑے میں ہو وہ جائز ہے ( بشر طیکہ غیر ذی روح کی ہو ) اور عبداللہ بن وہب نے کہا ، انہیں عمرو نے خبر دی وہ ابن حارث ہیں ، ان سے بکیر نے بیان کیا ، ان سے بسر نے بیان کیا ، ان سے زید نے بیان کیا ، ان سے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Aisha رضی اللہ عنہا had a thick curtain (having pictures on it) and she screened the side of her i house with it. The Prophet (ﷺ) said to her, "Remove it from my sight, for its pictures are still coming to my mind in my prayers."
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا ۔ اسے انہوں نے گھر کے ایک کنارے پر لٹکا دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پردہ نکال ڈال ، اس کی مورت اس نماز میں میرے سامنے آتی ہیں ۔ اور دل اچاٹ ہوتا ہے ۔
Narrated Salim's father:
Once Gabriel promised to visit the Prophet (ﷺ) but he delayed and the Prophet (ﷺ) got worried about that. At last he came out and found Gabriel and complained to him of his grief (for his delay). Gabriel said to him, "We do not enter a place in which there is a picture or a dog."
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے ، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد نے بیان کیا ، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد ( ابن عمر رضی اللہ عنہما ) نے بیان کیا کہ
ایک وقت پر جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آنے کا وعدہ کیا لیکن آنے میں دیر ہوئی ۔ اس وقت پر نہیں آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سخت پریشان ہوئے پھر آپ باہر نکلے تو جبرائیل علیہ السلام سے ملا قات ہوئی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ ہم ( فرشتے ) کسی ایسے گھر میں نہیں جاتے جس میں مورت یا کتا ہو ۔
Narrated `Aisha (the wife of the Prophet) رضی اللہ عنہا :
I bought a cushion having pictures on it. When Allah's Messenger (ﷺ) saw it, he stopped at the gate and did not enter. I noticed the signs of hatred (for that) on his face! I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I turn to Allah and His Apostle in repentance! What sin have I committed?" He said, "What about this cushion?" I said, 'I bought it for you to sit on and recline on." Allah's Messenger (ﷺ) said, "The makers of these pictures will be punished (severely) on the Day of Resurrection and it will be said to them, 'Make alive what you have created.'" He added, "Angels do not enter a house in which there are pictures."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے نافع نے ، ان سے قاسم بن محمد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ
انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں مورتیں تھیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے ۔ میں آپ کے چہرے سے ناراضگی پہچان گئی ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اللہ سے اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں ، میں نے کیا غلطی کی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ گدا کیسا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورتوں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اب ان میں جان بھی ڈالو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں مورت ہوتی ہے اس میں ( رحمت کے ) فرشتے نہیں داخل ہوتے ۔
Narrated Abu Juhaifa:
He had bought a slave whose profession was cupping. The Prophet (ﷺ) forbade taking the price of blood and the price of a dog and the earnings of a prostitute, and cursed the one who took or gave (Riba') usury, and the lady who tattooed others or got herself tattooed, and the picture-maker.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے اور ان سے ان کے والد ( وہب بن عبداللہ ) نے کہ
انہوں نے ایک غلام خریدا جو پچھنا لگا تا تھا پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خون نکالنے کی اجرت ، کتے کی قیمت اور رنڈی کی کمائی کھانے سے منع فرمایا ہے اور آپ نے سود لینے والے ، دینے والے ، گودنے والی ، گدوانے والی اور مورت بنانے والے پر لعنت بھیجی ہے ۔
Narrated Qatadah:
While he was in the company of Hadrat Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما , the people were asking him questions and he was giving answers without mentioning the prophet ﷺ. He meanwhile was asked about the precept of pictures, he, thereupon, said: I heard Muhammad saying, "Whoever makes a picture in this world will be asked to put life into it on the Day of Resurrection, but he will not be able to do so."
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے نضر بن مالک سے سنا ، وہ قتادہ سے بیان کرتے تھے کہ
میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا لوگ ان سے مختلف مسائل پوچھ رہے تھے ۔ جب تک ان سے خاص طور سے پوچھا نہ جاتا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ نہیں دیتے تھے پھر انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص دنیا میں مورت بنائے گا قیامت کے دن اس پر زور ڈالا جائے گا کہ اسے وہ زندہ بھی کرے حالانکہ وہ اسے زندہ نہیں کر سکتا ۔
Narrated Usama bin Zaid رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) rode a donkey saddled with a saddle covered with a Fadakiyya velvet sheet, and he made me ride behind him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوصفوان نے بیان کیا ، ان سے یونس بن یزید ایلی نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر فدک کی بنی ہوئی کملی پڑی ہوئی تھی آپ نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو اسی پر اپنے پیچھے بٹھا لیا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
When the Prophet (ﷺ) arrived at Mecca, the children of Bani `Abdul Muttalib received him. He then mounted one of them in front of him and the other behind him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے ( فتح کے موقع پر ) تو عبدالمطلب کی اولاد نے ( جو مکہ میں تھی ) آپ کا استقبال کیا ۔ ( یہ سب بچے ہی تھے ) آپ نے از راہ محبت ایک بچے کو اپنے سامنے اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا ۔