This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ابو سعید اشج ، ابو خالد ، اعمش ، سلمہ بن کہیل ، حکم بن عتیبہ ، مسلم بن جبیر ، مجاہد ، وعطاء ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی طرح روایت کیا ۔
Ibn Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) reported:
A woman came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Messenger of Allah, my mother has died and there is due from her a fast of vow; should I fast on her behalf? Thereupon he said: You see that if your mother had died in debt, would it not have been paid on her behalf? She said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Then observe fast on behalf of your mother.
اسحاق بن منصور ، ابن ابی خلف ، عبد بن حمید ، زکریا بن عدی ، عبیداللہ بن عمرو ، زید بن ابی انیسہ ، حکم بن عتیبہ ، سعید بن جبیر ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے فرمایا کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اس پر منت کا روزہ لازم تھا تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا کیا خیال ہے؟کہ اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سے ادا کرتی؟اس نے عرض کیا ہاں!آپ نے فرمایا کہ اللہ کا قرض اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے آپ نے فرمایاکہ تو اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھ ۔
Abdullah bin Buraida (Allah be pleased with him) reported on the authority of his father:
When we were sitting with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), a woman came to him and said: I had gifted to my mother a maid-servant, and now she (the mother) has died. Thereupon he (the Holy Prophet) said: There is a definite reward for you and she (the maid-servant) has been returned to you as an inheritance. She (that woman) again said: Fasts of a month (of Ramadan) are due upon her; should I observe them on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Observe fasts on her behalf. She (again) said: She did not perform Hajj, should I perform it on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Perform Hajj on her behalf.
علی بن مسہر ، ابوالحسن نے عبداللہ بن عطاء سے ، انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے اور انھوں نے اپنے والدسے روایت کی ، کہا
ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہواتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر ایک عورت نے کہا : میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی اور وہ ( والدہ ) فوت ہوگئی ہیں ، کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمھارا اجر پکا ہوگیا ۔ اور و راثت نے وہ ( لونڈی ) تمھیں لوٹادی ۔ " اس نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کے ذمے ا یک ماہ کےروزے تھے ، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ان کی طرف سے روزے رکھو " ۔ اس نے پوچھا : انھوں نے کبھی حج نہیں کیا تھا ، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ان کی طرف سے حج کرو ۔ "
Abdullah bin Buraida (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported on the authority of his father:
I was sitting with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ); the rest of the hadith is the same but with this variation that the (the narrator) said: Fasts of two months.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہاعبداللہ بن نمیر نے عبداللہ بن عطاء سے ، انھوں نے عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ابن مسہر کی حدیث کے مانند ( حدیث بیان کی ) مگر انھوں نے کہا : " دوماہ کے ر وزے ۔ "
Ibn Buraida (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported on the authority of his father:
A woman came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and the rest of the hadith is the same, but he said: Fasting of one month.
عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ( سفیان ) ثوری نے عبداللہ بن عطاء سے خبر دی ، انھوں نے ابن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اورانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ ۔ ۔ اس کے بعد اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی اورانھوں نے کہا : " ایک ماہ کے روزے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Sufyan with the same chain of transmitters in which it is said:
Fasting of two months.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہم سےعبیداللہ بن موسیٰ نے سفیان ( ثوری ) سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کی مانند ) حدیث بیان کی اورانھوں نے کہا
" دو ماہ کےروزے ۔ "
Buraida (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported a similar hadith on the authority of his father:
A woman came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he said: Fasting for one month.
مجھ سے ابن ابی خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیاعبدالملک بن ابی سلیمان نے عبداللہ بن عطاء سے ، انھوں نے سلیمان بن بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی ۔ ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ان کی حدیث کے مانند ( بیان کیا ) اور انھوں نے بھی کہا : " ایک ماہ کے ر وزے ۔ "
Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: If any one of you is invited to a meal when he is fasting, he should say: I am fasting.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو النا قد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابو الزناد کی سند سے، العرج کی سند سے،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " جب تم میں سے کسی کو کھانے کی طرف بلایا جائے اور وہ روزہ دار ہوتو وہ کہہ دے : میں روزے سے ہوں ۔ "
Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
When any one of you gets up in the morning in the state of fasting, he should neither use obscene language nor do any act of ignorance. And if anyone slanders him or quarrels with him, he should say: I am fasting, I am fasting.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو الزناد کی سند سے اور العرج کی سند سے, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( نبی کریم سے ) روایت کی ، کہا
" جب تم میں سے کوئی کسی دن روزے سے ہوتو وہ فحش گوئی نہ کرے ، نہ جہالت والا کوئی کام کرے ، اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا ( کرنا ) چاہے تو وہ کہے : میں روزہ دار ہوں ، میں روزہ دار ہوں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah, the Majestic and the Exalted, said: Every act of the son of Adam is for him except fasting. It is done for My sake, and I will give a reward for it. By Allah in Whose Hand is the life of Muhammad, the breath of the observer of fast is sweeter to Allah than the fragrance of musk.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے بیان کیا, ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ، اللہ عزوجل نے فرمایا : ابن آدم کے تمام اعمال اس کے لئے ہیں سوائے روزے کے ، وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاد دوں گا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے!روزہ د ار کے منہ کی بو ا للہ کےنزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Fasting is a shield.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے المغیرہ نے جو الحزمی ہیں، انہوں نے ابو الزناد کی سند سے بیان کیا, اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " روزہ ایک ڈھال ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah the Exalted and Majestic said: Every act of the son of Adam is for him, except fasting. It is (exclusively) meant for Me and I (alone) will reward it. Fasting is a shield. When any one of you is fasting on a day, he should neither indulge in obscene language, nor raise the voice; or if anyone reviles him or tries to quarrel with him he should say: I am a person fasting. By Him, in Whose Hand is the life of Muhammad, the breath of the observer of fast is sweeter to Allah on the Day of judgment than the fragrance of musk. The one who fasts has two (occasions) of joy, one when he breaks the fast he is glad with the breaking of (the fast) and one when he meets his Lord he is glad with his fast.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا عطاء نے ابو صالح الزیا ت سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ عزوجل نے فر ما یا : ابن آدم کا ہرعمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے ، وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا ۔ اور روزہ ڈھال ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ اس دن فحش گفتگو نہ کرے اور نہ شور وغل کرے ۔ اگر کو ئی اسے برا بھلا کہے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے : میں روزہ دار ہوں ، میں روزہ دار ہوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جا ن ہے!قیامت کے دن روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گی ۔ اور روزہ دار کے لیے دوخوشی کے موقع ہیں وہ ان دونوں پر خوش ہو تا ہے : جب وہ ( روزہ ) افطار کرتا ہے تو اپنے افطار سے خوش ہو تا ہے اور جب اپنے رب کو ملے گا تو اپنے روزے ( کی وجہ ) سے خوش ہو گا ۔ "
Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Every (good) deed of the son of Adam would be multiplied, a good deed receiving a tenfold to seven hundredfold reward. Allah, the Exalted and Majestic, has said: With the exception of fasting, for it is done for Me and I will give a reward for it, for one abandons his passion and food for My sake. There are two occasions of joy for one who fasts, joy when he breaks it, and joy when he meets his Lord, and the breath (of an observer of fast) is sweeter to Allah than the fragrance of musk.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ اور وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش کی سند سے، ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ان سے جریر نے بیان کیا۔ ہم سے الاعمش، ایچ ابو سعید الاشج نے بیان کیا - اور اس کے الفاظ - ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے بیان کیا اعمش نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہاؒ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ؒابن آدم کا ہر عمل بڑھا یا جا تا ہے ۔ نیکی دس گنا سے ساتھ سو گنا تک ( بڑھا دی جا تی ہے ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : سوائے روزے کے ( کیونکہ ) وہ ( خالصتاً ) میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ وہ میری خاطر اپنی خواہش اور اپنا کھا نا پینا چوڑ دیتا ہے ۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اس کے ( روزہ ) افطار کرنے کے وقت کی اور ( دوسری ) خوشی اپنے رب سے ملا قات کے وقت کی ۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسند یدہ ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ and Abu Sa'id (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم) (as saying): Allah, the Exalted and Majestic, said: Fast (is exclusively) meant for Me and I would give its reward. There are two (occasions) of joy for the observer of fast. He feels joy when he breaks the fast and he is happy when he meets Allah. By Allah in Whose Hand is the life of Muhammad, the breath of the observer of fast is sweeter to Allah than the fragrance of musk.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا محمد بن فضیل نے ابو سنان سے ، انھوں نے ابو صالح سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل فر ماتا ہے ۔ بلا شبہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ۔ بلا شبہ روزہ دار کے لیے دوخوشیاں ہیں : جب وہ ( روزہ ) افطار کرتا ہے خوش ہو تا ہے ۔ اور جب وہ اللہ سے ملا قات کرے گا ۔ خوش ہو گا ، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے !اللہ کے ہاں ، روزہ دار کے منہ کی بو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ۔
Dirar bin Murrah, who is Abu Sinan, narrated it with this chain ( a Hadith similar to no. 2708), and he said:
"He said: 'When he meets Allah and he rewards him, he will rejoice.'"
مجھ سے اسحٰق بن عمر بن سالیط ہذلی نے بیان کیا, عبد العزیز بن مسلم نے کہا : ہمیں ضرار بن مرہ ( ابوسنان ) نے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے ما نند ) حدیث سنائی ، کہا : اور
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب وہ اللہ سے ملے گا اور اللہ اس کو اجرو ثواب عطا کرے گا تو وہ خوش ہو گا ۔
Sahl bin Sa'd (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: In Paradise there is a gate which is called Rayyan through which only the people who fast would enter on the Day on Resurrection. None else would enter along with them. It would be proclaimed: Where are the people who fast that they should be admitted into it? And when the last of them would enter, it would be closed and no one would enter it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے خالد بن مخلد نے جو کہ القطوانی ہیں، ان سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جنت میں ایک ( ایسا ) دروازہ ہے جسے " الریان " کہا جا تا ہے قیامت کے دن اس میں سے روزہ دار داخل ہوں گے ان کے ساتھ ان کے سوا کو ئی اور داخل نہیں ہوں گے ۔ جب ان میں سے آخری ( فرد ) داخل ہو جا ئے گا ۔ تو وہ ( دروازہ بند کر دیا جا ئے گا ، اس کے بعدکوئی اس سے داخل نہیں ہو سکے گا ۔ "
Abu Sa'id al Khudri (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Every servant of Allah who observes fast for a day in the way of Allah, Allah would remove, because of this day, his face farther from the Fire (of Hell) to the extent of seventy years' distance.
ہم سے محمد بن رومح بن المہاجر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا, ابن ہاد نے سہیل بن ابی صالح سے ، انھوں نے نعمان بن ابی عیاش سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کوئی شخص نہیں جو اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھے مگر اللہ تعا لیٰ اس دن ( کے روزے ) بدلے اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دورکردے گا ۔
It was narrated from Suhail with this chain of transmitters.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبد العزیز یعنی دراوردی نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ ، ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث بیان کی .
Abu Sa'id al-Khudri (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who observes fast for a day in the way of Allah He would remove his face from the Hell to the extent of seventy years' distance.
ابن جریج نے یحییٰ بن سعید اور سہیل بن ابی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی صالح سے خبر دی کہ ان دونوں نے نعمان بن عیاش زرقی سے سنا ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیثبیان کر رہے تھے ۔ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا : " جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا اللہ تعا لیٰ اس کے چہرے کو ( جہنم کی ) آگ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے ۔
A'isha, the Mother of the Believers ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا), reported:
One day the Messenger of (ﷺ) said to me: 'A'isha, have you anything (to eat)? I said: 'Messenger of Allah, there is nothing with us. Thereupon he said: I am observing fast. She said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went out, and there was a present, for us and (at the same time) some visitors dropped in. When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came back, I said to him: Messenger of Allah, a present was given to us, (and in the meanwhile) there came to us visitors (a major Portion of it has been spent on them), but I have saved something for you. He said: What is it? I said: It is hais (a compound of dates and clarified butter). He said: Bring that. So I brought it to him and he ate it and then said: I woke up in the morning observing fast. Talha said: I narrated this hadith to Mujahid and he said: This (observing of voluntary fast) is like a person who sets apart Sadaqa out of his wealth. He may spend it if he likes, or he may retain it if he so likes.
ہم سے ابو کامل فضیل بن حسین نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا عبدالواحد بن زیاد نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، ( انھوں نے کہا : ) مجھے عائشہ بنت طلحۃ نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث سنائی ، کہا
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" اے عائشہ !کیا تمھارے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ "" کہا : تو میں نے عرض کی!اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو ( پھر ) میں روزے سے ہوں ۔ "" اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس ہدیہ بھیجاگیا یا ہمارے پاس ملاقاتی ( جو ہدیہ لائے ) آگئے ۔ کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں ہدیہ دیا گیا ہے ۔ یا ہمارے پاس مہمان آئے ۔ اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ محفوظ کرکے رکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ کیا ہے؟ "" میں نے عرض کی : وہ حیس ( کھجور ، گھی اورپنیر سے بنا ہوا کھانا ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے لایئے "" تو میں اسے لے آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں نے ر وزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔ "" طلحہ نے کہا : میں نے یہ حدیث مجاہد کو سنائی تو انھوں نے کہا : یہ اس آدمی کی طرح ہے جو ا پنے مال سے صدقہ نکالتا ہے ، اگر وہ چاہے تو دے دے اور اگر وہ چاہے تو اس کو روک لے ۔