This hadith has been narrated by Ibn Juraij with the same chain of transmitters. Imam Muslim has narrated this hadith on the authority of Abu 'Abbas al-Sa'ib bin Farrukh and he was a trustworthy and reliable (narrator) among the people of Mecca.
محمد بن بکر نے ہم سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے اسی سند سے ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی اور کہا کہ ابو عباس الشاعر نے ان کوخبر دی ۔ امام مسلم ؒ نے کہا : ابو عباس سائب بن فروخ اہل مکہ سے ہیں ، ثقہ اورعدول ہیں ۔
Abdullah bin Amr (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: 'Abdullah bin Amr, you fast continuously and stand in prayer for the whole of night. If you do like that, your eyes would be highly strained and would sink and lose sight. There is no (reward for) fasting (for him) who fasts perpetually. Fasting for three days during the month is like fasting, the whole of the month. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Observe the fast of David. He used to fast one day and break (the other) day. And he did not turn back in the encounter.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا شعبہ نے ہمیں حبیب سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے ابو عباس ( سائب بن فروخ ) سے سنا ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے سنا ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اے عبداللہ بن عمرو!تم ہمیشہ ( بلاوقفہ روازانہ ) روزے رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو اور جب تم ایسا ہی کرو گے تو ( ایسا کرنے والے کی ) آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور ( جا گ جاگ کر ) کمزور ہوجائیں گی ، ( اور جہاں تک اجر کا تعلق ہے تو ) جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہ رکھا ، مہینے میں سے تیس دن کے روزے پورے مہینے کے روزے ( متصور ) ہوں گے ۔ " میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ ( روزے رکھنے ) کی طاقت رکھتاہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح روزے رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ترک کرتے تھے اور ( دشمن سے ) آمنے سامنے کے وقت بھاگتے نہیں تھے ۔ "
This hadith is narrated on the authority of Habib b. Abu Thabit with the same chain of transmitters and he said: And you would become exhausted.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ابن بشر نے مسعر کی سند سے بیان کیا، ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے اسی سند کےساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی اور کہا : " اور ( ہمیشہ روزے رکھنے والے کی ) جان درماندہ ہوجائے گی ۔ "
Abdullah bin 'Amr (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: I have been informed that you stand for prayer the whole of night and fast during the day. I said: I do that, whereupon he said: If you did that you in fact strained heavily your eyes and made yourself weak. There is a right of your eyes (upon you) and a right of your self (upon you) and a right of your family (upon you). Stand for prayer and sleep. observe fasts and break (them).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا سفیان بن عینیہ نے عمر و سے ، انھوں نے ابوعباس سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : " کیا مجھے خبر نہیں دی گئی کہ تم رات بھر قیام کرتے ہو اور ( روزانہ ) دن کا روزہ رکھتے ہو؟ " میں نے عرض کی : میں یہ کام کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم یہ کام کرو گے تو ( اس کانتیجہ یہ ہوگاکہ ) تمھاری آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی ۔ اور تمھاری جان کمزورہوجائے گی ۔ تم پر تمھاری آنکھ کا حق ہے ۔ تمھاری اپنی ذات کا حق ہے ۔ اور تمھارے گھر والوں کاحق ہے ۔ قیام کرو اورنیند بھی لو ، روزہ رکھو بھی اور روزہ چھوڑو بھی ۔ "
Abdullah bin 'Amr (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: With Allah the best fasting is that of David and the best prayer is that of David (peace be upon him) for he slept half of the night and stood for prayer for the third of it and (then) slept the sixth part of it and he observed fast one day and broke on the other.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا: ہم سے بیان کیا ہمیں سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عمرو بن اوس سے اور انھوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ ( نفلی ) نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور اس کا ایک تہائی قیام کرتے تھے اور اس کے ( آخری ) چھٹےحصے میں سوجاتے تھے ۔ اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اورایک دن افطارکرتے ( روزہ نہ رکھتے ) تھے ۔ "
Abdullah bin 'Amr bin al-'As رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The best fasting in the eye of Allah is that of David, for he fasted for half of the age (he fasted on alternate days), and the best prayer in the eye of Allah, the Exalted and Majestic, is that of David (peace be upon him), for he slept for half of the night and then stood for prayer and then again slept. He prayed for one-third of the night after midnight. He (the narrator) said: I asked 'Amr b. Dinar whether 'Amr bin Aus said that he stood for prayer one-third of the night after midnight. He said: Yes.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ ان کو عمرو بن اوس نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( یہ ) خبر دی کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں ۔ وہ آدھا زمانہ روزے رکھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ، وہ آدھی رات تک سوتے تھے پھر قیام کرتے تھے ، پھر اس کے آخری حصے میں سوجاتے تھے ، وہ آدھی رات کے بعدرات کا ایک تہائی حصہ قیام کرتے تھے ۔ "" حدیث نمبر ۔ میں ( ابن جریج ) نے عمرو بن دینارسے پوچھا : کیا عمرو بن اوس یہ کہتے تھے : "" وہ آدھی رات کے بعد رات کاتہائی حصہ قیام کرتے تھے؟ "" انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
Abu Qatada reported:
Abu al Malih informed me: I went along with your father to 'Abdullah bin Amr رضی اللہ تعالیٰ عنہ , and he narrated to us that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was informed about my fasting and he came to me, and I placed a leather cushion filled with fibre of date-palms for him. He sat down upon the ground and there was that cushion between me and him, and he said to me: Does three days' fasting in a month not suffice you? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts). He said: (Would) five (not suffice for you)? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts) He said: (Would) seven (fasts) not suffice you? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts). He (the Holy Prophet) then said: (Would) nine (fasts not suffice you)? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts). He said: (Would) eleven (fasts not suffice you)? I said: Messenger of Allah, (I am capable of observing more fasts than these). Thereupon the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There is no fasting (better than) the fasting of David which comprises half of the age, fasting a day and not fasting a day.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے خالد کی سند سےابو قلابہ ( بن زید بن عامر الجرمی البصری ) نے کہا
مجھے ابوملیح نے خبر دی ، کہا : میں تمھارے والد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو انھوں نے ہمیں حدیث سنائی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے روزوں کاذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چمڑے کاایک تکیہ رکھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے اور تکہہ میرے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں آگیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : " کیا تمھیں ہر مہینے میں سے تین دن ( کے روزے ) کافی نہیں؟ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پانچ ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سات ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نو ۔ " میں نے عرض کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اس سے زیادہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گیارہ ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : داود علیہ السلام کے روزوں سے بڑھ کر کوئی ر وزے نہیں ہیں ، آدھا زمانہ ، ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا ۔ "
Abdullah bin Amr (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said to him: Observe fast for a day and there would be reward for you for the rest (of the days). He said: I am capable of doing more than this. He then said: Observe fast for two days, and there would be reward for you for the rest (of the days). He said: I am capable of doing more than this. He (the Holy Prophet) said: Observe fast for three days and there would be reward for you for the rest of the days. He said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Observe fast for four days and there would be reward for you for the rest of the days. He said: I am capable of doing more than this. Thereupon he said: Then observe fast (which is the) best in the eye of Allah, the fast of David (peace be upon him) ; he used to observe fast one day and break on the other day.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے گندر نے بیان کیا، شعبہ کی سند سے، ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا۔ کے بارے میں زیاد بن فیاض سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابو عیاض سے سنا ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا : " ایک دن کاروزہ رکھو اور تمھارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جوباقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دودن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تین دن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " چاردن روزے رکھو اور تمہارے لئے ان ( دنوں ) کا اجر ہے جو باقی ہیں ۔ کہا : میں اس سےزیادہ طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت والے روزے ، یعنی داود علیہ السلام کے روزے کی طرح ( روزے ) رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے ۔ "
Abdullah bin 'Amr (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me! 'Abdullah bin 'Amr, it has been conveyed to me that you observe fast during the day and stand in prayer during the whole night. Don't do that, for your body has a share of its own in you, your eye has a share of its own in you, your wife has a share of her own in you. Observe fast and break it too. Fast for three days in every month and that is a prepetual fasting. I said! Messenger of Allah, I have got strength enough (to do more than this), whereupon he said: Then observe the fast of David (peace be upon him). Observe fast one day and break it (on the other) day. And he ('Abdullah bin 'Amr) used to say: Would that I had availed myself of this concession.
مجھ سے زہیر بن حرب اور محمد بن حاتم نے ابن مہدی کی سند سے بیان کیا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا اور سلیم نے بیان کیا۔ ہم سے ابن حیان نے بیان کیا, سعید بن میناء نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : عبداللہ بن عمرو عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" اے عبداللہ بن عمرو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم ( روزانہ ) دن کاروزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو ، ایسا مت کرو کیونکہ تم پرتمھارے جسم کا حصہ ( ادا کرناضروری ) ہے ، تم پر تمھاری آنکھ کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ہے ) تم پر تمھاری بیوی کا حصہ ( ادا کرنا ضروری ہے ) روزے رکھو اور ترک بھی کرو ، ہر مہینے میں سے تین دن کے روزے رکھ لیا کرو ۔ یہ سارے وقت کے روزوں ( کے برابر ) ہیں ۔ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے اندر ( زیادہ روزے رکھنے کی ) قوت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم داود علیہ السلام کے روزے کی طرح ( روزے ) رکھو ، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن چھوڑ دیتے تھے ۔ "" وہ کہا کرتے تھے : کاش! میں نے رخصت کو قبول کیا ہوتا ۔
Mu'adha al-'Adawiyya reported:
She asked 'A'isha رضی اللہ عنہا , the wife of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whether the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed fasts for three days during every month. She said: Yes I said to her: Which were (the particular) days of the month on which he observed fast? She said: He was not particular about the days of the month on which to observe fast.
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوارث نے بیان کیا، ان سے یزید الرشک نے کہا: آپ نے مجھ سے بیان کیا؟ سیدہ معاذہ العدویہ سے روایت ہے کہ انہوں نے
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ پھر پوچھا کہ کن دنوں میں ( روزے رکھتے تھے؟ ) انہوں نے کہا کہ کچھ پرواہ نہ کرتے ، کسی بھی دن روزہ رکھ لیتے تھے ۔
Imran bin Husain (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him (or he said to another person and he was listening to it): O, so and so, did you observe fast in the middle of the month? He said: No. Thereupon he (the Messenger of Allah) said: When you break it, then observe fast for two days.
مجھ سے عبداللہ بن محمد بن اسماء الضبعی نے بیان کیا، ان سے مہدی نے جو ابن میمون ہیں، انہوں نے بیان کیا، ہم سے غیلان بن جریر نے، مطرف کی سند سے بیان کیا, حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا ۔ یاکسی اور شخص سے پوچھا اور وہ سن رہے تھے : ۔ " اےفلاں!کیا تم نے اس مہینے کے وسط میں روزے رکھے ہیں؟ " اس نے جواب دیا نہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تو جب ( رمضان مکمل کرکے ) روزے ترک کروتو ( ہرمہینے ) دو دن کے روزے رکھتے رہو ۔ "
Abu Qatada رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
A person came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: How do you fast? The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) felt annoyed. When 'Umar ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) noticed his annoyance, he said: We are well pleased with Allah as our Lord, with Islam as our code of life, and with Muhammad as our Prophet. We seek refuge with Allah from the anger of Allah and that of His Messenger. 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ kept on repeating these words till his (the Prophet's) anger calmed down. Then Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: Messenger of Allah, what is the position of one who fasts perpetually? He ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He neither fasted nor broke it, or he said: He did not fast and he did not break it. 'Umar said: What about him who fasts for two days and does not fast one day? He ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Is anyone capable of doing that? He ('Umar) said: What is the position of him who fasts for a day and doesn't fast on the other day? Thereupon he (the Holy Prophet) said: That is the fast of David (peace be upon him). He ('Umar) said: What about him who fasts one day and doesn't fast for two days. Thereupon he (the Messenger of Allah) said: I wish I were given the strength to do that. Thereafter he ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Fasting three days every month and that of Ramadan every year is a perpetual fasting. I seek from Allah that fasting on the day of 'Arafa may atone for the sins of the preceding and the coming years, and I seek from Allah that fasting on the day of Ashura may atone for the sins of the preceding year.
یحییٰ بن یحییٰ التمیمی اور قتیبہ بن سعید نے ہم سے روایت کی ہے, حماد نے غیلان سے ، انھوں نے عبداللہ بن معبد زمانی سے اورانھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا : آپ کس طرح روزے رکھتے ہیں؟اس کی بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے ، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ دیکھا تو کہنے لگے : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں ، ہم اللہ کے غصے سے اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار بار ان کلمات کو دہرانے لگے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ، توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہااللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کا کیا حکم ہے جو سال بھر ( مسلسل ) روزہ رکھتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " نہ اس نے روزہ رکھا نہ اس نے افطارکیا ۔ " یا فرمایا ۔ " اس نے روزہ نہیں رکھا اس نے افطار نہیں کیا ۔ " کہا : اس کا کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتاہے اور ایک دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیاکوئی اس کی طاقت رکھتاہے؟ " پوچھا : اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتاہے اور ایک دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ " پوچھا : اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتاہے اور دو دن افطار کرتاہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے پسند ہے کہ مجھے اس کی طاقت مل جاتی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر مہینے کے تین روزے اور ایک رمضان ( کے روزوں ) سے ( لے کردوسرے ) رمضان ( کے روزے ) یہ ( عمل ) سارے سال کے روزوں ( کے برابر ) ہے ۔ اور عرفہ کے دن کا روزہ میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کاکفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی اور یوم عاشورہ کاروزہ ، میں اللہ سے امید رکھتاہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا ۔ "
Abu Qatada al-Ansari (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was asked about his fasting. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) felt annoyed. Thereupon 'Umar (Allah be pleased with him) said: We are pleased with Allah as the Lord, with Islam as our Code of Life, with Muhammad as the Messenger and with our pledge (to you for willing and cheerful submission) as a (sacred) commitment. He was then asked about perpetual fasting, whereupon he said: He neither fasted nor did he break it, or he did not fast and he did not break it. He was then asked about fasting for two days and breaking one day. He (the Holy Prophet) said: And who has strength enough to do it? He was asked about fasting for a day and breaking for two days, whereupon he said: May Allah bestow upon us strength to do it. He was then asked about fasting for a day and breaking on the other, whereupon he said: That is the fasting of my brother David (peace be upon him). He was then asked about fasting on Monday, whereupon he said: It was the day on which I was born. on which I was commissioned with prophethood or revelation was sent to me, (and he further) said: Three days' fasting every month and of the whole of Ramadan every year is a perpetual fast. He was asked about fasting on the day of 'Arafa (9th of Dhu'I-Hijja), whereupon he said: It expiates the sins of the preceding year and the coming year. He was asked about fasting on the day of 'Ashura (10th of Muharram), whereupon be said: It expiates the sins of the preceding year. (Imam Muslim said that in this hadith there is a) narration of Imam Shu'ba that he was asked about fasting on Monday and Thursday, but we (Imam Muslim) did not mention Thursday for we found it as an error (in reporting).
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا - اور یہ لفظ ابن المثنیٰ کا ہے - انہوں نے کہا: ہم سے بیان کیا محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے غیلان بن جریر سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن معبد زمانی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں سوال کیاگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نارض ہوگئے ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے ، اور بیعت کے طور پر اپنی بیعت پر راضی ہیں ۔ ( جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ۔ ) کہا : اس کے بعد آپ سے بغیر وقفے کے ہمیشہ روزہ رکھنے ( صیام الدھر ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس شخص نے روزہ رکھا نہ افطار کیا ۔ "" اس کے بعد آپ سے دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کی طاقت کون رکھتاہے؟ "" کہا : اور آپ سے ایک دن روزہ رکھنے اور دو دن ترک کرنے کے بارے میں پوچھاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کاش کے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کام کی طاقت دی ہوتی ۔ "" کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن روزہ ترک کرنے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ "" کہا : اور آپ سے سوموار کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے ( رسول بنا کر ) بھیجا گیا ۔ یا مجھ پر ( قرآن ) نازل کیا گیا ۔ "" کہا : اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہر ماہ کے تین روزے اور اگلے رمضان تک رمضان کے روزے ہی ہمیشہ کے روزے ہیں ۔ "" کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیاٍ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کاکفارہ بن جاتا ہے ۔ "" کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عاشورہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیاٍ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتاہے ۔ "" امام مسلمؒ نے کہا : اس حدیث میں شعبہ کی روایت ( یوں ) ہے : انھوں ( ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اور آپ سے سوموار اور جمعرات کے روزے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ لیکن ہم نے جمعرات کے ذکر سے سکوت کیا ہے ، کیونکہ ہمارے خیال میں یہ ( راوی کا ) وہم ہے ۔
It was narrated from Shu'ba with this chain (a Hadith similar to no. 2747).
ہم سے عبید اللہ بن معاذ بن معاذ ، شبابہ اورنضر بن شمیل سب نے شعبہ سے اس سند کے ساتھ ( سابق حدیث کے مانند ) روایت کی ۔
This hadith has been narrated by Ghailan bin Jarir with the same chain of transmitters, but with one variation, that there has been made mention of Monday and not of Thursday.
مجھ سے احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان بن ہلال نے بیان کیا، کہا ہم سےابان عطار نے کہا : ہمیں غیلان بن جریر نے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کی مانند حدیث بیا ن کی ، مگر انھوں نے ( اپنی ) اس حدیث میں سوموار کا ذکرکیا ، جمعرات کا ذکر نہیں کیا ۔
Abu Qatada Ansari (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Massenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was asked about fasting on Monday, whereupon he said: It is (the day) when I was born and revelation was sent down to me.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا ہمیں مہدی بن میمون نے حدیث سنائی ، انھوں نے غیلان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابو قتادہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوموار کے روزے کے بار ے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اسی دن پیدا ہوا اور اسی دن مجھ پر ( قرآن ) نازل کیا گیا ۔ "
Imran bin Husain ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger (صلی اللہ علیہ وسلم) having said to him or to someone else: Did you fast in the middle of Sha'ban? He said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: If you did not observe fast, then you should observe fast for two days.
ہم سے حداب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ثا بت نے مطر ف سے انھوں نے حضرت عمرا ن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ۔ ۔ ۔ یا یا کسی اور آدمی سے ۔ ۔ ۔ فر ما یا : " کیا تم نے شعبان کے وسط میں روزے رکھے ہیں ؟ " اس نے جواب دیا : نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم روزے ختم کر لو تو دو دن کے روزے رکھنا ۔ "
Imran bin Husain (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to a person: Did you observe any fast in the middle of this month (Sha'ban)? He said: No. Thereupon the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Fast for two days instead of (one fast) when you have completed (fasts of) Ramadan.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، وہ الجریری کی سند سے, ابو علا ء نے مطر ف سے اور انھوں نے حضرت حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پو چھا : کیا تم نے اس مہینے کے دورا ن میں کچھ روزے رکھے ہیں ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم تمضا ن کے روزے ختم کر لو تو اس کی جگہ دو رازے رکھ لینا ۔
Imran bin Husain (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to a person: Did you observe fast in the middle of this month. i. e. Sha'ban? He said: No. Thereupon he said to him: When it is the end of Ramadan, then observe fast for one day or two (Shu'ba had some doubt about it) but he said: I think that he has said: two days.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا, محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے مطرف بن شخیر کے بھتیجے سے حدیث سنا ئی کہا : میں نے مطرف کو حضرت عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پو چھا : کیا تم نے اس مہینے یعنی شعبا ن کے وسط ( یا دوران ) میں کچھ روزے رکھے ہیں؟اس نے جواب دیا : نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرما یا : " جب تم رمضا ن کے روزے ختم کر لو اس کے بعد ایک دن یا دو دن کے روزے رکھ لینا ۔ شعبہ نے ۔ ۔ ۔ جن کو شک ہوا ۔ ۔ کہا میرا خیال ہے کہ آپ نے دو دن کے روزے کہا تھا ۔
This hadith is narrated by 'Abdullah bin Hani bin Akhi Mutarrif with the same chain of transmitters.
مجھ سے محمد بن قدامہ اور یحییٰ للولوعی نے بیان کیا، کہا: اس نے ہمیں بتایا نضر نے ہمیں خبر دی ( کہا ) ہمیں شعبہ نے خبر دی ( کہا ) ہمیں مطرف کے بھتیجے عبد اللہ بن ہانی نے اسی سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث روایت کی ۔