A'isha, the Mother of the Believers (رضی اللہ تعالیٰ عنہا), reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to me one day and said: Is there anything with you (to eat)? I said: No. Thereupon he said: I shall then be fasting. Then he came to us another day and we said: Messenger of Allah, hais has been offered to us as a gift. Thereupon he said: Show that to me; I had been fasting since morning. He then ate it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا وکیع نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور پوچھا : " کیا آپ لوگوں کے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے؟ " تو ہم نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو تب میں روزے سے ہوں ۔ " پھر ایک اور دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں حیس تحفے میں ملا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے کھلایئے ، میں نے روزے کی حالت میں صبح کی تھی ۔ " اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھا لیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: If anyone forgets that he is fasting and eats or drinks he should complete his fast, for it is only Allah Who has fed him and given him drink.
مجھ سے عمرو بن محمد الناقد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، وہ ہشام القردوسی کی سند سے، محمد بن سیرین کی سند سے, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص روزے کی حالت میں بھول گیا اور کھا لیا یا پی لیا تو وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔ "
Abdullah bin Shaqiq reported:
I said to'A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا): Did the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) fast for a full month besides Ramadan? She said: I do not know of any month in which he fasted throughout, but that of the month of Ramadan and (the month) in which he did not fast at all, till he ran the course of his life.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا،سعید جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، کہا
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےدریافت کیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے سوا کسی متعین مہینے کے روزے رکھتے تھے؟انھوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم! رمضان کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی متعین مہینے کے ( پورے ) روزے نہیں رکھے یہاں تک کہ آپ آگے تشریف لے گئے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے کے روزے ترک کیے ، جب تک کہ اس میں سے ( کچھ دنوں کے ) روزے رکھ ( نہ ) لیے ۔
Abdullah bin Shaqiq reported:
I said to 'A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا): Did the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observe fast during a month? She said, I do not know of any month in which he fasted throughout except Ramadan and (the month) in which he did not fast at all till he ran the course of his life. May peace be upon him.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہمس نے عبداللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی ، کہا
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے؟انھوں نے جواب دیا : میں نہیں جانتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے مہینے کے روزے چھوڑے ۔ تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے ( کچھ دنوں کے ) روزے رکھ ( نہ ) لیتے ، یہاں تک کہ آپ اپنی ( دائمی منزل کی ) راہ پر تشریف لے گئے ۔
Abdullah bin Shaqiq reported:
I asked 'A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) about fasting of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). She said: He used to observe fast (at times) so continuously that we said: He has fasted, he has fasted. And (at times) he did not observe fast (for days) and we began to say: He has abandoned fasting, he has abandoned fasting. She said: I did not see him observing fast throughout the whole of the month since he arrived in Medina, but that of Ramadan.
مجھ سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیاحماد نے ایوب اورہشام سے ، انھوں نے محمد سے ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ۔ حماد نے کہا : میرا خیال ہے ، ایوب نے اس حدیث کا عبداللہ بن شقیق سے سماع کیا ۔ کہا
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں دریافت کیا توانھوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے پر روزے رکھتےجارہے ہیں ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کرتے ( روزے رکھنا ترک کردیتے ) حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل افطار کررہے ہیں ، کہا : جب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ہیں ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں ، ا س کے سوا کہ وہ رمضان کا مہینہ ہو ۔
It was narrated that Abdullah bin Shaqiq said: "I asked Aishah رضی اللہ تعالیٰ عنہا ..." a similar report (as no. 2720), but he did mention Hisham or Muhammad in the chain.
قتیبہ نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں حماد نے ایوب سے حدیث سنائی ، انھوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوا کیا ۔ ۔ ۔ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ، انھوں نے سند میں ہشام اور محمد کا ذکر نہیں کیا ۔
A'isha the Mother of the Believers (رضی اللہ تعالیٰ عنہا), reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to fast (so continuously) that we said that he would not break, and did not fast at all till we said that he would not fast. And I did not see the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) completing the fast of a month, but that of Ramadan, and I did not see him fasting more in any other month than that of Sha'ban.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ کو ابو النضر رضی اللہ عنہ کے خادم سے پڑھ کر سنایا, عمر بن عبیداللہ کے آزاد کردہ غلام ابو نضر نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن ( بن عوف ) سے اور انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رویت کی کہ انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتی کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے ، اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی کسی مہینے کے پورے روزے رکھے ہوں ، اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ( اور ) مہینے میں اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں جتنے شعبان میں رکھتے تھے ۔
Abu Salama reported:
I asked 'A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) about the fasting of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). She said: He used to observe fast (at times so continuously) that we said: He has fasted (never to break), and he did not observe fast till we said: He has given up perhaps never to fast, and I never saw him observing (voluntary fasts) more in any other month than that of Sha'ban. (lt appeared as if) he observed fast throughout the whole of Sha'ban except a few (days).
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے ابن عیینہ کی سند سے بیان کیا، ابوبکر نے کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا, ابن ابی لبید نے ابو سلمہ سے روایت کی ، کہا
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بار ے میں پوچھا توانھوں نے بتایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑ دیتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے ، اورمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی اور مہینے میں شعبان کےروزوں کی نسبت زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( گویا ) پورے شعبان کے ر وزے رکھتے تھے ، محض چند دن چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزے رکھتے تھے ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not observe fast in any month of the year more than in the month of Sha'ban, and used to say: Do as many deeds as you are capable of doing, for Allah will not become weary (of giving you reward), but you would be tired (of doing good deeds); and he also said: The deed liked most by Allah is one to which the doer adheres constantly even if it is small.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا, یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی ، اور کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے کسی مہینے میں ، شعبان سے بڑھ کر ، روزے نہیں رکھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے : " اتنے ہی اعمال اپناؤ جتنوں کی تم طاقت رکھتے ہو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہرگز نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم خود ہی ( عمل کرنے سے ) اکتا جاؤ گے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کر تے تھے : " اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل و ہ ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشہ قائم رہے چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ۔ "
Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not fast throughout any month except during ramadan. And when he observed fast (he fasted so continuously) that one would say that he would not break (them) and when he Abandoned, he abandoned (so continuously) that one would say: By Allah, perhaps he would never fast.
ہم سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابو عوانہ نے ابو بشر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے سوا کبھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو اتنے روزے رکھتے کہ کہنے والا کہتا : نہیں ، اللہ کی قسم!آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے چھوڑتے تو ( مسلسل ) چھوڑتے حتیٰ کہ کہنے والا کہتا : نہیں ، اللہ کی قسم!آپ روزے نہیں رکھیں گے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Bishr with the same chain of transmitters (with a slight variation of words and these are), that he (the narrator) said: During any month continuously since he came to Medina.
ہم سے محمد بن بشار اور ابوبکر بن نافع نے غندر کی سند سے،شعبہ نے اسی سند کے ساتھ ابو بشر سے ( سابقہ حدیث کے مانند ) روایت کی اور ( " پورا مہینہ کے بجائے ) " جب سے مدینہ آئے متواتر کوئی مہینہ " کہا ۔
Uthman bin Hakim al-Ansari said:
I asked Sa'id bin Jubair about fasting In Rajab, and we were then passing through the month of Rajab, whereupon he said: I heard Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) as saying: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe fast (so continuously) that we (were inclined) to say that he would not break (them) and did not observe them so continuously) that we (were inclined to say) that he would not observe fast.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیاعبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث سنائی ، کہا
میں نے سعید بن جبیر سے رجب میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا ، اور ہم ان دنوں رجب میں ہی تھے ، تو انھوں نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک کرتے حتیٰ کہ ہم کہتے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے نہیں رکھیں گے ۔
A similar report (as no. 2726) was narrated from 'Uthman bin Hakim with this chain.
مجھ سے علی بن حجر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیاعلی بن مسہر اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن حکیم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند روایت کی ۔
Anas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to observe fast till it was said that he had observed fast, he had observed fast (perhaps never to break it), and he did not fast till it was said that he had given up fast, he had given up fast (perhaps never to observe it).
زہیر بن حرب اورابو بکر بن نافع نے ۔ الفاظ انھی کے ہین ۔ دو الگ الگ سندوں کے ساتھ حماد سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے حتیٰ کہ کہاجاتا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے شروع کردیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے شروع کردیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے ترک کرتے حتیٰ کہ کہا جاتا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے رکھنے چھوڑ دیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزےرکھنے چھوڑ دیے ۔
Abdullah bin 'Amr bin al-'As رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was informed that he could stand up for (prayer) throughout the night and observe fast every day so long as he lived. Thereupon the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Is it you who said this? I said to him: Messenger of Allah, it is I who said that. Thereupon the Messenger of Allah may peace be upon him) said: You are not capable enough to do so. Observe fast and break it; sleep and stand for prayer, and observe fast for three days during the month; for every good is multiplied ten times and this is like fasting for ever. I said: Messenger of Allah. I am capable of doing more than this. Thereupon he said: Fast one day and do not fast for the next two days. I said: Messenger of Allah, I have the strength to do more than that. The Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ), said: Fast one day and break on the other day. That is known as the fasting of David (peace be upon him) and that is the best fasting. I said: I am capable of doing more than this. Thereupon the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There is nothing better than this. 'Abdullah bin 'Amr (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: Had I accepted the three days (fasting during every month) as the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said, it would have been more dear to me than my family and my property.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن وہب کو یونس سے روایت کرتے ہوئے سنا, ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ وہ ( عبداللہ ) کہتاہے : میں جب تک زندہ ہوں ( مسلسل ) رات کا قیام کروں گا اور دن کا روزہ رکھوں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم ہی ہو جو یہ باتیں کرتے ہو؟ "" میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !واقعی میں نے ہی یہ کہا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم یہ کام نہیں کرسکو گے ، لہذا روزہ رکھو اور روزہ ترک بھی کرو ۔ نیند بھی کرو اور قیام بھی کرو ، مہینے میں تین دن کے روزے رکھ لیا کرو کیونکہ ہر نیکی ( کا اجر ) دس گنا ہے ۔ اس طرح یہ سارے وقت کے روزوں کی طرح ہے ۔ "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اور دو دن نہ رکھو ۔ "" کہا : "" میں نے عرض کی : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک دن روزہ رکھو اورایک دن نہ رکھو ۔ "" یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ اور یہ روزوں کا سب سے منصفانہ ( طریقہ ) ہے ۔ "" کہا : میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس سے افضل کوئی صورت نہیں ۔ "" عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ بات مجھے اپنے اہل وعیال سے بھی زیاد عزیز ہے کہ میں ( مہینے میں ) تین دنوں کی بات تسلیم کرلیتا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی ۔
Yahya reported:
I and 'Abdullah bin Yazid set out till we came to Abu Salama. We sent a messenger to him (in his house in order to inform him about our arrival) and he came to us. There was a mosque near the door of his house, and we were in that mosque, till he came out to us. He said: If you like you may enter (the house) and, if you like, you may sit here (in the mosque). We said: We would rather sit here and (you) relate to us. He (Yahya) then narrated that 'Abdullah bin Amr bin al-'As ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) told him: I used to observe fast uninterruptedly and recited the (whole of the) Qur'an every night. It (the uninterrupted fasting and recital of the Qur'an every night) was mentioned to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) or he sent for me, and I went to him and he said to me: I have been informed that you fast continuously and recite (the whole of the Qur'an) every night. I said: Apostle of Allah, it is right, but I covet thereby nothing but good, whereupon he said: It suffices for you that you should observe fast for three days during every month. I said: Apostle of Allah, I am capable of doing more than this. He said: Your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you; so observe the fast of David, the Messenger of Allah (peace be upon him), for he was the best worshipper of Allah. I said: Apostle of Allah, what is the fast of David? He said: He used to fast one day and did not fast the other day. He (also) said: Recite the Qur'an during every month. I said: Apostle of Allah, I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it in twenty days; recite it in ten days. I said: I am capable of doing more than this, whereupon he said: Recite it every week, and do not exceed beyond this, for your wife has a right upon you, your visitor has a right upon you, your body has a right upon you. He ('Amr bin 'As) said: I was hard to myself and thus I was put to hardship. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had told me: 'You do not know you may live long (thus and bear the hardships for a long time), and I accepted that which the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had told me. When I grew old I wished I had availed myself of the concession (granted by) the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے عبداللہ بن محمد الرومی نے بیان کیا، ہم سے النضدر بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا عکرمہ بن عمار نے کہا : ہمیں یحییٰ نے حدیث سنائی کہا
میں اور عبداللہ بن یزید حضرت ابو سلمہ کے پاس حاضری کے لیے ( اپنے گھروں سے ) روانہ ہوئے ۔ ہم نے ایک پیغام لے جانے والا آدمی ان کے پاس بھیجا تو وہ بھی ہمارے لئے باہر نکل آئے ۔ وہاں ان کے گھر کے دروازے کے پاس ایک مسجد تھی ، کہا : ہم مسجد میں رہے یہاں تک کہ وہ بھی ہمارے پاس آگئے ۔ انھوں نے کہا : اگر تم چاہو تو ( گھر میں ) داخل ہوجاؤ ۔ اور اگر چاہو تو یہیں ( مسجد میں ) بیٹھ جاؤ ۔ کہا : ہم نے کہا : نہیں ، ہم یہیں بیٹھیں گے ، آپ ہمیں احادیث سنائیں ۔ انھوں نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں مسلسل روزے رکھتا تھا اور ہر رات ( قیام میں پورے ) قرآن کی قراءت کرتاتھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرا ذکر کیا گیا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم ہمیشہ ( ہرروز ) روزہ رکھتے ہو اور ہر رات ( پورا ) قرآن پڑھتے ہو؟ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !کیوں نہیں ( یہ بات درست ہے ) اور ایسا کرنے میں میرے پیش نظر بھلائی کے سوا کچھ نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمھارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو ۔ "" میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" ( آخر میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کی طرح روزے رکھو وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عبادت گزار تھے ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !داود علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے ۔ "" فرمایا : "" قرآن کی قراءت ایک ماہ میں ( مکمل کیا ) کرو ۔ "" کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر بیس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر دس دن میں پڑھ لیاکرو ۔ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس سے افضل عمل کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ۔ اسے ہر سات دن میں پڑھ لیاکرو ۔ اس سے زیادہ نہ کرو تم پر تمھاری بیوی کا حق ہے ، تم پر تمھارے مہمانوں کاحق ہے ، اور تم پر تمھارے جسم کاحق ہے ، "" کہا : میں نے ( اپنے اوپر ) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" تم نہیں جانتے شاید تمھاری عمر طویل ہو ۔ "" کہا : میں اسی کی طرف آگیا جو مجھے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا ، جب میں بوڑھا ہوگیا تو میں نے پسند کیا ( اور تمنا کی ) کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رخصت قبول کرلی ہوتی ۔
It was narrated by Yahya bin Abu Kathir with the same chain of transmitters and he made this addition after these words:
During every month, (fasting) for three days, there is for you ten times for every good and that is perpetual fasting (for three days would bring a reward for full thirty days). I said: What is the fast of the Messenger of Allah, David? He said: Half of the age (observing fast on alternate days for the whole life). And in the hadith no mention has been made of the recital of the Qur'an, and he did not say: Your visitor has a right upon you, but (instead) he said: Your son has a right upon you.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا حسین المعلم نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث سنائی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرماں
"" ہر مہینے میں تین دن "" کے بعد یہ الفاظ زائد بیان کیے : "" تمھارے لئے ہر نیکی کے بدلے میں اس جیسی دس ( نیکیاں ) ہیں ۔ ، تو یہ سارے سال کے ( روزے ) ہیں ۔ "" اور ( اس ) حدیث میں کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے نبی داود علیہ السلام کا روزہ کیاتھا؟فرمایا : "" آدھا سال ۔ "" اورانھوں نے حدیث میں قرآن پڑھنے کے حوالے سے کچھ بیان نہیں کیا اور انھوں نے؛ "" تمھارے مہمانوں کا تم پر حق ہے "" کے الفاظ بیا ن نہیں کیے ، اس کی بجائے انھوں نے کہا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) "" اور تمھاری اولاد کا تم پرحق ہے ۔ ""
Abdullah bin 'Amr (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: Recite the whole of the Qur'An during every month. I said: I find power (to recite it) in a shorter period. He said: Then recite it in twenty nights. I said: I find power (to recite it in a shorter period even than this), whereupon he said: Then recite it in seven (nights) and do not exceed beyond it.
مجھ سے القاسم بن زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا, شیبان نے یحییٰ سے ، انہوں نے بنی زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمن سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے روایت کی ۔ ( یحییٰ نے کہا : ) میرا اپنے بارے میں خیال ہے کہ میں نے خود بھی یہ حدیث ابو سلمہ سے سنی ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " قرآن مجید کی تلاوت مہینے میں ( مکمل ) کیاکرو ۔ " میں نے عرض کی : میں ( اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیس راتوں میں پڑھ لیا کرو ۔ " میں نے عرض کی : میں ( اس سے زیادہ کی ) قوت پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سات دنوں میں پڑھ لیا کرو ۔ " اور اس سے زیادہ ( قراءت ) مت کرنا ۔ "
Abdullah bin 'Amr bin al-'As (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: 'Abdullah, don't be like so and so who observed prayer during the whole night and then abandoned it (altogether).
مجھ سے احمد بن یوسف ازدی نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن ابی سلمہ نے بیان کیا ,اوزاعی نے کہا : مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے ( عمر ) بن حکم بن ثوبان سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عبداللہ!فلاں شخص کی طرح نہ ہوجانا وہ رات کوقیام کرتاتھا ، پھر اس نے رات کا قیام ترک کردیا ۔ "
Abdu'llah bin 'Amr bin 'As (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
It was conveyed to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that I observe fast successively and pray during the whole night. He sent for me or I met him and he (the Holy Prophet) said: It has been conveyed to me that you observe fast continuously and do not break it and pray during the whole night. Don't do that. for there is share for your eyes, share for your own self, share for your family; so observe fast and break it, pray and sleep and observe fast for one day during the ten days, and there is a reward for you (for other) nine (days besides the tenth day of the fast). I said: Apostle of Allah, I find myself more powerful than this. He said: Then observe the fast of David (peace be upon him). He ('Amr) said: Apostle of Allah, how did David observe fast? He (the Holy Prophet) said: He used to fast one day and break it on the other day, and he did not run (from the battlefield) as he encountered (the enemy). He said: Apostle of Allah, who can guarantee this for me (will I also encounter the enemy dauntlessly)? 'Ata', the narrator of the hadith, said: I do not know how there (crept in) the matter of perpetual fast. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), however, said: He who observed perpetual fast did not fast at all; he who observed perpetual fast did not fast at all, he who observed perpetual fast did not fast at all.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا وہ کہتے تھے کہ ابو عباس نے ان کوخبر دی کہ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ میں روزے رکھتا ہوں ، لگاتار رکھتا ہوں اور رات بھر قیام کرتاہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیغام بھیجا یا میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا مجھے نہیں بتایا گیا کہ تم روزے رکھتے ہواور ( کوئی روزہ ) نہیں چھوڑتے اور رات بھر نماز پڑھتے ہو؟تم ایسا نہ کرو کیونکہ ( تمھارے وقت میں سے ) تمھاری آنکھ کا بھی حصہ ہے ۔ ( کہ وہ نیند کے دوران میں آرام کرے ) اور تمھاری جان کا بھی حصہ ہے ۔ اور تمھارے گھر والوں کا بھی حصہ ہے ۔ لہذا تم روزے رکھو بھی اور ترک بھی کرو ، نماز پڑو آرام بھی کرو ، اور ہردس دن میں سے ایک دن کاروزہ رکھو اور تمھیں ( باقی ) نو دنوں کا ( بھی ) اجر ملے گا ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں خود کو اس سے زیادہ طاقت رکھنے والا پاتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " توپھر داودعلیہ السلام کے سے روزے رکھو ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !داودعلیہ السلام کے روزے کس طرح تھے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے ایک دن افطار کرتے تھے اورجب ( دشمن سے ) آمنا سامنا ہوتا تو بھاگتے نہیں تھے ۔ " کہا : اے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اس کی ضمانت کون دےگا ( کہ میری زندگی کا ہردن روزے سے شمار ہوگا؟ ) عطاء نے کہا : میں نہیں جانتا کہ انھوں نے ہمیشہ روزہ رکھنے کا ذکر کس طرح کیا ۔ تونبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ( وقفے کے بغیر ) ہمیشہ روزہ رکھا ، اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔ " اس نے روزہ نہیں رکھا جس نے ہمیشہ روزہ رکھا ۔ "