Rauh and Yahya bin Kathir narrated as Nasr reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) entered into the state of Ihram for Hajj. And in the narration of Abu Shihab (the words are): We went out with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pronouncing Talbiya for Hajj, And in an the ahadith (narrated in this connection the words are): He led the morning prayer at al-Batha', except al-jahdami who did not make mention of it.
اور ہم سے ابراہیم بن دینار نے بیان کیا, یہی حدیث روح ، ابو شہاب اور یحییٰ بن کثیر ان تمام نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی ، روح اور یحییٰ بن کثیر دونوں نے ویسے ہی کہا جیسا کہ نصر ( بن علی جہضمی نے کہا کہ
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکا را البتہ ابو شہاب کی روایت میں ہے : ہم تمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے نکلے ۔ ( آگے ) ان سب کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحا ء میں فجر کی نماز ادا کی ، سوائے جہضمی کے کہ انھوں نے یہ بات نہیں کی-
Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came along with his Companions when four days had passed out of ten days (of Dhu'l-Hijja) and they were pronouncing Talbiya for Hajj, and he (the Holy Prophet) commanded them to change (this Ihram) into that of 'Umra.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن الفضل السدوسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں وہیب نے حدیث سنا ئی ، ( کہا ) ہمیں ایو ب نے حدیث سنا ئی انھوں نے ابو عالیہ برا ء سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، فرمایا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سمیت عشرہ ذوالحجہ کی چار راتیں گزارنے کے بعد ( مکہ ) تشریف لا ئے ۔ وہ ( صحابہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین ) حج کا تلبیہ پکاررہے تھے ( وہاں پہنچ کر ) آپ نے انھیں حکم دیا کہ اس ( نسک جس کے لیے وہ تلبیہ پکار رہے تھے ) کو عمر ے میں بدل دیں ۔
Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed the morning prayer at Dhu Tawa (a valley near Mecca) and arrived (in Mecca) when four days of Dhul-Hijja had passed and he commanded his Companions that they should change their Ihram (of Hajj) to that of Umra, except those who had brought sacrificial animals with them.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا معمر نے ہمیں ہمیں خبردی انھوں نے ایوب سے انھوں نے ابو عالیہ سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فرمایا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ذی طوی میں ادا فر ما ئی اور ذوالحجہ کی چا ر راتیں گزری تھیں کہ تشریف لا ئے اور اپنے صحا بہ کرام حکم فرمایا کہ جس کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ باقی سب لو گ اپنے ( حج کے ) احرام کوعمرے میں بدل دیں ۔
Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: This is the 'Umra of which we have taken advantage. So he who has not the sacrificial animal with him should get out of the state of Ihram completely, for 'Umra has been incorporated in Hajj until the Day of Resurrection,
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا محمد بن جعفر نے اور عبید اللہ بن معاذ نے اپنے والد کے واسطے سے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ لفظ عبید اللہ کے ہیں ۔ ۔ ۔ کہا شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حکم سے ، انھوں نے مجا ہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ
اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " یہ عمرہ ( اداہوا ) ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا ہے ( اب ) جس کے پاس قربانی کا جا نور نہ ہو وہ مکمل طور پر حلال ہو جا ئے ۔ ( احرا م کھول دے ) یقیناً ( اب ) قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے ( دونوں ایک ساتھ ادا کیے جا سکتے ہیں ).
Abu Hamza at Ad-Dubu'i reported:
I performed Tamattu' but the people discouraged me to do so. I came to Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ and asked him about it. He ordered me to do so. I came to the House (Ka'ba) and slept. I saw a visitant in the dream who said: 'Umra is acceptable and so is the Hajj performed for God's sake. I came to Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ and informed him about that Which I saw in the dream whereupon he said: Allah is the Greatest, Allah is the Greatest This is the Sunnah of Abu'l-Qasim (the Holy Prophet) ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سنا, ابو حمزہ ضبعی نے کہا
میں نے حج تمتع ( کا ارادہ ) کیا تو ( متعدد ) لوگوں نے مجھے اس سے روکا ، میں ( اسی شش و پنج میں ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور اس معاملے میں استفسارکیا تو انھوں نے مجھے اس ( حج تمتع ) کا حکم دیا ۔ کہا پھر میں اپنے گھر لوٹا اور آکر سو گیا ، نیند میں دورا ن خواب میرے پاس ایک شخص آیا ۔ اور کہا ( تمھا را ) عمرہ قبول اور ( تمھا را ) حج مبرو ( ہر عیب سےپاک ) ہے ۔ انھوں نے کہا میں ( دوباراہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حا ضر ہوا اور جو دیکھا تھا ۔ کہہ سنا یا ۔ وہ ( خوشی سے ) کہہ اٹھے ( عربی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ) یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ( تمھا را خواب اسی کی بشارت ہے ).
Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed the Zuhr prayer at Dhu'l-Hulaifa; then called for his she-camel and marked it on the right side of its bump, removed the blood from it, and tied two sandals round its neck. He then mounted his camel, and when it brought him up to al-Baida', he pronounced Talbiya for the Pilgrimage.
ہم سے محمد بن المثنی اور ابن بشار نے ابن ابی عدی کی سند سے بیان کیا، ابن المثنی نے کہا: ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا۔شعبہ نے قتادہ سے انھوں نے ابو حسان سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فر ما یا
آپ نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی ۔ پھر اپنی اونٹنی منگوائی اور اس کی کو ہا ن کی دا ئیں جا نب ( ہلکے سے ) زخم کا نشان لگا یا اور خون پونچھ دیا اور دو جوتے اس کے گلے میں لتکا ئے ۔ پھر اپنی سواری پر سوار ہو ئے ۔ ( اور چل دیے ) جب وہ آپ کو لے کر بیداء کے اوپر پہنچی تو آپ نے حج کا تلبیہ پکا را ۔
This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters but with this variation (of words):
When Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to Dhu'l-Hulaifa and he made no mention (of the fact) that he led the Zuhr prayer.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا, معاذ بن ہشام نے کہا : مجھے میرے والد ( ہشام بن ابی عبد اللہ صاحب الدستوائی ) نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ، البتہ انھوں نے یہ الفا ظ کہے
" اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ آئے " یہ نہیں کہا : " انھوں نے وہاں ( ذوالحلیفہ میں ) ظہر کی نماز ادا فرمائی ۔
Abu Hassan al-A'raj reported:
A person from Bani Hujaim said to Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ): What is this religious verdict of yours which has engaged the attention of the people or which has become a matter of dispute among them that he who circumambulated the House can be free from Ihram? Thereupon he said: That is the Sunnah of your Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), even though you may not approve of it.
محمد بن مثنیٰ یا ابن بشار نے کہا، کوئی بیان نہیں، انہوں نے کہا: محمد بن جعفر نے کہا، کوئی بیان نہیں، انہوں نے کہا شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو حسان اعرج سے سنا ، انھوں نے کہا
بنو حجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا یہ کیا فتوی ہے ۔ جس نے لوگوں کو الجھا رکھا ہے یا پریشان کر رکھا ہے؟ کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے ( عمرہ کر لے ) وہ احرا م سے باہر آجا تا ہے ۔ انھوں نے فر ما یا : یہی تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چا ہے تمھا ری مرضی نہ ہو ۔
Abu Hassan reported:
It was said to Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) that this affair had engaged the attention of the people that he who circumambulates the House was permitted to circumambulate for Umra (even though he was in a state of Ihram for Hajj), whereupon he said: That is the Sunnah of your Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), even though you may not approve of it.
مجھ سے احمد بن سعید الدارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے ، انھوں ے ابو حسان سے حدیث بیان کی ، کہا
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ اس معاملے ( فتوے ) نے لوگوں کو تفرقے میں ڈال دیا ہے کہ جو بیت اللہ کا طوف ( عمرہ ) کر کے وہ احرا م سے باہر آجا تا ہے اور یہ کہ طواف مستقل عمرہ ہے فر ما یا : ( ہاں ) یہی تمھا رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چا ہے تمھیں نہ چا ہتے ہو ئے قبول کرنی پڑے ۔
Ata' said:
Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) used to say that a pilgrim or non-pilgrim (one performing 'Umar) who circumambulates the House is free from the responsibility of Ihram. I (Ibn Juraij, one of the narrators) said to 'Ata': On what authority does he (Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) say this? He said: On the authority uf Allah's words: Then their place of sacrifice is the Ancient House (al-Qur'an, xxii. 33). I said: It concerns the time after staying at 'Arafat, whereupon he said: Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) had stated (that the place of sacrifice is the Ancient House) ; it way be after staying at 'Arafat or before (staying there). And he (Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ) made this deduction I from the command of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) when he had ordered to put off Ihram on the occasion of the Farewell Pilgrimage.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ابن جریج نے کہا : مجھے عطا ء نے خبر دی کہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر مایا کرتے تھے : ( احرا م کی حا لت میں ) جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے وہ حاجی ہو یا غیر حاجی ( صرف عمرہ کرنے والا ) وہ طواف کے بعد احرا م سے آزاد ہو جا ئے گا ابن جریج نے کہا : میں نے عطا ء سے دریافت کیا ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بات کہاں سے لیتے ہیں؟ ( ان کے پاس کیا دلیل ہے؟ فرمایا اللہ تعا لیٰ کے اس فر مان سے ( دلیل لیتے ہوئے ) " پھر ان کے حلال ( ذبح ) ہو نے کی جگہ " البیت العتیق " ( بیت اللہ ) کے پاس ہے ۔ " ابن جریج نے کہا : میں نے ( عطاء سے ) کہا : اس آیت کا تعلق تو وقوف عرفات کے بعد سے ہے انھوں نے جواب دیا : ( مگر ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے : اس آیت کا تعلق وقوف عرفات سے قبل اور بعد دونوں سے ہے ۔ اور انھوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے اخذ کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حجۃ الوداع کے موقع پر ( طواف وسعی کے بعد ) احرا م کھول دینے کے بارے میں دیا تھا ۔
Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Mu'awiya رضی اللہ تعالیٰ عنہ had said to them: Do you know that I clipped some hair from the head of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) at al- Marwa with the help of a clipper? I said: I do not know it except as it verdict against you.
ہم سے عمرو ناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا, ہشام بن حجیر نے طاوس سے روایت کی ، کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذکر کیا کہ
مجھے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا یا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مروہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کا ٹے تھے؟میں نے کہا : میں یہ تو نہیں جانتا مگر ( یہ جا نتا ہوں کہ ) آپ کی یہ بات آپ ہی کے خلا ف دلیل ہے ۔
Ibn Abbis (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Mu'awiya bin Abu Safyin رضی اللہ تعالیٰ عنہ had told him: I clipped the hair (from the head of) Allah's Messenger (ﷺ) with a clipper while he was at al-Marwa, or I saw him getting his hair clipped with a clipper as he was at al-Marwa. 1722
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج کی سند سے بیان کیا, حسن بن مسلم نے طاوس سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
حضرت معاویہ ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہا : میں نے قینچی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تر اشے جبکہ آپ مروہ پر ( سعی سے فارغ ہو ئے ) تھے ۔ یا کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے بال قینچی سے ترا شے جا رہے تھے ، اور آپ مروہ پرتھے ۔
Abu Sa'id ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
We went out with Allah's messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pronouncing loudly the Talbiya for Hajj When we came to Mecca, he commanded us that we should change this (Ihram for Hajj) to that of Umra except one who had brought the sacrificial animal with him. When it was the day of Tarwiya (8th of Dhul-Hijja) and we went to Mini, we (again) pronounced Talbiya for Hajj.
مجھ سے عبید اللہ بن عمر القواری نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیاعبد الاعلی بن عبد الاعلی نے حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں داود نے ابو نضر ہ سے انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیا ن کی ، کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے نکلے ۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ جن کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ ہم تمام اسے ( حج کو ) عمرے میں بدل دیں ۔ جب ( ترویہ ) آٹھ ذوالحجہ کا دن آیا تو ہم نے احرا م باندھا منیٰ کی طرف روانہ ہو ئے اور حج کا تلبیہ پکا را ۔
jibir and Abil Salld al-Khudri (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
We went with Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and we were pronouncing Talbiya for Hajj loudly.
ہم سے حجاج بن الشاعر نے بیان کیا، ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا وہیب بن خا لد نے داود سے انھوں نے ابو نضرہ سے انھوں نے جابر اور ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے اور ہم بہت بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکا ر رہے تھے ۔
Abu Nadra reported:
While I was in the company of Jabir رضی اللہ تعالیٰ عنہ , a person came and said: There is difference of opinion amomg Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ and Ibn Zubair رضی اللہ تعالیٰ عنہ about two Mut'as (benefits, Tamattul in Hajj and temporary marriage with women), whereupon jabir رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: We have been doing this during the lifetime of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم), and then 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ forbade us to do so, and we never resorted to them.
مجھ سے حامد بن عمر البکراوی نے بیان کیا، ہم سے عبدالواحد نے عاصم کی سند سے بیان کیا, ابو نضر ہ سے روایت ہے کہا
میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں متعوں ( حج تمتع اور عورتوں سے متعہ ) کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے ۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ دونوں متعے کیے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا تو دوبار ہ ہم نے دونوں نہیں کیے ۔
Anas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
'Ali ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) came from the Yemen, and the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: With (what intention) have you put on Ihram? He said: I have put on Ibram in accordance with the intention with which Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has put on Ibram, whereupon he (the Holy Prophet) said: Had there not been the sacrificial animals with me, I would have put off Ihram (after performing 'Umra).
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا ( عبد الرحمٰن ) بن مہدی نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا ) مجھے سلیم بن حیا ن نے مروان اصغر سے حدیث سنا ئی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) یمن سے مکہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " تم نے کیا تلبیہ پکا را ؟انھوں نے جواب دیا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیے کے مطا بق تلبیہ پکا را ۔ آپ نے فرمایا : " اگر میرے پاس قربانی نہ ہو تی تو میں ضرور احلال ( احرا م سے فراغت ) اختیا ر کر لیتا ۔ "
This hadith is narrated by Salim bin Hayyin with the same chain of transmitters, but with a slight variation of words.
مجھ سے حجاج بن شعر نے بیان کیا، ہم سےعبد الصمد اور بہزدونوں نے کہا : ہمیں سلیم بن حیان نے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی ، البتہ بہز کی روایت میں " حلال ہو جا تا " ( احرا م کھو ل دیتا ) کے الفا ظ ہیں ۔
Anas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pronouncing Talbiya for both simultaneously, Talbiya for 'Umra and Hajj. Talbiya for Uwra and Hajj (he performed both Hajj and Umra as a Qarin). In another version words are: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pronouncing Talbiya for Umra and Hajj (simultaneously).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہشیم نے یحییٰ بن ابی اسحاق عبد العزیز بن صہیب اور حمید سے خبر دی کہ ان سب نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا انھوں نے فرمایا
میں نے اللہ کےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( حج و عمرہ ) دونوں کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے سنایہ کہتے ہو ئے لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا اے اللہ! میں حج و عمرہ کے لیے حا ضر ہوں ، میں حج وعمرہ کے لیے حا ضر ہوں-
Anas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pronouncing Talbiya for both simultaneously, Talbiya for 'Umra and Hajj. Talbiya for Uwra and Hajj (he performed both Hajj and Umra as a Qarin). In another version words are: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pronouncing Talbiya for Umra and Hajj (simultaneously).
مجھ سے علی بن حجر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا اسماعیل بن ابرا ہیم نے یحییٰ بن ابی اسھاق اور حمید طویل سے خبردی یحییٰ نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ
میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فر ما رہے تھے لبيك عمرة وحجا اے اللہ !میں حج و عمرہ کی نیت سے تیرے در پر حاجر ہوں ۔ حمید نے کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہو ئے سنا : لبيك عمرة وحجاے اللہ !میں حج و عمرہ ( کی نیت ) کے ساتھ حا ضر ہوں ۔
Hanzala al-Aslami reported:
I heard Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) as narrating from Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who said: By Him in Whose Hand is my life. Ibn Maryam (Jesus Christ) would certainly pronounce Talbiya for Hajj or for Umra or for both (simultaneously as a Qiran) In the valley of Rauha.
ہم سے سعید بن منصور، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے ابن عیینہ کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے زہری نے حنظلہ اسلمی کے واسطے سے حدیث بیان کی کہا
میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے ( کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : " اس ذات اقدس کی قسم جس کے ہا تھ میں میری جا ن ہے ۔ !ابن مریمؑ ( زمین پر دوبارہ آنے کے بعد ) فج روھاء ( کے مقام ) سے حج کا یا عمرے کا یا دونوں کا نام لیتے ہو ئے تلبیہ پکا ریں گے ۔