Nafi' reported on the authority of Ibn Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ):
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) walked swiftly from stone to stone in three circuits and walked (normally) in four.
ہم سے عبداللہ بن عمر بن ابان الجعفی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہمیں ابن مبارک نے حدیث بیا ن کی ، ہمیں عبیداللہ نے نافع سےخبر دی ( کہا : ) انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے کہا
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکروں میں رمل کیا ، اور ( باقی ) چار میں چلے ۔
Nafi' reported:
Ibn Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) walked swiftly from stone to stone, and stated that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did like this.
ہم سے ابو کامل الجہداری نے بیان کیا، انہوں نے کہا سلیم بن اخضر نے عبیداللہ بن عمر نے نافع کی سند سے بیان کیا کہ
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا ، اوربتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ۔
jabir bin Abdullah (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) reported:
I saw Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) walking swiftly from the Black Stone till he completed three circuits up to it.
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی جبکہ یحییٰ نے کہا اور الفاظ انھی کے ہیں : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی ( کہ ) جعفر بن محمد نے اپنے والد سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت کی ، انھوں نےفرمایا
میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حجر اسود سے دوبارہ وہاں تک پہنچنے تک ، تین چکروں میں رمل کیا ۔
Jabir bin Abdullah (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) walked swiftly in three circuits from stone to stone.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے مالک اورابن جریج نے خبر دی ، انھوں نے جعفر بن محمد سے ، انھوں نے ا پنے والد ( محمد باقر ) سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا ۔
Abu Tufail رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
I said to Ibn `Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ): Do you think that walking swiftly round the House in three circuits, and just walking in four circuits is the Sunnah (of the Holy Prophet), for your people say that it is Sunnah? Thereupon he (Ibn `Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: They have told the truth and the lie (too). I said: What do your words They have told the truth and the lie (too) imply? Thereupon he said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to Mecca and the polytheists said that Muhammad and his Companions had emaciated and would, therefore, be unable to circumambulate the House; and they felt jealous of him (the Holy Prophet). (It was due to this) that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded them to walk swiftly in three (circuits) and walk (normally) in four. I said to him: Inform me if it is Sunnah to observe Tawaf between al-Safa and al-Marwa while riding, for your people look upon it as Sunnah. He (Ibn `Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: They have told the truth and the lie too. I said: What do your words They have told the truth and the lie too imply? He said: When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had come to Mecca, there was such a large gathering of people around him that even the virgins had come out of their houses (to catch a glimpse of his face). And they were saying: He is Muhammad; He is Muhammad. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (was so gentle and kind) that the people were not beaten back (to make way) in front of him. When there was a throng (of people) around him, he rode (the she-camel). However, walking and trotting are better.
ہم سے ابو کامل فضیل بن حسین الجہدری نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا عبدالواحد بن زیاد نےہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں جریری نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : آپ کی کیا رائے ہے بیت اللہ کاطواف کرتے ہوئے تین چکروں میں رمل اور چار چکروں میں چلنا ، کیا یہ سنت ہے؟کیونکہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے ۔ کہا : ( انھوں نے ) فرمایا : انھوں نے صحیح بھی کہا اورغلط بھی ۔ میں نے کہا : آپ کے اس جملے کا کہ انھوں نے درست بھی کہا اورغلط بھی ، کیامطلب ہے؟انھوں نے فرمایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا : محمد اوران کے ساتھی ( مدینے کی ناموافق آب وہوا ، بخار اور ) کمزوری کے باعث بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتے ۔ کفار آپ سے حسد کرتے تھے ۔ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ( ان کی با ت سن کر ) آپ نے انھیں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ) حکم دیا کہ تین چکروں میں رمل کرو اورچار چکروں میں ( عام رفتار سے ) چلو ۔ ( ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے ان ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے عرض کی : مجھے سوار ہوکرصفا مروہ کی سعی کرنے کے متعلق بھی بتائیے ، کیاوہ سنت ہے؟کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سنت ہے ۔ انھوں نے فرمایا : انھوں نے صحیح بھی کہا اور غلط بھی ، میں نے کہا : اس بات کا کیا مطلب ہے کہ انھوں نےصحیح بھی کہا اورغلط بھی؟انھوں نےفرمایا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم پرلوگوں کا جمگھٹا ہوگیا ، وہ سب ( آپ کو دیکھنے کے خواہش مندتھے اور ایک دوسرے سے ) کہہ رہے تھے ۔ یہ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یہ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم حتیٰ کہ نوجوان عورتیں بھی گھروں سے نکلی ۔ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ( ہٹانے کےلئے ) لوگوں کو مارانہیں جاتا تھا ، جب آپ ( کے راستے ) پر لوگوں کا ٹھٹھہ لگ گیا تو آپ سوار ہوگئے ۔ ( کچھ حصے میں ) چلنا اور ( کچھ میں ) سعی کرنا ( تیز چلنا ہی ) افضل ہے ۔ ( کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصل میں یہی کرنا چاہتے تھے ۔ )
This hadith has been narrated on the authority of jurairi with the same chain of transmitters but with a slight variation of words (and this is):
He (the narrator) did not say: They felt jealous of him. but said: The people of Mecca, were jealous people.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا یزید ( بن زریع تمیمی ) نے حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں جریری نے اسی سند سے خبر دی ، البتہ اس نے یہ کہا کہ
اہل مکہ حاسد لوگ تھے ، یہ نہیں کہا ہ وہ آ پ سے حسد کرتے تھے ۔
Abu Tufail رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
I said to Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ): People are of the view that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) moved quickly round the House and between al-Safa and al-Marwa, and (thus) it is Sunnah. He said: They told the truth and they told the lie.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا, ابن ابی حسین نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : آپ کی قوم کا خیال ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ ( کے طواف میں ) اورصفا مروہ کے درمیان میں رمل کیا تھا ، اور یہ سنت ہے ۔ انھوں نے فرمایا : انھوں نے صحیح بھی کہا اورغلط بھی ۔
Abu Tufail رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
AI. said to Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ): I think that I saw Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He (Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said' Give a description of him to me. I said: I saw him near al-Marwa on the back of a she- camel, and people had thronged around him. Thereupon Ibn'Abbas said رضی اللہ تعالیٰ عنہ : It was Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) for they (the Compainions of the Holy Prophet) were neither pushed aside from him, nor were they turned away.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا, عبدالملک بن سعید بن ابجر نے ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میرا خیال ہے کہ میں نے ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاتھا ۔ ( انھوں نے ) کہا : ان کی صفت ( تمھیں کس طرح نظر آئی ) بیان کرو ۔ میں نے عرض کی : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مروہ کے پاس اونٹنی پر ( سوار ) دیکھا تھا ، اور آپ ( کو دیکھنے کےلئے ) لوگوں کا بہت ہجوم تھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ( ہاں ) وہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ لوگوں کوآپ سے ( دورہٹانے کےلئے ) دھکے دیئے جاتے تھے نہ انھیں ڈانٹا جاتاتھا ۔
Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and his Companions came to Mecca and the fever in Medina had weakened them. Thereupon the polytheists (of Mecca) said: There would come to you a people whom the fever has made weak and they have suffered severely from it. They sat in Hatim. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded them to walk quickly if three circuits and walk (in four) between the two corners. so that the polytheists should. see their endurance. The polytheists then said (to one another You were under the impression that fever had emaciated them. whereas they are stronger than so and so. Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: He (the Holy Prophet) did not command them (the Muslims) to walk quickly in all the circuits out of kindness to them.
مجھ سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، ہم سے حماد یعنی ابن زید نے بیان کیا، ایوب رضی اللہ عنہ کی سند سے, سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ( عمرہ قضا کےلیے ) مکہ آئے تو انھیں یثرب ( مدینہ ) کے بخار نے کمزور کردیا تھا ۔ مشرکین نے کہا : کل تمھارے ہاں ایسے لوگ آرہے ہیں جنھیں بخار نے کمزور کردیا ہے ۔ اورانھیں اس سے بڑی تکلیف پہنچی ہے ۔ اور وہ لوگ حطیم کے ساتھ ( لگ کر ) بیٹھ گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ بیت اللہ کے تین چکروں میں چھوٹے قدموں کی تیز ، مضبوط چال چلیں ، اور دونوں ( یمانی ) کونوں کےدرمیان عام چال چلیں تاکہ مشرکوں کوان کی مضبوطی نظرآجائے ۔ ( مسلمانوں کی مضبوط چال دیکھ کر ) مشرکوں نے کہا : یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تمھارا خیال تھا کہ انھیں بخار نے کمزور کردیا ہے ۔ یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : انھیں پورے چکروں میں رمل نہ کرنے کاحکم دینے سے ، آپ کو محض اس شفقت نے روکا جو آپ ان پر فرماتے تھے ۔
Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah 's Messenger (ﷺ) observed Sa'i and walked quickly round the House with a view to showing his strength to the polytheists.
مجھ سے عمرو ناقد، ابن ابی عمر اور احمد بن عبدہ نے ابن عیینہ کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا۔ عمرو، کے بارے میں عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی اور بیت اللہ کے طواف میں رمل صرف مشرکین کواپنی ( قوم کی ) طاقت اور قوت دکھانے کے لیے کیا تھا ۔
Abdullah bin Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
He had not seen Allah's Messenger (ﷺ) touching anything in the House, except the two Yamani corners.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمانی کونوں کے علاوہ بیت اللہ ( کے کسی حصے ) کوچھوتے نہیں دیکھا ۔
Salim reported on the authority of his father:
Allah'& Messenger (ﷺ) did not touch any of the corners of the House. Except that of Black Corner (in which the Black Stone is embedded and that (portion) near it, towards the houses of the tribe of jumuhi.
مجھ سے ابو الطاہر اور حرملہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نےسالم سے ، انھوں نےاپنے والد سے روایت کی ، فرمایا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن اسود ( حجر اسود والے کونے ) اور اس کے ساتھ والے کونے کے علاوہ ، جو کہ بنو جمح کے گھروں کی جانب ہے ، بیت اللہ کے کسی اور کونے کو نہیں چھوتے تھے ۔
Nafi' reported on the authority of 'Abdullah (رضی اللہ تعالیٰ عنہ):
Allah's Messenger (ﷺ) did not touch but the Stone and the Yamani corner.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا خالد بن حارث نے عبیداللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ۔ انھوں نےبتایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود اوررکن یمانی کے علاوہ کسی اور کونے کااستلام نہیں کرتے تھے ۔
Ibn 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
I have not abandoned touching of Yamani corners (and kissing of) the Stone since I saw Allah's messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) touching them both In hardship and ease.
ہم سے محمد بن المثنی، زہیر بن حرب اور عبید اللہ بن سعید نے یحییٰ بن المثنیٰ کی سند سے کہا, ہمیں یحییٰ نے عبیداللہ سے روایت بیا ن کی ، ( کہا : ) مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، فرمایا
میں نے مشکل ہویا آسانی ، اس وقت سے ان دونوں رکنوں ، رکن یمانی اورحجر اسود کا استلام نہیں چھوڑا ، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کااستلام کرتے ( ہاتھ یا ہونٹوں سے چھوتے ) ہوئےدیکھا ۔
Nafi' reported:
I saw 'lbn 'Umar ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) touching the Stone with his hand and then kissing his hand. and he said: I have never abandoned it since I saw Allah's Messenger (ﷺ) doing It.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے ابو خالد کی سند سے بیان کیا، ابوبکر نے کہا: ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا،عبیداللہ نے نافع سےروایت کی کہا
میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو اپنے ہاتھوں سے چھوتے پھر اپنا ہاتھ کوچوم لیتے ۔ انھوں نے کہا : میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ، اس وقت اسے ترک نہیں کیا ۔
Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) is reported to have said:
He did not see Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) touching other than the Yamani corners.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ہم سے عمرو بن حارث نے بیان کیا، ان سے قتادہ بن دعامہ نے بیان کیا کہ ابوطفیل بکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ دو یمانی کناروں ( رکن یمانی اورحجر اسود ) کے علاوہ کسی اور کنارے کو چھوتے ہوں ۔
Salim narrated on the authority of his father (رضی اللہ تعالیٰ عنہ):
'Umar bin al-Khattib (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) kissed (the Black Stone) and then said: By Allah, I know that you are a stone and if I were not to see Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) kissing you, I would not have kissed you. Harun said in his narration: A hadith like this has been transmitted to me by Zaid bin Aslam on the authority of his father Aslam.
مجھے حرملہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے یونس اورعمرو نے خبر دی ، اسی طرح مجھے ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی ، کہا : ابن وہب نے عمروسےخبر دی ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم سے روایت کی کہ ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انھیں حدیث بیان کی ، کہا
( ایک مرتبہ ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا : ہاں ، اللہ کی قسم!میں اچھی طرح جانتاہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمھیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمھیں ( کبھی ) بوسہ نہ دیتا ۔ ہارون نے اپنی روایت میں ( کچھ ) اضافہ کیا ، عمرو نے کہا : مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے اسی کے مانند روایت کی تھی ۔
Ibn 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) kissed the Stone and said: I am kissing you, whereas I know that you are a stone, but I saw Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) kissing you (that Is why I kiss you).
ہم سے محمد بن ابی بکر المقدمی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ایوب رضی اللہ عنہ سے, نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اورکہا : میں تجھے بوسہ دیتاہوں اور میں یہ بھی جانتاہوں کہ توایک پتھر ہے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھا وہ تجھے بوسہ دیتے تھے ۔ ( اس لئے میں بھی بوسہ دیتاہوں )
Abdullah bin Sarjis reported:
I saw the bald one, i.e. 'Umar bin Khattib (رضی اللہ تعالیٰ عنہ). kissing the Stone and saying: By Allah. I am kissing with full consciousness of the fact that you are a stone and that you can neither do any harm nor good; and if I had not seen Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) kissing you. I would not have kissed you. The rest of the hadith is the same.
ہم سے خلف بن ہشام، المقدمی، ابو کامل اور قتیبہ بن سعید سب نے حماد کی سند سے بیان کیا، - خلف نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، - عاصم الاحوال، عبداللہ بن سرجس کی سند سے، جس نے کہا
میں نے گنجے کو دیکھا یعنی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ میں نے سرکےاگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے ، یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کودیکھا ، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے : اللہ کی قسم!میں تجھے بوسہ دےرہاہوں ، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، تو نقصان پہنچاسکتا ہے نہ نفع ، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیے دیکھاتھا ، تومیں تجھے بوسہ نہ دیتا ۔ مقدمی اور ابو کامل کی روایت میں ( اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے ) "" آگے سے چھوٹی سی گنج والے "" کودیکھا کے الفاظ ہیں ۔
Abis bin Rabi'a reported:
I saw 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) kissing the Stone and saying: I am kissing you and I know that you are a stone. And if I had not seen Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) kissing you, I would not have kissed you.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور ابن نمیر نے ابو معاویہ کی سند سے بیان کیا کہ: ہم سے ابو معاویہ نے الاعمش کی سند سے اور ابراہیم کی سند سے بیان کیا, عابس بن ربیعہ سے روایت ہے ، کہا
میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ، وہ فرمارہے تھے بلاشبہ میں نے تجھے بوسہ دیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ توایک پتھر ہی ہے ۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تمھیں کبھی بوسہ نہ دیتا ۔