Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Umar reported on the authority of his father (Allah be pleased with them):
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) combined the sunset and 'Isha', prayers at Muzdalifa and there was no prostration (i. e. any rak'ahs of Sunan or Nawafil prayers) in between them. He observed three rak'ahs of the sunset prayer and two rak'ahs of the 'Isha' prayer, and 'Abdullah (bin 'Umar) رضی اللہ تعالیٰ عنہ observed the prayers in this very manner (at Muzdalifa) until he met his Lord.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیں ، ان دونوں کے درمیان کوئی ( نفل ) نماز نہ تھی ۔ آپ نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں اور عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مزدلفہ میں اسی طرح نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے ۔
Sa'id bin Jubair reported:
He observed the sunset and 'Isha' prayers at Muzdalifa with (one) iqama. He narrated on the authority of Ibn 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) that he observed prayers like this and Ibn 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) narrated that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did like this.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا عبدالرحمن بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم اور سلمہ بن کہیل سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ
انھوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ہی اقامت سے اداکیں ، پھر انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے اسی طرح نماز ادا کی تھی ، اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا ۔
Shu'ba reported this hadith with the same chain of transmitters and said:
He (the Holy Prophet) observed the two prayers (together) with one iqama.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, وکیع نے کہا , ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا
آپ نے وہ دونوں نمازیں ایک ہی اقامت سے ادا کی تھیں ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ report:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) combined the sunset and 'Isha ' prayers at Muzdalifa. He observed three rak'ahs of the sunset prayer and two rak'ahs of the 'Isha' prayer with one Iqama.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ( سفیان ) ثوری نے سلمہ بن کہیل سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اورعشاء کی نمازیں جمع کیں ، آپ نے ایک ہی اقامت سے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں اداکیں ۔
Sa'id bin Jubair رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
We came back along with Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ till we reached Muzdalifa. There he led us in the sunset and 'Isha' prayers with one iqama and we then proceeded and he said: This is how Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) led us in prayer at this place.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ابو اسحاق سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : سعید بن جبیر نے کہا
ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ( عرفہ سے ) روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آئے تو انھوں نے ہمیں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت سےپڑھائی ، پھر ( پیچھے کی طرف ) رخ موڑا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس مقام پر اسی طرح ( جمع وقصر پر عمل کرتے ہوئے ) نماز پڑھائی تھی ۔
A'bdullah (bin 'Umar) رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
I have never seen Allah's Messenger, ( صلی اللہ علیہ وسلم ) but observing the prayers at their appointed times except two players, sunset and 'Isha, 'at Muzdalifa (where he deferred the sunset prayer to combine it with 'Isha' and he observed the dawn prayer before its stipulated time on that day (10th of Dhu'l-Hijja).
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہم سے روایت کی ہے, ابو معاویہ نے اعمش سے خبر دی ، انھوں نے عمارہ سے ، انھوں نے عبدالرحمن بن یزید سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز اس کے وقت کے بغیر ادا کرتے نہیں دیکھا ، سوائے دو نمازوں کے ، مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ( جمع کیں ) اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اس کے ( معمول کے ) وقت سے پہلے ادا کی ۔
This hadith has been transmitted by Al-A`mash with a slight variation of words:
He said before its time when it was still dark.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم سب نے بیان کیا, جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی
اور کہا : ( فجر کی نماز ) اس کے ( معمول کے ) وقت سے پہلے اندھیرے میں ( اداکی ۔ )
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Sauda رضی اللہ تعالیٰ عنہ (the wife of the Holy Prophet) who was bulky sought the permission of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the night of Muzdalifa to move from (that place) ahead of him and before the multitude (set forth). He (Allah's Apostle) gave her the permission. So she set forth before his (Holy Prophet's) departure. But we stayed there until it was dawn and we moved on, when he departed. And if I were to seek the permission of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as Sauda رضی اللہ تعالیٰ عنہا had sought permission, I could have also gone with his permission and it would have been better for me than that for which I was happy.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، انہوں نے کہاأفلح ، یعنی ابن حمید نے قاسم سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا
مزدلفہ کی رات حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اور لوگوں کا اذدھام ہونے سے پہلے پہلے ( منیٰ ) چلی جائیں ۔ اور وہ تیزی سے حرکت نہ کرسکنے والی خاتون تھیں ۔ قاسم نے کہا : ثبطه بھاری جسم والی عورت کو کہتے ہیں ۔ کہا ، ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ) آپ نے انھیں اجازت دے دی ۔ وہ آپ کی روانگی سے پہلے ہی نکل پڑیں اور ہمیں آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ ہم نے ( وہیں ) صبح کی ، اور آپ کی روانگی کے ساتھ ہی ہم روانہ ہوئیں ۔ اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجاز ت لے لیتی ، جیسے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی ۔ اور یہ کہ ( ہمیشہ ) آ پ کی اجازت سے ( جلد ) روانہ ہوتی تو یہ میرے لئے ہر خوش کرنے والی چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتا ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Sauda رضی اللہ تعالیٰ عنہا was a bulky lady, so she sought permission from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to proceed from Muzdalifa (to Mina) in the (latter part of the) night. He granted her permission. 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا said: I wish I had also sought permission from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as Sauda had. sought permission from him. 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا did not proceed but with the Imam.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن المثنی نے ثقفی کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا, ایوب نے عبدالرحمن بن قاسم سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے قاسم سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا
حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بڑی ( اور ) بھاری جسم والی خاتون تھیں ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے روانہ ہوجایئں ، تو آپ نے انھیں اجازت دے دی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کاش جیسے سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( صبح کو باقی لوگوں کی طرح ) امیر ( حج ) کے ساتھ ہی واپس لوٹا کرتی تھیں ۔
A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا said:
I wish I had sought permission from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as Sauda رضی اللہ تعالیٰ عنہا had sought, and observed the dawn prayer at Mina and stoned at al-Jamra before the people had come there. It was said to 'A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا): Did Sauda رضی اللہ تعالیٰ عنہا seek permission from him (the Holy Prophet)? She said: Yes. She was a bulky lady and so she sought permission from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (to proceed to mina from Muzdalifa ahead of him), and he granted her permission.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا عبیداللہ بن عمر نے عبدالرحمن بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قاسم سے ، اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میری آرزو تھی کہ جیسے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی ، میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کیاکرتی اور لوگوں کے منیٰ آنے سے پہلے جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں مارلیتی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا گیا : ( کیا ) حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ وہ بھاری کم حرکت کرسکنے والی خاتون تھیں ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت دے دی ۔
A hadith like this has been narrated by 'Abdul-Rahman bin al-Qasim with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا اور مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان دونوں نے سفیان ( ثوری ) نے عبدالرحمن بن قاسم سےاسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی ۔
Abdullah the freed slave of (Hadrat) Asma' رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
Asma' (رضی اللہ تعالیٰ عنہا), as she was in the house at Muzdalifa, asked me whether the moon had set. I said: No. She prayed for some time, and again said: My son has the moon set? I said: Yes. And she said: Set forth along with me, and so we set forth until (we reached Mini) and the stoned at al-Jamra. She then prayed in her place. I said to her: Respected lady, we set forth (in the very early part of dawn) when it was dark, whereupon she said: My son, there is no harm in it; Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had granted permission to women.
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا یحییٰ قطا ن نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) اسما رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہا
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب وہ مزدلفہ کے ( اندر بنے ہو ئے مشہور ) گھر کے پاس ٹھہری ہو ئی تھیں ، مجھ سے پوچھا : کیا چا ند غروب ہو گیا؟ میں نے عرض کی : نہیں ، انھوں نے گھڑی بھر نماز پڑھی ، پھر کہا : بیٹے !کیا چاندغروب ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ انھوں نے کہا : مجھے لے چلو ۔ تو ہم روانہ ہو ئے حتی کہ انھوں نے جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں ماریں پھر ( فجر کی ) نماز اپنی منزل میں ادا کی ۔ تو میں نے ان سے عرض کی : محترمہ !ہم را ت کے آخری پہر میں ( ہی ) روانہ ہو گئے ۔ انھوں نے کہا : بالکل نہیں ، میرے بیٹے !نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں کو ( پہلے روانہ ہو نے کی ) اجا زت دی تھی ۔
This hadith has been narrated by Ibn Juraij with the same chain of transmitters, and In his narration (the words are):
She (Asma' رضی اللہ عنہا ) said: My son, Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) granted permission to women.
مجھ سے علی بن خشرم نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا عیسیٰ بن یو نس نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی اور ان کی روایت میں ہے
انھوں ( اسماء رضی اللہ عنہا ) نے کہا : نہیں میرے بیٹے ! نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی عورتوں ( اور بچوں ) کو اجا زت ی تھی ۔
Ibn Shawwal (the freed slave of Umm Habiba) reported:
He went to Umm Habiba رضی اللہ تعالیٰ عنہا (the wife of Allah's Apostle) who informed him that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent her from Muzdalifa during the night.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا اور مجھ سے علی بن خشرم نے بیان کیا، ہم کو عیسیٰ نے خبر دی , ابن جریج سے روایت ہے ( کہا : ) مجھے عطاء نے خبر دی کہ انھیں ابن شوال نے خبردی کہ
وہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پا س حا ضر ہو ئے انھوں نے ان کو بتا یا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا تھا ۔
It is narrated from Umm Habiba رضی اللہ تعالیٰ عنہا :
We used to set forth from Muzdalifa to Mina, (very early in the dawn) when it was dark. And in the narration of Naqid (the words are): We set from Muzdalifa in the darkness (of the dawn).
ابو بکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ کے حوالے سے عمرو بن دینار سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے سالم بن شوال سے اور انھوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا
ہم ( خواتین ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبا رک میں یہی کرتی تھیں ( کہ ) ہم رات کے آخری پہر میں جمع ( مزدلفہ ) سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جا تی تھیں ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent me from Muzdalifa ahead (of the caravan) along with the luggage or with the weak ones during (the latter part of the) night.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, حماد بن زید نے ہمیں عبید اللہ بن ابی یزید سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مزدلفہ سے ( اونٹوں پر لد ے ) بو جھ ۔ ۔ ۔ یا کہا : کمزور افرا د ۔ ۔ ۔ کے ساتھ را ت ہی روانہ کر دیا تھا ۔
Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
I was among those (i.e. women and children) whom Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent forth with the weak members of his family.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عبید اللہ بن ابی یزید نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
میں ان لوگوں میں سے تھا جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں ( شامل کرتے ہو ئے ) پہلے روانہ کر دیا تھا ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said:
"I was among those whom the Messenger of Allah ﷺ sent on ahead with the weakness of ones of his family."
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو نے بیان کیا, عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
ان لوگوں میں سے تھا جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں ( شامل کرتے ہو ئے ) پہلے روانہ کر دیا تھا ۔
Ata' reported from Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ):
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent me from Muzdalifa along with his luggage (in the very early part of @he dawn). I (Ibn Juraij, one of the narrators) said (to 'Ata'): Has this (news) reached you that Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) had said: He (Allah's Messenger) had sent me in the latter part of the night ? Thereupon he said: No, it was the dawn. I (again) said to him: (Did you hear) Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) having said this (too): We stoned al-Jamra before the dawn prayer ? So where did he observe the dawn prayer? He said: No. But he said only so much (as described above).
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا, ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے عطا ء نے بتا یا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سحر کے وقت مزدلفہ سے اونٹوں پر لدے بوجھ کے ساتھ ( جس میں کمزور افراد بھی شامل ہو تے ہیں ) روانہ کر دیا ( ابن جریج نے کہا : ) میں نے عطاء سے ) کہا : کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : آپ مجھے لمبی رات ( کے وقت ) روانہ کر دیا تھا؟انھوں نے کہا : نہیں صرف یہی ( کہا : ) کہ سحر کے وقت روانہ کیا ۔ میں نے ان سے کہا : ( کیا ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( یہ بھی ) کہا : ہم نے فجر سے پہلے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں؟ اور انھوں نے فجر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انھوں نے کہا : مہیں ( مجھ سے ) صرف یہی الفا ظ کہے ۔ )
Salim bin 'Abdullah reported:
'Abdullah bin 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) used to send ahead of him the weak members of his household to stay during the night at Mash'ar al-Haram at Muzdalifa. They remembered Allah so long as they could afford, and then they proceeded before the stay of the Imam, and before his return. So some of them reached Mina for the dawn prayer and some of them reached there after that; and as they reached there, they stoned al-Jamra; and Ibn 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) used to say: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has granted this concession to them.
مجھ سے ابو الطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے ابن شہاب سے بیان کیا, سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کے کمزور افراد کو پہلے روانہ کر دیتے تھے ۔ وہ لوگ رات کو مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ہی وقوف کرتے ، اور جتنا میسر ہو تا اللہ کا ذکر کرتے ، اس کے بعد وہ امام کے مشعر حرام کے سامنے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے ہی روانہ ہو جا تے ۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز اداکرنے ) کے لیے منیٰ آجا تے اور کچھ اس کے بعد آتے ۔ پھر جب وہ ( سب لو گ منیٰ آجا تے تو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان ( کمزور لوگوں ) کو رخصت دی ہے ۔