Ibn Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) got his head shaved on the occasion of the Farewell Pilgrimage.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب نے جو عبدالرحمٰن قاری کے بیٹے ہیں، بیان کیا، اور ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے حاتم نے، یعنی ہم سے ابن اسماعیل نے بیان کیا۔ یہ دونوں موسیٰ بن عقبہ کی سند سے، نافع کی سند سے، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کےموقع پر اپنے سر مبارک کے بال منڈائے ۔
Anas bin Malik (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to Mina; he went to the Jamra and threw pebbles at it, after which he went to his lodging in Mina, and sacrificed the animal. He then called for a barber and, turning his right side to him, let him shave him; after which he timed his left side. He then gave (these hair) to the people.
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے خبر دی انھوں نے محمد بن سیرین سے اور انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ تشر یف لا ئے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قر با نی کی ، پھر بال مونڈنے والے سے فر ما یا : " پکڑو ۔ " اور آپ نے اپنے ( سر کی ) دائیں طرف اشاراہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ ( اپنے موئے مبارک ) لوگوں کو دینے لگے ۔
Abu Bakr reported:
(He called for) the barber and, pointing towards the right side of his head, said: (Start from) here, and then distributed his hair among those who were near him. He then pointed to the barber (to shave) the left side and he shaved it, and he gave (these hair) to Umm Sulaim (رضی اللہ تعالیٰ عنہا). And in the narration of Abu Kuraib (the words are): He started from the right half (of his head), and he distributed a hair or two among the people. and then (asked the barber) to shave the left side and he did similarly, and he (the Holy Prophet) said: Here is Abu Talha رضی اللہ تعالیٰ عنہ and he gave these (hair) to Abu Talha رضی اللہ تعالیٰ عنہ .
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, نمبرابو بکر بن ابی شیبہ ابن نمیر اور ابو کریب سب نے کہا ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی لیکن ابو بکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے
آپ نے حجا م سے کہا : "" یہ لو "" اور اپنے ہا تھ سے اس طرح اپنی دائیں جا نب اشارہ کیا ( کہ پہلے دائیں طرف سے شروع کرو ) اوراپنے بال مبارک اپنے قریب کھڑے ہو ئے لوگوں میں تقسم فر ما دیے پھر حجا مکو اپنی بائیں جا نب کی طرف اشارہ کیا ( کہ اب بائیں جا نب سے حجا مت بنا ؤ ) حجا م نے آپ کا سر مو نڈدیا تو آپ نے ( اپنے وہ موئے مبارک ) ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عطا فر ما دیے ۔ اور ابو کریب کی روایت میں ہے کہا : ( حجا م نے ) دائیں جا نب سے شروع کیا تو آپ نے ایک ایک دو دو بال کر کے لوگوں میں تقسیم فر ما دیے ، پھر آپ نے اپنی بائیں جا نب ( حجا مت بنا نے کا ) اشارہ فر ما یا ۔ حجا م نے اس طرف بھی وہی کیا ( بال مونڈدیے ) پھر آپ نے فر ما یا : "" کہا یہا ابو طلحہ ہیں ؟ پھر آپ نے اپنے موئے مبا رک ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے فر ما دیے ۔
Anas bin Malik (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) threw stones at Jamrat al-'Aqaba. He then want to his sacrificial animal and sacrificed it, and there was sitting the barber, and he pointed with his hand towards his head, and he shaved the right half of it, and he (the Holy Prophet) distributed them (the hair) among those who were near him. And he again said: Shave the other half, and said: Where is Abu Talha and gave it (the hair) to him.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبد الاعلیٰ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ہشام ( بن حسان ) نے محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی انھوں نے انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر قربانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور انھیں نحر کیا اور حجام ( آپ کے لیے ) بیٹھا ہوا تھا آپ نے ( اسے ) اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر سے ( بالاتارنے کا ) اشارہ کیا تو اس نے آپ ( کے سر ) کی دائیں طرف کے بال اتاردیے ۔ آپ نے وہ بال ان لو گوں میں بانٹ دیے جو آُ پکے قریب موجود تھے ۔ پھر فر ما یا : " دوسری طرف کے بال ( بھی ) اتار دو ۔ اس کے بعد آپ نے فر ما یا : " ابو طلحہ کہاں ہیں ؟اور آپ نے وہ ( موئے مبارک ) انھیں دے دیے ۔
Anas bin Malik (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had thrown pebbles at the Jamra and had sacrificed the animal, he turned (the right side) of his head towards the barber, and i. e shaved it. He then called Abu Talha al-Ansari رضی اللہ عنہ and gave it to him. He then turned his left side and asked him (the barber) to shave. And he (the barber) shaved. and gave it to Abu Talha and told him to distribute it amongst the people.
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی ( کہا ) میں نے ہشام بن حسان سے سنا وہ ابن سیرین سے خبر دے رہے تھے انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اپنی قربانی ( کے اونٹوں ) کو نحر کیا اور پھر سر منڈوانے لگے تو آپ نے اپنے سر کی دائیں جا نب مونڈنے والے کی طرف کی تو اس نے اس طرف کے بال اتار دیے آپ نے طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلا یا اور وہ ( بال ) ان کے حوالے کر دیے ۔ پھر آپ نے ( سر کی ) بائیں جا نب اس کی طرف کی اور فر ما یا ۔ ( اس کے ) بالاتاردو ۔ اس نے وہ بال اتاردیے تو آپ نے وہ بھی ابو طلحہ کو دے دیے اور فر ما یا ان ( بائیں طرف والے بالوں ) کولوگوں میں تقسیم کر دو.
Abdullah bin 'Amr bin al-'As رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stopped during the Farewell Pilgrimage at Mina for people who had something to ask. A man came and said: Messenger of Allah, being ignorant. I shaved before sacrificing, whereupon he (the Holy Prophet) said: Now sacrifice (the animal) and there is no harm (for you). Then another man came and he said: Messenger of Allah, being ignorant, I sacrificed before throwing the pebbles, whereupon he (the Holy Prophet) said: (Now) throw the pebbles, and there is no harm (for you). Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was not asked about anything which had been done before or after (its proper time) but he said: Do it, and no harm is there (for you).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے پڑھا امام مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ سے انھوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا
حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے رہے وہ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں سمجھ نہ سکا ( کہ پہلے کیا ہے ) اور میں نے قر با نی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا ؛ ( اب ) قر با نی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ پھر ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پتہ نہ چلا اور میں نے رمی کرنے سے پہلے قر با نی کر لی ؟ آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق جس میں تقدیم یا تا خیر کی گئی نہیں پو چھا گیا مگر آپ نے ( یہی ) فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
Abdullah bin 'Amr bin al-'As (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stopped while riding his camel and the people began to ask him. One of the inquirers said: Messenger of Allah, I did not know that pebbles should be thrown before sacrificing the animal, and by mistake I sacrificed the animal before throwing pebbles, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: (Now) throw pebbles and there is no harm in it. Then another (person) came saying: I did not know that the animal was to be sacrificed before shaving, but I got myself shaved before sacrificing the animal, whereupon he (the Holy Prophet) said: Sacrifice the animal (now) and there is no harm in it. He (the narrator) said: I did not hear that anything was asked on that day (shout a matter) which a person forgot and could not observe the sequence or anything like it either due to forgetfulness or ignorance, but Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said (about that): Do it; there is no harm in it.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا یو نس نے ابن شہاب سے باقی ماند ہ اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( منیٰ میں ) اپنی سواری پر ٹھہر گئے اور لوگوں نے آپ سے سوالات شروع کر دیے ان میں سے ایک کہنے والا کہہ رہا تھا ۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے معلوم نہ تھا کہ رمی ( کا عمل ) قربانی سے پہلے ہے میں نے رمی سے پہلے قربا نی کر لی ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تو ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ کو ئی اور شخص کہتا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے معلوم نہ تھا کہ قر با نی سر منڈوانے سے پہلے ہے میں نے قر بانی کر نے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے ؟تو آپ فر ما تے ( اب ) قر بانی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ( عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا میں نے آپ سے نہیں سنا کہ اس دن آپ سے ان اعمال کے بارے میں جن میں آدمی بھول سکتا ہے یا لا علم رہ سکتا ہے ان میں سے بعض امور کی تقدیم ( وتاخیر ) یا ان سے ملتی جلتی باتوں کے بارے میں نہیں پو چھا گیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہی ) فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
A Hadith similar to that of Yunus (no. 3157) was narrated from Az-Zuhri.
ہم سے حسن حلوانی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابی نے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ۔ ۔ ۔ ( اس کے بعد ) حدیث کے آخر تک زہری سے یو نس کی روایت کر دہ حدیث کے مانند ہے ۔
Abdullah bin Amr bin al-'As ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
As Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was delivering sermon on the Day of Nahr, a man stood up before him and said: Messenger of Allah, I did not know that such and such (rite was to be performed) before such and such (rite). Then another man came and said: Messenger of Allah, I thought that such and such (rite) should precede such and such (rite), and then another man came and said: Messenger of Allah, I had thought that such and such was before such and such, and such and such (is the sequence) of the three (rites, viz. throwing of pebbles, sacrificing of animal and shaving of one's head). He said to all these three: Do now (if you have not observed the cequence) ; there is no harm in it.
ہم سے علی بن خشرم نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا عیسیٰ نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہا میں نے ابن شہاب سے سنا کہہ رہے تھے عیسیٰ بن طلحہ نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا مجھے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
اس دورا ن میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قر بانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کو ئی آدمی آپ کی طرف ( رخ کر کے ) کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نہیں سمجھتا تھا کہ فلا ں کا فلاں سے پہلے ہے پھر کو ئی اور آدمی آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرا خیال تھا کہ فلا ں کا م فلا ں فلاں سے پہلے ہو گا ( انھوں نے ) ان تین کا موں ( سر منڈوانے رمی اور قر بانی کے بارے میں پو چھا تو ) آپ نے یہی فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters. And the narration of Ibn Bakr is like one transmitted by 'Isa but with this (variation): There are not these words in it:
To all these three rites (throwing of pebbles sacrificing of animal and shaving of one's head). And so far as the narration of Yahya al-Umawi (the words are): I got (my head) shaved before I sacrificed the animal, and I sacrifice the animal before throwing pebbles, and like that.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا , محمد بن بکر اور سعید بن یحییٰ اموی نے اپنے والد ( یحییٰ اموی ) کے واسطے سے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ، ابن بکر کی روایت عیسیٰ کی گزشتہ روایت کی طرح ہے
سوائے ان کے اس قول کے " ان تین چیزوں کے بارے میں " اور ہے یحییٰ اموی تو ان کی روایت میں ہے میں نے قر بانی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا میں نے رمی کرنے سے پہلے قر با نی کر لی اور اسی سے ملتی جلتی باتیں.
Adullah bin 'Amr (bin al-'As) (رضی اللہ عنہ) reported:
A person came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: I got (my head) shaved before sacrificing the, animal, whereupon be (the Holy Prophet) said: Sacrifice the animal (now) ; there is no harm in it. He (the person said): I sacrifice the animal before throwing pebbles. whereupon he said: Throw pebbles (now) ; there is no harm in it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، ابوبکر نے کہا, ہمیں ( سفیان ) بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
کو ئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : میں نے قر با نی کر نے سے پہلے سر منڈوالیا ہے آپ نے فر ما یا ( اب ) قربانی کرلو رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ( کسی اور نے ) کہا : میں رمی سے پہلے قر با نی کر لی ہے تو آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کوئی حرج نہیں ۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters (and the words are):
I saw Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the back of the camel at Mina, and a person came to him, and the rest of the hadith Is like that transmitted by Ibn 'Uyaina.
ہم سے ابن ابی عمر اور عبد بن حمید نے عبد الرزاق کی سند سے بیان کیا, معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت کی ( عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا )
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( آپ ) منیٰ میں اونٹنی پر ( سوار ) تھے تو آپ کے پا س ایک آدمی آیا ۔ ۔ ۔ آگے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ہے ۔
Abdullah bin 'Amr bin al-As (رضی اللہ عنہ) said:
As Allah's Messenger (ﷺ) was standing near the jamra, a person came to him on the Day of Nahr and said: Messenger of Allah, I got (my head shaved) before throwing pebbles, whereupon he (the Holy Prophet) said: Throw pebbles (now) ; there is no harm in it. Another man (then) came and said: I have sacrificed before throwing the stones. He said: Throw stones (now) and there is no harm. Another came to him and said: I have observed the circumambulation of Ifada of the House before throwing pebbles. He said: Throw pebbles (now) ; there is no harm in it, He (the narrator) said: I did not see that he (the Holy Prophet) was asked about anything on that day, but he said: Do, and there is no harm in it.
مجھ سے محمد بن عبداللہ بن قحزاد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن الحسن نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن مبارک کی سند سے بیان کیا, محمد بن ابی حفصہ نے ہمیں زہری سے خبر دی انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب آپ کے پاس قر بانی کے دن ایک آدمی آیا آپ جمرہ عقبہ کے پاس رکے ہو ئے تھے ۔ اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے رمی کر نے سے پہلے سر منڈوالیا ہے آپ نے فر ما یا : " ( اب رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ایک اور آدمی آیا ۔ وہ کہنے لگا : میں نے رمی سے پہلے قر با نی کر لی ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں پھر آپ کے پاس ایک اور آدمی آیا اور کہا میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ؟ ہے ؟فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ کہا : میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ اس دن آپ سے کسی بھی چیز ( کی تقدیمو تا خیر ) کے بارے میں سوال کیا گیا ہو مگر آپ نے یہی فر ما یا : " کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
It was said to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about sacrificing of animals, shaving of one's head, throwing of pebbles, and (the order of) precedence and succession, and he said: There is no harm in it.
ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے بہز نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے اپنے والد سے بیان کیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قر با نی کرنے سر منڈوانے رمی کرنے اور ( کا موں کی ) تقدیم و تا خیر کے بارے میں پو چھا گیا تو آپ نے فر ما یا : " کو ئی حرج نہیں ۔
Ibn Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed the circumambulation of Ifada on the Day of Nabr (10th of Dhu'l-Hijja), and then came back and observed the noon prayer at Mina. Nafi' (one of the narrators) said that Ibn Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ used to observe the circumambulation of Ifada on the Day of Nahr, and then return and observe the noon prayer at Mina, and mentioned that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did that.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا, نا فع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قر بانی کے دن طواف افاضہ کیا ۔ پھر واپس آکر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی ۔ نافع نے کہا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قربانی کے دن طواف افاضہ کرتے پھر واپس آتے ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کرتے اور بیان کیا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ۔
Abdul-'Aziz bin Rufai' ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said:
I asked Anas bin Malik رضی اللہ تعالیٰ عنہ to tell me about something he knew about Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), viz. where he observed the noon prayer on Yaum al-Tarwiya. He said: At Mina. I said: Where did he observe the afternoon prayer on the Yaum an-Nafr? and he said: It was at al-Abtah. He then said: Do as your rulers do.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن یوسف الازرق نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا, عبد العزیز بن رفیع سے روایت ہے انھوں نے کہا
میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا : مجھے ایسی چیز بتا یئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو ( اور یاد رکھی ہو ) آپ نے تر ویہ کے دن ( آٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی ؟ انھوں نے بتا یا منیٰ میں ۔ میں نے پو چھا : آپ نے ( منیٰ سے ) واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں ادا کی ؟انھوں نے کہا اَبطح میں ۔ پھر کہا ( لیکن تم ) اسی طرح کرو جیسے تمھا رے امراء کرتے ہیں ۔
Ibn 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and Abu Bakr and 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ observed halt at al-Abtah.
ہم سے محمد بن مہران الرازی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، معمر کی سند سے, ایوب نے نا فع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابطح میں پڑاؤ کیا کرتے تھے ( واپسی کے وقت مدینہ کے راستے میں منیٰ کے باہر وہیں پڑاؤ کیا جا سکتا تھا ).
Nafi' reported:
Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ regarded halt at Muhassab as Sunnah (of the Holy Prophet) and observed the noon prayer on Yaum al-Nafr at that place. Nafi' said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) halted at Muhassab and the Caliphs did the same after him.
مجھ سے محمد بن حاتم بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا صخر بن جو یریہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ
حضر ت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ محصب میں پڑاؤ کرنے کو سنت سمجھتے تھے اور وہ روانگی کے دن ظہر کی نماز حصبہ ( محصب ) میں ادا کرتے تھے ۔ نافع نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء نے وادی محصب میں قیام کیا ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Halt at al-Abtah is not the Sunnah. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) halted there simply because it was easier for him to depart from there, when he left.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا عبد اللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
ابطح میں ٹھہر نا ( اعمال حج کی سنتوں میں سے کو ئی ) سنت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ ( مکہ سے ) روانہ ہو تے وقت وہاں سے نکلنا آسان تھا ۔
This hadith is narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہاحفص بن غیاث حماد بن زید اور حبیب المعلم سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔