Jabir رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sacrificed a cow on behalf of 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا on the Day of Nahr (10th of Dhu'l-Hijja).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ہمیں یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے ابن جریج سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا
قر بانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( اور دیگر امہارت المومنین ) کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کی ۔
Jabir bin 'Abdullah (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sacrificed (animals) on behalf of his wives, and in the hadith transmitted by Ibn Abu Bakr (the words are): A cow on behalf of 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا on the occasion of the Hajj.
مجھ سے محمد بن حاتم نے کہا, محمد بن بکر اور یحییٰ بن سعید نے کہا ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا ہمیں ابو زبیر نے خبردی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے اور ابن بکر کی حدیث میں ہے اپنے حج میں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کی ۔
Ziyad bin Jubair reported:
Ibn 'Umar came upon a person who was slaughtering (sacrificing) his camel and had made him kneel down. So he told him to make it stand up festered (and then sacrifice it) according to the Sunnah of the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، یونس سے, زیاد بن جبیر سے روایت ہے کہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک آدمی کے پاس آئے اور وہ اپنی قر بانی کے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا انھوں نے فر ما یا : " اسے اٹھا کر کھڑی حالت میں گھٹنا باند ھ کر ( نحر کرو یہی ) تمھا رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent the sacrificial animals from Medina. I wove garlands for his sacrificial animals (and then he hung them round their necks), and he would not avoid doing anything which the Muhrim avoids.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور محمد بن رہم نے بیان کیا، کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا ہمیں لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی انھوں نے عروہ بن زبیر اور عمر ہ بنت عبد الرحمٰن سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے قر بانی کے جا نوروں کا ہدیہ بھیجا کرتے تھے اور میں آپ کے ہدیے ( کے جانوروں ) کے لیے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتناب نہ کرتے جس سے ایک احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے ۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Ibn Shihab.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے بیان کیا, یو نس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند حدیث بیان کی ۔
`A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا narrated (in another hadith narrated through another chain of transmitters) these words:
As if I am seeing myself weaving the garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم )..." a similar report(as no. 3194).
ہم سے سعید بن منصور اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی نیز ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا جیسے میں خود کو دیکھتی رہی ہوں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانی کے ہار بٹ رہی ہوں ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی طرح ہے ۔
Abdul-Rahman bin al-Qasim reported on the authority of his father:
He heard 'A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) saying: I used to weave garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with these hands of mine, but he (Allah's Apostle) neither avoided anything nor gave up anything (which a Muhrim should avoid or give up).
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا, عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ فر ما رہی تھیں : میں اپنے ان دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھیجے جا نے والے جانوروں کے ہا ر بٹتی تھی پھر آپ نہ ( ایسی ) کسی چیز سے الگ ہو تے اور نہ ( ایسی کوئی چیز ) ترک کرتے تھے ( جو احرام کے بغیر آپ کیا کرتے تھے ).
A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
I wove the garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with my own bands, and then he (the Holy Prophet ﷺ) marked them, and garlanded them, and then sent them to the House, and stayed at Medina and nothing was forbidden to him which was lawful for him (before).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا افلح نے ہمیں قاسم سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانیوں کے ہار بٹے پھر آپ نے ان کا اشعار کیا ( کوہان پر چیر لگا ئے ) اور ہا ر پہنائے پھر انھیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور ( خود ) مدینہ میں مقیم رہے اور آپ پر ( انکی وجہ سے ) کو ئی چیز جو ( پہلے ) آپ کے لیے حلال تھی حرا م نہ ہو ئی ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent the sacrificial animals and I wove garlands for them with my own 'hands, and he did not refrain from doing anything which he did not avoid in the state of non-Muhrim.
ہم سے علی بن حجر السعدی اور یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا, ایوب نے قاسم اور ابو قلابہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بیت اللہ کی طرف ) ہدی بھیجتے تھے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتنا ب نہ کرتے تھے جس سے کو ئی بھی غیر محرم ( بغیر احرام والا شخص ) اجتناب نہیں کرتا ۔
Al-Qasim reported the Mother of the Faithful (Hadrat 'A'isha Siddiqa) (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) as saying:
I used to weave these garlands from the multicoloured wool which was with us. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was in the state of non Muhrim among us, and he would do all that was lawful for a lion-Muhrim with his wife.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن الحسن نے بیان کیا، ہمیں ابن عون نے قاسم سے حدیث بیان کی انھوں نے ام المومنین ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
میں نے یہ ہار اس اون سے بٹے جو ہمارے پا س تھی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں غیر محرم ہی رہے آپ ( اپنی ازواج کے پاس ) آتے جیسے غیر محرم اپنی بیوی کے پاس آتا ہے یا آپ آتے جیسے ایک ( عام آدمی اپنی بیوی کے پا س آتا ہے ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
I recall how I wove garlands for the sacrificial animals (the goats) of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He sent them and then stayed with us as a non-Muhrim.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا, منصور نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
میں نے خود دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ( قر بانی ) کے لیے بکریوں کے ہار بٹ رہی ہوں اس کے بعد آپ انھیں ( مکہ ) بھیجتے پھر ہمارے درمیان احرا م کے بغیر ہی رہتے ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
I often wove garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he garlanded his sacrificial animals, and then he sent them and stayed in the ouse) avoiding nothing which a Muhrim avoids.
یحییٰ بن یحییٰ ابو بکر بن ابی شیبہ اور بو کریب میں یحییٰ نے کہا : ابو معاویہ نے ہمیں خبردی اور دوسرے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے اعمش سے انھوں نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں کہا : ایسا ہوا کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ( قربانی کے لیے بیت اللہ بھیجے جا نے والے جا نور ) کے لیے ہار تیار کرتی آپ وہ ( ہار ) ان جانوروں کو ڈالتے پھر انھیں ( مکہ ) بھیجتے پھر آپ ( مدینہ ہی میں ) ٹھہرتے آپ ان میں سے کسی چیز سے اجتناب نہ فر ما تے جن سے احرام باندھنے والا شخص اجتناب کرتا ہے ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Allah's Messenger (ﷺ) sent some goats as sacrificial animals to the House and He garlanded them.
یحییٰ بن یحییٰ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بیت اللہ کی طرف ہدی ( قر بانی ) کی بکریاں بھیجیں تو آپ نے انھیں ہار ڈالے ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
We used to garland the goats and send them (to Mecca), and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stayed back in Medina as a non-Muhrim ard nothing was forbidden for him (which is forbidden for a Muhrim).
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، مجھ سے محمد بن جحاد ہ نے بیان کیا, حکم نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
ہم بکریوں کو ہار پہناتے پھر انھیں ( بیت اللہ کی طرف ) بھیجتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر محرم رہتے اس سے کوئی چیز ( جو پہلے آپ پر حلا ل تھی ) حرام نہ ہو تی تھی ۔
Amra daughter of Abdul-Rahman رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
Ibn Ziyad had written to 'A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) that 'Abdullah bin Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) bad said that he who sent a sacrificial animal (to Mecca) for him was forbidden what is forbidden for a pilgrim (in the state of Ihram) until the animal is sacrificed I have myself sent my sacrificial animal (to Mecca), so write to me your opinion. Amra reported 'A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) as saying: It is not as Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) had asserted, for I wove the garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with my own hands. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) then garlanded them with his own hands, and then sent them with my father, and nothing was forbidden for Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) which had been made lawful for him by Allah until the animals were sacrificed.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی روایت سے مالک کو پڑھا, عمرہ بنت عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبردی کہ
ابن زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے جس نے ہدی ( بیت اللہ کے لیے قربانی ) بھیجی اس پر وہ سب کچھ حرا م ہو جا ئے گا جو حج کرنے والے کے لیے حرا م ہو تا ہے یہاں تک کہ ہدی کو ذبح کر دیا جا ئے ۔ اور میں نے اپنی ہدی بھیجی ہے تو مجھے ( اس بارے میں ) اپنا حکم لکھ بھیجیے عمرہ نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( بات ) اس طرح نہیں جیسے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے میں نے خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانیوں کے ہار بٹے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ ( ہار ) انھیں پہنائے پھر انھیں میرے والد کے ساتھ ( مکہ ) بھیجا اس کے بعد ہدی نحر ( قر بان ) ہو نے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ( ایسی ) کو ئی چیز حرا م نہ ہو ئی جو اللہ نے آپ کے لیے حلا ل کی تھی ۔
Masruq reported:
I heard 'A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) clapping her hands behind the curtain and saying: I used to weave garlands for the sacrificial animals of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with my own hands, and then he (the Holy Prophet) sent them (to Mecca), and he did not avoid doing anything which a Muhritn avoids until his animal was sacrificed.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا, اسما عیل بن ابی خالد نے ہمیں خبردی انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ پردے کی اوٹ سے ہاتھ پر ہا تھ مار رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر با نیوں کے ہار بٹا کرتی تھی ، پھر آپ انھیں ( مکہ ) بھیجتے اور ہدی کو ذبح کرنے ( کے وقت ) تک آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فر ما تے جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے
A hadith like this has been narrated on the authority of 'A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) through another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، داوداور زکریا دونوں نے شعبی سے حدیث بیان کی انھوں نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے اسی سند ( حدیث ) کے مطا بق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔
Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw a person who was driving a sacrificial camel (and told him to ride on it. Thereupon he said: Messenger of Allah, it is a sacrificial camel. He told him again to ride on it; (when he received the same reply) he said: Woe to you, (he uttered these words on the second or the third reply).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا امام مالک نے ابو زناد سے انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا وہ قربانی کا اونٹ ہانک رہا ہے تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت !اس پر سوار ہو جاؤ ۔ دوسری یا تیسری مرتبہ ( یہ الفاظ کہے ).
This hadith has been narrated by A'raj with the same chain of transmitters (and the words are):
Whereas the person was driving a sacrificial camel which was garlanded.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, مغیرہ بن عبد الرحمٰن حزامی نے ابو زناد سے اور انھوں نے اعرج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا اس اثنا میں کہ
ایک آدمی ہار ڈالے گئے اونٹ کو ہانک رہاتھا ۔
Hammam bin Munabbih reported:
It is one out of these (narrations) that Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) narrated to us from Muhammad the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he narrated to us traditions out of which is that he said: When there was a person who was driving a garlanded sacrificial camel, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: Woe to you; ride on it. He said: Messenger of Allah, it is a sacrificial animal, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Woe to you, ride on it; woe to you, ride on it.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا, ہمام بن منبہ سے روایت ہے انھوں نے کہا
یہ احا دیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے چند احادیث ذکر کیں ان میں سے ایک یہ ہے اور کہا اس اثنا میں کہ ایک شخص ہار والے قربانی کے اونٹ کو ہانک رہاتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھاری ہلاکت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔ تمھاری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔