Anas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger (صلی اللہ علیہ وسلم ) happened to pass by a person who was driving a sacrificial camel, whereupon he (the Holy Prophet) said: Ride on It. He said: It is a sacrificial camel. Thereupon he (the Holy Prophet) said twice or thrice: Ride on it.
مجھ سے عمرو ناقد اور سریج بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم سے حمید نے بیان کیا, ثابت بنا نی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو قربانی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا تھا تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جاؤ ۔ اس نے جواب دیا یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ دویا تین مرتبہ ( فر ما یا )
Anas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Someone happened to pass by Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with a sacrificial camel, or a sacrificial animal, whereupon he said: Ride on it. He said: It is a sacrificial camel, or animal, whereupon he said: (Ride) even if (it is a sacrificial camel).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی انھوں نے بکیر بن اخنس سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا میں نے ان ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا کہہ رہے تھے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کے ایک اونٹ یا ( حرم کے لیے ) ہدیہ کیے جا نے والے ایک جا نور کا گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : یہ قر بانی کا اونٹ یا ہدی کا جا نور ہے آپ نے فر ما یا : " چا ہے ( ایسا ہی ہے ) "
Anas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
There happened to pass (a person) with a sacrificial camel by Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and the rest of the hadith is the same.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابن بشر نے مسعر سے حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے بکیر بن اخنس نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کا ایک اونٹ گزارا گیا آگے اسی کے مانند بیان کیا ۔
Jabir bin 'Abdullah ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
He was asked about riding on a sacrificial animal, and he said: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Ride on it gently, when you have need for it, until you find (another) mount.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا, ابن جریج سے روایت ہے ( انھوں نے کہا ) مجھے زبیر نے خبر دی کہا میں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا
ان سے ہدی پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فر ما رہے تھے " جب اس ( پر سوار ہو نے ) کی ضرورت ہو تو اور سواری ملنے تک معروف ( قابل قبول ) طریقے سے اس پر سواری کرو ۔
Abu Zubair reported:
I asked Jabir (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) about riding on the sacrificial animal, to which he replied: I heard Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Ride on them gently until you find another mount.
مجھ سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن عیان نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہمیں معقل نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی کہا
میں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہدی ( بیت اللہ کی طرف بھیجے گئے ہدیہ قر بانی ) پر سواری کے بارے میں پو چھا تو انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " دوسری سواری ملنے تک اس پر معروف طریقے سے سوار ہو جاؤ.
Musa bin Salama al-Hudhali reported:
I and Sinan bin Salama proceeded (to Mecca to perform Umra. Sinan had a sacrificial camel with him which he was driving. The camel stopped in the way being completely exhausted and this state of it made him (Sinan) helpless. (He thought) if it stops proceeding further how he would be able to take it, along with him and said: I would definitely find out (the religious verdict) about it. I moved on in the morning and as we encamped at al-Batha', (Sinan) said: Come (along with me) to Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) so that we should narrate to him (this incident), and he (Sinan) reported to him the incident of the sacrificial camel. He (Ibn Abbas) said: You have referred (the matter) to the well informed person. (Now listen) Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent sixteen sacrificial camels with a man whom he put in change of them. He set out and came back and said: Messenger of Allah, what should I do with those who are completely exhausted and become powerless to move on, whereupon he said: Slaughter them, and dye their hoofs in their blood, and put them on the sides of their humps, but neither you nor anyone among those who are with you must eat any part of them.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہمیں عبد الوارث بن سعید نے ابو تیاح ضبعی سے خبر دی ( کہا ) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا
میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قر بانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے ( یہ سمجھنے سے ) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ ) کیسے لا ئیں ۔ انھوں نے کہا : اگر میں بلد ( امین مکہ ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پو چھوں گا ۔ ( موسیٰ نے ) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انھوں نے کہا بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چلیں تا کہ ہم ان سے بات کریں ۔ کہا انھوں نے ان کو اپنی قر بانی کے جانور کا حال بتا یا تو انھوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس آپہنچے ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پا س قر بانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنا یا ۔ کہا وہ تھوڑی دور ) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اس کے ساتھ میں کیا کروں ؟آپ نے فر مایا : " اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں ڈالے گئے ) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انھیں ( بطور نشانی ) اس کے پہلو پر رکھ دینا ۔ اور ( احرام کی حالت میں ) تم اور تمھا رے ساتھ جا نے والوں میں سے کو ئی اس ( کے گو شت میں ) سے کچھ نہ کھا ئے ۔
Ibn Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent eighteen sacrificial camels with a person. The rest of the hadith is the same, and the first part (of the above-mentioned hadith) is not mentioned.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن حجر نے بیان کیا، کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا: ہم سے بیان کیا اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے حدیث بیان کی انھوں نے موسیٰ بن سلمہ سے اور انھوں نے ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قر بانی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ روانہ کیے ۔ ۔ ۔ پھر عبد الوارث کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اور انھوں نے حدیث کا ابتدا ئی حصہ بیان نہیں کیا ۔
Dhuwaib, father of Qabisa ( رضی اللہ عنہ) narrated to him:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent under his charge the sacrificial camels, and said: If any of these is completely exhausted and you apprehend its death, then slaughter it, then dip its hoofs in its blood and imprint it on its hump; but neither you nor any one of your comrades should eat it.
مجھ سے ابو غسان المسماعی نے بیان کیا، ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، ہم سے سعید نے، قتادہ کی سند سے، سنان بن سلمہ سے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ ایک بھیڑیا , ابو قبیصہ ذؤیب نے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ قر بانی کے اونٹ بھیجتے پھر فر ما تے اگر ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اور تمھیں اس کے مر جا نے کا خدشہ ہو تو اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں لٹکا ئے گئے ) جوتے کو اس کے خون میں ڈبونا پھر اسے اس کے پہلو پر ڈال دینا پھر تم اس میں سے ( کچھ ) کھا نا نہ تمھا رے ساتھیوں میں سے کو ئی ( اس میں کھا ئے ۔ )
Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The people used to return through every path, whereupon Allah's Messenger (way peace be upon him) said: None amongst you should depart until he performs the last circumambulation round the House. Zuhair said (the words are): [ARABIC: YANSWARIFUWN KULLA WAJH] and the word [arabic: FIY] was not mentioned.
سعید بن منصور اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے سلیما ن احول سے حدیث بیان کی انھوں نے طا ؤس سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا
لوگ ( حج کے بعد ) ہر سمت میں نکل ( کر چلے ) جا تے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی بھی شخص ہر گز روانہ ہو یہاں تک کہ اس کی آخری حاضری ( بطور طواف ) بیت اللہ کی ہو زہیر نے کہا : ہر سمت " اور " ( ہر سمت ) میں نہیں کہا ۔
Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The people were commanded (by the Holy Prophet) to perform the last circumambulation round the House, but menstruating women were exempted.
ہم سے سعید بن منصور اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، اور سعید کا قول ہے کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، طاؤس کے بیٹے ( عبد اللہ ) نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا
لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کی آخری حاضر ی بیت اللہ کی ہو مگر اس میں حائضہ عورت کے لیے تخفیف کی گئی ہے ( وہآخری طواف سے مستثنیٰ ہے )
Tawus reported:
I was in the company of Ibn Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) when Zaid bin Thabit رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: Do you give religious verdict that the woman who is in menses is allowed to go without performing the last circumambulation of the House? Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said to him: Ask such and such رضی اللہ تعالیٰ عنہ woman of the Ansar, if you do not (believe my religious verdict) whether Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had commanded her this. Zaid b Thabit (went to that lady and after getting this verdict attested by her) came back to Ibn Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) smilingly and said: I did not find you but telling the truth.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج کی سند سے بیان کیا, حسن بن مسلم نے طاؤس سے خبر دی انھوں نے کہا
میں حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا کہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ عورت آخری وقت میں بیت اللہ کی حاضری ( طواف ) سے پہلے ( اس کے بغیر ) لو ٹ سکتی ہے ؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : اگر ( آپ کو یقین ) نہیں تو فلاں انصار یہ سے پو چھ لیں کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس بات کا حکم دیا تھا ؟ کہا : اس کے بعد زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس آئے وہ ہنس رہے تھے اور کہہ رہے تھے میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے سچ ہی کہا ہے ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Safiyyah bint Huyayy رضی اللہ تعالیٰ عنہا entered the period of menses after performing Tawaf Ifada. I made a mention of her menses to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whereupon Allah's. Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) remarked: Well, then she will detain us. I said: Messenger of Allah. she has performed Tawif Ifada and circumambulated the House, and it was after this that she entered the period of menses. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: (If it is so), then proceed forth.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, ہمیں لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو سلمہ اور عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا
صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا طواف افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو گئیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے حیض کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کیا وہ ہمیں ( واپسی سے ) روکنے والی ہیں ؟ ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ ( طواف افاضہ کے لیے ) گئی تھیں اور بیت اللہ کا طواف کیا تھا پھر ( طواف ) افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو ئی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تو ( پھر ہمارے ساتھ ہی ) کو چ کریں ۔
This hadith is narrated (from 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters (and the words are):
Safiyyah bint Huyayy رضی اللہ تعالیٰ عنہا , the wife of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), entered the period of menses at the occasion of the Farewell Pilgrimage after she had performed Tawaf Ifada in the state of cleanliness; the rest of the hadith is the same.
مجھ سے ابو الطاہر، حرملہ بن یحییٰ اور احمد بن عیسی نے بیان کیا، احمد نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا، اور باقی دو نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا۔ بتاؤ یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ خبردی ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حجۃالوداع کے موقع پر طہارت کی حالت میں طواف افاضہ کر لینے کے بعد حائضہ ہو گئیں ۔ ۔ ۔ آگے لیث کی حدیث کے مانند ہے ۔
Abdul-Rahman bin al Qasim narrated on the authority of 'A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا):
She made a mention to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that Safiyyah رضی اللہ تعالیٰ عنہا had entered the period of menses. The rest of the hadith is the same.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ہم سے عبد نے بیان کیا۔ الوہاب، ایوب نے ہمیں بتایا، یہ سب کے اختیار پر ہیں ,عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد ( قاسم بن محمد بن ابی بکر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا کہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں آگے زہری کی حدیث کے ہم معنی ( الفاظ ہیں ).
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
We feared that Safiyyah might have entered the period of menses before performing Tawaf Ifada. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to us and said: Is Safiyyah going to detain us? Thereupon we said: She has performed Tawaf Ifada. He (the Holy Prophet) said: Then there is no detention (for us) now.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا افلح نے ہمیں قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی انھوں نے حجرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
ہم ڈر رہی تھیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا طواف افاضہ کرنے سے پہلے حائضہ نہ ہو جا ئیں ۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لا ئے اور فر ما یا : " کیا صفیہ ہمیں روکنے والی ہیں ؟ہم نے عرض کی وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں آپ نے فر ما یا تو پھر نہیں روکیں گی ۔ )
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) said to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ):
O Messenger of Allah ﷺ, Safiyyah bint Huyayy رضی اللہ تعالیٰ عنہا has entered the state of menses, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Perhaps she is going to detain us. Has she not circumambulated the House along with you (i.e. whether she has not performed Tawaf Ifada)? They said: Yes. He said: Then they should set out.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے، عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے، ان کے والد کی سند سے، انہوں نے کہا عمرہ بنت عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی
اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " شاید ہمیں ( واپسی سے ) روک لیں گی کیا نھوں نے تمھا رے ساتھ بیت اللہ کا طواف ( طواف افاضہ ) نہیں کیا ؟ انھوں نے کہا کیوں نہیں آپ نے فر ما یا تو پھر کو چ کرو ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) inclined to do with Safiyyah what a man feels inclined to do with his wife. They said: Messenger of Allah, she has entered the state of menses, whereupon he said: (Well) she is going to detain us. They (his wives) said: Messenger of Allah, she performed Tawaf Ziyara (Tawaf Ifada) on the Day of Nahr. Thereupon he said: Then she should proceed along with you
مجھ سے الحکم بن موسیٰ نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، اوزاعی کی سند سے، شاید انہوں نے کہا: یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے، محمد بن کی سند سے۔ ابراہیم التیمی، کے بارے میں , ابو سلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایسا کو ئی کا م چا ہا جو ایک آدمی اپنی بیوی سے چا ہتا ہے تو سب ( ازواج ) نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ حائضہ ہیں آپ نے فر ما یا : " تو ( کیا ) یہ ہمیں ( کو چ ) کرنے سے ) روکنے والی ہیں ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !انھوں نے قر بانی کے دن طواف زیارت ( طواف افاضہ ) کر لیا تھا آپ نے فر ما یا : " تو وہ بھی تمھارے ساتھ کو چ کر یں ۔
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
When Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) decided to march (for return journey), he found Safiyyah رضی اللہ تعالیٰ عنہا at the door of her tent, sad and downcast. He remarked. Barren, shaven-head, you are going to detain us, and then said: Did you perform Tawaf Ifada on the Day of Nahr? She replied in the affirmative, whereupon he said: Then march on.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے حذیفہ نے بیان کیا اور ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، اور کہا کہ ان سے، میرے والد نے ہم سے کہا، شعبہ نے ہمیں بتایا, حکم نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب روانگی کا رادہ کیا تو اچا نک ( دیکھا کہ ) حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر دل گیراور پر یشان کھڑی تھیں آپ نے فر ما یا : " تمھا را نہ کو ئی بال نہ بچہ ! ( پھر بھی ) تم ہمیں ( یہیں ) روکنے والی ہو ۔ پھر آپ نے ان سے پو چھا : " کیا تم نے قر بانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا ؟انھوں نے جواب دیا : جی ہاں آپ نے فر ما یا : " تو ( پھر ) چلو ۔ ( یعنی ان کے پاس جا کر ان سے بھی پو چھا اور تصدیق کی ).
A Hadith similar to that of Al-Hakam (as no. 3228) was narrated from 'Aishah رضی اللہ تعالیٰ عنہا , expect that it does not mention that she looked sad and sorrowfull.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ابو معاویہ کی سند سے بیان کیا, اعمش اور منصور دونوں نے ابر اہیم سے انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ ( آگے ) حکم کی حدیث کے ہم معنی رو ایت ہے البتہ وہ دونوں ( ان کے ) غمزدہ اور پریشان ہو نے کا ذکر نہیں کرتے ۔
Ibn Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) entered the Ka'ba. Usama, Bilal and 'Uthman bin Talha رضی اللہ تعالیٰ عنہ , the keeper (of the Ka'ba), were along with him. He closed the door and stayed in it for some time. Ibn 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: I asked Bilal رضی اللہ تعالیٰ عنہ as he came out what Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had done there. He said: He prayed there in (such a position) that two pillars were on his left side, one pillar on his right, and three pillars were behind him, and the House at that time was resting on six pillars.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے پڑھا امام مالک نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں دا خل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھوں ( عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ( آپ کے لیے ) اس کا دروازہ بند کر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر ٹھہر ے رہے ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اندر ) کیا کیا ؟ انھوں نے کہا آپ نے دو ستون اپنی بائیں طرف ایک ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کی طرف رکھے ۔ ان دنوں بیت اللہ ( کی عمارت ) چھ ستونوں پر ( قائم ) تھی پھر آپ نے نماز پڑھی ۔