A hadith like this has been narrated by A'mash with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو سعید الاشجع نے بیان کیا، کہا وکیع نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Ibn 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) delivering a sermon and making this observation: No person should be alone with a woman except when there is a Mahram with her, and the woman should not undertake journey except with a Mahram. A person stood up and said: Allah's Messenger, my wife has set out for pilgrimage, whereas I am enlisted to fight in such and such battle, whereupon he said: You go and perform Hajj with your wife.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، ان دونوں نے سفیان سے کہا, سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں عمرو بن دینا ر نے ابو معبد سے حدیث بیان کی ( کہا ) میں نے ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ خطبہ دیتے ہوئے فر ما رہے تھے " کو ئی مرد کسی عورت کے ساتھ ہر گز تنہا نہ ہو مگر یہ کہ اس کے ساتھ کو ئی محرم ہو ۔ اور کو ئی عورت سفر نہ کرے مگر یہ محرم کے ساتھ ہو ۔ ایک آدمی اٹھااور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی حج کے لیے نکلی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوے میں لکھا جا چکا ہے آپ نے فر ما یا : " جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو ۔
A hadith like this has been narrated by 'Amr on the authority of the same chain of transmitters.
ہم سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا حماد نے ہمیں عمرو ( بن دینا ر ) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
Ibn Juraij narrated this hadith with the same chain of transmitters, but he made no mention of it:
No person (man) should be alone with a woman except when there is a Mahram with her.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، ہم سے ہشام نے، یعنی ابن سلیمان المخزومی نے بیان کیا, ابن جریج نے ( عمر و بن دینار سے ) اسی سند کے ساتھ اسی کے معنی روایت بیان کی اور یہ ( جملہ ) ذکر نہیں کیا
" کو ئی مرد کسی عورت کے ساتھ ہر گز تنہا نہ ہو مگر یہ کہ اس کے ساتھ کو ئی محر م ہو ۔
Ibn Umar (رضی اللہ عنہما) reported:
Whenever Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) mounted his camel while setting out on a journey, he glorified Allah (uttered Allah-o-Akbar) thrice, and then said: Hallowed is He Who subdued for us this (ride) and we were not ourselves powerful enough to use It as a ride, and we are going to return to our Lord. O Allah, we seek virtue and piety from Thee in this journey of ours and the act which pleaseth Thee. O Allah, lighten this journey of ours, and make its distance easy for us. O Allah, Thou art (our) companion during the journey, and guardian of (our) family. O Allah, I seek refuge with Thee from hardships of the journey, gloominess of the sights, and finding of evil changes in property and family on return. And he (the Holy Prophet) uttered (these words), and made this addition to them: We are returning, repentant, worshipping our Lord. and praising Him.
مجھ سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ابن جریج نے کہا: مجھ سے ابو الزبیر نے بیان کیا, سیدنا علی ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں سفر میں جانے کے لئے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے ، پھر یہ دعا پڑھتے : سبْحانَ الذي سخَّرَ لَنَا هذا وما كنَّا له مُقرنينَ ، وَإِنَّا إِلى ربِّنَا لمُنقَلِبُونَ . اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ في سَفَرِنَا هذا البرَّ والتَّقوى ، ومِنَ العَمَلِ ما تَرْضى . اللَّهُمَّ هَوِّنْ علَيْنا سفَرَنَا هذا وَاطْوِ عنَّا بُعْدَهُ ، اللَّهُمَّ أَنتَ الصَّاحِبُ في السَّفَرِ ، وَالخَلِيفَةُ في الأهْلِ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وعْثَاءِ السَّفَرِ ، وكآبةِ المنظَرِ ، وَسُوءِ المنْقلَبِ في المالِ والأهلِ " پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارے تابع کر دیا اور ہم اس کو دبا نہ سکتے تھے اور ہم اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جانے والے ہیں } الزخرف : 14,13 { اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری مانگتے ہیں اور ایسے کام کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند کرے ۔ اے اللہ! ہم پر اس سفر کو آسان کر دے اور اس کی مسافت کو ہم پر تھوڑا کر دے ۔ اے اللہ تو ہی سفر میں رفیق سفر اور گھر میں نگران ہے ۔ اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی تکلیفوں اور رنج و غم سے اور اپنے مال اور گھر والوں میں برے حال میں لوٹ کر آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ( یہ تو جاتے وقت پڑھتے ) اور جب لوٹ کر آتے تو بھی یہی دعا پڑھتے مگر اس میں اتنا زیادہ کرتے کہآيبون تائبون عائدون عابدون لربنا حامدون ”ہم لوٹنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ، خاص اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اسی کی تعریف کرنے والے ہیں“ ۔
Abdullah bin Sarjis reported:
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) set forth on a journey, he sought refuge (with Allah) from the hardships of the travelling, and finding of evil changes on return, and disgrace after honour, and the curse of the oppressed and a gloomy sad scene in family and property.
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا, اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عاصم احول سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن سرجس سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفرکرتے توسفر کی مشقت ، واپسی میں اکتاہٹ ، اکھٹا ہونے کے بعد بکھر جانے ، مظلوم کی بدعا سے اور اہل ومال میں سے کسی برے منظر سے پناہ مانگتے ۔
A similar report (as no. 3276) was narrated from 'Asim with this chain, except that in the Hadith off 'Abdul Wahid (a narrator) it says: "With regards to wealth and family. "In the report of Muhmmad bin Hazim:
It says family first when he returns. And in the report of both it says: "Allahhumma, a inni a udhu bika min watha is-safar (O Allah, I seek refuge with you from the difficulties of travel.)"
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا, ابومعاویہ ( محمد بن خازم ) اور عبدالواحد دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ، مگر عبدالواحد کی حدیث میں " مال اوراہل میں " کے الفاظ ہیں اور محمد بن خازم کی روایت میں ہے ، کہا
" جب آپ واپس آتے تواہل ( کی سلامتی کی دعا ) سے ابتدا کرتے " اور ( یہ ) دونوں کی روایت میں ہے؛ " اے اللہ ! میں سفر کی تکان سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ "
Abdullah bin 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Whenever Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came back from the battle or from expeditions or from Hajj or Umra and as he reached the top of the hillock or upon the elevated hard ground, he uttered Allah-o-Akbar thrice, and then said: There is no god but Allah. He is One, there is no partner with Him, His is the sovereignty and His is the praise and He is Potent over everything. (We are) returning, repenting, worshipping, prostrating before our Lord, and we praise Him Allah fulfilled His promise and helped His servant, and routed the confederates alone.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا, عبیداللہ نے نافع سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بڑے لشکروں یا چھوٹے دستوں ( کی مہموں ) سے یاحج یا عمرے سے لوٹتے تو جب آپ کسی گھاٹی یا اونچی جگہ پر چڑھتے ، تین مرتبہ اللہ اکبرکہتے ، پھر فرماتے : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده, "" اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، سارااختیاراسی کا ہے ۔ حمد اسی کے لئے ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔ حمد اسی کےلئے ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔ ہم لوٹنے و الے ، توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، سجدہ کرنے والے ، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں ، اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا ، اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا اسی نے تمام جماعتوں کو شکست دی ۔ ""
A similar report (as no. 3278) was narrated from Ibn Umar, from the prophet , but in the Hadith of Ayyub (a narrator) it says:
He said the Takbir twice.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، یعنی ابن اُعلیّہ نے, ایوب ، مالک اورضحاک سب نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ، سوائے ایوب کی حدیث کے
اس میں تکبیر دو مرتبہ ہے ۔
Anas bin Malik ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
I and Abu Talha (both) came back along with Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Safiyyah رضی اللہ تعالیٰ عنہا (the wife of the Holy Prophet) rode behind him on his camel and as we came to the out- skirts of Medina he said: (We are those) who return, who repent, who worship our Lord, who praise (Him), and he went on uttering this until we entered Medina.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا اسماعیل بن علیہ نے ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کیا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
میں اور ابو طلحہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ( سفر سے ) و اپس آئے اورحضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی اونٹنی پر آپ کے پیچھے ( سوار ) تھیں ۔ جب ہم مدینہ کے بالائی حصے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہم لوٹنے و الے ، توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں ، " آپ مسلسل یہی بات کہتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے ۔
A hadith like this has been narrated by Anas bin Malik (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) through another chain of transmitters.
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانندروایت کی ۔
Abdullah bin 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) made (his camel) kneel down (i, e. halt at the stony ground of Dhu'l-Hulaifa) and prayed there, and so did Abdullah bin Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے پڑھا امام مالک ؒ نے نافع سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارانی پانی کی سنگریزوں اور ریت والی گزرگاہ ( بطحاء ) میں جو ذوالحلیفہ میں ہے ، اونٹنی کو بٹھایا اوروہاں نماز ادا کی ۔ ( نافع نے ) کہا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
Nafi' reported:
'Abdullah bin Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) used to halt his camel in the stony ground at Dhu'l-Hulaifa, where Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to make a halt (and pray).
مجھ سے محمد بن روم بن المہاجر المصری نے بیان کیا، ہم سے لیث، ح، قتیبہ نے بیان کیا، اور تلفظ ان کا ہے، انہوں نے کہا لیث نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نےکہا
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ر یتلی پتھریلی وادی میں اونٹ کو بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی کو بٹھاتے تھے اور نماز ادا کرتے ۔
Nafi' reported:
When 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ returned from Hajj or 'Umra he made his camel kneel down (i. e. halted) in the stony ground of Dhu'l-Hulaifa where Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had made his camel halt.
ہم سے محمد بن اسحاق المسیبی نے بیان کیا، انہوں نے مجھ سے بیان کیا انس ( بن عیاض ) ، یعنی ابوضمرہ نے موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے روایت کی کہ
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حج یا عمرے سے لوٹتے تواس پتھریلی ریتلی وادی میں اونٹ کو بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی کو بٹھاتے تھے ۔
Salim (bin Abdullah bin 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported on the authority of his father (رضی اللہ تعالیٰ عنہ):
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was visited by (someone, i.e. an angel) during the fag end of the night at Dhu'l-Hulaifa, and it was said to him: Verily it is a blessed stony-ground.
ہم سے محمد بن عباد نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا حاتم ، یعنی ابن اسماعیل نے ہمیں موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ
ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی استراحت کی جگہ پر ( ایک آنے والے کو ) بھیجا گیا ، اور آپ سے کہا گیا کہ آپ ایک مبارک وادی میں ہیں ۔
Salim bin Abdullah bin Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported on the authority of his father:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to Dhu'l-Hulaifa in the heart of the valley at the fag end of the night, and it was said to him: It is a blessed stony ground. Musa (one of the narrators) said: Salim made his came) halt at the mosque where 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ made his camel halt as seeking the place of stay of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). It is, in fact, situated at a lower plain than the mosque, which stands in the heart of the valley, and it is between it (the mosque) (and Qibla) that that place (where Allah's Apostle used to get down for rest and prayer) is situated.
ہم سے محمد بن بکر بن ریان اور سوریج بن یونس نے بیان کیا، اور لفظ سریج ہے، انہوں نے کہا: انہوں نے ہم سے بیان کیا اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں موسیٰ عقبہ نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، جب آپ ذوالحلیفہ میں اپنی آرام گاہ میں جو وادی کے درمیان تھی ، ( کسی آنے والے کو ) بھیجا گیا ، اور آپ سے کہا گیا : آپ مبارک وادی میں ہیں ۔ موسیٰ ( بن عقبہ ) نے کہا : سالم نے ہمارے ساتھ مسجد کے قریب اسی جگہ اونٹ بٹھائے جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بٹھایا کرتے تھے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کے پچھلے پہر کی استراحت کی جگہ تلاش کرتے تھے ، اور وہ جگہ اسی مسجد سے نیچے تھی ، جو وادی کے درمیان میں تھی ، اس ( مسجد ) کے اور قبلے کے درمیان ، اس کے وسط میں ۔ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں موسیٰ عقبہ نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، جب آپ ذوالحلیفہ میں اپنی آرام گاہ میں جو وادی کے درمیان تھی ، ( کسی آنے والے کو ) بھیجا گیا ، اور آپ سے کہا گیا : آپ مبارک وادی میں ہیں ۔ موسیٰ ( بن عقبہ ) نے کہا : سالم نے ہمارے ساتھ مسجد کے قریب اسی جگہ اونٹ بٹھائے جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بٹھایا کرتے تھے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کے پچھلے پہر کی استراحت کی جگہ تلاش کرتے تھے ، اور وہ جگہ اسی مسجد سے نیچے تھی ، جو وادی کے درمیان میں تھی ، اس ( مسجد ) کے اور قبلے کے درمیان ، اس کے وسط میں ۔
Abu Huraira ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Abu Bakr Siddiq ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) sent me during Hajj before the Farewell Pilgrimage for which Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had appointed him an Amir, among a group of people whom he had ordered to make announcement to the people on the Day of Nahr: After this year no polytheist may perform the Pilgrimage and no naked person may circumambulate the House. Ibn Shihab stated that Humaid bin Abdul-Rahman said that according to this narration of Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) the day of Hajj al-Akbar (Great Hajj) is this Day of Nahr (10th of Dhu'l-Hijja).
مجھ سے ہارون بن سعید الایلی نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, عمرو ( بن حارث ) نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمن ( بن عوف ) سے خبردی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز بونس ( بن یزید ایلی ) نے ابن شہاب سے اسی سندکے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے اس حج میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے پہلے انھیں امیر بنایا تھا ، ایک چھوٹی جماعت کے ساتھ روانہ کیا کہ وہ لوگ قربانی کے دن لوگوں میں ( یہ ) اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف کرے گا ۔ ابن شہاب نے کہا : حمید بن عبدالرحمن ( بن عوف ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی بنا پر کہاکرتے تھے : قربانی کا دن ہی حج اکبر کا دن ہے ۔
A'isha ( رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There is no day when God sets free more servants from Hell than the Day of 'Arafa. He draws near, then praises them to the angels, saying: What do these want?
ہم سے ہارون بن سعید الایلی اور احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے مخرمہ بن بکیر نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے یونس بن یوسف کو کہتے سنا: ابن المسیب کی روایت سے، انہوں نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا
بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو ، وہ ( اپنے بندوں کے ) قریب ہوتا ہے ۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بناء پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے : یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ "
Abu Huraira ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: An Umra is an expiation for the sins committed between it and the next, and Hajj which is accepted will receive no other reward than Paradise.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے پڑھا امام مالک نےابو بکر بن عبدالرحمن کے آزاد کردہ غلام سمی سے ، انھوں نےابو صالح اور سمان سے اور ا نھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک عمرہ دوسرے عمرے تک ( کےگناہوں ) کا کفارہ ہے اور حج مبرور ، اس کا بدلہ جنت کے سوا اور کوئی نہیں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) through another chain of transmitters.
ہم سے سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا سفیان بن عینیہ ، سہیل ، عبیداللہ ، وکیع اورسفیان ( ثوری ) سب نے سمی سے ، انھوں نے ابوصالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اورانھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک بن انس کی حدیث کے مانند روایت کی ۔