Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying. He who came to this House (Ka'ba) (with the intention of performing Pilgrimage), and neither spoke indecently nor did he act wickedly. would return (free from sin) as on the (very first day) his mother bore him.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، یحییٰ نے کہا کہ ہمیں خبر دی اور زہیر نے کہا , جریر نے منصور سے ، انھوں نے ابو حازم سے اور انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص ( اللہ ) کے اس گھر میں آیا ، نہ کوئی فحش گوئی کی اور نہ گناہ کیاتو وہ ( گناہوں سے پاک ہوکر ) اس طرح لوٹے گا جس طرح اسے اس کی ماں نےجنم دیاتھا ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Mainsur with the same chain of transmitters (and the words are):
He who performed Pilgrimage but neither spoke indecently nor acted wickedly.
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا,ابو عوانہ ، ابو احوص ، مسعر ، سفیان اورشعبہ سب نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیا ن کی اور ان سب کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں
" جس نے حج کیا اور اس نے نہ فحش گوئی کی اور نہ کوئی گناہ کیا ۔ "
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ).
ہم سے سعید بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا, سیار نے ابو حازم سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اورانھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، اسی کے مانند ۔
Usama bin Zaid bin Haritha (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ):
Will you stay in your house at Mecca (which you abandoned at the time of migration)? Thereupon he said: Has 'Aqil left for as any land or house? And 'Aqil and Talib became the Inheritors of Abu Talib's (property), and neither Ja'far nor 'Ali inherited anything from him, for both (Ja'far and 'Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ) were Muslims whereas 'Aqil and Talib were non-Muslims.
مجھ سے ابو الطاہر اور ہرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا یو نس بن یزید نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہ علی بن حسین نے انھیں خبر دی کہ عمرو بن عثمان بن عفان نے انھیں اسامہ بن یزید بن حا رثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے پو چھا
اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مکہ میں اپنے ( آبائی ) گھر میں قیام فر ما ئیں گے؟آپ نے فر ما یا : "" کیا عقیل نے ہمارے لیے احا طوں یا گھروں میں سے کو ئی چیز چھوڑی ہے ۔ اور طالب ابو طا لب کے وارث بنے تھے اور جعفر اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کو ئی چیز وراثت میں حا صل نہ کی ، کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے ، جبکہ عقیل اور طالب کا فر تھے ۔
Usama bin Zaid (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said:
O Allah's Messenger, God willing, where will you stay tomorrow? And it was at the time of the Conquest (of Mecca). Thereupon he (the Holy Prophet) said: Has 'Aqil left any accommodation for us?
ہم سے محمد بن مہران رازی، ابن ابی عمر اور عبد بن حمید سب نے عبد الرزاق کی سند سے بیان کیا: ہم سے عبد نے بیان کیا۔ الرزاق، کے بارے میں معمر نے زہری سے انھوں نے علی بن حسین سے انھوں نے عمرو بن عثمان سے اور انھوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( انھوں نے کہا ) میں نے عرض کی
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کل کہاں قیام کریں گے ؟یہ بات آپ کے حج کے دورا ن میں ہو ئی جب ہم مکہ کے قریب پہنچ چکے تھےتو آپ نے فرمایا : " کیا عقیل نے ہمارے لیے کو ئی گھر چھوڑا ہے ! "
Narrated Usama bin Zaid:
Usama bin Zaid (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: Allah's Messenger, God willing, where will you stay tomorrow? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Has 'Aqil left any accommodation for us?
ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا محمد بن ابی حفصہ اور زمعہ بن صالح دونوں نے کہا ابن شہاب نے ہمیں حدیث بیان کی انھوں نے علی بن حسین سے ، انھوں نے عمرو بن عثمان سے انھوں نے
اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کل ان شاء اللہ آپ کہاں ٹھہریں گے؟ یہ فتح مکہ کا زمانہ تھا آپ نے فر ما یا : " کیا عقیل نے ہمارے لیے کو ئی گھر چھوڑا ہے! "
Al-'Ali' bin al-Hadrami رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ﷺ as saying: For a Mahijir, it is only three (days') stay at Mecca, after completing (the Hajj or 'Umra) that is allowed, and it seemed as if he was saying that he should not (stay) beyond this (period).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا سلیمان بن بلال نے ہمیں عبد الرحمٰن بن حمید ( بن عبد الرحمٰن بن عوف ) سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے عمر بن عبد العز یز کو سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھتے ہو ئے سنا کہہ رہے تھے : کیا آپ نے مکہ میں قیام کرنے کے بارے میں ( رسول اللہ کا ) کو ئی فرما ن سنا ہے؟ سائب نے جواب دیا : میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا : کہہ رہے تھے
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : ( مکہ سے ) ہجرت کر جا نے والے کے لیے ( منیٰ سے ) لوٹنے کے بعد مکہ میں تین دن قیام کرنا جا ئز ہے ۔ گو یا آپ یہ فر ما رہے تھے ۔ کہ اس سے زیادہ نہ ٹھہرے ۔
Al-'Ala' bin al-Hadrami رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Muhijir should stay at Mecca after performing the rituals (of Hajj) but for three (days) only.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا سفیان بن عیینہ نے ہمیں عبد الرحمٰن بن حمید سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے عمر بن عبد لعزیز سے سنا ، وہ اپنے نشینوں سے کہہ رہے تھے : تم ( حج کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کے بارے میں کیا سنا ، ؟سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں علاء ۔ ۔ ۔ یا کہا : علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ ۔ ۔ ۔ سے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہجرت کر جا نے والا اپنی عبادت ( حج یا عمرہ ) مکمل کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھہر سکتا ہے ۔
Al-'Ala' bin al-Hadrami رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: It is only for three nights that a Muhajir should stay at Mecca after the completion of the rituals of Hajj.
ہم سے حسن الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا، یعقوب بن ابراہیم بن سعد کی سند سے، میرے والد نے ہم سے بیان کیا، صالح نے عبد الرحمٰن بن حمید سے روایت کی کہ انھوں نے عمر بن عبد العزیز سے سنا ، وہ سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کر رہے تھے تو سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا , میں نے علاء بن حضری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے ۔ مہاجر ( منیٰ سے ) لو ٹنے کے بعد تین را تیں مکہ میں ٹھہرسکتا ۔
Al-Ala' bin al-Hadrami رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The stay at Mecca after the completion of his rituals (of Hajj) is only for three days.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، اور ہم سے اس کا حکم دیا، انہوں نے کہا اسماعیل بن محمد بن سعد نے مجھے خبر دی کہ حمید بن عبد الرحمٰن بن عوف نے انھیں بتا یا کہ سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مہا جر کا اپنی عبادت مکمل کرنے کے بعد مکہ میں قیام تین دن تک کا ہے ۔
Ibn Juraij narrated this hadith with the same chain of transmitters.
مجھ سے حجاج بن الشعر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا ضحا ک بن مخلد نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
Ibn 'Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying on the Day of Victory over Mecca: There is no Hijra (emigration) but only Jihad and good intention; and when you are called to battle, then go forth. He also said on the Day of Victory over Mecca: Allah made this town sacred on the day He created the earth and the heavens; so it is -sacred by the sacred- ness conferred on it by Allah until the Day of Resurrection and fighting in it was not lawful to anyone before me, and it was made lawful for me only during an hour on one day, for it is sacred by the sacredness conferred on it by Allah until the Day of Resurrection. Its thorns are not to be cut, its game is not to be molested, and the things dropped are to be picked up only by one who makes a public announcement of it, and its fresh herbage is not to be cut. Abbas ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: Messenger of Allah, exception may be made in case of rush, for it is useful for their blacksmiths and for their houses. He (the Holy Prophet) conceding the suggestion of 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: Except rush.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا جریر نے ہمیں منصور سے خبر دی انھوں نے مجا ہد سے انھوں نے طاوس سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فر ما یا : " اب ہجرت نہیں ہے البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمھیں نفیر عام ( جہاد میں حا ضری ) کے لیے کہا جا ئے تو نکل پڑو ۔ اور آپ نے فتح مکہ کے دن فر ما یا : بلا شبہ یہ شہر ( ایسا ) ہے جسے اللہ نے ( اس وقت سے ) حرمت عطا کی ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ۔ یہ اللہ کی ( عطا کردہ ) حرمت ( کی وجہ ) سے قیامت تک کے لیے محترم ہے اور مجھ سے پہلے کسی ایک کے لیے اس میں لڑا ئی کو حلال قرار نہیں دیا کیا اور میرے لیے بھی دن میں سے ایک گھڑی کے لیے ہی اسے حلال کیا گیا ہے ( اب ) یہ اللہ کی ( عطا کردہ ) حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک حرا م ہے اس کے کا ٹنے نہ کا ٹے جا ئیں اس کے شکار کو ڈرا کر نہ بھگا یا جا ئے کو ئی شخص اس میں گری ہو ئی چیز کو نہ اٹھا ئے سوائے اس کے جو اس کا اعلا ن کرے ، نیز اس کی گھا س بھی نہ کا ٹی جا ئے ۔ اس پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !سوائے اذخر ( خوشبو دار گھا س ) کے وہ ان کے لوہا روں اور گھروں کے لیے ( ضروری ) ہے تو آپ نے فر ما یا : " سوائے اذخر کے ۔ "
A hadith like this has been narrated on the authority of Mansur, but he did not mention:
On that very day He created the heavens and the earth, and he (the narrator) substituted the word fighting (qital) for killing (qatl), and further said: No one is to pick up the dropped thing except one who makes a public announcement of it.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا مفضل نے ہمیں منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، انھوں نے
" جس دن سے اللہ تعا لیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا " کے الفا ظ ذکر نہیں کیے ۔ " قتال " ( لڑائی ) کے بجا ئے " قتل " کا لفظ کہا اور کہا " یہاں کی گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اس کا اعلا ن کرے ، کو ئی نہ اٹھا ئے ۔ "
Abu Shuraih al-'Adawi رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
He said to Amr bin Sa'id when he was sending troops to Mecca: Let me tell you something. O Commander, which Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said on the day following, the Conquest which my ears heard and my heart has retained, and my eyes saw as he spoke it. He praised Allah and extolled Him and then said: Allah, not men, has made Mecca sacred; so it is not permissible for any person believing in Allah and the Last Day to shed blood in it, or lop a tree in it. If anyone seeks a concession on the basis of fighting of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), tell him that Allah permitted His Messenger, but not you, and He gave him permission only for an hour on one day, and its sacredness was restored on the very day like that of yesterday. Let him who is present convey the information to him who is absent. It was said to Abu Shuraih رضی اللہ تعالیٰ عنہ : What did Amr say to you? He said: I am better informed of that than you, Abu Shuraih رضی اللہ تعالیٰ عنہ, but the sacred territory does not grant protection to one who is disobedient, or one who runs away after shedding blood, or one who runs away after committing.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، وہ سعید بن ابی سعید کی سند سے, ابو شریح عدوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
انھوں نے عمرو بن سعید سے جب وہ ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلا ف ) مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا کہا : اے امیر ! مجھے اجا زت دیں ۔ میں آپ کو ایک ایسا فرمان بیان کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فر ما یا تھا ۔ اسے میرے دونوں کا نوں نے سنا ، میرے دل نے یا د رکھا اور جب آپ نے اس کے الفا ظ بو لے تو میرے دونوں آنکھوں نے آپ کو دیکھا ۔ آپ نے اللہ تعا لیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " بلا شبہ مکہ کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے لوگوں نے نہیں ۔ ۔ کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور یو آخرت پر ایما ن رکھتا ہو حلال نہیں کہ وہ اس میں خون بہا ئے اور نہ ( یہ حلال ہے کہ ) کسی درخت کو کا ٹے ۔ اگر کو ئی شخص اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑا ئی کی بنا پر رخصت نکا لے تو اسے کہہ دینا : بلا شبہ اللہ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجا زت دی تھی تمھیں اس کی اجا زت نہیں دی تھی اور آج ہی اس کی حرمت اسی طرح واپس آگئی ہے جیسے کل اس کی حرمت موجود تھی اور جو حا ضر ہے ( یہ بات ) اس تک پہنچا دے جو حا ضر نہیں ۔ اس پر ابو شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا : ( جواب میں ) عمرو نے تم سے کیا گہا ؟ ( کہا : ) اس نے جواب دیا : اے ابو شریح !میں یہ بات تم سے زیادہ جا نتا ہوں جرم کسی نافر مان ( باغی ) کو خون کر کے بھا گ آنے والے کو اور چوری کر کے فرار ہو نے والے کو پناہ نہیں دیتا ۔
Abu Huraira, (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
When Allah, the Exalted and Majestic, granted Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) victory over Mecca, he stood before people and praised and extolled Allah and then said: Verily Allah held back the elephants from Mecca and gave the domination of it to His Messenger and believers, and it (this territory) was not violable to anyone before me and it was made violable to me for an hour of a day, and it shall not be violable to anyone after me. So neither molest the game, nor weed out thorns from it. And it is not lawful for anyone to pick up a thing dropped but one who makes public announcement of it. And it a relative of anyone is killed he is entitled to opt for one of two things. Either he should be paid blood-money or he can take life as (a just retribution). 'Abbas (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: Allah's Messenger, but Idhkhir (a kind of herbage), for we use it for our graves and for our houses, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: With the exception of Idhkhir. A person known as Abu Shah, one of the people of Yemen, stood up and said: Messenger of Allah, (kindly) write it for me. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said I Write it for Abu Shah. Walid said: I asked al-Auzai': What did his saying mean: Write it for me, Messenger of Allah ? He said: This very address that he had heard from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
مجھ سے زہیر بن حرب اور عبید اللہ بن سعید سب نے ولید کی سند سے بیان کیا: انہوں نے ہم سے بیان کیا ولید بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں اوزاعی نے حدیث سنا ئی ۔ ( کہا : ) مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث سنا ئی ۔ ( کہا : ) مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے اور ( انھوں نے کہا ) مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیا ن کی ، انھو ں ںےکہا
جب اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ پر فتح عطا کی تو آپ لوگوں میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہو ئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فر ما یا : "" بلا شبہ اللہ نے ہا تھی کو مکہ سے رو ک دیا ۔ اور اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا ، مجھ سے پہلے یہ ہر گز کسی کے لیے حلال نہ تھا میرے لیے دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا ۔ اور میرے بعد یہ ہر گز کسی کے لیے حلال نہ ہو گا ۔ اس لیے نہ اس کے شکار کو ڈرا کر بھگا یا جا ئے اور نہ اس کے کا نٹے ( دار درخت ) کا ٹے جا ئیں ۔ اور اس میں گری پڑی کو ئی چیز اٹھا نا اعلان کرنے والے کے سواکسی کے لیے حلال نہیں ۔ اور جس کا کو ئی قریبی ( عزیز ) قتل کر دیا جا ئے اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو ( اس کی نظر میں ) بہتر ہو : یا اس کی دیت دی جا ئے یا ( قاتل ) قتل کیا جا ئے ۔ اس پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اذخر کے سوا ہم اسے اپنی قبروں ( کی سلوں کی درزوں ) اور گھروں ( کی چھتوں ) میں استعمال کرتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اذخر کے سوا ۔ اس پر اہل یمن میں سے ایک آدمی ابو شاہ کھڑے ہو ئے اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( یہ سب ) میرے لیے لکھوادیجیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔ ولید نے کہا : میں نے اوزاعی سے پو چھا : اس ( یمنی ) کا یہ کہنا "" اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے لکھوا دیں ۔ ( اس سے مراد ) کیا تھا؟ انھوں نے کہا : یہ خطبہ ( مراد تھا ) جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ۔
Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The people of the Khuza'ah tribe killed a man of the tribe of Laith in the Year of Victory as a retaliation for one whom they had killed (whom the people of the tribe of Laith had killed). It was reported to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He mounted his camel and delivered this address: Verily Allah, the Exalted and Majestic, held back the Elephants from Mecca, and gave its domination to His Messenger and believers. Behold, it was not violable for anyone before me and it will not be violable for anyone after me. Behold, it was made violable for me for an hour of a day; and at this very hour it has again been made inviolable (for me as well as for others). So its thorns are not to be cut, its trees are not to be lopped, and (no one is allowed to) pick up a thing dropped, but the one who makes an announcement of it. And one whose fellow is killed is allowed to opt between two alternatives: either he should receive blood-money or get the life of the (murderer) in return. He (the narrator said): A person from the Yemen, who was called Abu Shah, came to him and said: Messenger of Allah, write it down for me, whereupon he (Allah's Messenger) said: Write it down for Abu Shah. One of the persons from among the Quraish also said: Except Idhkhir, for we use it in our houses ant our graves. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Except Idhkhir.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا, شیبان نے یحییٰ سے روایت کی ، ( کہا : ) مجھے ابو سلمہ نے خبر دی ، انھوں نے حجرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے
فتح مکہ کے سال خزاعہ نے بنو لیث کا ایک آدمی اپنے ایک مقتول کے بدلے میں جسے انھوں نے ( بنولیث ) نے قتل کیا تھا قتل کر دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ اپنی سواری پر بیٹھے اور خطبہ ارشاد فر ما یا : " بلا شبہ اللہ عزوجل نے ہا تھی کو مکہ ( پر حملے ) سے روک دیا جبکہ اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا ۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا اور میرے بعد بھی ہر گز کسی کے لیے حلال نہ ہو گا ۔ سن لو!یہ میرے لیے دن کی ایک گھڑی بھر حلال کیا گیا تھا اور ( اب ) یہ میری اس موجودہ گھڑی میں بھی حرمت والا ہے نہ ڈنڈے کے ذریعے سے اس کے کانٹے جھا ڑے جا ئیں نہ اس کے درخت کا ٹے جائیں اور نہ ہی اعلان کرنے والے کے سوا اس میں گری ہو ئی چیز اٹھا ئے اور جس کا کو ئی قریبی قتل کر دیا گیا اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو ( اس کی نظر میں ) بہتر ہو : ہا سے عطا کر دیا جا ئے ۔ یعنی خون بہا ۔ ۔ ۔ یا مقتول کے گھر والوں کو اس سے بدلہ لینے دیا جا ئے ۔ کہا : تو اہل یمن میں سے ایک آدمی آیا جسے ابو شاہ کہا جا تا تھا اس نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے لکھوا دیں آپ نے فر ما یا : " ابو شاہ کو لکھ دو ۔ قریش کے ایک آدمی نے عرض کی : اذخر کے سوا ، ( کیونکہ ) ہم اسے اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں استعمال کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اذخر کے سوا ۔
Jabir (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
I heard Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: It is not permissible for any one of you to carry weapons in Mecca.
مجھ سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن اعین نے بیان کیا، کہا ہم سے معقل نے بیان کیا، ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے " تم میں سے کسی کے لیے مکہ میں اسلحہ اٹھا نا حلال نہیں ۔
Anas bin Malik ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) entered Mecca in the Year of Victory with a helmet on his head; and when he took it off, a man came to him and said: Ibn Khatal is hanging on to the curtains of the Ka'ba, whereupon he said: Kill him. Malik (said): 'Yes'"
عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، قعنبی نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی قتیبہ نے کہا : ہم سے امام مالک نے حدیث بیان کی اور یحییٰ نے کہا ۔ ۔ ۔ الفا ظ انھی کے ہیں میں نے امام مالک سے پو چھا : کیا بن شہاب نے آپ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال مکہ میں دا خل ہو ئے اور آپ کے سر مبارک پر خود تھا جب آپ نے اسے اتارا تو آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : ابن خطل کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے آپ نے فر ما یا : " اے قتل کر دو ؟تو امام مالک نے جوا ب دیا ۔ : ہا ں.
Jabir bin 'Abdullah al-Ansari (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) entered Mecca and Qutaiba (another narrator) stated that he entered Mecca in the Year of Victory, wearing a black turban, but not wearing the Ihram. Abu Zubair ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) narrated to us a Hadith from Hazrat Jabir (رضی اللہ تعالیٰ عنہ).
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور قتیبہ بن سعید چقفی نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ یحییٰ نے کہا : ہمیں معاویہ بن عمار دہنی نے ابو زبیر سے خبر دی اور قتیبہ نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دا خل ہوئے ۔ ۔ ۔ قتیبہ نے کہا : فتح مکہ کے دن ۔ ۔ ۔ بغیر احرا م کے داخل ہو ئے اور آپ ( کے سر مبا رک ) پر سیا ہ عمامہ تھا ۔ قتیبہ کی روایت میں ہے ( معاویہ بن عمار نے ) کہا : ہمیں ابو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) entered on the day of Victory of Mecca wearing a black turban on his head.
ہم سے علی بن حکیم الاودی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا شریک نے ہمیں عمار دہنی سے خبر دی انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن دا خل ہو ئے تو آپ ( کے سرمبارک ) پر سیا ہ رنگ کا عمامہ تھا ۔