A hadith like this has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters, but no mention has been made of the Day of Resurrection. But this addition is made:
The protection granted by Muslims is one and must be respected by the humblest of them. And he who broke the covenant made by a Muslim, there is a curse of Allah, of his angels, and of the whole people upon him, and neither an obligatory act nor a supererogatory act would be accepted from him as recompense on the Day of Resurrection.
ہم سے ابوبکر بن النضر بن ابی النضر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو النضر نے بیان کیا، مجھ سے عبید اللہ اشجعی نے بیان کیا, سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، اور انھوں نے " قیامت کے دن " کے الفاظ نہیں کہے اور یہ اضافہ کیا
" اور تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ( جیسا ) ہے ان کا ادنیٰ آدمی بھی پناہ کی پیش کش کر سکتا ہے جس نے کسی مسلمان کی امان توڑی اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے ۔ قیامت کے دن اس سے کو ئی بدلہ قبول کیا جا ئے گا نہ کو ئی عذر ۔
Abu Huraira ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
If I were to see deer grazing in Medina, I would have never molested them, for Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has stated: There is between the two lava mountains a sacred territory.
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث سنا ئی کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ ابن شہاب سے روایت ہے ۔ انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ کہا کرتے تھے
اگر میں مدینہ میں ہرنیاں چرتی ہو ئی دیکھوں ، تو میں انھیں ہراساں نہیں کروگا ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کے دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے ۔
Abu Huraira ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) declared sacred the territory between two lava mountains of Medina. Abu Huraira said: If I were to find deer in the territory between the two mountains, I would not molest them, and he (the Holy Prophet) declared twelve miles of suburb around Medina as a prohibited pasture.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا کہ ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی, معمر نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دو سیاہ پتھروں والے میدانوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر میں ان دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان ہرنیوں کو پاؤں تو میں انھیں ہراساں نہیں کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے اردگرد بارہ میل کا علاقہ محفوظ چراگاہ قراردیا ہے ۔
Abu Huraira ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
When the people saw the first fruit (of the season or of plantation) they brought it to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). When he received it he said: O Allah, bless us in our fruits; and bless us in our city; and bless us in our sa's and bless us in our mudd. O Allah, Ibrahim was Thy servant, Thy friend, and Thy apostle; and I am Thy servant and Thy apostle. He (Ibrahim) made supplication to Thee for (the showering of blessings upon) Mecca, and I am making supplication to Thee for Medina just as he made supplication to Thee for Mecca, and the like of it in addition. He would then call to him the youngest child and give him these fruits.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, امام مالک بن انس کے سامنے جن احادیث کی قراءت کی گئی ان میں سے سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا
لوگ جب ( کسی موسم کا ) پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے پکڑ تے تو فرماتے اے اللہ !ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما ۔ ہمارے لیے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ہمارے لیے ہمارے صاع میں بر کت عطا فر ما اور ہمارے مد میں بر کت عطا فر ما ۔ اےاللہ !بلا شبہ ابرا ہیم ؑتیرے بندے تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے میں تیرا بندہ اور نبی ہوں انھوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی ، میں تجھ سے مدینہ کے لیے اتنی ( برکت ) کی دعا کرتا ہوں جو انھوں نے مکہ کے لیے کی اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید برکت کی بھی ۔ ( با ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر آپ اپنے بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو بلا تے اور وہ پھل اسے دے دیتے ۔
Abu Huraira (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was given the first fruit and he said: O Allah, shower blessings upon us in our city, and in our fruits, in our mudd and in our sa's, blessings upon blessings, and he would then give that to the youngest of the children present there.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا عبد العزیز بن محمد مدنی نے ہمیں سہیل بن ابی صالح سے خبر دی انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ( کسی موسم کا ) پہلا پھل پیش کیا جا تا تو آپ فر ما تے : " اے اللہ !ہمارے لیے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں ہمارے پھلوں میں ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت پر بر کت فر ما " پھر آپ وہ پھل اپنے پاس موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو دے دیتے ۔
Abu Sa'id Maula al-Mahri reported:
They were hard pressed by the distress and hardship of Medina, and he come to Abu Sa'Id al-Khudri رضی اللہ تعالیٰ عنہ and said to him: I have a large family (to support) and we are enduring hardships; I have, therefore, made up my mind to take my family to some fertile land. Thereupon Abu Sa'id رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: Don't do that, stick to Medina, for we have come out with Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and (I think that he also said) until we reached 'Usfan, and he (the Prophet along with his Companions) stayed there for some nights. There the people said: By Allah, we are lying here idle, whereas our children are unprotected behind us, and we do not feel secure about them. This (apprehension of theirs) reached Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), whereupon he said: What is this matter concerning you that has reached me? (I do not retain how he said it, whether he said like this: ) By Him (in the name of Whom) I take oath, (or he said like this: ) By Him in Whose Hand is my life, I made up my mind or if you like (I do not retain what word did he actually say), I should command my camel to proceed and not to let it halt until it comes to Medina and then said: Ibrahim declared Mecca as the sacred territory and it became sacred, and I declare Medina as the sacred territory-the area between the two mountains ('Air and Uhud). Thus no blood is to be shed within its (bounds) and no weapon is to be carried for fighting, and the leaves of the trees there should not be beaten off except for fodder. O Allah, bless us in our city; O Allah, bless us in our sil; O Allah, bless us in our mudd; O Allah, bless us in our sa; O Allah, bless us in our mudd. O Allah, bless us in our city. O Allah, bless with this blessing two more blessings. By Him in Whose Hand is my life, there is no ravine or mountain path of Medina which is not protected by two angels until you reach there. (He then said to the people: ) Proceed, and we, therefore, proceeded and we came to Medina By Him (in Whose name) we take oath and (in Whose name) oath is taken (Hammad is in doubt about it), we had hardly put down our camel saddles on arriving at Medina that we were attacked by the people of the tribe of 'Abdullah b. Ghatafan but none dared to do it before.
حماد بن اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ہمیں حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں میرے والد نے وہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انھوں نےمہری کےمولیٰ ابو سعید سے حدیث بیان کی کہ
انھیں مدینہ میں بدحالی اورسختی نےآلیا ، وہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا : میں کثیر العیال ہوں اورہمیں تنگدستی نے آلیا ہے ، میرا ارادہ ہے کہ میں ا پنے افراد خانہ کو کسی سر سبز وشاداب علاقے کی طرف منتقل کردوں ۔ تو ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ایسا مت کرنا ، مدینہ میں ہی ٹھہرے رہو ، کیونکہ ہم اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( سفر پر ) نکلے ۔ میرا خیال ہے انھوں نےکہا ۔ حتیٰ کہ ہم عسفان پہنچے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں چند راتیں قیام فرمایا ، تو لوگوں نے کہا : ہم یہاں کسی خاص مقصد کے تحت نہیں ٹھہر ے ہوئے ، اور ہمارے افراد خانہ پیچھے ( اکیلے ) ہیں ہم انھیں محفوظ نہیں سمجھتے ، ان کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ کیا بات ہے جو تمھاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ " ۔ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکس طرح فرمایا ۔ " اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں ۔ " یا ( فرمایا ) " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میں نےارادہ کیایا ( فرمایا ) اگرتم چاہو ۔ میں نہیں جانتا کہ آپ نے ان دونوں میں سے کون سا جملہ ارشاد فرمایا : میں اپنی اونٹنی پر پالان رکھنے کا حکم د وں ، پھر اس کی ایک گرہ بھی نہ کھولوں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جاؤں ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اے اللہ!بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا ، اور اسے حرم بنایا ، اور میں نے مدینہ کو اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کو حرمت والا قرار دیا کہ اس میں خون نہ بہایا جائے ، اس میں لڑائی کے لئے اسلحہ نہ اٹھایا جائے اور اس میں چارے کے سوا ( کسی اورغرض سے ) اس کے درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں ۔ اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ۔ اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما ، اے اللہ!ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما ، اے اللہ!ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ۔ اور اس برکت کے ساتھ دو برکتیں ( مزید عطا ) کردے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!مدینہ کی کوئی گھاٹی اور درہ نہیں مگر اس پر دوفرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کریں گے یہاں تکہ کہ تم اس میں واپس آجاؤ ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا " کوچ کرو ۔ " تو ہم نے کوچ کیا اور مدینہ آگئے ۔ اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم کھاتے ہیں! یا جس کی قسم کھائی جاتی ہے ۔ یہ شک حماد کی طرف سےہے ۔ مدینہ میں داخل ہوکر ہم نے اپنی سواریوں کے پالان بھی نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کردیا اور اس سے پہلے کوئی چیز انھیں مشتعل نہیں کررہی تھی ۔
Abu Sa'id al-Kbudri (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: O Allah, bless us in our sa' and mud and shower with its blessings two other blessings (multiply blessings showerted upon it).
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، علی بن مبارک سے روایت ہے ، ( کہا : ) ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں مہری کے مولیٰ ابوسعید نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نے فرمایا : " اللہ ہمارے! مد اور صاع میں برکت عطا فرما اورایک برکت کے ساتھ دو برکتیں ( مزید ) عطافرما ۔ "
A hadith like this has been narrated by Yabya bin Abu Kathir with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان اورحرب ، یعنی ابن شداد دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سندکے ساتھ ، اسی کے مانند حدیث بیان کی .
Abu Sa'id Maula al-Mahri reported:
He came to Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ during the nights (of the turmoil) of al-Barrah, and sought his advice about leaving Medina, and complained of the high prices prevailing therein and his large family, and informed him that he could not stand the hardships of Medina and its rugged surrounding. He said to him: Woe to you; I will not advise you to do it, for I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: No one will endure hardships of Medina without my being an intercessor or a witness on his behalf on the Day of Resurrection), if he is a Muslim.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا،سعید بن ابوسعید نے مہری کے آزاد کردہ غلام
ابو سعید سے روایت کی وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حرہ کی راتوں میں آئے ( یعنی جن دنوں مدینہ طیبہ میں ایک فتنہ مشہور ہوا تھا اور ظالموں نے مدینہ کو لوٹا تھا ) اور ان سے مشورہ کیا کہ مدینہ سے کہیں اور چلے جائیں اور ان سے وہاں کی گرانی نرخ ( مہنگائی ) اور کثرت عیال کی شکایت کی اور خبر دی کہ مجھے مدینہ کی محنت اور بھوک پر صبر نہیں آ سکتا تو سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تیری خرابی ہو میں تجھے اس کا مشورہ نہیں دوں گا ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ کوئی شخص یہاں کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرتا اور پھر مر جاتا ہے ، مگر یہ کہ میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا اگر وہ مسلمان ہو ۔
Abdul-Rahman reported on the authority of his father Abu Sa'id (رضی اللہ عنہ):
He heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I have declared sacred what is between the two lava grounds of Medina just as Ibrahim (peace be upon him) declared Mecca as sacred. He (the narrator) then said: Abu Sa'id رضی اللہ عنہ caught hold of (Abu Bakr, another narrator, used the word found ) a bird in his hand and then released it from his hand and set it free.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابو کریب نے ابو اسامہ کی سند سے بیان کیا اور یہ قول ابوبکر کا ہے۔ اور ابن نمیر نے کہا: ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ولید بن کثیر کی سند سے، انہوں نے مجھ سے بیان کیا سعید بن عبدالرحمن بن ابی سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمن نے انھیں اپنےوالد ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی
انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " میں مدینہ کی دوسیاہ پتھروں والی زمین کے درمیانی حصے کوحرم قرار دیتا ہوں ، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کوحرم قرار دیا تھا ۔ " کہا : پھر ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیتے ، اور ابو بکر نے کہا : ہم میں سے کسی کو دیکھتے کہ اس کے ہاتھ میں پرندہ ہے ۔ تو اسے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے ، پھر اسے آزاد کردیتے ۔
Sahl bin Hunif رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pointed with his hands towards Medina and said: That is a sacred territory and a place of safety.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، انہوں نے شیبانی کی سند سے یاسر بن عمرو کی سند سے, سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اورفرمایا : " بلاشبہ یہ حرم ہے ، امن والاہے ۔ "
A'isha (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) reported:
When we came to Medina, and it was an unhealthy, uncogenial place, Abu Bakr رضی اللہ تعالیٰ عنہا fell sick and Bilal رضی اللہ تعالیٰ عنہ also fell sick; and when Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw the illness of his Companions he said: O Allah, make Medina as congenial to us as you made Mecca congenial or more than that; make it conducive to health, and bleesus in its sa' and in its mudd, and transfer its fever to al-juhfa.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا عبدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والدسے اورانھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب ہم مدینہ میں ( ہجرت کر کے ) آئے تو وہاں وبائی بخار پھیلا ہوا تھا ۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی بیماری دیکھی تو دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے مدینہ کو ہمارے لئے دوست کر دے جیسے تو نے مکہ کو دوست کیا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اس کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمیں اس کے ”صاع“ اور ”مد“ میں برکت دے اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے ۔
This hadith has been narrated by Hisham bin 'Urwa with the same chain of transmitters.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابو اسامہ اور ابن نمیر دونوں نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کےساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
Ibn 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who patiently endures the hardships of it (of this city of Medina), I would be an intercessor or a witness on his behalf on the Day of Resurrection.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن حفص بن عاصم نے بیان کیا، انہوں نے کہا نافع نے ہمیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " جس نے اس ( مدینہ ) کی تنگ دستی پر صبر کیا ، میں قیامت کے دن اس کے لئے سفارشی ہوں گایا گواہ ۔ "
Yuhannis, the freed slave of Zubair, narrated:
When he was sitting with Abdullah bin 'Umar (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) during the days of turmoil, his freed slave-girl came to him. After saluting him she said: Abu Abdul-Rahman, I have decided to leave (Medina) for the time is hard for us, whereupon Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ said to her: Stay here, foolish lady, for I have heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: For one who shows endurance on the hardships and rigour of it (of Medina) I would be an intercessor or a witness on his behalf on the Day of Resurrection.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے پڑھا امام مالک نے قطن بن وہب بن عویمر بن اجدع سےروایت کی ، انھوں نے حضرت زبیر کے آزاد کردہ غلام یحس سے روایت کی ، انھوں نے انھیں ( قطن کو ) خبردی کہ وہ فتنہ ( واقعہ حرہ ) کے دوران
میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے پاس ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی سلام کرنے پر حاضر ہوئی اور عرض کی : ابو عبدالرحمن ! ہمارےلیے گزرا اوقات مشکل ہوگئی ہے لہذا میں مدینہ سے نقل مکانی کرنا چاہتی ہوں ۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے کہا : ( یہیں مدینہ میں ) بیٹھی رہو ، نادان عورت! بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : " کوئی بھی اس تنگدستی اور سختی پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کےدن میں اس کے لئے گواہ ہوں گا یاسفارشی ۔ "
Abdullah bin 'Umar (رضی اللہ عنہ) said:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who patiently endured the hardships and rigours of (this city, i.e. Medina), I would be his witness and intercessor on the Day of Resurrection.
ہم سے ابن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی فدیک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ضحاک نے ہمیں قطن خزاعی سے خبر دی ، انھوں نے مصعب کے مولیٰ یحس سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جس نے اس ( شہر ) کی تنگدستی اورسختی پر صبر کیا ، میں قیامت کے دن اس کا گواہ ہوں گایا سفارشی ۔ " ان کی مراد مدینہ سے تھی ۔
Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: For one among my Ummah who shows endurance against the hardships and rigours of Medina, I would be an intercessor or a witness on his behalf on the Day of Resurrection.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے اسماعیل بن جعفر کی سند سے بیان کیا, علاء بن عبدالرحمن ( بن یعقوب ) نے اپنے والدسے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " میری امت میں سے کوئی شخص مدینہ کی تنگدستی اور مشقت پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کےدن ، میں اس کا سفارشی یاگواہ ہوں گا ۔ "
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) through another chain of transmitters.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابو ہارون موسیٰ بن ابی عیسیٰ نے بیان کیا کہ انہوں نے سنا ابو عبداللہ قر اظ کہتے ہیں : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔
Abu Huraira ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: None who shows endurance on the hardships of Medina,... (the rest of the hadith is the same).
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے الفضل بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا, صالح بن ابو صالح نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا
" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی بھی مدینہ کی مشقتوں پرصبر نہیں ۔ کرتا " ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔
Abu Huraira ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There are at the approaches of Medina angels so that plague and the Dajjal shall not penetrate into it.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک رضی اللہ عنہ سے پڑھا, نعیم بن عبداللہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مدینہ میں داخل ہونے کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں ، اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوسکے گا ۔ "