Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Dajjal will come from the eastern side with the intention of attacking Medina until he will get down behind Uhud. Then the angels will turn his face towards Syria and there he will perish.
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے ہم سے روایت کی ہے, اسماعیل بن جعفر سے روایت ہے ۔ ( کہا : ) علاء نے ا پنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مشرق کی جانب سے مسیح دجال آئےگا ، اس کا ارادہ مدینہ ( میں داخلے کا ) ہوگا یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے پیچھے اترے گا ، پھر فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہوجائے گا ۔ "
Abu Huraira (رضی اللہ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: A time will come for the people (of Medina) when a man will invite his cousin and any other near relation: Come (and settle) at (a place) where living is cheap, come to where there is plenty, but Medina will be better for them; would they know it! By Him in Whose Hand is my life, none amongst them would go out (of the city) with a dislike for it, but Allah would make his successor in it someone better than be. Behold. Medina is like furnace which eliminates from it the impurities. And the Last Hour will not come until Medina banishes its evils just as a furnace eliminates the impurities of iron.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہمیں عبدالعزیز یعنی دراوردی نے حدیث بیان کی ، انھوں نےعلاء سے انھوں نے ا پنے والد سے اور انھوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک وقت لوگوں پر ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے بھتیجے اور اپنے قرابت والے کو پکارے گا کہ خوشحالی کے ملک میں خوشحالی کے ملک میں چلو ، حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا کاش کہ وہ جانتے ہوتے ۔ اور قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی شخص مدینہ سے بیزار ہو کر نہیں نکلتا مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر دوسرا شخص مدینہ میں بھیج دیتا ہے ۔ آگاہ رہو کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی مانند ہے کہ وہ میل کو نکال دیتا ہے اور قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ مدینہ اپنے شریر لوگوں کو نکال نہ دے گا جیسے کہ بھٹی لوہے کی میل کو نکال دیتی ہے ۔
Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger (ﷺ) as saying: I have been commanded (to migrate) to a town (Medina) which would overpower other towns. They (the people) call it Yathrib; its correct name is (in fact) Medina. It eliminates (bad) people just as a furnace removes the alloy of iron.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان کی سند سے امام مالک بن انس نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، میں نے ابو حباب سعید بن یسار سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے ایک بستی ( کی طرف ہجرت کرنے جانے ) کا حکم دیا گیا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی ( سب پر غالب آجائےگی ) لوگ اسے یثرب کہتے ہیں ، وہ مدینہ ہے ، وہ ( شریر ) لوگوں کو نکال دے گی جیسے بھٹی لوہےکے میل کو باہر نکال دیتی ہے ۔ "
This hadith has been narrated by Yabya bin Sa'id with the same chain of transmitters (and the words are):
Just as a furance removes impurity, but no mention is made of iron.
ہم سے عمرو ناقد اور ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا: ہم سے بیان کیا سفیان اورعبدالوہاب دونوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا
" جیسے بھٹی میل کو نکال دیتی ہے " ان دونوں نے لوہے کا ذکر نہیں کیا ۔
Jabir bin `Abdullah ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
A desert Arab swore allegiance to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He suffered from a severe fever in Medina (and) so he came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: Muhammad, cancel my oath of allegiance. But Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) refused it. He again came and said: Cancel my oath of allegiance. But he (the Holy Prophet) refused it. He again came to him and said: Cancel my oath of allegiance, but he refused. The desert Arab, however, went away (cancelling the allegiance himself). Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Medina is like a furnace which drives away its impurity and purifies what is good.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک کو محمد بن المنکدر کی سند سے پڑھا, حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک بدو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۔ اس کے بعد اس بدو کے مدینے میں بخار نے آلیا ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے میری بیعت واپس کردیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمادیا ۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ۔ مجھے میری بیعت واپس کردیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ انکار کردیا ، پھر وہ ( تیسری بار ) آیا ، اور کہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے میری بیعت واپس کردیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) انکار فرمایا ۔ اس کے بعد اعرابی نکل گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مدینہ بھٹی کی طرح ہے ، وہ اپنے میل ( برے لوگوں ) کو باہر نکال دیتاہے اور یہاں کا پاکیزہ ( خالص ایمان والا ) نکھر جاتا ہے ۔ "
Zaid bin Thabit رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: It is Taiba, thereby meaning Medina. It drives away impurity just as fire removes the impurity of silver.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے عدی سے جو کہ عبداللہ بن یزید نے سنا, حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلا شبہ یہ طیبہ ( پاک ) ہے ، ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی ۔ یہ میل کچیل کو اس طرح دور کردیتا ہے جیسےآگ چاندی کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے ۔ "
Jabir bin Samura (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
He heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: Allah named Medina as Tabba.
ہم سے قتیبہ بن سعید، ہناد بن الساری اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو الاحواس نے سماک کی سند سے بیان کیا، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا ، " بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام " طابہ " رکھا ہے ۔ "
Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Abul-Qasim (Muhammad, صلی اللہ علیہ وسلم) said: He who intends to do harm to the people of this city (that is, Medina), Allah would efface him as salt is dissolved in water.
مجھ سے محمد بن حاتم اور ابراہیم بن دینار نے بیان کیا، کہا: ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، اور مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا۔ ان دونوں نے ابن جریج کی سند سے مجھ سے کہا, عبداللہ بن عبدالرحمن بن یحس نےمجھے ابو عبداللہ قراظ سے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں گواہ دیتا ہوں کہ انھوں نےکہا کہ
ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس شہر ( یعنی مدینہ ) والوں کی برائی کا ارادہ کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسا گھلا دیتا ہے جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who intends to do harm to its people (he meant Medina), Allah would efface him as salt is dissolved in water. Ibn Hatim (one of the narrators) substituted the word harm for mischief .
محمد بن حاتم اور ابراہیم بن دینار نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا ، ہم سے حجاج نے حدیث بیا ن کی ، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی ، انھوں ( حجاج اورعبدالرزاق ) نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے خبر دی کہ انھوں نے ( ابو عبداللہ ) قراظ سے سنا اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں ( شاگردوں ) میں سے تھے ، وہ یقین سے کہتے تھے کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی ۔ برائی کا ارادہ کیا ۔ اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے ۔ "" ابن حاتم نے ابن یحس کی حدیث میں سوء ( برائی ) کی جگہ شر ( نقصان ) کا لفظ بیان کیا ۔
This hadith is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ by another chain of transmitters.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا, ابو ہارون موسیٰ بن ابی عیسیٰ اورمحمد بن عمرو دونوں نے ابو عبداللہ قراظ سے سنا ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کرتے ہوئے سنا ۔
Sa'd bin Abu Waqqas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who intends to do harm to the people of Medina, Allah would efface him just as water dissolves salt.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا حاتم ، یعنی ابن اسماعیل نے ہمیں عمر بن نبیہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے دینار قراظ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برائی کاارادہ کیا اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے ۔
Sa'd bin Malik رضی اللہ تعالیٰ عنہ heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying like this except (this variation) that he said:
Whoever whishes a calamity or whishes ill to the people of Al-Madinah.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے انہوں نے بیان کیا اسماعیل بن جعفر نے ہمیں عمر بن نبیہ کعبی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو عبداللہ قراظ سے روایت کی کہ انھوں نے سعد بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےسنا وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( آگے ) اسی کے مانند ہے ، البتہ انھوں نے کہا
" بڑی مصیبت یا برائی ( میں مبتلا کرنے ) کا ارادہ کیا ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ and Sa'd رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger (ﷺ) as saying: O Allah, bless the people of Medina in their mudd, the rest of the hadith being the same, and in It (this is also mentioned): He wo intends to do harm to its people, Allah would efface him just as salt it dissolved in water.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا اسامہ بن زید نے ہمیں ابو عبداللہ قراظ سے حدیث بیان کی ، ( اسامہ نے ) کہا : میں نے ان سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ دونوں کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ ! اہل مدینہ کے لیے ان کے مد میں برکت عطا فرما ۔ " آگے ( اسی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں ہے : " جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا ، اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے ۔ "
Sufyan bin Abd Zuhair رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Syria will be conquered and some people will go out of Medina along with their families driving their camels. and Medina is better for them if they were to know it. Then Yemen will be conquered and some people will go out of Medina along with their families driving their camels, and Medina is better for them if they were to know it. Then Iraq will be conquered and some people will go out of it along with their families driving their camels, and Medina is better for them if they were to know it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا وکیع نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شام فتح کرلیا جائے گا تو کچھ لوگ انتہائی تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ۔ پھر یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ تیز رفتاری سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ، پھر عراق فتح ہوگا تو کچھ تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ۔ "
Sufyan bin Abu Zuhair رضی اللہ تعالیٰ عنہ heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say:
Yemen will be conquered and some people will go away (to that country) driving their camels and carrying their families on them and those who are under their authority, while Medina is better for them if they were to know it. Then Syria will be conquered and some people will go away driving their camels along with them and carrying their families with them and those who are under their authority, while Medina is better for then if they were to know it. That lraq will be conquered and some people will go away (to that country) driving their camels and carrying their families with them and those who are under their authority. while Medina is better for them if they were to know it.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے خبر دی ، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ
یمن فتح ہو گا تو کچھ لوگ مدینہ سے اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ نکلیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ہوتے ۔ پھر شام فتح ہو گا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ ، اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ۔ پھر عراق فتح ہو گا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ۔
Salid bin Musayyib heard Abu Huraira ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) say:
'Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said about Medina: Its inhabitants will abandon it, whereas it is good for them and it will become the haunt of beasts and birds. (Imam Muslim said that Abu Safwan, one of the narrators whose name was 'Abdullah bin 'Abdul-Malik, was an orphan and Ibn juraij took him under his care for ten years.)
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا, ابو صفوان اور ابن وہب نے یونس بن یزید سے ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے بارے میں فرمایا : "" اس کے رہنے والے اس کے بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ، اسے اس حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ خوراک کے متلاشیوں کے قدموں کے نیچے روندا جارہا ہوگا ۔ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد درندوں اور پرندوں سے تھی ۔ امام مسلمؒ نے کہا : یہ ابو صفوان ، عبداللہ بن عبدالملک ہے ، دس سال تک ابن جریج کا ( پروردہ ) یتیم ، جو ان کی گود میں تھا ۔
Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) heard:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: They (the residents of) Medina will abandon Medina whereas it is good for them and it will be haunted by beasts and birds, and two shepherds will come out from Muzainah intending (to go) towards Medina and tending their herd, and will find nothing but wilderness there until when they will reach the mountain path of Wada, they will fall down on their faces.
مجھ سے عبد الملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، میرے والد نے مجھ سے میرے دادا کی سند سے بیان کیا, عقیل بن خالد نے مجھے ابن شہاب سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ لوگ مدینہ کو اس کے خیر ہونے کے باوجود چھوڑ دیں گے اور اس میں کوئی نہ رہے گا سوائے درندوں اور پرندوں کے ۔ پھر قبیلہ مزینہ سے دو چرواہے اپنی بکریوں کو پکارتے ہوئے مدینہ ( جانے ) کا ارادہ کرتے ہوئے نکلیں گے اور وہ مدینہ کو ویران پائیں گے یہاں تک کہ جب ثنیۃ الوداع تک پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے ۔
Abdullah bin Zaid al-Mazini (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: That which is between my house and my pulpit is a garden from the gardens of Paradise.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک بن انس کی روایت سے بیان کیا کہ ان سے جو پڑھی گئی ,عبد اللہ بن ابوبکر نے عباد بن تمیم سے انھوں نے عبد اللہ بن زید ( بن عاصم ) مازنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو ( جگہ ) میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے ، وہ جنت کے باغوں میں ایک سے باغ ہے ۔
Abdullah bin Zaid al-Ansari رضی اللہ تعالیٰ عنہ heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying:
That which exists between my pulpit and my house is a garden from the gardens of Paradise.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمد مدنی نے بیان کیا، وہ یزید بن الہادی کی سند سے, ابو بکر نے ے عباد تمیم سے انھوں نے عبد اللہ بن زید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے
" جو ( جگہ ) میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے ، وہ جنت کے باغوں میں سےایک باغ ہے ۔
Abu Huraira (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: That which exists between my house and my pulpit is a garden from the gardens of Paradise, and my pulpit is upon my cistern.
ہم سے زہیر بن حرب اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا۔ ہم سے عبید اللہ نے خبیب بن عبدالرحمٰن سے اور حفص بن عاصم کی سند سے بیان کیا, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ( کی جگہ ) جنت کے باغوں میں سےایک باغ ہے ۔ اور میرا منبر حوض پر ہے ۔